عزیز حامد مدنی عزیز حامد مدنی::::: ثباتِ غم ہے محبّت کی بے رُخی آخر ::::: Aziz Hamid Madni

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 20, 2016

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm


    [​IMG]
    غزل
    عزیز حامد مدنی

    ثباتِ غم ہے محبّت کی بے رُخی آخر
    کسی کے کام تو آئی، یہ زندگی آخر

    کوئی بتاؤ کہ، ہے بھی ، تو اس قدر کیوں ہے؟
    ہوا کو میرے گریباں سے دشمنی آخر

    تری قبا، تری چادر کا ذکر کس نے کیا
    مگرفسانہ ہوئی، بات ان کہی آخر

    ترے خیال نے سو رُخ دیے تصوّر کو
    ہزار شیوہ تھی تیری سپردگی آخر

    میں اپنی بات کا، اپنے خیال کا ہُوں حرِیف
    گیا نہ سر سے مرے ، خبطِ سرکشی آخر

    ہوا نے مانگ لیا ، آج تار و پو کا حساب
    قبا بھی کیا کوئی حصہ کفن کا تھی آخر

    حنائے پا سے کھلا اُس کا شوقِ آرائش
    نکل چلی تھی دبے پاؤں سادگی آخر

    ہزار، اُس کے تغافل کی داستانیں ہیں
    مگر یہ بات! کہ وہ بھی ہے آدمی آخر

    وہی ہیں گیسوئے جاناں کے خم، وہی ہم ہیں
    وہی ہے کشمکشِ ربطِ باہمی آخر

    پروفیسر عزیز حامد مدنی

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 4
  2. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    18,318
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    اعلی انتخاب۔۔۔ بہت شکریہ شاہ جی۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  3. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    عمدہ انتخاب پر شکریہ شاہ جی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  4. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    عمدہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بہت نوازش اظہارِ خیال اور انتخاب کی پذیرائی پر
    بہت شاد رہیں
    :):):)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  6. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں
    ہم ایک حلقۂ وحشت اثر میں ہوتے ہیں

    کبھی کبھی نگۂ آشنا کے افسانے
    اسی حدیث سر رہ گزر میں ہوتے ہیں

    وہی ہیں آج بھی اس جسم نازنیں کے خطوط
    جو شاخ گل میں جو موج گہر میں ہوتے ہیں

    کھلا یہ دل پہ کہ تعمیر بام و در ہے فریب
    بگولے قالب دیوار و در میں ہوتے ہیں

    گزر رہا ہے تو آنکھیں چرا کے یوں نہ گزر
    غلط بیاں بھی بہت رہ گزر میں ہوتے ہیں

    قفس وہی ہے جہاں رنج نو بہ نو اے دوست
    نگاہ داری احساس پر میں ہوتے ہیں

    سرشت گل ہی میں پنہاں ہیں سارے نقش و نگار
    ہنر یہی تو کف کوزہ گر میں ہوتے ہیں

    طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش
    ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

    عزیز حامد مدنی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    فراق سے بھی گئے ہم وصال سے بھی گئے
    سبک ہوئے ہیں تو عیش ملال سے بھی گئے

    جو بت کدے میں تھے وہ صاحبان کشف و کمال
    حرم میں آئے تو کشف و کمال سے بھی گئے

    اسی نگاہ کی نرمی سے ڈگمگائے قدم
    اسی نگاہ کے تیور سنبھال سے بھی گئے

    غم حیات و غم دوست کی کشاکش میں
    ہم ایسے لوگ تو رنج و ملال سے بھی گئے

    گل و ثمر کا تو رونا الگ رہا لیکن
    یہ غم کہ فرق حرام و حلال سے بھی گئے

    وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
    گئے تو کیا تری بزم خیال سے بھی گئے

    ہم ایسے کون تھے لیکن قفس کی یہ دنیا
    کہ پر شکستوں میں اپنی مثال سے بھی گئے

    چراغ بزم ابھی جان انجمن نہ بجھا
    کہ یہ بجھا تو ترے خط و خال سے بھی گئے

    عزیز حامد مدنی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    14,551
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    سیما علی! آپ چاہیں تو اپنے پسندیدہ کلام کی علیحدہ لڑی بنا سکتی ہیں چاہے وہ عزیز حامد مدنی کا ہی ہو۔ :)
    اگر تو "سابقہ" موجود ہے تو آپ اسے منتخب کر سکتی ہیں۔ جیسے مذکورہ شاعر کا سابقہ موجود ہے۔:)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    14,551
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    خوبصورت انتخاب۔
    بہت خوب!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جزاک اللہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر