تبسم عشق بے تاب آرزو ہے ابھی ۔ صوفی تبسّم

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 7, 2015

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,872
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    عشق بے تاب آرزو ہے ابھی
    جانے کس شے کی جستجو ہے ابھی

    سی لیا چاکِ جیبِ داماں کو
    چاکِ دل تشنۂ رفو ہے ابھی

    ہر نفس ایک داستان کہہ دی
    ہر نفس حرفِ آرزو ہے ابھی

    یوں نہ ٹھکراؤ درد مندوں کو
    دہر میں غم کی آبرو ہے ابھی

    تجھ سے مل کر بھی میری جانِ وفا
    تجھ سے ملنے کی آرزو ہے ابھی

    نقش تھے جتنے ہو گئے اوجھل
    اِک حسیں یاد روبرو ہے ابھی

    گُل رخوں کے حسیں تبسم میں
    وہی افسونِ رنگ و بُو ہے ابھی

    (صوفی تبسّم)​
     

اس صفحے کی تشہیر