1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

عروضی صاحبان سے ایک سوال:

فاخر نے 'محفل چائے خانہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 5, 2021

  1. فاخر

    فاخر محفلین

    مراسلے:
    1,072
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    عروضی صاحبان سے ایک سوال:

    معروف صوفی شاعر شاہ نیازبریلوی کی ایک غزل مجھے بہت ہی پسند ہے ، وہ غزل یہ ہے :

    یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
    کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

    کہیں ممکن ہوا کہیں واجب
    کہیں فانی کہیں بقا دیکھا

    اس غزل کا ایک شعر ’’فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن‘‘ کے وزن پر ہے ،جب دوسرا شعر’ فعِلاتن مفاعِلن فِعْلن‘ کے وزن پر ہے ، کیا ایسا کرنا درست ہے؟ عروض ویب سائٹ کے مطابق دونوں شعر ایک ہی بحر ’’خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع‘‘ میں ہے ۔مجھے اس سلسلے میں تسلی بخش شافی جواب مرحمت فرمایا جائے۔ گنہ گار ممنون و مشکور ہوگا۔
    اساتذہ کرام محمد خلیل الرحمٰن الف عین محمد تابش صدیقی اور دیگر صاحبان سے خصوصی توجہ کی درخواست ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  2. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    13,518
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    یہ بلا کراہت جائز ہے ۔ ایسا تمام اساتذہ کے ہاں ملتا ہے ۔
    اسداللہ خاں تمام ہوا
    اے دریغا! وہ رند شاہد باز
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • متفق متفق × 1
  3. فاخر

    فاخر محفلین

    مراسلے:
    1,072
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    اس سلسلے میں کوئی قاعدہ کلیہ تو ہوگا نا؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    13,518
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    بھئی یہی تو قاعدہ ہے کہ یہ بالکل جائز ہے ۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  5. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,773
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    نہ صرف اس بحر میں بلکہ
    فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
    کے ساتھ
    فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
    بحر بھی ملائی جا سکتی ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  6. علی وقار

    علی وقار محفلین

    مراسلے:
    1,717
    میرے ایک دوست نے ایک شاعر کو عروضی کہا اور ڈانٹ کھائی۔ میں آج کل ڈر کے مارے انہیں ماہر عروض پکارتا ہوں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  7. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    7,482
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    بحر کے ارکان میں اس طرح کے تغیر کو ہی شاید زحاف کہتے ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 5, 2021
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    13,518
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    انہیں گلے سڑے عروضیے والی نظم پڑھوادیں ۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  9. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    13,518
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
  10. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    13,518
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    اور خود بھی ایک بار پڑھ لیں :) :) :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ہم تو نابلد ہیں بھیا مگر ایک بات ضرور جانے ہیں؀
    ”بات اچھی ہو تو نثر اور شعر دونوں میں کہنا جائز ہے اور بات بری ہو تو دونوں میں ناجائز“
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اپنی نا فہمی سے میں اور نہ کچھ کر بیٹھوں!!!
    اس طرح سے تمہیں جائز نہیں اعجاز سے رمز
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. فاخر

    فاخر محفلین

    مراسلے:
    1,072
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    سڑے گلے عروضیے پڑھ لیا !!
    اگر بات ایسی ہی ہے،تو پھر اس فن لطیف کو تحت الثریٰ میں دفن کردیتے ہیں، اور بھائی سید ذیشان سے کہتے ہیں کہ عروض ویب سائٹ کو ڈیلیٹ کرلیں۔ جب بات نثر میں ہی کہنی ہے تو بھلا وقت کیوں خراب کریں۔ سارا جھگڑا تو اسی عروض کا ہے۔ نہ جانے اس فن لطیف نے کتنے لوگوں کو آپس میں لڑا دیا۔ کتنے صفحات سیاہ کروا دیئے۔ الامان والحفیظ۔
    مشہور ہے کہ دیوبند یا سہارن پور میں کہیں مشاعرہ ہورہا تھا، بشیر بدر جیسا عظیم المرتبت شاعر سخن سرا تھا ۔ بیچ میں ایک ٹٹ پنجیے ’’عروضی‘‘ نے ٹانگ اڑا دی کہ صاحب آپ نے جو ابھی مصرعہ پیش کیا ہے، وہ خارج از بحر ہے،درست مصرعہ اس طرح نہیں ہے ۔ اگر اس طرح ہو تومصرعہ بحر میں سما سکے گا۔ پھر کیا تھا، بشیر بدر اس وقت اپنی شاعری کے ساتھ عمر کے بھی شباب پر تھے،وہیں سے کھڑے کھڑے ایک مصرعہ ’’معترض‘‘ کے منھ پر دے مارا کہ جناب ایسے نہیں ا یسے ہے۔مشاعرہ کے پنڈال میں چند لمحے کے لئے بھگدڑ سی مچ گئی، سامعین ادھر ادھر بھاگنے سے لگے، ناظم اور کنوینر مشاعرہ کو بہ دقت تمام سامعین کو سنبھالنا پڑا۔ شہر بھر میں اس ٹٹ پنجیے ’’معترض‘‘ کی دھوم مچی گئی کہ فلاں شخص نے بشیر بدر کو گھیر لیا :LOL::LOL: ۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 7, 2021
    • پر مزاح پر مزاح × 2

اس صفحے کی تشہیر