عبداللہ ابن سبا، ایک دیو مالائی قصہ

مہوش علی نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 5, 2006

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    کچھ لوگ مولانا مودودی پر اُن کی کتاب خلافت و ملوکیت کے حوالے سے بہت سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں اور انہیں کافر تک کہہ دیتے ہیں۔

    واللہ، مولانا مودودی نے تو صرف تعصب سے پاک ہو کر امت کی فلاح و بہبود کی کوشش کی ہے، اور یقیناً اس مسئلہ پر بہت کم لکھا ہے۔

    میں اس مسئلے کو شاید ختم کر دیتی، مگر مولانا مودودی کے خلاف مہم بڑھتی ہی جا رہی ہے اور ساتھ میں عبداللہ ابن سبا نامی یہ فتنہ وحدتِ امت کے پرخچے اڑاتا چلا جا رہا ہے۔ پس مجھ پر لازمی ہوا کہ مزید حقائق کو آپ کے سامنے لاؤں تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ مولانا مودودی نے کس قدر احتیاط کے ساتھ اس موضوع پر قلم اٹھایا تھا، اور ان پر کس قدر ناجائز تنقید ہو رہی ہے۔


    اب اگر آپ کو واقعی اس دیو مالائی قصہ کی حقیقت جاننی ہے تو ذیل کا آرٹیکل آپ کو پڑھنا ہو گا۔

    کیا واقعی شیعہ\سبائی ہی قاتلین عثمان ہیں؟


    اس کو لکھنے والے اہل تشیع حضرات ہیں۔ بہت اہم ہے کہ ان کا نقطہ نظر اور دلائل بھی ہمارے سامنے ہوں، کیونکہ وہ بھی اس مقدمے کے ایک فریق ہیں۔

    محترم فرید صاحب،

    مجھے خصوصی طور پر یہ آرٹیکل آپ کے رویے کی وجہ سے پیش کرنا پڑا ہے۔ جبتک آپ اپنا رویہ نہیں تبدیل کرتے اور فریق مخالف کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع نہیں فراہم کرتے، آپ اس وقت تک کبھی عدلِ الہی کے تقاضے پورا نہیں کر سکیں گے، بلکہ آپ کے فیصلے صرف اور صرف اندھے پن اور کسی قوم کی دشمنی کی وجہ سے نا انصافی پر مبتلا رہیں گے۔

    اب انصاف کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے اہل تشیع کے مخالفین کا نظریہ بھی یہاں پیش کر دوں۔

    محترم فرید صاحب، آپ نے اس سلسلے میں یہ دو لنک پیش کیے ہیں:

    http://www.alsaha.com/sahat/Forum2/HTML/001162.html
    http://arabic.islamicweb.com/shia/history_fitna.htm


    \\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

    جب آپ لوگ اوپر دی گئی دونوں فریقین کی کتب پڑھ چکے ہوں گے، تو پھر آپ کو مولانا مودودی کی پوزیشن کا احساس ہو گا اور اُن کی کتاب کی اہمیت واضح ہو گی۔


    نیز آپ پر یہ بھی واضح ہو گا کہ کیوں میں نے ایسے قصوں کو وحدتِ امت کے لیے زہر قاتل قرار دیا تھا۔


    محترم فرید صاحب،

    اب آپ کے سامنے فریق مخالف کے تمام دلائل موجود ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ اب آپ ان کے علمی اعتراضات کا کھل کر جواب دیں اور ثابت کریں کہ عبداللہ ابن سبا اور سبائیں ہی قاتلانِ جناب عثمان ابن عفان ہیں۔

    ۔ یقین کریں مجھے بہت خوشی ہو گی اگر میں اس مسئلے پر آپ کے نظریات سے کچھ استفادہ حاصل کر سکوں اور بخدا آپ کے علمی دلائل سے میں پوری طرح انصاف کروں گی۔ انشاء اللہ۔
     
  2. فرید احمد

    فرید احمد محفلین

    مراسلے:
    451
    محترمہ آپ کی دیا ہوا پہلا رسالہ sabai_uthman_killers_2 میں جو روایت اولا نقل کی گئی ہے ، وہ تاریخ طبری عربی نہ ملی، میری گذارش یہ ہے کہ انگریزی کا عربی سے مقابلہ کریں‌۔
    یہ بات ابھی باقی ہے کہ سن ہجری 35 تک میں 16 ویں جلد آگئی،
    آپ نے فقط ٹائٹل کا فوٹو دے دیا ، کیا اس سے بات ثابت ہو گئی ؟
    انگریزی کے بجائے عربی اصل ہے ، ذرا اس ترجمہ کو عربی سے ملا لیں ۔
    اور ہاں سیف کی روایات کیوں قابل قبول نہیں ۔ اگر یہ گذاب ہے تو اس کی روایات سے طبری بھری پڑی ہے، پھر تو اس پر اعتماد کی وجہ سے طبری ہی مخدوش ہو گئے ، اس کی دوسری روایات کا اعتبار ؟
     
  3. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    محترم فرید صاحب،

    میرے پاس وقت کی کمی ہے لیکن مختصرا عرض ہے کہ کیا آپ نے کبھی www.amazon.com کا نام سنا ہے؟ یہ وہ ادارہ ہے جو نیٹ پر کتابیں بیچتا ہے۔

    آپ اس ربط پر کلک کریں گے تو آپ کے سامنے تاریخ طبری انگریزی ورژن کی تمام جلدیں سامنے آ جائیں گی، بشمول پندھرویں اور سولہویں جلد کے۔


    تاریخ طبری کا یہ انگریزی ترجمہ ہر قسم کی تنقید سے بہت بالاتر ہے۔ آپ کو مغربی دنیا کے سٹینڈرڈ کا علم نہیں ہے، ورنہ آپ بھی کبھی یہ سوال نہ اٹھاتے۔

    مغربی دنیا میں موجود تمام اسلامی ادارے اسی انگریزی ترجمے پر سو فیصدی بھروسہ کرتے ہیں اور آج تک ایک لفظ بھی اُن کی طرف سے اس پر اعتراض کی صورت میں نہیں آیا۔ بلکہ ان کی لائیبریریز میں خود یہ کتابیں موجود ہیں۔

    بلکہ ایمزون کی طرز پر ایک اسلامی کتابیں بیچنے کا ادارہ بھی ہے جو کہ نیٹ پر سب سے بڑا ہے۔ آپ ان کے ویب سائیٹ پر اس کتاب کو ملاحظہ فرمائیں۔ اس ربط پر کلک کریں۔

    اگر اس کے بعد بھی آپ میری دیانت پر شک کریں گے، تو میرے پاس وسیلہ نہیں کہ آپ کو مطمئین کر سکوں۔ اس صورت میں میں آپ سے معذرت کر لوں گی۔
     
  4. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    یہ گفتگو دو تھریڈز پر مشتمل ہے۔ وہ حضرات جو اس دوسرے تھریڈ پر نہیں گئے اور ڈائریکٹ یہاں اس مضمون کو پڑھ رہے ہیں، ان کے لیے عرض کر دوں کہ دوسرے تھریڈ میں میں نے ایک آرٹیکل پوسٹ کیا تھا، جس کا عنوان تھا:

    ٬ف شورش کے آغاز سے شہادتِ عثمان تک کے تفصیلی ترتیب وار واقعات"

    اس آرٹیکل کا ربط یہ ہے

    ہمارے محترم فرید صاحب نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ اس میں موجود پورے کے پورے مواد کا غلط ترجمہ کیا گیا ہے۔

    چونکہ میں خود سٹیٹ لائیبریری جا کر ان کتابوں کو چیک کر چکی ہوں، اس لیے مجھے اس دعوے کا انکار کرنا پڑ رہا ہے اور تصدیق کرنی پڑ رہی ہے کہ چیزیں حقیقت کے بہت قریب تر ہیں۔

    ثبوت کے طور پر اس آرٹیکل سے پہلی روایت پیشِ خدمت ہے۔ پھر میں اسکا امیج پیش کروں گی۔ اس کے بعد احباب خود انصاف کر سکیں گے۔ انشاء اللہ۔

    آرٹیکل کی پہلی روایت:

    علی ابن ابی طالب کا عثمان ابن عفان اور اُنکےگورنروں پر اعتراض

    امام واقدی نے محمد بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے:
    سن ۳۴ ہجری میں رسول ﷺ کے چند صحابہ نے دیگر اصحابِ رسول ﷺ کو خطوط لکھے (جو کہ جہاد کی غرض سے دور دراز علاقوں میں گئے ہوئے تھے) کہ:
    "تم لوگ واپس مدینہ چلے آؤ چونکہ اگر تمہیں جہاد ہی کرنا ہے تو جہاد یہاں ہمارےپاس مدینے میں ہی ہے۔"
    [نوٹ: اردو ایڈیشن میں اس روایت کے اس اوپر کے حصے کی مکمل تحریف کر دی گئی ہے۔
    نیز یہی خطوط والی روایت امام جریر طبری نے واقدی کے علاوہ جعفر بن عبداللہ محمدی سے دوسرے طریقے سے بھی نقل کی ہے جو کہ آگے آ رہی ہے]
    اور ان لوگوں (اصحابِ رسول) نے عثمان کی برائیاں بیان کیں اور عثمان کے خلاف ایسی سخت ترین زبان استعمال کی کہ کسی اور کے لیے استعمال نہیں کی ہو گی۔ اور جب یہ اصحابِ رسول عثمان کے متعلق یہ آراء پیش کر رہے تھے اور سن رہے تھے تو کوئی ایسا نہیں تھا کہ جس نے انہیں اس سے منع کیا ہو یا اس سے روکا ہو سوائے چند ایک لوگوں کے جیسے زید بن ثابت، ابو اسید الساعدی، کعب ابن مالک اور حسان ابن ثابت۔
    یہ لوگ علی کے پاس جمع ہو گئے اور آپ سے عثمان کے متعلق بات کی۔ اس پر علی عثمان کے پاس تشریف لائے اور کہا:
    لوگ میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے تمہارے بارے میں مجھ سے بات کی ہے۔ ۔ ۔ ۔ (اے عثمان) اللہ کو یاد کرو! تمہیں اس کے بعد کوئی روشنی نہیں دکھا سکے گا کہ جب تم اندھے بن جاؤ۔ خدا کی قسم! تمہاری اس جہالت کے بعد کوئی تمہیں صحیح بات نہیں بتا سکتا۔ بے شک! راستہ بالکل صاف اور روشن ہے، اور دین حق کی نشانیاں بالکل واضح ہیں۔
    اے عثمان! یہ جان لو کہ اللہ کی نظر میں اس کا بہترین بندہ وہ ہے جو کہ انصاف پسند امام ہے۔ ایسا امام جو کہ خود راہ حق کی طرف ہدایت یافتہ ہے اور جو دوسروں کو بھی سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ اور یہ اس لیے ہے کہ ایسا امام سنت رسول (ص) کی بالکل صحیح پیروی کرتا ہے اور گمراہی کی بدعات کو تباہ کرتا ہے۔ خدا کی قسم ہر چیز واضح ہے۔ حقیقی سنت رسول (ص) اور بدعات میں صاف فرق ہے۔ اور اللہ کی نظر میں بدترین امام وہ ہے جو کہ ظالم حکمران ہے۔ جو خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ ایسا امام سنت نبوی (ص) کو تباہ کرتا ہے اور بدعات کا اجراء کرتا ہے۔
    بے شک میں نے رسول (ص) کو فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن ظالم امام کو لایا جائے گا اور اس کا کوئی مددگار اور بچانے والا نہیں ہو گا اور اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ اور اسے جہنم میں ایسے پیسا جائے گا جیسا کہ چکی میں کسی کو پیسا جاتا ہے۔ اور اسکے لیے دوزخ کا دردناک عذاب ہے۔
    میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں (اے عثمان)، کہ اللہ سے اور اس کے اچانک آ جانے والے عذاب اور انتقام سے خبردار رہو۔ بے شک اسکا عذاب اور سزا انتہائی سخت اور دردناک ہے۔ میں تمہیں اس سے آگاہ کرتا ہوں اور یہ نہ ہو کہ تم اس قوم کے قتل کیے جانے والے سردار ہو۔ اور بے شک یہ کہا گیا ہے کہ اس قوم کے ایک سردار کو قتل کر دیا جائے گا، اور اس قوم پر خون آشام فتنے کھل جائیں گے اس دن تک کے قائم ہونے تک (جب امام مہدی تشریف لائیں گے)، اور اس کے معاملات بری طرح سے الجھ جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ فرقوں میں بٹ جائیں گے اور وہ حق کو نہ پہچان سکیں گے کیونکہ باطل بہت بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہو گا۔ وہ لہروں کی طرح ادھر ادھر بہتے پھریں گے اور ان کی سمجھ میں کچھ نہ آئے گا۔
    عثمان نے جواب دیا:
    بخدا، مجھے علم ہے کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں جو تم نے کہا ہے۔ مگر بخدا، اگر تم میری جگہ پر ہوتے تو میں تم پر الزام نہ لگاتا اور نہ ہی تم کو اکیلا چھوڑتا، نہ تم کو شرمندہ کرتا اور نہ ہی ناانصافی کا برتاؤ کرتا۔ اگر میں نے اقرباء پروری سے کام لیا ہے اور اپنے رشتہ داروں کو اہم مناصب اور گورنری پر فائز کیا ہے، تو ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جن کو عمر بن الخطاب مقرر کیا کرتے تھے۔ اے علی، میں خدا کے نام پر کہتا ہوں کہ کیا تمہیں پتا ہے کہ مغیرہ بن شعبہ ان میں سے نہیں ہے؟ علی (ع) نے کہا: ہاں۔ پھر عثمان نے کہا: کیا تمہیں پتا ہے کہ یہ عمر تھے جنہوں نے اسے گورنر مقرر کیا تھا۔ علی (ع) نے کہا: ہاں۔ پھر عثمان نے کہا: تو پھر تم مجھ کو کیوں الزام دے رہے ہو کہ میں نے اسے اس لیے گورنر مقرر کیا ہے کونکہ یہ میرا رشتہ دار ہے۔
    [نوٹ: ناصبی حضرات کے پاس عثمان کے دفاع کا سب سے بڑا بہانہ یہی ہے کہ ان گورنروں کو عمر ابن خطاب نے بھی مقرر رکھا تھا۔ اور ناصبی حضرات اس بہانے کا کھل کر پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔
    مگر اس بہانے کو آگےعلی نے جس طرح رد کیا ہے، اسکو ناصبی حضرات شیرِ مادر سمجھ کر صاف پی جاتے ہیں اور کبھی نقل نہیں کرتے]
    اس پر علی (ع) نے کہا:
    میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہر کوئی، جسے عمر نے مقرر کیا، اس پر عمر نے کڑی نگرانی بھی رکھی اور عمر ان کی کھنچائی کرتا رہا۔ اگر عمر نے اس کے خلاف ذرا سی بھی کوئی بات سنی تو فورا دُرے (کوڑا) سے ان کی خبر لی اور انہیں سزا دی۔ لیکن تم یہ نہیں کرتے ہو۔ تم اپنے رشتہ داروں سے کمزور پڑ جاتے ہو اور نرم ہو۔ عثمان نے کہا: یہ تمہارے بھی تو رشتہ دار ہیں۔ علی نے جواب دیا: قسم ہے، ان کی مجھ سے قریبی رشتہ داری ہے لیکن قابلیت دوسرے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔
    عثمان نے کہا:
    کیا تمہیں پتا ہے کہ عمر نے معاویہ کو اپنے پورے دور میں گورنر کے منصب پر فائز رکھا؟ اور میں نے بھی یہی کیا ہے۔
    علی نے کہا:
    میں اللہ کی قسم دے کر تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں پتا ہے کہ معاویہ عمر سے اتنا ڈرتا تھا کہ عمر کا اپنا غلام بھی اس سے اتنا نہیں ڈرتا تھا؟ عثمان نے کہا: ہاں۔ علی نے مزید کہا: اس نوبت اس بات کی آ گئ ہے کہ معاویہ ہر معاملے میں فیصلہ صادر کر دیتا ہے اور تم سے مشورہ کرنا تک بھی گوارا نہیں کرتا، اور تمہیں اس کا علم ہے۔ معاویہ لوگوں کو کہتا ہے، "یہ عثمان کا حکم ہے"۔ اور تم یہ سب کچھ سنتے ہو اور اس کی سرکوبی نہیں کرتے ہو۔
    پھر علی عثمان کو چھوڑ کر چلے گئے اور عثمان نے اپنی راہ لی اور منبر پر آ کر کہا:
    بخدا تم نے مجھے ان چیزوں کے لیے الزام دیا ہے جو کہ تم عمر سے متوقع رکھتے تھے۔ جبکہ عمر تم کو اپنے جوتوں پر رکھتا تھا، ہاتھوں سے پٹائی کرتا تھا اور زبان سے لعن طعن کرتا تھا۔ پس تم اسکی اطاعت کرتے تھے، چاھے تمہیں یہ بات پسند آتی تھی یا نہیں۔ مگر میں تمہارے ساتھ نرمی برتتا ہوں۔ میں تمہیں اپنی گردن پر سوار ہونے دیتا ہوں اور اپنے ہاتھوں اور زبان پر قابو رکھتا ہوں۔ اسی لیے تم مجھ سے نخرہ کرتے ہو۔ بخدا، میں اپنے اقرباء کے حوالے سے مضبوط ہوں اور بہت سے حمایتی رکھتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بخدا میں اسی سلوک کا مستحق ہوں جو کہ تم مجھ سے پہلے کے دو خلفاء کے ساتھ کرتے رہے ہو۔ اب بیت المال میں اضافی رقم موجود ہے، تو میں اس اضافی رقم کو کیوں نہ ایسے خرچ کروں جیسا میرا دل چاہے؟ ورنہ میں تمہارا سردار ہی کیوں بنا ہوں؟ ۔ ۔ ۔۔



    اس روایت کا انگریزی ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

    [​IMG]

    [​IMG]

    محترم فرید صاحب،

    اب آپ کی باری ہے کہ آپ ثبوت بہم فرمائیں اور ثابت کریں کہ آپ کا دعویٰ درست ہے اور تمام تر مواد کا غلط ترجمہ کیا گیا ہے۔
     
  5. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    نیز محترم فرید صاحب، آپ نے فرمایا:

    اور ہاں سیف کی روایات کیوں قابل قبول نہیں ۔ اگر یہ گذاب ہے تو اس کی روایات سے طبری بھری پڑی ہے، پھر تو اس پر اعتماد کی وجہ سے طبری ہی مخدوش ہو گئے ، اس کی دوسری روایات کا اعتبار ؟

    مجھے تھوڑی حیرت ہو رہی ہے کہ آپ ابھی تک یہ سوال مجھ سے پوچھ رہے ہیں جبکہ پورا کا پورا آرٹیکل اس بات کا جواب تھا کہ اس معاملے میں سیف کیوں جھوٹا ہے اور کیوں اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
     
  6. فرید احمد

    فرید احمد محفلین

    مراسلے:
    451
    شکریہ

    شکریہ مہوش صاحبہ
    اگر آپ ان رسائل کو یکے بعد دیگرے پیش کرنے کے اس ویب سائٹ کا ذکر کر دیتی جہاں سے یہ سب لیا جا رہا ہے تو بہت اچھا ہوتا ، خیر میں وہ سب دیکھ لیا ، شاید اس صورت میں غیر جانب داری اور میانہ روی کا آپ کا چہرہ کھل جاتا ۔
    میں ابھی تک کسی ایک فریق کی طرف داری نہیں کی، بلکہ تاریخ کی معتبر کتابوں کو مستند جانا ہے ، یہ اور بات ہے کہ حضرات اہل تشیع کے نزدیک سوائے طہ حسین جیسے پچھلوں کی باتوں کے اگلا سب کچھ من گھڑت ہے ، اور ناصبیوں کی تحریرات ہیں ۔ اب جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ۔۔
    خیر انگریزی دیکھ لیا ، میں انگریزی نہیں جانتا ، یار من ترکی و من ترکی ندانم ۔
    میرا صرار اصل عربی پر ہے ،
    نیز اب میں نے حصہ اول بھی پڑھا، اول جو بات مجھے کھٹکی وہ اس رسالہ کی زبان ہے ، جس نے مولی علی کے سوا تقریبا تمام صحابہ کو اس صیغہ سے مخاطب کیا ہے کہ آج کی مہذب دنیا میں اس کی گنجائش نہیں ۔
    چونکہ پورے رسالہ کے مشمولات پر گفت گو ممکن نہیں ، اس لیے کچھ خلاصہ پیش کرتا ہوں ۔
    دوسری بات یہ ہے کہ سیف کی روایات کو چھوڑ کر طبری میں اور بھی متعدد روایات ہیں ، جس عثمان رضی اللہ کے بے گناہ قتل کیے جانے ، حضرت علی رضی اللہ کے اس پر افسوس کرنے اور حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہ کے حضرت عثمان کی مدد کرنے کے بارے میں موجود ہے ، میرے پاس عربی نسخہ بھی ہے ، اردو بھی ہے ، اور میں مطالعہ کر رہا ہوں ۔
    ان دونوں رسالوں میں جیسا کہ واضح ہے ، جہاں مناسب سمجھا گیا ، وہاں انگریزی کا حوالہ دیا گیا اور جہاں مناسب سمجھا وہاں اردو کا حوالہ دیا ، اور ایک دو جگی عربی کا ! ! !
    اس میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ باتیں ہیں ، حالاں کہ مالک بن نویرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سن کر مرتد ہو چکا تھا ، اور اس کی وہ بیوی مدت سے مطلقہ تھی ، شاہ عبدالعزیز دہلوی نے تحفہ اثنا عشریہ میں اس کی وضاحت کی ہے ۔
    اس رسالہ میں یہ بھی ہے کہ پانچویں صدی تک کے مؤرخین ابن سبا کا تذکرہ نہیں کرتے ، حالاں کہ یہ غلط ہے ۔ سعد بن عبد اللہ المتوفی سن 301 نے اپنی کتاب “المقالات والفرق “ میں ابن سبا کا تذکرہ کیا ہے ،
    متعدد شیعہ حضرات نے بھی اس کا ذکر کیا ہے ۔مثلا محمد حسن النوبختی وغیرہ نے اس کا تذکرہ کیا ہے ، سر ویلیم میور مشہور مشتشرق ہے ، ان بھی اس کا تذکرہ کیا ہے ،
    اس رسالہ میں ابن سبا پر مشتمل روایات گنوا کر ان کو غلط ثابت کیا گیا ہے ، یہ روایات کچھ سنیوں کی ہیں ، کچھ شیعوں کی ،
    اور یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ابن سبا کوئی شخص نہیں ۔
    پھر کہا جاتا ہے کہ اگ ان روایات سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو وہ اتنا کہ یہ حضرت علی کے زمانہ میں ظاہر ہوا ، اور حضرت علی کی الوہیت کا دعوی کیا، کیا یہ تضاد نہیں ؟ میں نے غور کیا تو معلوم ہوا اور جیسا کہ آں محترمہ ان ٹھریڈ کا عنوان باندھا ہے کہ ابن سبا دیومالائی شخصیت ہے ، یہی بات رسالہ میں ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، حالاں کہ اسی رسالہ میں کسی ممکنہ اعتراض سے بچنے کے لیے پہلے سے یہ کھڑکی کھلی رکھی گئی کہ بہت بہت تو یہ حضرت علی رضی اللہ کے زمانے میں ظاہر ہوا ، حالاں کہ اس نے حضرت عثمان رضی اللہ کے زمانہ میں اسلام ظاہر کیا تھا ۔آپ خود بھی اس کا انکار کرتی ہیں یا اس کو دیومالائی شخص سمجھتی ہیں وہ واضح نہ ہو سکا۔
    اگر ان روایات سے جیسا کہ رسالہ میں مذکور ہے اس کے حضرت علی کے زمانہ میں ہونے کو مانا جائے یہ سوال تو باقی کہ اس نے اس مدت قلیل میں اتنی بڑی گروہی طاقت کیسے حاصل کر لی ؟
    ایک بات یہ بھی ہے کہ اس میں حضرت علی رضی اللہ کے بہت سارے اعتراضات پیش کیے گئے ہیں ، پھر کہاجاتا ہے کہ یہ اعتراضات مولی علی نے کیے لہذا ہم بھی کرتے ہیں ، حالاں کہ ان میں بہت سے اعتراضات اور لوگوں نے کیے اور حضرت علی رضی اللہ نے حضرت عثمان رضی اللہ سے صفائی مانگی ، اور طبری میں ہے کہ حضرت علی نے وہ جوابات اور مان لیے ۔ مثلا جمعہ کی بدعت والی بات کا جواب دیا کہ میرے اہل یہاں مقیم ہے ،
    ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ نے حضرت طلحہ کو قسم دے کر کہا کہ تم جا کر لوگوں کو حضرت عثمان سے دور کرو
    ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی حضرت عثمان کے قتل پر افسوس کیا ، لوگوں نے کہا کہ قاتلین نادم ہو رہے ہیں تو فرمایا کہ ان کا حال اس آیت کی طرح ہے : کمثل الشیطان اذ قال للانسان اکفر ۔۔۔
    مختصرا یہ کہ رسالہ اپنی زبان ، ترتیب مواد اور انتخاب روایات میں ہر گز معیاری نہیں ۔
    ایک کتاب عربی میں ہے ، ابن سبا حقیقۃ ، لا‌خیال
    http://www.iu.edu.sa/Magazine/46/13.htm
    یہاں تقریبا تمام منکرین ابن سبا کے جوابات ہیں ۔
    اس دورے ٹھریڈ پر آپ نے کھ دھمکی آمیر الفاظ بھی استعمال کیے ہیں ۔اور مجھے معلوم ہے کہ ورنہ آپ کیا کریں گی، وہ تمام مغلظات جو حضرات اہل تشیع نے صحابہ کے خلاف لکھ رکھا ہے وہ فورم پر آجائے گا۔ مجھے اس سلسلے میں اپنی تنگ دامنی کا علم ہے ، آپ کو بھی ہوگا کہ آپ کے طریقہ کے مطابق فریق مخالف کا ایسا کلام اردو میں وافر مقدار میں ابھی تک نیٹ پر نہیں آیا ۔اور میں خود تدریسی آدمی ہوں ۔ کہاں سے وقت لاؤں ۔ ہاں میرا مطالعہ جاری ہے ، اور یقینا یہ تاریخی حقیقت ہے کہ ابن سبا ایک شخص نے حضرت عثمان کے دور میں اسلام کا اظہار کیا تھا۔
    تاریخ طبری کا مطالعہ اس لیے نہ کیجیے گا کہ ان رسالوں میں یا اہل تشیع کی بیان کردہ روایات کی تحقیق کی جائے ، بلکہ براہ راست اس سے نتیجہ اخذ کرنے کی نیت کیجیے گا ۔
    ایک خاص بات
    اگر ان اہل تشیع کی بات مان لی جائے جیسا کہ رسالہ سے مجموعی طور سے واضح ہو تا ہے تو سوائے چند تمام صحابہ گنہ گار اور ناقابل اعتبار معلوم ہوتے ہیں ، تو پھر احکام دینیہ کی بنیاد وہ کونسی روایات باقی رہیں گی ؟
    اور ہاں صحابہ پر تو ان کے معصوم نہ ہونے کا راگ الاپ کر خوب جرائم منسوب کیے جاتے ہیں ، تو پھر ائمہ کی معصومیت کا کیا ؟ کیا نبی ہیں ؟
     
  7. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    محترم فرید صاحب،

    آپ نے وہ مقولہ تو سنا ہو گا کہ "ہر کسی کو خوش کرنا ممکن نہیں بلکہ بیوقوفی ہے"۔

    اور خاص طور پر جب ایک فریق نے آنکھیں بند کر کے ذاتیات پر حملہ کرنے کی ٹھانی ہوئی ہو تو انسان لاچار ہو جاتا ہے۔

    میں نے تو پہلے ہی ذکر کر دیا تھا کہ یہ کس کا نقطہ نظر ہے، تو پھر شکایت کیسی؟

    اور آپ کو اس سائیٹ کے حوالے سے تو فوراً شکایت پیدا ہو گئی، مگر کیا وجہ ہے کہ آپ کو یہ چیز نظر نہیں آئی کہ میں نے تو انتہائی شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ کی ویب سائیٹ، اُن کے علماء اور کتب کو بھی یہاں پیش کیا تھا، جس کے حوالے آپ خوشی خوشی اپنی پوسٹوں میں بھی دے رہے ہیں؟؟؟

    تو محترم فرید صاحب،

    اگر اسی طرح بند آنکھوں کے ساتھ شکایات کا سلسلہ جاری رہا، تو یہ سلسلہ تو کبھی ختم ہونے کا نام نہ لے گا۔

    ہمارا فرض تو صرف یہ ہے کہ دلائل کو دیکھیں اور اللہ کے نام پر اُن کے ساتھ انصاف کریں۔

    یہاں پر بہت سے احباب ہیں جو کہ انگریزی جانتے ہیں۔

    اس آرٹیکل پر آپ نے فوراً دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے غلط ترجمہ کر کے بے ایمانی کی ہے۔ جواباً جب اس ترجمے کی تصدیق کرنا پڑی تو آپ نے میری دیانت کو بھی جھٹلایا۔

    اب یہاں پر بہت سے احباب ہیں جو کہ انگریزی جانتے ہیں۔ کیا آپ ان سب کی دیانت کو جھٹلائیں گے؟

    اور آپ نے جب اس کو جھٹلا ہی دیا ہے، تو جواباً آپ کو دلائل اور ثبوت کے ساتھ سامنے آنا چاہیے تھا کہ اصل عبارت یہ ہے اور اسکا صحیح ترجمہ یہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر ابھی تک آپ کی طرف سے چھوٹی سی بھی دلیل ندارد ہے۔

    فرمائیے کہ یہ طرز عمل کیا ہے؟ کیا تمام تر دعوے کرنے اور مطالبات کرنے اور الزامات لگانے کا حق صرف آپ ہی کو ہے؟ کیا آپ اپنے اوپر یہ لازم نہیں کریں گے کہ اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت بھی لائیں؟
    محترم فرید صاحب،

    اولاً میں ہر کسی کے ہر قسم کے گناہوں کی ذمہ دار نہیں۔

    دوم، اصل مقصد ہمارا دلائل کو دیکھنا ہے۔ اگر ہم ان خارجی بحثوں پر ہی اٹکے رہ گئے تو مقصد کیا حاصل کریں گے؟

    سوم عرض ہے کہ صحابہ کے نام کے ساتھ "حضرت" یا "رضی اللہ عنہ" لگانا واجبات میں سے نہیں ہے، بلکہ اس کا اجراء بعد میں آنے والی مسلمان نسلوں نے کیا ہے۔ صحابہ کا آپس میں بھی یہ طریقہ کار تھا اور تابعین کا بھی صحابہ کے ساتھ یہی طریقہ کار تھا کہ نام لے کر مخاطب کیا جاتا تھا۔ یہی چیز طبری، بخاری اور سلف کے کتب میں ہے جہاں امام طبری، بخاری، مسلم وغیرہ نے صحابہ کے نام کے ساتھ "حضرت" یا "رضی اللہ" کے سابقے یا لاحقے استعمال نہیں کیے ہیں۔ اور یہ آرٹیکل طبری کا اردو ترجمہ ہے اور جب اصل متن میں یہ سابقے اور لاحقے نہیں، تو ان کا ترجمے میں بھی نہ ہونا کوئی ایسی بات نہیں اور نہ ہی ناقابل معافی جرم ہے۔

    مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ نے کس طریقے سے اس آرٹیکل کا مطالعہ کیا ہے۔

    اس آرٹیکل میں صاف طور پر موجود تھا کہ یہ صرف اور صرف سیف ابن عمر ہی ہے جو کہ مستقل دعویٰ کیے جا رہا ہے کہ علی ابن ابی طالب اور طلحہ بن عبید اللہ وغیرہ عثمان ابن عفان کے کٹر حامیان میں سے تھے وغیرہ وغیرہ۔

    جب کہ دیگر تمام روایات، جو کہ سیف ابن عمر کے مقابلے میں حد درجہ معتبر اور تواتر کے ساتھ اور بہت سے مختلف سلسلہ اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہیں، اُن سب میں صرف اسی چیز کی صراحت ہے کہ علی ابن ابی طالب نے بار بار جنابِ عثمان کو صحیح راہ دکھانے کی کوشش کی، مگر آخر میں بار بار وعدہ خلافی کرنے پر توبہ کی کہ وہ پھر کبھی جنابِ عثمان کی مدد نہیں کریں گے۔

    اور جہاں تک جناب طلحہ کا تعلق ہے، تو شہادتِ عثمان میں اُن کے کردار پر بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اس سب کو یکسر نظر انداز کر دیں اور صرف اور صرف سیف ابن عمر کی روایات پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیں؟

    آپ کے پاس طبری کا اردو ترجمہ موجود ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے، اردو کے یہ تراجم کسی حد تک معتصابہ رویہ رکھتے ہیں۔ اور اسی لیے اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہون نے تمام روایات کے تمام تر سلسلہ اسناد کو غائب کر دیا ہے تاکہ لوگ غلط چیز کو صحیح سے الگ نہ کر سکیں اور سیف کذاب کی روایات کو نہ پہچان سکیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی جگہوں پر روایات میں تحریف کی گئی ہے، جس کا ثبوت اس آرٹیکل کی پہلی روایت میں ہی موجود ہے۔

    میں خود تاریخ طبری کی پندھرویں اور سولہویں جلد کا مطالعہ کر چکی ہوں اور یہ بات تحقیق سے مجھ پر واضح ہے کہ کم از کم تاریخ طبری میں سیف کذاب سے پاک شاید ہی کوئی ایسی روایت ہو جس میں علی ابن ابی طالب یا جناب طلحہ وغیرہ حضرت عثمان کی کھل کر حمایت اور مدد کر رہے ہوں۔ اس لیے اگر آپ سیف کذاب سے پاک یہ روایات یہاں پیش کیجئے اور یقین کریں کہ میں ایسی تمام روایات کو خوش آمدید کہوں گی۔


    تو پھر اس سے فرق کیا پڑا؟ جب تک کسی جگہ حوالہ بیان کرنے میں غلط بیانی نہیں کی گئی، اُس وقت تک اعتراض کی کیا گنجائش ہے؟

    محترم فرید صاحب،

    میں معافی چاہتی ہوں کہ مجھے بار بار یہ سوال کرنا پڑ رہا ہے کہ کیا آپ نے آرٹیکل کو کس حالت میں پڑھا ہے؟ اگر نیم بند آنکھوں کے ساتھ پڑھا ہے تو بہت زیادتی ہے۔

    مالک بن نویرہ کا ذکر اس آرٹیکل میں خارجی بحث ہے، اور بات صرف یہ ثابت کرنی تھی کہ یہ سیف ابن عمر (جو کہ آپ کا چہیتا ہے) جس نے جناب خالد بن ولید پر جھوٹ باندھا کہ انہوں نے اسی رات مالک بن نویرہ کی زوجہ سے زناکاری کی۔

    تو یہ ڈبل سٹینڈرڈز ہوں گے اگر آپ ایک معاملے میں سیف کو جھوٹا کہیں، اور دوسرے معاملے میں اس کی روایات کو آنکھیں بند کر کے قبول کریں۔

    محترم فرید صاحب ،

    میں کیا کروں کہ آپ بار بار وہ چیزیں دہرا رہے ہیں کہ جن پر بہت تفصیل سے اس آرٹیکل میں پہلے سے ہی گفتگو کی جا چکی ہے۔ سعد بن عبداللہ، نوبختی وغیرہ وغیرہ کی یہ تمام روایات اس آرٹیکل میں موجود ہیں اور ان پر کھل کر بحث کی گئی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ اس عظیم الشان واقعے کے، کہ جس کے ہزاروں چشم دید گواہ ہونے چاہیے تھے، اس کےمتعلق یہ افراد ایک بھی چشم دید گواہ نہیں لا سکے۔ اس آرٹیکل میں اس موضوع پر کئی صفحات پر مشتمل بحث موجود ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں وہاں سے کاپی کر کے دوبارہ یہاں پیسٹ کروں؟

    چاہیے تو یہ تھا کہ انہوں نے جو دلائل دیے ہیں، آپ اس پر گرفت کرتے، مگر آپ نے اُن کے دلائل تو یکسر نظر انداز کر دیے اور اُسی پہلے سوال کی تکرار جاری رکھی کہ جس کا مفصل جواب پہلے ہی دیا جا چکا تھا۔

    محترم فرید صاحب،

    آپ پھر ظاہر پرستی میں مبتلا ہو کر میرے الفاظ کے ظاہری معنوں پر گرفت کر رہے ہیں اور اس کے روحانی معنی سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ مان بھی لیں کہ میں نے صحیح الفاظ کا انتخاب نہیں کیا، مگر کیا وجہ ہے کہ آپ نے میرے وہ الفاظ یکسر نظر انداز کر دیے جو کہ یہ تھریڈ شروع کرنے سے بہت پہلے میں نے تاریخ اسلام 1 میں کہے تھے۔ میں ان کو پھر ذیل میں نقل کرتی ہوں:


    [نوٹ: میں عبداللہ ابن سبا کے اپنے وجود کو دیو مالائی نہیں کہہ رہی، بلکہ حقیقت میں اس نام کا ایک شخص علی ابن ابی طالب کے دورِ خلافت میں گذرا ہے (یعنی شہادتِ حضرت عثمان کے کئی سالوں بعد)۔ مگر اس شخص یا اس کے پیروکار (جو سبائین کے نام سے مشہور ہیں)ّ ان کے متعلق تمام وہ بیانات کہ انہوں نے جناب عثمان ابن عفان کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا یا انہیں سازش کر کے قتل وغیرہ کیا۔۔۔ یہ سب دیو مالائی کہانیاں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔

    یہ صرف اور صرف اسلام دشمن عناصر ہیں جو کہ عبداللہ ابن سبا کے نام پر فرقہ واریت کو فروغ دے کر وحدتِ امت کو پارہ پارہ کر رہے ہیں۔

    میں نے یہ پوسٹ بروز ہفتہ 4 فروری کو کی تھی۔ چنانچہ آپ سے استدعا ہے کہ الفاظ کے ظاہری پن پر جانے کی بجائے بہتر ہے کہ اُس کے روحانی معنوں کو سمجھا جائے۔

    آپ آگے فرماتے ہیں:

    اگر ان روایات سے جیسا کہ رسالہ میں مذکور ہے اس کے حضرت علی کے زمانہ میں ہونے کو مانا جائے یہ سوال تو باقی کہ اس نے اس مدت قلیل میں اتنی بڑی گروہی طاقت کیسے حاصل کر لی ؟


    محترم فرید صاحب،

    کیسی گروہی طاقت؟؟؟ یہی تو ہمارا اصل موضوع ہے کہ عبداللہ ابن سبا نے جنابِ عثمان کے خلاف تحریک چلائی اور نہ ہی کوئی گروہی طاقت کا استعمال کیا۔ اور جب یہ علی ابن ابی طالب کے دور میں نمودار ہوا، تو اس کے پاس صرف چند ساتھی تھے جن کی ہرگز کوئی گروہی طاقت نہیں تھی۔ اور ابن عساکر کی روایات کے مطابق انہیں جلا دیا گیا۔ [فی الحال میں ان لوگوں کو آگ میں جلانے کا مسئلہ نہیں چھیڑنا چاہتی۔ اس کی وجہ ہے کہ مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کو اب تک ہونے والی گفتگو ہی نہیں ہضم ہوئی ہے ، اس لیے فی الحال بہتر ہو گا کہ گفتگو کو مزید نہ پھیلایا جائے۔

    مگر جیسے ہی اس مرحلہ سے فارغ ہوں گے، میں آپ پر اس حوالے سے بھی جرح کروں گی۔

    مجھے علم نہیں کہ آپ کون سی جمعہ والی بدعت کا ذکر کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے یہ غلطی سے لکھ دیا ہو، اور آپ کا اشارہ حج میں قصر نماز نہ ادا کرنے کی طرف ہو۔ تو اس سلسلے میں علی والی روایت میں تو کہیں اہل کے مکہ میں مقیم ہونے کا ذکر نہیں اور نہ ہی علی ابن ابی طالب کا ان کے اس قدم کو صحیح قرار دینے کا ذکر ہے ۔

    ہو سکتا ہے کہ جناب عثمان کا یہ قدم درست ہو۔ میرا مقصد جناب عثمان پر اس حوالے سے کوئی تنقید نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقت سامنے لانا ہے کہ بہت سے صحابہ اس چیز کو بطور بدعت اور ضلالت دیکھتے تھے اور اس وجہ سے جنابِ عثمان کے مخالف ہو گئے تھے۔

    اس موضوع پر بھی پورا ایک باب اس آرٹیکل میں موجود ہے جہاں ان صحابہ کی ناراضگی ذکر ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس باب میں موجود تمام دلائل کا جواب دیں اور یہ فرمائیں کہ آپ باقی روایات کو کیوں نظر انداز کر گئے ہیں؟

    جناب یہ بھی فرما دیجیئے کہ یہ روایت بیان کرنے والا کہیں سیف ابن عمر کذاب تو نہیں؟

    محترم فرید صاحب،

    اس عربی آرٹیکل میں جن جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان سب کا ماخذ صرف اور صرف سیف ابن عمر کذاب ہی ہے (یا پھر انہوں نے روایات بغیر کسی سلسلہ اسناد کے نقل کی ہیں)۔

    اس آرٹیکل میں اس مسئلہ پر بہت تفصیل سے پہلے ہی گفتگو موجود ہے۔ اگر آپ اسی چیز کی تکرار بار بار کرتے رہیں گے، تو میں ضرورت محسوس نہیں کرتی کہ جواب دینے میں کسی قسم کی تکرار کروں۔

    میرا آپ سے مطالبہ یہی ہے کہ ان ڈیڑھ درجن افراد کا حوالہ دینے کی بجائے صرف ایک ایسی صحیح روایت پیش کر دیں کہ جس کے سلسلہ اسناد میں سیف ابن عمر کا نام نہ ہو، اور جو یہ بتاتی ہو کہ عبداللہ ابن سبا جناب عثمان کے دور میں ظاہر ہوا اور اس اُنکے خلاف کسی قسم کی سازشوں میں ملوث تھا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

    مجھے نہیں یاد کہ میں نے کہیں آپ کو کھلے عام دھمکی آمیز الفاظ کہے ہوں۔ اگر ایسا ہوا ہے، تو میری طرف سے معذرت قبول فرمائیے اور اس کا لنک مجھے فراہم کیجیئے۔

    اور جہاں تک آپ کی بات ہے کہ وقت کی کمی کے باعث تنگ دامنی ہے۔۔۔ تو میں بالکل آپ کے ساتھ ہوں اور آپ سے گذارش ہے کہ آپ کھل کر وقت لیجئے اور اپنا مکمل موقف بیان فرمائیے کیونکہ آپ کا مکمل موقف سنے بغیر ہر گز انصاف نہ ہو سکے گا۔

    مگر ایک بات مختصرا عرض کر دوں کہ اردو زبان کی بات جانے دیں، انگریزی اور عربی میں تو کم از کم بہت وقت ملا ہے کہ ان سوالات کا جواب دیا جائے، مگر آج تک وہاں بھی ایک دفعہ اس کا جواب نہیں دیا گیا۔ [آگے پیچھے تو بہت آئیں بائیں شائیں کیا گیا ہے، مگر اصل دلائل کا جواب دینے سے ہر کوئی بھاگ گیا ہے]

    آپ خود بتائیے، کہ کیا یہ مشکل کام ہے کہ صرف اور صرف ایک ایسی صحیح روایت پیش کر دی جائے، کہ جس کے سلسلہ اسناد میں سیف ابن عمر کذاب نہ ہو اور جو یہ بیان کرے کہ:

    1۔ عبداللہ ابن سبا جنابِ عثمان کے دور میں ظاہر ہوا۔

    2۔ عبداللہ ابن سبا نے جنابِ عثمان کے خلاف سازشوں کا آغاز کیا۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

    آخر سینکڑوں نہیں، بلکہ ہزاروں لوگ اس کے عینی گواہ ہونے چاہیے تھے، مگر کیا وجہ ہے کہ اُس وقت موجود ہزاروں علماء کسی ایک بھی ایسے عینی گواہ کی شہادت نہیں روایت کر سکے؟

    خود فرمائیے کہ کیا ایسی ایک روایت پیش کرنا بہت وقت لیوا کام ہے؟

    دلائل پڑھ کر مجھے جو محسوس ہوا ہے وہ یہ ہے کہ صحابہ کی اکثریت جنابِ عثمان کی غلطیوں کی وجہ سے اُن سے نالاں تھی۔ یہ اُن کا آپس کا اختلاف تھا جس میں عبداللہ ابن سبا کا کوئی کردار نہیں، بلکہ سیف ابن عمر کذاب نے یہ جھوٹی داستان گھڑی اور اموی اور عباسی خلفاء نے اس چیز کو پھیلایا۔


    میرے خیال میں میری طرف سے یہ آخری پوسٹ ہو گی، تاوقتیکہ آپ چیزوں کی تکرار کرنے کی بجائے دلائل پر گرفت کریں۔

    والسلام۔
     
  8. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    11,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اس پوری پوسٹ کو اور خاص طور پر مہوش کی پوسٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ صرف ابنِ سبا کے کردار تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ حضرت عثمان کی شہادت کی ذمہ داری حضرت طلحہ پر ڈالی جا رہی ہے اور ان کے ساتھ اس میں چند اور اکابر صحابہ کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ یہ اب تک میرا اخذ کردہ نتیجہ ہے اور اگر اس میں کوئی سقم ہے تو میری گزارش ہو گی کہ اسے دور کر دیا جائے۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں میں بھی اس موضوع پر پوسٹ کرنا چاہتا ہوں مگر میرے پاس ابھی نہ تو کتابیں ہیں اور نہ ان کے مستند حوالہ جات۔ اگر تو معاملہ صرف ابنِ سبا کا کردار ثابت نہ کرنے تک محدود رہے تو اور بات مگر اگر اس کے ساتھ یہ موضوع بھی ملا دیا جائے کہ قاتلین عثمان ان کے اپنے ہی دوست تھے تو یہ موضوع کے ساتھ زیادتی ہوگی، اس کے لیے علیحدہ تھریڈ ہونا چاہیے۔
     
  9. mamoon rashid

    mamoon rashid محفلین

    مراسلے:
    13
    اے تاریخ دانو

    یہ بحث دل چسپی سے دیکھی ،
    چند باتیں عرض ہیں ۔
    فرید کی بات کہ مہوش کے دیے رسالوں کی زبان درست نہیں ، اس میں وزن ہے ۔
    دوسری بات یہ کہ اہل تشیع کو ابن سبا کے وجود کی نفی میں یا اس کی اہمیت کم کرنے میں کیوں دلچسپی ہے ؟ چھوڑیے ، قتل عثمان کا ذمہ دار وہ ہو یا کوئی اور ، اہل تشیع کو کیا ؟
    ویسے بھی اس نے بعد میں حضرت علی کی الوہیت کا دعی کرکے شیعوں کی کوئی مدد نہ کی ، بلکہ خود مولی علی کے ہاتھوں جل مرا ۔
    دوسری بات کہ اہل تشیع کا گروہ اپنی ابتدا کب سے مانتا ہے ؟
    اگر مولی علی اور دیگر چند اصحاب کے سب ہی صحابہ گنہ گار اور ان سب کاموں کے مجرم تھے، جو کچھ ان رسالوں سے معلوم ہوتا ہے تو شاید اسلام کی عمارت بہت کمزور ہوگی ! شیعہ
    مجھے محب صاحب کا معاملہ تعجب خیز معلوم ہو رہا ہے ، اب وہ قتل عثمان کی تحقیق کے بہانہ دوسرے صحابہ کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں ،ایسا معلوم ہوتا ہے ، اس طرح یہ فورم اہل تشیع کا ترجمان ہو جائے گا۔ بظاہر یہاں ان کے علاوہ دوسرے حضرات کم ہیں ۔
    کم سے کم جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ابن سبا کا اب انکار ہونے لا ہے ، اور رسالہ میں لکھنے کے مطابق یہ جھوٹ بار صدیوں پر مشتمل رہا ، اس سے جو ثابت ہوا وہ یہ ابن سبا کی شخصیت ایک زمانہ تک مسلم رہنے کے بعد اب متنازع فیہ ہے ، بالکل انکار تو کیوں کر کریں ۔
    میری آخری گذارش یہ ہے کہ ابن سبا کو موجود یا معدوم ماننے سے کچھ نہ ملے گا، نہ نبیل کا مشورہ درست ہے کہ قتل عثمان پر دیگر آدمیوں کو زیر بحث لایا جائے ، میری گذارش یہ ہے کہ دیگر تاریخی واقعات بہت ہیں ، جن سے درس عبرت حاصل کیا جا سکتا ہے ، مثلا ہندستان میں مجدد الف ثانی نے کس طرح اکبر کے نیے دین الہی کا زور توڑ دیا ؟
    امام ابی حنیفہ نے کس طرح اپنے دور کے خلفاء کی بے جا روش پر قابو پایا اور پھر ایسے شاگرد پیدا کر دیے کہ بعد میں صدیوں تک ان کا فقہ اسلامی حکومتوں کا دستور بنا رہا ۔وغیرہ ۔
    شیعوں سے اور بھی چند باتیں مجھے دریافت کرنی ہیں ، وہ بعد میں ۔۔۔۔
     
  10. اظہرالحق

    اظہرالحق محفلین

    مراسلے:
    639
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    میں نے یہ تھریڈ بڑی توجہ سے پڑھا ہے ، حوالہ جات بھی اچھے اور بحث کا انداز بھی ، میں تو ایک عام مسلمان ہوں ، جو نہ شعیہ ہے نہ سنی ، جو کچھ اللہ اور اسکے رسول(ص) کے فرمان ہیں انپر چلنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ صحابہ (ر) کی زندگی سے سبق لینے کی کوشش کرتا ہوں اور تابعین اور اولیا کی زندگی سے راستہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں

    شعیہ سنی کی بہت ساری مباحث کا حصہ بھی بن چکا ہوں دوسرے فورمز پر اور یہاں تک بات پہنچی کہ لوگوں نے (نعوذبلا للہ) نبی (ص) کی شان میں گستاخی تک کر بیٹھے ۔ ۔ ۔

    خیر بات یہاں ہوئی خضرت عثمان (ر) ، اس بحث میں اگر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، عثمان(ر) سے غلطی ہوئی تو ہو سکتا ہے ، مگر عثمان(ر) نے جان بوجھ کر کچھ ایسا کیا جو اسلام کے خلاف ہے تو یہ بات بعید از قیاس ہے ۔ ۔ ۔

    میرا آپ دونوں سے (مہوش اور فرید) یہ سوال ہے

    کہ اگر عثمان (ر) کی ذات خلیفہ کے قابل نہیں تھی تو ان کی بعیت کیوں کی گئی (علی (ر) بھی شامل تھے)؟ اور دوسرے جلیل القدر صحابہ بھی

    اور اگر تابعین امام آنے والے وقت کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے تو صحابہ کرام کیوں نہی اور یہ ہی عثمان ہیں جو ذولنورین بھی ہیں کیا نبی اکرم(ص) کو انکے کردار کا پتہ نہیں تھا کہ وہ امت میں “فتنہ“ کا بعث بنیں گے اور انہیں اتنا بڑا رتبہ دیا کہ ان سے تو فرشتے بھی شرم کرتے ہیں ۔ ۔ ۔؟

    میں صرف اتنا کہنا چاہتا مہوش سے کہ شعیہ سنی میں صرف وہ ہی مسلہ ہے جو آجکل یورپ اور مسلمانوں کے درمیان ہے ، کہ وہ اپنے نبیوں کا مذاق اڑاتے ہیں انکی تزحیق کرتے ہیں اور ہمارے لئے انکے نبیوں سمیت سب قابل احترام ہیں ۔ ۔ ۔

    امید ہے آپ میری بات سمجھ پائیں گے ، میں کوئی حوالہ جات استعمال نہیں کر رہا ، کہ یہ باتیں ایسی ہیں کہ لوگ قرآن کے حوالے استعمال یوں کرتے ہیں ، کہ مومنو نماز کے نزدیک مت جاؤ (دیکھا قرآن کہ رہا ہے ) جب نشے کی حالت میں ہو (یعنی نشہ جائز ہے ، ماسوائے نماز کے وقت کے )

    یہ بحثیں ایسی ہی ہیں ، ایک طرف کے دلائل دوسری طرف سے دلائل کا جواب اس سے وزنی دلائیل کے ساتھ ، اور میرے جیسا عام مسلمان ۔ ۔ ۔ کیا کرے گا ؟ جس کی سمجھ دانی میں علما کا تصور ۔ ۔ ۔ ہی مسلمانوں کی تقسیم کرنے والے لوگوں کا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
     
  11. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,495
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    یہ تھریڈ کچھ غلط ڈگر پر چلنا شروع ہو گئی ہے۔ میری آپ سب سے درخواست ہے کہ حسن سلوک سے پیش آئیں اور موضوع پر رہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ یہ بیکار سی شیعہ سنی لڑائی بن جائے۔

    اگر معاملات صحیح نہ ہوئے تو ناظم کو چاہیئے کہ اسے تالا لگا دے۔
     
  12. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    محب برادر،

    مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ شاید آپ تک میری بات مکمل طور پر نہیں پہنچ پائی ہے۔

    کیا آپ یہ کنفرم کر سکتے ہیں کہ آپ نے اوپر دیے گئے دونوں آرٹیکل پڑھ لیے ہیں؟

    یہ دو آرٹیکل یوں ہیں:

    کیا واقعی شیعہ\سبائی ہی قاتلانِ عثمان ہیں

    یہ پی ڈی ایف فائل ہے جس کا سائز 800 KB ہے

    اس آرٹیکل میں عبداللہ ابن سبا سے متعلق دیو مالائی کہانیوں کا تجزیہ کیا گیا ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ سیف ابن عمر نے 160 ہجری میں یہ افسانہ تخلیق کیا اور پھر اُس وقت کے عباسی خلفاء وغیرہ نے اسے لوگوں میں پھیلایا۔

    اسی آرٹیکل میں جناب طلحہ و زبیر اور عمرو بن العاص اور دیگر صحابہ کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور تقریبا 100 کے قریب روایات نقل کی گئی ہیں، جو کہ عبداللہ ابن سبا کی سازشوں کے افسانے سے کہیں سو گنا زیادہ معتبر ہیں۔ یہ بات عدل و انصاف کی سو فیصدی نفی ہو گی اگر ان 100 کے قریب روایات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے اور صرف عبداللہ ابن سبا کے افسانوی سازشی کردار کا پروپیگنڈا کیا جائے۔

    کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ 100 کے قریب روایات کاپی کر کے یہاں پیسٹ کروں؟ تو میں تو ایسا کر سکتی ہوں، مگر فرید صاحب اور مامون صاحب اس بات کے قائل نظر نہیں آتے کہ فریق مخالف کو انصاف کے ساتھ اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع فراہم کریں، اس لیے وہ ابھی سے معترض ہیں۔

    اس لیے آپ سے گذارش ہے کہ آپ خود ہی اس پی ڈی ایف فائل کا مطالعہ فرما لیں۔ لیکن اگر فرید صاحب یا مامون صاحب غیر ضروری باتوں اور اعتراضات کو آگے بڑھاتے ہیں، تو شاید تبصرہ کے طور پر کچھ مواد یہاں ذکر کرنا پڑے۔

    \\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

    دوسرا آرٹیکل جس کا لنک میں نے پوسٹ کیا تھا، وہ ہے:

    آغازِ بغاوت سے لیکر شہادتِ عثمان تک کے تفصیلی ترتیب وار واقعات

    یہاں تاریخ طبری سے سن 35 ہجری کی تقریبا تمام روایات نقل کر دی گئی ہیں۔ میرے نزدیک یہ بہت اہم آرٹیکل ہے کیونکہ اس میں تمام حالات بہت کھل کر سامنے آئے ہیں اور انسان کبھی ان وجوہات کو جاننے میں غلطی نہیں کرے گا کہ یہ بغاوت کیوں شروع ہوئی، صحابہ کا اس میں کیا کردار تھا، اور کس طرح حالات جنابِ عثمان کی شہادت پر ختم ہوئے۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان انصاف اور کھلے ذہن کے ساتھ یہ واقعات پڑھے۔

    \\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

    مودودی صاحب کی کتاب خلافت و ملوکیت سے ایک اقتباس

    آخر میں میں اس سلسلے میں صرف مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت سے ایک مختصر اقتباس پیش کرنے پر اکتفا کر رہی ہوں۔ میری نظر کے مطابق، مولانا مودودی نے بہت بالغ نظری کے ساتھ اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ اگرچہ کہ آپ نے شاید صرف 5 فیصد تاریخی حقائق پیش کیے ہیں، مگر اس پر ہی ان پر کفر کے فتوے لگ گئے۔

    مولانا مودودی رقمطراز ہیں:


    شورش کے اسباب
    لوگوں کو اپنی شرارت میں کامیابی صرف اس وجہ سے حاصل ہوئی کہ اپنے اقرباء کے معاملے میں حضرت عثمانؓ نے جو طرزِ عمل اختیار فرمایا تھا اس پر عام لوگوں ہی میں نہیں بلکہ اکابر صحابہ تک میں ناراضی پائی جاتی تھی۔ اسی سے ان لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور جو کمزور عناصر انہیں مل گئے ان کو اپنی سازش کا شکار بنا لیا۔ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ فتنہ اٹھانے والوں کو اسی رخنے سے اپنی شرارت کے لیے راستہ ملا تھا۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ:
    وکان الناس ینقمون علی عثمان تقریبہ مروان و طاعتہ و یرون ان کثیرا مما ینسب الی عثمان لم یامربہ و ان ذالک عن رای مروان دون عثمان جکان الناس قد شنقو العثمان لما کان یصنع بمروان و یقربہ۔(حوالہ: طبقات، جلد ۵، صفحہ ۳۶)
    "لوگ حضرت عثمانؓ سے اس لیے ناراض تھے کہ انہوں نے مروان کو مقرب بنا رکھا تھا اور وہ اس کا کہا مانتے تھے۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ بہت سے کام جو حضرت عثمانؓ کی طرف منسوب ہوتے ہیں ان کا حضرت عثمانؓ نے خود کبھی حکم نہیں دیا بلکہ مروان انس سے پوچھے بغیر اپنے طور پر وہ کام کر ڈالتا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ مروان کو مقرب بنانے اور اس کو یہ مرتبہ دینے پر معترض تھے۔"
    ابن کثیر کا بیان ہے کہ کوفہ سے حضرت عثمانؓ کے مخالفین کا جو وفد ان کی خدمت میں شکایات پیش کرنے کے لیے آیا تھا اس نے سب سے زیادہ شدت کے ساتھ جس چیز پر اعتراض کیا وہ یہ تھی:
    بعثوا الی عثمان من نیاظرہ فیما فعل و فیما اعتمد من عذل کثیر من الصحابۃ و تولیہ جماعۃ من بنی امیہ من اقربائہ و اغلظوالہ فی القول و طلبوا منہ ان یعزل عمالہ و یستبدل ائمۃ غیرھم (حوالہ: البدایہ و النہایہ، جلد ۷، صفحہ ۱۶۷)
    "انہوں نے کچھ لوگوں کو حضرت عثمانؓ سے اس امر پر بحث کرنے کے لیے بھیجا کہ آپ نے بہت سے صحابہ کو معزول کر کے ان کی جگہ بنی امیہ میں سے اپنے رشتہ داروں کو گورنر مقرر کیا ہے۔ اس پر ان لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے بڑی سخت کلامی کی اور مطالبہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو معزول کر کے دوسروں کو مقرر کریں۔"
    آگے چل کر حافظ ابن کثیر پھر لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لیے سب سے بڑا ہتھیار جو اُن کے مخالفین کے پاس تھا، وہ یہی تھا کہ:
    ما ینقمون علیہ من تولیتہ اقرباہ وذوی رحمہ و عزلہ کبار الصحابۃ فدخل حذا فی قلوب کثیر من الناس (حوالہ: البدایہ، جلد ۷، صفحہ ۱۶۸)
    "حضرت عثمان نے اکابر صحابہ کو معزول کر کے اپنے رشتہ داروں کو جو گورنر بنایا تھا اس پر وہ اظہارِ ناراضی کرتے تھے اور یہ بات بکثرت لوگوں کے دلوں میں اُتر گئی تھی۔"
    طبری، ابن اثیر، ابن کثیر اور ابن خلدون نے وہ مفصل گفتگوئیں نقل کی ہیں جو اس فتنے کے زمانے میں حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کے درمیان ہوئی تھیں۔ ان کا بیان ہے کہ مدینے میں جب حضرت عثمانؓ پر ہر طرف نکتہ چینیاں ہونے لگیں اور حالت یہ ہو گئی کہ چند صحابہ (زید بن ثابت، ابو اسید الساعدی، کعب بن مالک، اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہم) کے سوا شہر میں کوئی صحابی ایسا نہ رہا جو حضرتِ والا کی حمایت میں زبان کھولتا۔
    [نوٹ: اس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اگر مدینہ میں ایسی ہی حالت پیدا ہو گئی تھی تو جب مصر سے آنے والے سازشیوں کو سمجھانے اور فساد سے باز رکھنے کے لیے حضرت عثمان نے حضرت علیؓ کو بھیجا تھا اُس وقت مہاجرین و انصار میں سے تیس بزرگ کیسے اُن کے ساتھ چلے گئے؟ لیکن یہ اعتراض اس لیے غلط ہے کہ عمائدِ قوم کا خلیفہ وقت کی کسی خاص پالیسی کو ناپسند کرنا اور چیز ہے اور خلیفہ کے خلاف شورش برپا ہوتے دیکھ کر اُسے روکنے کی کوشش کرنا دوسری چیز۔ نکتہ چینی کرنے والے لوگ اگر تنقید کرتے تھے تو اصلاح کے لیے کرتے تھے۔ ان کو حضرت عثمان ؓ سے دشمنی نہ تھی کہ ایک سازشی گروہ کو ان کے خلاف فتنہ برپا کرتے دیکھ کر بھی خاموش بیٹھے رہتے اور اُسے من مانی کرنے دیتے۔]
    تو لوگوں نے حضرت علیؓ سے کہ اکر آپ حضرت عثمانؓ سے مل کر ان معاملات پر بات کریں۔ چنانچہ وہ ان کی خدمت میں تشریف لے گئے اور اُن کو وہ پالیسی بدل دینے کا مشورہ دیا جس پر اعتراضات ہو رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ جن لوگوں کو میں نے عہدے دیے ہیں اُنہیں آخر عمر ابن الخطابؓ نے بھی تو عہدوں پر مامور کیا تھا، پھر میرے ہی اوپر لوگ کیوں معترض ہیں؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا "عمرؓ جس کو کسی جگہ کا حاکم مقرر کرتے تھے، اس کے متعلق اگر انہیں کوئی قابلِ اعتراض بات پہنچ جاتی تھی تو وہ بری طرح اس کی خبر لے ڈالتے تھے، مگر آپ ایسا نہیں کرتے۔ آپ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نرمی برتتے ہیں۔" حضرت عثمانؓ نے فرمایا "وہ آپ کے بھی تو رشتہ دار ہیں۔" حضرت علیؓ نے جواب دیا "ان رحمھم منی لقریبۃ ولکن الفضل فی غیرھم۔" بے شک میرا بھی ان سے قریبی رشتہ ہے، مگر دوسرے لوگ ان سے افضل ہیں۔ حضرت عمثانؓ نے کہا "کیا عمرؓ نے معاویہؓ کو گورنر نہیں بنایا تھا؟" حضرت علیؓ نے جواب دیا "عمرؓ کا غلام یرفا بھی ان سے اُتنا نہ ڈرتا تھا جتنے معاویہؓ ان سے ڈرتے تھے، اور اب یہ حال ہے کہ معاویہؓ آپ سے پوچھے بغیر جو چاہتے ہیں کر گذرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ عثمانؓ کا حکم ہے، مگر آپ انہیں کچھ نہیں کہتے۔" (حوالہ: الطبری، جلد ۳، صفحہ ۳۷۷، ابن الاثیر، جلد ۳، صفحہ ۷۶، البدایہ، جلد ۷، صفحہ ۱۶۸، ابن خلدون تکملہ، جلد دوم صفحہ ۱۴۲)
    ایک اور موقع پر حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ کے گھر تشریف لے گئے اور اپنی قربت کا واسطہ دے کر ان سے کہا کہ آپ اس فتنے کو فرد کرنے میں میری مدد کریں۔ انہیں نے جواب دیا " یہ سب کچھ مروان بن الحکم، سعید بن العاص، عبداللہ بن عامر اور معاویہ کی بدولت ہو رہا ہے۔ آپ ان لوگوں کی بات مانتے ہیں اور میری نہیں مانتے۔" حضرت عثمانؓ نے فرمایا "اچھا اب میں تمہاری بات مانوں گا۔" اس پر حضرت علیؓ انصار و مہاجرین کے ایک گروہ کو ساتھ لے کر مصر سے آنے والے شورشیوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو واپس جانے کے لیے راضی کیا۔(حوالہ: الطبری، جلد ۳، صفحہ ۲۹۴، ابن الاثیر، جلد ۳، صفحہ ۸۱، ابن خلدون تکملہ جلد دوم، صفحہ ۱۴۶)
    اسی زمانہ فتنہ میں ایک اور موقع پر حضرت علیؓ سخت شکایت کرتے ہیں کہ میں معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں اور مروان ان کو پھر بگاڑ دیتا ہے۔ آپ خود منبرِ رسول پر کھڑے ہو کر لوگوں کو مطمئین کر دیتے ہیں اور آپ کے جانے کے بعد آپ ہی کے دروازے پر کھڑا ہو کر مروان لوگوں کو گالیں دیتا ہے اور آگ پھر بھڑک اٹھتی ہے۔ (حوالہ: الطبری، جلد ۳، صفحہ ۳۸؂۹۸، ابن الاثیر، جلد ۳، صفحہ ۳۸، ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، صفحہ ۱۴۷)
    حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ کے متعلق بھی ابن جریر نے روایات نقل کی ہیں کہ یہ حضرات بھی اس صورتِ حال سے ناراض تھے۔
    [الطبری، جلد ۳، صفحہ ۴۷۷ تا ۴۸۶۔ ان حوالوں کے متعلق ایک صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ غلط ہیں۔ لیکن شاید یہ دعویٰ اس بھروسے پر کیا گیا ہے کہ اُردو داں لوگ اصل کتاب کو دیکھ کر حقیقت معلوم نہ کر سکیں گے۔ تاہم عربی داں لوگ تو اصل کتاب کو دیکھ سکتے ہیں۔ صفحہ ۴۷۷ پر یہ ذکر موجود ہے کہ حضرت عائشہؓ نے جب فرمایا کہ بخدا میں حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ طلب کروں گی تو عبد بن ام کلاب نے کہا، خدا کی قسم سب سے پہلے تو آپ ہی نے ان کی مخالفت کی تھی۔ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا، " ان لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے توبہ کرا لی تھی، پھر ان کو قتل کر ڈالا۔" اسی طرح صفحہ ۴۸۶ پر بھی یہ عبارت موجود ہے کہ حضرت طلحہؓ و زبیرؓ نے اہلِ بصرہ کے سامنے تقریریں کیں اور ان میں یہ فرمایا کہ "انما اردنا ان یستعتب امیر المومنین عثمان۔۔۔ اس پر لوگوں نے حضرت طلحہؓ سے کہا 'یا ابا محمد قد کانت کتبک قدتتینا بغیر ھذا۔ حضرت زبیرؓ اس کے جواب میں بولے کہ میرا بھی کوئی خط حضرت عثمانؓ کے معاملہ میں کبھی تمہارے پاس آیا تھا؟ ان واقعات کو ابن خلدون نے بھی نقل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو تکملہ جلد دوم، صفحہ ۱۵۴ تا ۱۵۷۔]
    مگر ان میں سے کوئی بھی یہ ہرگز نہ چاہتا تھا کہ خلیفہ وقت کے خلاف کوئی شورش یا بغاوت ہو یا ان کے قتل تک نوبت پہنچ جائے۔ طبری نے حضرت طلحہؓ و زبیرؓ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ "انما اردنا ان یستعتب امیر المومنین عثمان ولم برد قتلۃ فغب سفھاء الناس الحلماء حتی قتلوہ" ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ امیر المومنین عثمانؓ کو یہ پالیسی ترک کر دینے پر آمادہ کیا جائے۔ ہمارا یہ خیال ہرگز نہ تھا کہ وہ قتل کر ڈالے جائیں۔ مگر بے وقوف لوگ بردبار لوگوں پر غالب آ گئے اور انہوں نے ان کو قتل کر دیا۔"
    یہ تمام واقعات اس امر کی ناقابلِ تردید شہادت بہم پہنچاتے ہیں کہ فتنے کے آغاز کی اصل وجہ وہ بے اطمینانی ہی تھی جو اپنے اقرباء کے معاملہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے طرزِ عمل کی وجہ سے عوام اور خواص میں پیدا ہو گئی تھی، اور یہی بے اطمینانی ان کے خلاف سازش کرنے والے فتنہ پرداز گروہ کے لیے مددگار بن گئی۔ یہ بات تنہا میں ہی نہیں کہہ رہا ہوں، بلکہ اس سے پہلے بہت سے محققین یہی کچھ کہہ چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ساتویں صدی کے شافعی فقیہ و محدث حافظ محب الدین الطبری حضرت عثمانؓ کی شہادت کے اسباب بیان کرتے ہوئے حضرت سعید بن المُسیب کا یہ قول نقل کرتے ہیں:
    لما ولی عثمان کرہ ولایتہ نفر من اصحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لان عثمان کان یحب قومہ۔ فولی اثنتی عشرۃ حجۃ، وکان کثیرا ما یولی بنی امیۃ ممن لم یکن لہ ضحبۃ مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، و کان یحیی من امراء ہ ما یکرہ اصحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، و کان یستغاظ علیھم فلا یغیثھم، فلما کان فی الستۃ الحجج۔ الاواخر استاثر بنی عمہ فولاھم وامرھم۔۔۔"
    "جب حضرت عثمانؓ حکمران ہوئے تو ان کے برسرِ اقتدار آنے کو صحابہ میں سے بعض لوگوں نے اس بنا پر ناپسند کیا کہ وہ اپنے قبیلے سے بہت محبت رکھتے تھے۔ بارہ سال آپ حکمران رہے اور بارہا آپ نے بنی امیہ میں سے ایسے لوگوں کو حکومت کے مناصب پر مقرر فرمایا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت نہ پائی تھی۔ آپ کے امراء سے ایسے کام صادر ہوتے تھے جنہیں رسول اﷺ کے اصحاب پسند نہ کرتے تھے۔ آپ سے ان کی شکایت کی جاتی مگر آپ ان شکایات کو دور نہ فرماتے۔ اپنی حکومت کے آخری ۶ سالوں میں آپ نے اپنے بنی عم کو خاص ترجیح دی اور انہیں حکومت و امارت کے مناصب پر مقرر فرمایا۔۔۔"[حوالہ: الریاض النضرہ فی مناقب العشرہ، جلد ۲، صفحہ ۱۲۴]
    حافظ ابن حجر بھی اسبابِ شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ پر کلام کرتے ہوئے یہی بات کہتے ہیں:
    وکان سبب قتلۃ ان امراء الامصار کانوا من اقاربہ، کان بالشام کلہا معاویہ، و بالبصرۃ شعید بن العاص، و بمصر عبد اللہ بن ابی سرح، و بخراسان عباللہ بن عامر، و کان من حج منھم یشکومن امیرہ وا اکان عثمان لین العریکۃ، کغیر الاحسان و الحلم، ۔۔۔۔۔
    "اُن کے قتل کا سبب یہ ہوا کہ بڑے بڑے علاقوں کے حکام ان کے اقارب میں سے تھے۔ پورا شام حضرت معاویہؓ کے ماتحت تھا، بصرے پر سعید بن العاص تھے، مصر پر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھے، خراساں پر عبداللہ بن عامر تھے۔ ان علاقوں کے لوگوں میں سے جو لوگ حج پر آتے وہ اپنے امیر کی شکایت کرتے، مگر حضرت عثمانؓ نرم مزاج، کثیر الاحسان اور حلیم الطبع آدمی تھے۔ اپنے بعض امراء کو تبدیل کر کے لوگوں کو راضی کر دیتے اور پھر انہیں دوبارہ مقرر کر دیتے تھے۔۔۔"
    [حوالہ: الاصابہ فی تمیز الصحابہ، جلد ۲، صفحہ ۴۵۵ ]


    یہ صرف 5 فیصدی تاریخی حقائق تھے جو کہ مولانا مودودی نے بیان کیے تھے اور اس کی وجہ اس لیے پیش آ رہی تھی کیونکہ انہیں اُن وجوہات کا پتا چلانا تھا جس کی وجہ سے تاریخ اور حالات نے یہ رُخ موڑا تھا۔

    مگر چونکہ چند انتہا پسند گروہ اس بات کے قائل نہیں کہ فریق مخالف کو حق دیں کہ وہ اپنے دلائل پیش کرے، اس لیے مولانا مودودی پر لگے ہوئے کفر کے فتوے سب کے سامنے ہیں۔

    اور الٹ پھر کے یہی سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ پچھلے بارہ سو سالوں سے عباسی خلفاء کر روش پر چلتے ہوئے عبداللہ ابن سبا جیسے سازشی افسانے کو پھیلانے کی کھلی چھٹی ہے اور اس کے ذریعے وحدتِ امت کو پارہ پارہ کیا جا رہا ہے، مگر جہاں کوئی تاریخی حقائق کو دیانتداری سے پیش کرنے کی کوشش کرے، اُس پر فورا کفر کے فتوے لگ جائیں؟

    میں عرصے سے اس فورم کی ممبر ہوں، مگر آج تک میں نے ایسی کوئی ڈسکشن شروع نہیں کی۔ مگر جب تاریخ اسلام کے نام پر عبداللہ ابن سبا کو زیرِ بحث لایا جائے گا تو بہتر یہی ہے کہ قوم اپنی تاریخ سے مکمل انصاف کرے ورنہ وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گی۔

    اور محترم فرید صاحب اور مامون صاحب سے یہی گذارش ہے کہ غیر ضروری چیزوں بیان کرنے کی بجائے صرف اور صرف ایک ایسی صحیح روایت پیش کر دیں جس کے سلسلہ اسناد میں سیف ابن عمر نہ ہو، اور جو یہ دعویٰ کرے کہ یہ عبداللہ ابن سبا ہی تھا جس نے جنابِ عثمان کے دور میں ظاہر ہو کر آغازِ بغاوت کیا۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

    ایک طرف آپ ایک بھی ایسی صحیح روایت پیش کرنے سے قاصر ہیں، اور دوسری طرف اُن سینکڑوں روایات کے مُنکر ہیں جو اُس وقت کے حالات پر صحیح روشنی ڈال رہے ہیں۔ بخدا، یہ تاریکیوں کی بہت زیادہ گہرائی ہے اور اللہ آپ حضرات کو اور ہم سب کو صحیح راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین۔
     
  13. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    زکریا، اوپر آپ نے اور میں نے ایک ہی وقت پر پوسٹ کیا ہے، اس لیے میں پہلے آپ کا پیغام نہیں پڑھ سکی۔

    اور آپ کا پیغام پڑھنے کے بعد میں اس بحث سے اپنی طرف سے دستبردار ہو رہی ہوں، تاوقتیکہ کسی کو اس موضوع پر مجھ سے کوئی سوال نہ ہو۔

    اظہر الحق برادر،

    مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایک چھوٹے سے ایک لائن کے سوال کا جواب کبھی کبھار کئی صفحات پر مشتمل ہوتا ہے۔

    آپ کو یہ سوال بھی کچھ اسی قسم کا ہے، جس کے سیاق و سباق کو بیان کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہیں۔

    بہت مختصرا عرض ہے کہ صحابہ نے جنابِ عثمان کو خلافت دیتے ہوئے اُن سے عہد لیا تھا کہ وہ سیرتِ شیخین (جناب ابو بکر بن قحافہ اور جناب عمر ابن خطاب) کی سیرت پر عمل کریں گے۔ مگر جناب عثمان بن عفان نے عہد کے برخلاف بنی امیہ کی اقرباء پروری شروع کر دی، اور ان اموی گورنروں نے اس حد تک فساد برپا کیا کہ صحابہ جنابِ عثمان کے ہی خلاف ہو گئے۔

    اور ہمارا جو اصل ٹاپک ہے، یعنی عبداللہ ابن سبا کا افسانوی تاریخی سازشی کردار، تو یہ تو امت نے اپنی تاریخ سے انصاف کے بالکل خلاف بہت بڑا ظلم کیا ہے۔

    \\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

    میرے نقطہ نظر سے بھی شیعہ سنی اختلافات اس امت کے لیے زہر قاتل ہیں اور ہر صورت میں ان سے بچنا چاہیے۔

    مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ کے کسی ایک واحد آفیشل ورژن پر امت کو جمع نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس حقیقت کو مان لینا چاہیے کہ اس میں اختلافِ رائے رہے گا۔

    اسی لیے میں نے عرض کیا تھا کہ ہمیں اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھنا ہو گا اور فریق مخالف کو انصاف کے ساتھ موقع فراہم کرناہو گا کہ وہ بھی اپنا نظریہ پیش کر سکے۔

    مثلاً میری تحقیق نے مجھ پر واضح کیا کہ عبداللہ ابن سبا کا سازشی کردار صرف افسانہ ہے۔ لیکن اگر فرید صاحب اسے سے متفق نہیں، تو مجھے اُن کی فتوے بازی نہیں شروع کر دینی، بلکہ اُن کی رائے کا احترام کرنا ہے۔

    مگر اختلاف رائے کا یہی حق مجھے بھی حاصل ہے اور اگر کوئی میرا یہ حق زبردستی ضبط کرنا چاہے اور یکطرفہ گاڑی چلانا چاہے تو اس پر احتجاج کا حق مجھے بھی ہے۔

    اسی طرح برادر اظہر الحق ایک اور زاویے سے مجھے سے اختلاف کر رہے ہیں۔ تو کیا میں ان پر اس اختلافِ رائے کی وجہ سے فتوے لگا دوں؟

    نہیں ہرگز نہیں، بلکہ اس سب آراء کو کھلے دل کے ساتھ خیر مقدم کہنا پڑے گا اور کوشش یہی ہونی چاہیے کہ انصاف کے ساتھ ان سے حقائق جانے جائیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے کہ جس کی مدد سے امت کے یہ اختلافی مسائل حل ہو سکیں۔
     
  14. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    مہوش علی صاحبہ سے بلخصوص اور سب سے بلعموم دست بستہ گزارش یہ کہ یہ معاملات پیچیدہ اور گنجلک ہیں۔ صدیوں کے مسائل اس فورم پر حل نہیں ہوسکتے۔ اپ سب لوگ ماشااللہ بہت صلاحیتوں کے مالک ہیں اور یہ صلاحیتیں اگر مثبت انداز میں استعمال ہوں تو ہم سب کے حق میں اچھا ہے۔ میرے خیال میں تاریخ کے متنازعہ واقعات کو چھیڑ کر ہم صرف ایک دوسرے کی دل ازاری ہی کرتے ہیں۔
    اللہ ہم سب کی حفاظت کرے۔
     
  15. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,725
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    مامون الرشید، بھائی صاحب میرا کیا قصور ہے؟ میں تو چپ بیٹھا ہوں۔۔ میں نے اس بحث میں بالکل حصہ نہیں لیا۔
     
  16. سیفی

    سیفی محفلین

    مراسلے:
    634
    بڑے دنوں بعد ادھر چکر لگا تو پتا چلا کہ کس حساس موضوع پر اراکینِ محفل نے طبع آزمائی شروع کی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ طویل بحثیں پڑھنے سے مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ طرفین کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اس بحث میں یہ فیصلہ کرنا مقصود ہے کہ شیعہ یا سنی میں سے کون حق پر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو زکریا سے مجھے اتفاق ہے کہ ہم لوگ اس کی اہلیت نہیں رکھتے کہ صدیوں پرانا مسئلہ حل کر سکیں۔۔۔۔۔۔۔اور اگر بحث اسی موضوع پر ہے تو پھر منتظمِ اعلیٰ سے اجازت لے کر :) صراحت کے ساتھ ، دونوں فرقوں کے دلائل پر بحث کی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور جس کو جسطرف شرح صدر ہو وہ اسکے علماء اور اہلِ علم کی تحقیق پر اعتماد کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں تو یہ ابہام پیدا کرنے والے مسائل نہ چھیڑے جائیں۔۔۔۔۔۔۔اس سے یہ ہوگا کہ ہم جیسے کم علم بھی صحابہ کی عظیم ہستیوں پر انگلی اٹھانے لگ جائیں گے۔۔۔۔۔۔جن کو اللہ نے اپنے راضی ہونے کی بشارت دے دی ہے۔۔۔۔۔اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے انکو جنت کی بشارت دی ہے۔۔۔۔۔ اس سے پہلے میں نے کسی صاحب کی بات پڑھی تھی کہ کیا صحابہ غلطی سے ماورا ہیں۔۔۔۔۔ لیکن کہنا یہ ہے کہ اگر وہ غلطی سے ماورا نہیں تو ہم کس حیثیت میں انکی غلطیاں پکڑنے کے اہل ہیں۔۔۔۔۔۔۔اگر اس طرح ہوتا رہا تو دین کی بنیاد ہی ہل کر رہ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔



    میرا مقصد کسی پر شخصی تنقید نہیں‌کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خارجی اثرات کے زیراثر ہم بھی بعض اوقات وہ بات کر جاتے ہیں کہ جس کے نتائج و عواقب اگر ہمیں پتا ہوں‌تو ہم قطعا اس کو گوارا نہ کریں۔۔۔۔۔۔

    صحابہ پر اعتراض کرنے سے پہلے درج ذیل حدیث کو بھی پڑھ لیں۔۔۔۔۔اللہ نہ کرے کہ ہم میں سے کوئی اس سخت وعید میں آجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ترمذی شریف میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے

    لوگو میرے صحابہ (رض) کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، ان کو میرے بعد طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے دراصل میرے ساتھ اپنے بغض کی وجہ سے بغض رکھا، جس نے انہیں طعن و تشنیع سے تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ کو ناراض کیا، عنقریب اللہ اسے بڑا عذاب دے گا

    (ترمذی ج ٢ ص ٢٤٩، موارد الظمآن بلخص صحیح ابن حبان س ٥٦٩)


    میرے خیال میں جو لوگ میری طرح کم علم ہیں اور روایات اور حوالہ جات کو پرکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔انھیں یہی کوشش کرنی چاہیئے کہ وہ اہلِ علم اور اہلِ فن کی تحقیق پر اعتبار کریں۔۔۔۔۔کیونکہ دین نقل سے آیا ہے۔۔۔۔۔کسی ایک کے اوپر اعتبار آپ کو کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر نہیں‌تو پھر تمام مسالک کے اختلافی معاملات کو پڑھو اور جو قابلِ اعتبار ہو اس پر پکے ہو جاؤ۔۔۔۔اور اصل کہ اللہ سے ہدایت کی دعا مانگتے رہو۔۔۔۔۔۔۔۔کہ یا باری تعالیٰ میں اپنی عقل اور فہم کے مطابق تو اس چیز کو حق سمجھ کر آیا ہوں اگر یہ واقعی حق ہے تو تُو مجھے اس پر استقامت دے اور اگر نہیں تو تُو مجھے اپنی رحمت سے حق کی طرف پھیر دے۔۔۔۔
     
  17. اظہرالحق

    اظہرالحق محفلین

    مراسلے:
    639
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    آمین ثم آمین

    ----------------------------

    جی ہاں یہ ہی بات ہے سیفی اور زکریا آپ دونوں کا کہنا صحیح ہے ، کہ ہم کون ہوتے ہیں تاریخ کی تدرستگی کے حوالے سے بات کرنے والے ۔ ۔ ۔ ۔ امام بخاری (رح) نے بخاری کے دیباچے میں لکھا ہے کہ اگر میری کوئی بھی بیان کردہ حدیث اگر مستند نہ ثابت ہو پائے تو اسے پھینک دو ۔ ۔ ۔ مگر آج بھی بہت سارے لوگ اچھی خاصی مستند احادیث کو چھوڑ کر چند روایت کا سہارا لے کر اس فلاسفے کو ہی جھٹلا دیتے ہیں ۔ ۔ ۔

    میں بھی تاریخ کا ادنٰی سا شاگرد ہوں ، مجھے آج سے 300 سال پہلے کی تاریخ میں ایسی مباحث نہیں ملتیں اور نہ ہی مسلمانوں کے درمیان اتنی شدت سے اختلافات ملتے ہیں ۔ ۔ ۔ اسکی وجوہات جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہیں

    1۔ سارے مسلمان عربی سے واقف تھے ، حتہ کہ پہلا ترجمہ بھی کافی عرصے بعد ہوا قرآن کا
    2- ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے اتنا کہنا ہی کافی ہوتا تھا کہ وہ مسلمان ہے ۔ ۔ ۔ اور پھر اسکا رویہ اسکے ساتھ واقعی ہی بھائیوں والا ہوتا ، کوئی یہ نہیں کہتا کہ تم شعیہ ہو سنی ہو ، عربی ہو عجمی ہو ۔ ۔ ۔ یہ ہی وجہ ہے ، کہ دنیا کے مختلف حطوں کے حکمران وہاں کے رہاشی نہ ہونے کے باوجود مقبول تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    3 - مسلمانیت کی ذات نہیں تھی ، بلکہ ایک زندگی کا طریقہ تھا ، ایک مقبول عام جملہ تھا کہ “مسلمان ہو کر جھوٹ بولتا ہے “ ۔ ۔ ۔ اور ایک عام مسلمان بھی ایک بادشاہ کے سامنے حق گو تھا ، یہ صرف 300 سال پرانی روایات تک ملتا ہے ۔۔ ۔ ، حق و باطل کی جنگ تو ازل تا ابد ہے مگر کیا ہم منصور حلاج سے لے کر ٹیپو سلطان تک اور ابوجاہل سے لے کر سلمان رشدی تک حق و باطل کی جنگ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔
    4- خلیفہ کوئی بھی ہوتا ، عباسی ہوں یا اموی ، اس زمانے کا عام مسلمان حق کو حق اور باطل کو باطل کہتا تھا ۔ ۔ ۔ ایک دوست نے اکبر کے دین احمدی کا حوالہ دیا ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بھی جواب ہے کہ مسلمان ایک تھے
    5- ایک اور بات جو ایسے ہی یاد آ گئی ، ہندوستان میں اور ترکی میں محرم اور ربیع الاول عید جیسے تہواروں کی طرح منایا جاتا تھا ، مدینہ اور مکہ میں جلوس نکلتے تھے ۔ ۔ ۔۔ محرم میں عبادات کو زیادہ اہمیت حاصل تھی ۔ ۔ ۔ بہت ساری تاریخی کتب اسکا حوالہ ہیں ۔ ۔ ۔ مگر ہم ان واقعات کو اہمیت دینے کے بجائے ۔ ۔ ۔ کوا حلال ہے یا حرام اس پر بحث کرنا اچھا مانتے ہیں ۔ ۔ ۔

    لکھنے کا دل تو بہت کچھ کرتا ہے مگر تنگی اوقات اور میرا جزباتی رویہ شاید مجھے اجازت نہ دے ۔ ۔ ۔ میں صرف اتنی گزارش کروں گا کہ ، وقت کے ابلیس کو جواب دیں ۔ ۔ ۔ ہم آج کے دور میں ہیں جہاں ، شعیہ سنی عربی عجمی سب ایک مسلمان کی صورت پہچانے جاتے ہیں ، مغرب میں کوئی کسی کو شعیہ مسلم یا سنی مسلم نہیں کہتا ۔ ۔ اسکی نظر میں امت محمد(ص) ایک ہے ۔ ۔ ۔ اور کاش ہم مسلمان بھی کہ سکتے کہ ہم ایک ہیں ۔ ۔ ۔ اور مہوش اور فرید صاحب آپکی علمی قابلیت کی قدر کرتا ہوں ، مگر یہ وقت ایسی مباحث کے لئے صحیح نہیں ۔ ۔ جب امت میں امن ہو گا ۔ ۔ ۔ تو شاید آپ جیسے لوگ کوے کے حلال اور حرام پر بحث کر سکیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور صحابہ اکرام اور اولیا اللہ پر فتوٰی لگا سکیں ۔۔ ۔ ۔ مگر یہ وقت مناسب نہیں ۔ ۔ ۔۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی مجھے اس بحث کا یا اس جیسی بحث کا حوالہ دے اور کہے کہ ۔ ۔ ۔۔ “تم تو آپس میں ہی متفق نہیں “ ۔۔ ۔

    امید ہے میر گستاخیوں کو معاف کریں گے ۔ ۔ ۔

    ایک بےعمل مسلمان ۔ ۔
     
  18. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,725
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    اظہرالحق اور سیفی بھائی، جزاک اللہ۔ اوپر ایک صاحب شیعہ حضرات کے لیے سوالات تلاش کرنے گئے ہیں، ان سے بھی گزارش ہے کہ یہ فورم ان کاموں کے لیے نہیں ہے۔ ہمت علی کی گزارش بھی بہت پردرد ہے۔

    براہ کرم فورم کے عنوان، یعنی فلسفہ اور تاریخ پر توجہ رکھیں۔ محب نے اس تھریڈ میں کچھ مزید متنازعہ موضوعات پر الگ تھریڈ کھولنے کا مشورہ دیا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک لامتناہی بحث کو un-fold کرنے کے مترادف ہوگا۔
     
  19. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    واقعی ہمت علی برادر کی دردمندانہ گذارش پڑھ کر ہمت ہی نہیں ہو سکتی کہ یہاں بحث کو مزید بڑھایا جائے۔

    :) :) :) :)

    اگرچہ کہ سیفی برادر کی پوسٹ کے ایک پہلو پر روشنی ڈالنا بہت ضروری تھا، مگر آپ حضرات کی اس نیک خواہشات اور جذبے کو دیکھتے ہوئے اسے میں یہاں پوسٹ کرنے کی بجائے سیفی برادر کو پرائیویٹ میسج کی صورت میں بھیج رہی ہوںَ۔
     
  20. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    11,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    یقینا میرا مقصد کسی یہاں کسی بحث سے صدیوں پرانا مسئلہ حل کرنا نہ تھا بلکہ میں نے صرف مہوش سے پوچھا تھا کہ دو علیحدہ مسائل اکھٹے ہوگئے ہیں۔ میں نے بذات خود بھی گزارش کی تھی کہ تنقید میں احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے اور اگر واقعی مثبت تحقیق جاری رہے تو کچھ ایسے گتھیاں کھل سکتی ہیں مگر سب کا رجحان دیکھتے ہوئے میں بھی اسی کے حق میں ہوں کہ اگر پڑھنے والے نہ چاہیں تو بحث کو روک دیا جائے۔

    مہوش اور فرید سے میری گزارش ہے کہ وہ اس سے دلبرداشتہ نہ ہوں بلکہ تاریخ پر پوسٹس جاری رکھیں جس کے لیئے میں نے چند موضوع تجویز بھی کیے تھے۔
     
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر