عبداللہ ابن سبا، ایک دیو مالائی قصہ

مہوش علی نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 5, 2006

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. فرید احمد

    فرید احمد محفلین

    مراسلے:
    451
    کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

    کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
    یار لوگ بہت جلد اکتا گئے ، خیر یہ بات اولا کہی گئی تھی کہ اس تاریخ دانی اور عبرت خیزی میں صحابہ کو درمیان میں نہ لانا چاہیے، اس میں آخری بات یہ ہے کہ صدیوں کا یہ نزاع عقیدہ بن گیا ہے، اور ہر عقیدہ والا اپنے کو حق پر اور دوسرے کو باطل پر سمجھتا ہے ، خیر
    ایک صاحب کچھ تلاش کرنے گئے ہیں ۔
    ویسے ان تلاش کو جانے والے کی باتیں کچھ غور کرنے جیسی ہیں ۔
    میں نے بھی بہت کچھ ابن سبا کے وجود کے متعلق اور پہلی دوسری تیسری صدی کے حضرات کے حوالے ابن سبا کے بارے میں تلاش کر رکھے تھے ، ابھی پوسٹ ہو جاتے اگر یار لوگ اتنے پریشان نہ ہو گئے ہوتے اوراب تو مہوش بھی ان کی ہم نوا ہو گئیں ؟
    خیر کیا کروں ؟ داشتہ آید بکار ۔
     
  2. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

    محترم فرید صاحب،

    میرا اس مضمون پر خاموشی اختیار کرنا صرف آپ کی وجہ سے تھا کیونکہ دلائل کی جگہ صرف غیر ضروری تکرار تھی۔

    لیکن اگر اس تکرار کی بجائے واقعی آپ نے عبداللہ ابن سبا کی جناب عثمان بن عفان کے خلاف سازشوں کے عینی گواہان کو دوسری اور تیسری صدی سے نکال لائے ہیں، تو یہ تو دلائل ہوئے، جس پر میں آپ کو بہت بڑھ کر خوش آمدید کہوں گی۔

    بلکہ اگر واقعی عبداللہ ابن سبا نے ہزاروں مسلمانوں کو گمراہ کر کے سبائی آلہ کار بنا لیا تھا (جن میں سیف کذاب کے مطابق عمار یاسر اور ابو ذر غفاری جیسے جلیل القدر صحابی بھی شامل ہیں)، اور عبداللہ ابن سبا ہی نے قتل عثمان کیا، اور انہوں نے جنگ جمل اور جنگ صفین رات کو حملے کر کے شروع کروائی۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ، تو لازمی طور پر اس کے ہزاروں عینی گواہ ہونے چاہیے ہیں۔

    میرا تو آپ سے مطالبہ بہت سادہ سے ہے، کہ آپ ان ہزاروں عینی گواہان کو چھوڑیں، اور بس آپ ایک ایسی صحیح الاسناد روایت پیش کر دیں جس میں سیف ابن عمر کذاب کا نام نہ ہو، اور اُس میں عینی شاہدین کی گواہی ہو کہ یہ عبداللہ ابن سبا ہی تھا جس نے اس سازش میں رائی بھر بھی کردار ادا کیا ہو۔

    لیکن اگر آپ جو دوسری اور تیسری صدی کے علماء کی روایات لا رہے ہیں، وہ ایسی ہوئی کہ جن کا سلسلہ اسناد ہی نہ ہوا، یا جو قتل عثمان میں رتی بھر بھی کردار ادا کرنے کی بجائے اس کے بہت سالو ں بعد صرف اور صرف علی ابن ابی طالب کی خلافت میں عبداللہ ابن سبا کا ظہور ہونا بیان کریں۔۔۔۔ تو ایسی روایات کا کیا فائدہ اور ہمارے موجودہ موضوع یعنی آغاز بغاوت اور سامانِ قتلِ عثمان بن عفان سے کیا تعلق؟ ان تمام چیزوں کا جواب تو پہلےسے ہی آرٹیکل میں موجود ہے اور تکرار کرنا صرف بحث برائے بحث ہے۔

    بہرحال، آپ شوق سے یہ روایات پیش کیجئے (بلکہ آپ سے زیادہ شوق مجھے ان روایات کو دیکھنے کا ہے۔) بلکہ میرا تو دعوی ہے کہ آپ جتنے بھی نام لینے والے ہیں، اُن کا ذکر پہلے ہی اس آرٹیکل میں موجود ہے، یا پھر وہ غیر ضروری نام ہیں کیونکہ انہوں نے یا تو سیف کذاب کی ہی دیو مالائی کہانیاں درج کر دی ہیں یا وہ کچھ بغیر کسی حوالے کے درج کر دیا ہے جو عباسی خلفاء نے لوگوں کے درمیان مشہور کر رکھا تھا۔
     
  3. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,837
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    شاباش کرواو لڑائی۔۔۔ اب کسی کو قفل کا خیال نہیں آتا۔ سیکولر ازم پہ بات کرنے پرآگ لگ جاتی ہے۔ اور وہ مسائل جن سے امت مسلمہ کی وحدت ختم ہو ان پر طویل بحثیں۔۔۔
    کوئی جواب دئے گا کہ اس طرح کے اختلافی مسائل کو کیوں چھیڑا جاتا ہے اور کیوں ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے؟
     
  4. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    برادر، میں آپ کے جذبات کی ہمیشہ ہی قدر کرتی آئی ہوں کیونکہ یہ تمام باتیں آپ کے دل سے نکلتی ہیں۔ لیکن ہمیشہ کی طرح آپ کی طرف سے ڈر بھی لگا رہتا ہے کہ کہیں جذبات میں آ کر کوئی سخت بات نہ کہہ دیں۔

    اس مسئلہ پر قصور وار موڈ حضرات نہیں ہیں بلکہ میں اور فرید صاحب ٹہریں گے کیونکہ اُن کی بار بار یاد دھانی کے باوجود مسائل موضوع سے اچک کر اختلافات کی طرف چھلانگ لگاتے رہے، اگرچہ کہ میری نیت صاف تھی۔
     
  5. mamoon rashid

    mamoon rashid محفلین

    مراسلے:
    13
    ایک صفائی

    نبیل جی ، کچھ تلاش کو تو نہ گیا تھا، البتہ بعد میں گفتگو کا وعدہ کیا تھا ، خیر
    وہ بھی اب ترک کرتا ہوں ،
    البتہ مہوش سے اتنا پوچھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ ابن سبا کے وجود کے قائل ہو یا نہیں ۔ جیسا کہ آپ کی بات پہلے میں نے دیکھی ، آپ نفس وجود کے قائل ہیں، تو وہ کن مآخذ کی بنیاد پر ؟
    اور کچھ اس کے احوال مختصرا قلم بند کریں ۔
    اگر انکار ہے تو کس بنیاد پر ؟
     
  6. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    11,293
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    قفل اس لیے نہیں لگا ہے اس پوسٹ کو اب تک کہ فریقین خود سمجھدار ہیں اور اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ماموں میرا خیال ہے کہ اب اس موضوع کو ختم کر دیےجائے اور کسی اور موضوع پر بحث کی جائے۔
     
  7. فرید احمد

    فرید احمد محفلین

    مراسلے:
    451
    چونکہ میرے گمان کے مطابق ( غلط ہو تو معاف کریں ) مہوش اہل تشیع میں سے ہے ، اور عاشوراء محرم کے ان دنوں اہل تشیع ماتم کرتے ہیں ، دل غمزدہ ہوتے ہیں ، اس لیے میں نے سوچا تھا کہ دو تین بعد اپنی بات پیش کروں گا ، کہ غم کے ان دنوں میں غم خواری ہی بہتر ہے ، خیر آج مہوش کو یہاں حاضر دیکھا ، تو اب اپنی بات پیش کر ہی دیتا ہوں ۔خدا مبارک کرے ان کی دائمی حاضری کو ، اور دل کی مضبوطی کو بھی ۔


    عنوان موضوع یہ ہے کہ ابن سبا کی شخصیت کیا ہے ؟ کیا وہ واقعۃ اتنا بڑا کردار ہے یا محض مفروضہ ہے ؟ رسائل میں تو اس کے وجود سے انکار ہے ، یہ کہہ کر کہ اس کا ذکر معتبر کتابوں میں اور روایتوں میں نہں ، اور اگر ہے ( 14 ) روایتوں میں تو اس کی کمزور حیثیت کو صاحب رسالہ نے واضح کیا ہے ۔ خیر
    مہوش کے دیے رسالہ میں پیش کی گئیں چودہ روایتوں کے راوی ؛ جیسا کہ دعوی کیا گیا ہے کہ سنییوں میں طبری کے سوا ابن عساکر ہی ابن سبا کا ذکر کرتے ہیں ۔
    ان کے بارے میں پھر کہا گیا کہ ابن عساکر چھٹی صدی کے ہیں ، اس کے قبل کے کسی نے ان کا ذکر نہیں کیا ۔
    اس کے بعد ابن حجر عسقلانی کی روایات ہیں ۔
    اس کے بعد شیعی مورخین کی روایا ت ہیں ۔
    کہا گیا کہ چوٹھی صدی تک میں فقط کشی صاحب ایسے گذرے کہ ان کی روایات ابن سبا کے متعلق ہے اور اس میں سیف کا نام نہیں ۔ اور بعد میں آنے والے طوسی ، طاوس اور علامہ علی نے کشی کی بات نقل کی ہے ۔
    پھر کہا گیا کہ یہ روایات یہ ثابت کرتی ہیں کہ ابن سبا کا ظہور مولی علی کے زمانہ میں ہوا ۔ زمانہ عثمان میں نہ تھا ۔
    اس کے بعد ان حضرات کا نام ہے ، جنہوں نے بلا سند اس قصہ کو نقل کیا ہے ، ان میں علی بن اسماعیل اشعری 330 متوفی ۔ اور عبدالکریم شہرستانی 548 اور ابن طاہر بغدادی 429 کا ذکر ہے ۔
    اب نیچے دیے جانے والے حوالہ جات پر غور کریں ۔
    ان حوالہ جات میں ابن سبا کا نام یا فرقہ سباءیہ ( سبئیہ ) کا ذکر ہے ۔ اس بارے میں اولا تنبیہ چاہوں گا کہ ان حوالوں میں سبءیہ کے ذکر کو بعض کی جانب سے قبیلہ سبءیہ پر محمول کیا گیا ہے ۔ حالاں کہ یہ درست نہیں ، میں یہ جانتا ہوں کہ یہ ایک قبیلہ تھا، اور حدیث تک میں سبا قبیلہ کا ذکر ہے ۔ مگر پیش کردہ حوالوں میں قبیلہ مراد نہیں ، بلکہ وہ فرقہ مراد ہے ، جس کے بانی کی طرف اس کو منسوب کرے سبءیہ نام دیا گیا ہے ، یہاں بے محل اور طولانی کا باعث ہونے کے سبب اس کو نقل نہیں کرتا ۔

    عبداللہ بن سبا کے وجود کے قائلین

    سنی حضرات
    اعشی ہمدانی متوفی ،84 ہجری نے اپنے دیوان ص 148 پر فرقہ سبعیہ کا ذکر کیا ہے ، پہلی صدی ہجری میں سبئیہ فرقہ کا ذکر ابن سبا کے وجود کی طرف دلالت کرتا ہے ، مختار بن ابو عبید ثقفی نے بھی اس کی ہجو بیان کی ہے ۔
    امام محمد بن حنفیہ متوفی 95 ہجری کی کتاب ارجاء میں بھی فرقہ سبئیہ کا ذکر ہے ، جہاں امام نے حضرت حیسن رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ارجاء کی نسبت بابت کلام فرمایا ہے ،
    اسی طرح شعبی متوفی 103 ہجری کی روایت ابن عساکر نے نقل کی ہے ،
    مہشور شاعر فرزدق متوفی 116 ہجری “”دیر جماجم” کے معرکہ کا ذکر کرتے ہوءے سبعیہ کی برائی بیان کرتا ہے ، اس کے شعر میں اس کے رئیس کے یہودی ہونے کی بھی صراحت ہے ، یہ شعر بھی فریقین موضوع بحث ہے ، اور عربی وکی پر بھی اس کے متعلق بحث مجھے نظر آئی تھی ۔
    مورخ طبری اپنی تفسیر3 /119 میں قتادہ بن دعامہ السدوسی متوفی 117 کی رائے “" فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبوعن ما تشابہ الخ " کے ضمن میں نقل کرتے ہیں کہ اگر ان لوگوں سے مراد ( جن قلوب میں کجی ہے ) حروریہ اور سبئیہ نہ ہو تو پھر مجھے نہیں معلوم وہ کون لوگ ہیں ؟
    یہ طبری کی بات سیف کے بغیر کی ہے ، اور بلا شبہ یہاں سبئیہ سے مراد فرقہ ہی ہے ۔
    ابن سعد ( متوفی 230) کی طبقات کبری میں سبئیہ اور اس کے سردار کا ذکر ہے ، اگر چہ یہاں ابن سبا کا نام مذکور نہیں ۔
    ابن حبیب بغدادی متوفی 245 ہجری نے "محبر " ص 308 پر عبداللہ بن سبا کا ذکر کیا ہے ،
    ابو عاصم خشیش بن اصرم متوفی 253 ہجری نے حضرت علی کے ابن سبا کے ساتھیوں کو جلا دینے کی روایت اپنی کتاب استقامت میں نقل کی ہے ،
    مشہور معتزلی جاحظ متوفی 255 ہجری کی کتاب البیان والتبیان 3\81 میں عبداللہ بن سبا کی جانب اشارہ موجو ہے ۔
    خوازمی متوفی 387 نے اپنی کتاب مفاتیح العلوم ص 22 پر ذکر کیا ہے کہ سبئیہ سے مراد عبد اللہ بن سبا کے پیرو کار ہیں ۔
    ہمذانی نے اپنی کتاب تثبیت دلائل النبوۃ 3\ 658 پر عبد للہ بن سبا کا ذکر کیا ہے ۔
    بغدادی متوفی 429 ہجری نے "الفرق بین الفرق" ص 15 اور اسکے بعد کے صفحات میں عبد اللہ بن سبا کا ذکر کیا ہے ۔
    ابن حزم متوفی 456 ہجری نے الملل و النحل 4 \ 186 پر اس کا ذکر کیا ہے ۔
    اسی طرح اسفراءینی متوفی471 ہجری اور
    شہرستانی متوفی 548 نے اور
    سمعانی متوفی 562 نے اور
    ابن عساکر متوفی 571 نے اور
    نشوان الحمیری متوفی 573 نے اس کا ذکر کیا ہے ، اس کے بعد کے مورخین کا حوالہ ترک کرتا ہوں ۔
    ان میں کہیں سبئیہ اور کہیں ابن سبا کا ذکر ہے ، اور وہ ان حضرات کے علاوہ جن کے نام مہوش کے دیے رسالہ میں نہیں ، ذرا مقابلہ کر لیں ۔
    ابن سبا کے قائلین شیعہ حضرات
    شیعہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ ابن سبا کا تذکرہ والی روایات شیعی مورخین میں فقط نوبختی اور حسن بن حلی نے نقل کی ہے، جو بلا سند ہے اور کشی کی روایات بلاسند اور سند کے ساتھ دونوں طرح کی ہیں ۔
    یہاں میں کچھ شیعہ کے نام گنوا رہا ہوں ۔ جن میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ دیگر حضرات مورخین شیعہ بھی ہیں ۔
    تاریخ طبری5 \ 193 پر ابو مخنف لوط بن یحیی موفی 157 کے بقول ہے کہ معقل بن قیس کو مغیرہ بن شعبہ نے مستورد بن علقمہ خارجی اور اس کے اصحاب کو قتل کے لیے متعین کیا تھا ، یہاں ہے کہ یہ شخص سبائی مفتری اور کذاب تھا ۔
    اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ اب مخنف بڑے شیعی مؤرخ ہیں ، انہوں نے مقتل سے شروع ہونے والے 9 رسالے لکھے ہیں ،اور اور بھی کئی کتابیں لکھی ہیں، مگر زمانہ کی دستبرد سے گم ہو گئیں البتہ مقتل حسین رضی اللہ والی روایات طبری نے نقل کی ہیں، اور یہی روایات آج کل مقتل ابو مخنف نے نام سے شائع بھی ہوتی ہیں، یہ طبری کی دوسری روایت ہوئی ، جو سیف کے بغیر ہے ، ایک تفسیر والی اوپر گذری ۔
    الناشی الاکبر متوفی 293 نے اپنی کتاب مسائل الاماۃ ص 22 اور 23 پر عبداللہ بن سبا کا ذکر کیا ہے ۔
    قمی متوفی301 نے المقالات والفرق میں اس کا تذکرہ کیا ہے ۔
    نوبختی متوفی 310 نے اپنی کتاب فرق الشیعہ مین اس کا ذکر کیا ہے ۔
    ابوحاتم رازی متوفی 322 الزینۃ فی الکلما الاسلامیہ ص 305 پر اس کاذکر کیا ہے ۔
    کشی متوفی 340نے اپنی کتاب رجال میں ص 99 - 98 پر اس کاذکر کیا ہے ۔
    ابوجعفر الصدق بن بابویہ القمی متوفی 381 اپنی کتاب "من لایحضرہ الفقہ "1 \ 213 پر اس کا ذکر کیا ہے ۔
    شیخ مفید متوفی 413 نے اپنی کتاب “ "شرح عقائد الصور " ص 257 پر اس کا ذکر کیا ہے ۔
    ابوجعفر طوسی متوفی 460 اپنی کتاب تہذیب الاحکام 2 \ 322 پر اس کا ذکر کیا ہے .
    ابن شہر اشوب متوفی 588 نے کتاب مناقب ال ابی طالب 1 \227 اور 228 پر
    اور ابن ابی الحدید متوفی 655 نے شرح نہج البلاغۃ 2 \ 99 پر اس کا ذکر کیا ہے ۔
    حسن بن علی الحلی متوفی 726 نے اپنی کتاب الرجال 2 \ 71 ذکر کیا ہے
    اور بھی متعدد حضرات نے اس کا ذکر کیا ہے ۔
    ان میں بکثرت حضرات شیعہ و سنی وہ ہیں جن کا مہوش کے دیے رسالوں میں ذکر نہیں ، ان رسالوں میں فقط 14 روایتوں کا ذکر ہے ، یہاں اور حضرات بھی ابن سبا کاذکر کرنے والے ہیں، اور وہ بھی پہلی ، دوسری ، تیسری صدی کے بھی ۔
    اس کے علاوہ میرے پاس لمبی فہرست حضرات شیعہ کی ہے جو عبداللہ بن سبا کا تذکرہ کرتے ہیں ، کوئی اس کے متعلق حضرت علی کی الوہیت کے واقعہ کے ضمن میں تو کوئی کسی اور ترتیب کے ضمن میں ،
    اس کے علاوہ بہت سارے مستشرقین نے بھی عبداللہ بن سبا کا تذکرہ کیا ہے ، طوالت کے خوف سے اس کو نقل نہیں کرتا ۔
    بطور اختتام بحث میں کہنا چاہوں گا کہ سیف بن عمر کا بہانہ بنا کر ابن سبا کا وجود کو فرضی نہ بنانا چاہیے، اس لیے کہ جیسا کہ ذکر کیا گیا اور حضرات نے اس کا ذکر کیا ہے ، دوسری بحث سیف کی تضعیف کے متعلق بھی ہے ، اس پر بہت سے حضرات نے طویل گفت گو کی ہے ۔ مثلا ابن حجر کے اقوال کو بہت شد و مد سے مہوش کے دیے رسالوں میں ذکر کیا گیا ہے ، جب کہ ابن حجر نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ " ضعیف فی الحدیث ، عمدۃ فی التاریخ " !!
    خیر میں اب مہوش سے یہ نہیں کہتا کہ اب تمہاری باری ہے ، مگر میں بحث کوآگے لے جانے کو تیار ہوں ۔ اگر اس میں کوئی فائدہ ہے ۔
    والسلام
     
  8. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,627
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    بحث کو آگے لیجانے کا فائدہ تو دور کی بات ہے، مجھے آپ کی اس پوسٹ‌کا بھی کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا۔
     
  9. فرید احمد

    فرید احمد محفلین

    مراسلے:
    451
    نبیل جی ، فائدہ تو مجھے بھی ۔۔۔۔
    مگر کیا کریں ،
    لوگ ہم سے پوچھے جا رہے ہیں اور ہم بتائے جا رہے ہیں ،
    اور آپ نے تو شاید پڑھا بھی نہیں ، اتنی جلد آپ کا جواب آ گیا ۔
    خیر
    رموز مملکت خویش خسرواں داند
     
  10. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,627
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    فرید، یہی کیا، میں نے اس پورے سلسلے کی کوئی بھی پوسٹ‌ پوری نہیں پڑھی اور نہ ہی میرے خیال میں اس سے میرے علم میں موجود کوئی خلا پر ہو رہا ہے۔
     
  11. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    محترم فرید صاحب، آپ کے جواب کا شکریہ۔

    بہرحال، مجھے افسوس رہا کہ اس معاملے میں آپ نے پہلے مسندِ انصاف پر بیٹنے کی بجائے مسند وکیل صفائی پر بیٹھ گئے۔

    محترم، آپ کے پاس ایک فیصد چانس بھی نہیں کہ آپ عبداللہ ابن سبا سے جوڑی گئی ان دیو مالائی کہانیوں کو سچ ثابت کریں، کہ جن کے لاکھوں نہیں تو ہزاروں چشم دید گواہ تو ہونے چاہیے تھے۔

    عبداللہ ابن سبا کا وجود بالمقابل عبداللہ ابن سبا کا دیو مالائی کردار

    محترم، آپ انہی چیزوں کی تکرار کر رہے ہیں کہ جس کو پہلی پوسٹ سے ہی ہم حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ چیز کتنی دفعہ صاف کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عبداللہ ابن سبا نامی شخص کا وجود تاریخ میں شاید ہو، لیکن وہ نان ایشو Non Issue ہے۔

    ہماری یہاں بحث کا مقصد فقط عبداللہ ابن سبا کے وجود سے جڑی اُن دیو مالائی کہانیوں کی تحقیق ہے، کہ جس کی بنیاد پر اہل تشیع نامی گروہ پچھلے بارہ سو سالوں سے بدنام کر کے انہیں (سبائیوں کے حوالے) سے جناب عثمان کا قاتل ٹہرایا جا رہا ہے اور تمام سازشوں انہی کے نام کر دی گئی ہیں۔

    محترم فرید صاحب،

    میں آپ سے اس کے وجود کے متعلق بھی گفتگو کروں گی۔ مگر اس سے پہلے احباب کے سامنے ساری صورتحال اب تفصیل سے واضح کرنی ہو گی، کیونکہ برادر، افسوسناک بات یہ ہے کہ آپ اپنی روش سے منہ نہیں پھیر رہے، اور عبداللہ ابن سبا کا وجود ثابت کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس سے جڑی ہر دیو مالائی کہانی درست ہے۔

    عبداللہ ابن سبا سے جڑی دیو مالائی کہانیوں پر ایک مختصر نظر

    سیف ابن عمر کذاب نے 150 ہجری کے لگ بھگ دو کتابیں لکھی تھیں۔ یہ سیف ابن عمر ایک داستان گو تھا اور یہ کتابیں بہت تھوڑی حقیقت، اور بہت زیادہ افسانوں پر مشتمل تھی۔

    ان دو کتابوں کو اس نے عبداللہ ابن سبا کی دیو مالائی کہانیوں کے نظر کیا ہے اور اس طرح ہر چیز کی تفصیل بیان کی ہے کہ جیسے ہر ہر واقعہ کے موقع پر وہ سامنے بیٹھا ہر چیز نقل کر رہا تھا۔

    اسی سیف کذاب نے، ان افسانوں کو پورا کرنے کے لیے بہت سے فرضی اور دیو مالائی صحابہ کے نام بھی گھڑے، کہ جن کی تدبر شجاعت وغیرہ کے سامنے رسول ص کے کچھ اصل صحابہ بھی ہیچ تھے ۔ سیف کذاب کے علاوہ ان فرضی صحابہ کا ذکر کسی بھی کتاب میں نہیں ملتا جیسا اسد الغابہ، الاستیعاب، اصابہ وغیرہ جیسی کتب ہیں، جن کا موضوع ہی صحابہ کے ناموں اور حالات زندگی کو قلمبندکرنا تھا۔

    عبداللہ ابن سبا سے جڑی دیو مالائی کہانیوں کے ہزاروں عینی گواہ کہاں ہیں؟

    سیف نے عبداللہ ابن سبا سے جو کہانیاں جوڑی ہیں، ان کا اگر انتہائی مختصر تعارف پیش کیا جائے، تو وہ یہ کچھ یوں ہے۔

    1۔ عبد اللہ ابن سبا ایک یہودی تھا جو حضرت عثمان کے دور میں ظاہر ہوا۔

    # اس عبد اللہ ابن سبا نے لوگوں کو ورغلایا کہ مولا علی(ع) رسول (ص) کے جانشین ہیں اور باقی خلفاء کی خلافت نا جائز ہے۔

    # اس نے حضرت عثمان کے دور میں آپ کے خلاف کوفہ و شام میں سازش کا آغاز کیا۔ بعد میں یہ مصر چلا گیا اور وہاں باغیوں کی ایک فوج تیار کی۔

    # بہت سے معزز صحابی، جیسے کہ عمار یاسر اور ابو ذر غفاری وغیرہ اس یہودی ابن سبا کے پیرو کار بن گئے اور انہوں نے حضرت عثمان کے خلاف سازش میں سبائیوں کا ساتھ دیا۔

    # مصر کے باغیوں کی اس فوج نے مدینہ آ کر حضرت عثمان کو قتل کر دیا۔
    # جنگ جمل اور صفین میں مولا علی ع اور حضرت عائشہ اور امیر معاویہ کے درمیان صلح ہونے والی تھی مگر رات کی تاریکی میں ان سبائیوں/شیعوں نے حملہ کر کے جنگ کا آغاز کر دیا۔ وغیرہ وغیرہ۔

    اس ضمن میں آپ صرف ابو ذر غفاری (جو رسول ص کے بلند پایہ صحابی ہیں) کے حالات پڑھ لیں۔ سیف کذاب نے کھل کر اس عظیم المرتبت صحابی پر گمراہ ہونے کے الزامات کی بارش کی ہے کہ کس طرح عبداللہ ابن سبا بار بار ان کو Visit کرتا تھا، اور کس طرح انہیں گمراہ کر کے اپن سبائی پیروکار بنا لیا، اور کس طرح اس گمراہی میں آپ نے اموی عمال پر تنقید شروع کر دی اور کعب بن الاحبار جیسے معصوم لوگوں کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا وغیرہ وغیرہ۔

    المختصر، اگر سیف کذاب کی یہ کہانیاں درست ہیں، تو تاریخ انسانی کی اس سب سے عظیم سازش کے ان واقعات کے کم از کم کئی ہزار عینی گواہ ہونے چاہیے تھے۔

    مگر حیرت کی اُس وقت انتہا نہیں رہتی جب:

    1۔ سیف کذاب کے علاوہ ان کہانیوں کا ایک بھی عینی گواہ نہی

    2۔ ں۔ پہلی صدیوں میں گذرنے والے ہزاروں علماء کی ہزاروں تصانیف میں اس کہانی کی ایک ہلکی سی جھلک بھی نہیں ملتی۔ (عبداللہ ابن سبا کے وجود کے متعلق تو ہلکی سی جھلک ملتی ہے، مگر اُس کے حالات زندگی اُس دیو مالائی عبداللہ ابن سبا سے بالکل مختلف ہیں جو کہ سیف کذاب نے گھڑا ہے)

    3۔ اس کے برعکس، ان پہلی صدیوں کے علماء نے سینکڑوں کی تعداد میں وہ واقعات نقل کیے ہیں جس میں اموی عمال کی بد نظمیوں اور بدکاریوں کا ذکر ہے اور کس طرح لوگوں میں بنی امیہ کے خلاف چپقلش پیدا ہوئی اور حالات جناب عثمان کی شہادت پر پہنچ گئے۔۔۔۔ اور پھر شہادتِ عثمان سے لیکر جنگ جمل اور پھر جنگ صفیں کے حالات۔۔۔۔۔۔

    4۔ اب خود بتائیے کہ کیا وجوہات ہیں کہ ان سینکڑوں عینی گواہان کی گواہی کو تو اس بنیاد پر ٹھکرا دیا جائے کہ ان کے بیان کرنے سے صحابہ کرام کے اندرونی اختلافات کا ذکر سامنے آتا ہے، مگر اس کے مقابلے میں سیف کذاب کے دیو مالائی قصوں کو آنکھیں بند کر کے قبول کر لیا جائے اور 1200 سال اس کی کھل کر ترویج (پروپیگنڈہ) کیا جائے، کہ جس کے جھوٹے ہونے میں ذرا برابر بھی شک نہیں۔

    5۔ یہ طرزِ عمل کم از کم کئی سو گنا منافقت پر مبنی ہے (یعنی کئی سو عینی گواہان کی گواہی کو جھٹلا کر سیف کذاب کی اکلوتی گواہی کو مان لینا)۔

    انہی تمام باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، اپنی پہلی پوسٹ سے لیکر ابتک، میں نے بار بار ایک چھوٹی سی چیز کا مطالبہ فرید صاحب سے کیا تھا، اور وہ ہے:

    ہزاروں عینی شاہدین کی گواہی نہیں، بلکہ صرف اور صرف ایک ایسی صحیح روایت دکھا دیں جس کی اسناد میں سیف کذاب کر ذکر نہ ہو، اور وہ روایت عبداللہ ابن سبا (یا اُس کے ہزاروں سبائین کا) رتی برابر ذکر بھی شورش و بغاوت و قتلِ عثمان کے معاملے میں کرے۔

    ابتک تو میرا یہ چھوٹا سا مطالبہ پورا نہیں ہوا۔۔۔ اور لگتا ہے کہ تاقیامت نہ ہو گا۔

    اللہ ہمیں سچ سمجھنے اور سچ بات کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین۔

    [جاری ہے۔۔۔ اور اگلی پوسٹ میں عبداللہ ابن سبا کے اپنے وجود پر بحث کرتے ہیں]
     
  12. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    محترم احباب کی خدمت میں عرض ہے کہ ہمارا یہ موضوع بس اب اختتام کو ہے کیونکہ فرید صاحب نے اپنی اوپر والی پوسٹ میں عبداللہ ابن سبا کے متعلق جو چیزیں نقل کی ہیں، اُن کا جواب دینے کے بعد عبداللہ ابن سبا پر دونوں فریقین کے دلائل کا خاتمہ ہو جائے گا، اور اس دیومالائی کردار کر کوئی ایسا پہلو نہیں رہ جائے گا جو روشنی میں نہ آیا ہو۔

    چنانچہ آئیے اب فرید صاحب کی خواہش پر اس Non Issue پر بھی بات کر لیں۔

    عبداللہ ابن سبا کا وجود اور سیف کذاب کی شیعہ دشمنی


    جیسا کہ شروعات میں ہی ذکر کر دیا گیا تھا کہ عبداللہ ابن سبا نامی شخص سے منسوب کہانیوں کا تو سیف کذاب کے علاوہ کوئی عینی گواہ نہیں، مگر اُس کے وجود کے متعلق کچھ جھلک دیگر روایات میں ملتی ہیں۔

    مگر یہ روایات جس عبداللہ ابن سبا کے وجود کے متعلق گفتگو کر رہی ہیں، وہ اُس عبداللہ ابن سبا سے بالکل مختلف ہے جس کو سب سے پہلے سی کذاب نے گھڑا اور پھر عباسی خلفاء نے فروغ دیا۔

    ۔ مثال کے طور پر:

    1 ۔ سیف کذاب کا عبداللہ ابن سبا جناب عثمان کے ابتدائی دور میں مکمل طور پر ظاہر ہو چکا تھا اور بڑے بڑے اکابر صحابہ گمراہ ہو کر اُس کے سبائی گروہ میں شامل ہو گئے تھے۔
    جبکہ سیف سے پاک یہ روایات ثابت کرتی ہیں کہ عبداللہ ابن سبا جناب عثمان کے دور کے بہت بعد میں علی ابن ابی طالب کے دور میں ظاہر ہوا۔

    2۔ سیف کذاب کے مطابق عبداللہ ابن سبا کی سیاسی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ پورے کا پورا اہل مدینہ جناب عثمان کو بچانے سے قاصر رہا۔ پھر جب علی ابن ابی طالب خلیفہ ہوئے، تو انہوں نے بھی اس عبداللہ ابن سبا اور دیگر سبائین کو کچھ نہ کہا بلکہ اپنی پناہ میں رکھا۔
    جبکہ سیف کذاب سے پاک دیگر روایتوں کے مطابق، جیسے ہی علی کو عبداللہ ابن سبا کی گمراہی کا علم ہوا، آپ نے اسے (بمع تمام کے تمام اس کے حامیان کے) آگ میں جلوا ڈالا۔

    یہ واقعہ مدینہ میں پیش آیا۔

    3۔ سیف کذاب نے پھر دعویٰ کیا انہی سبائیوں \ شیعوں نے بعد میں جنگ جمل اور جنگ صفین رات کے اندھیرے میں شروع کروائی (وہ اس طرح کہ رات کے اندھیرے میں دونوں فوجوں پر حملہ کر دیا جبکہ دونوں فوجوں کے سردار، یعنی علی ابن ابی طالب، جناب عائشہ، معاویہ ابن سفیان وغیرہ اس سے قبل صلح پر متفق ہو چکے تھے)۔
    مگر سیف کذاب سے پاک دیگر روایات دعویٰ کرتی ہیں کہ جنگ جمل اور جنگ صفین تک سبائی باقی ہی نہ رہے تھے، بلکہ اس سے بہت قبل علی ابن ابی طالب نے انہیں آگ میں جلوا دیا تھا۔

    اگر یہ مختصر پس منظر آپ لوگوں پر واضح ہو چکا ہو، تو آگے بڑھتے ہیں۔ (حالانکہ تحقیق اتنی طویل ہے کہ کہنے کو بہت کچھ ہے)



    سبا یا سبائیہ نامی اصطلاح کا تاریخ میں مختلف چیزوں کی لیے استعمال

    سبا یا سبائیہ نامی اصطلاح تاریخ میں مختلف لوگوں (اور گروہوں) کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، اور اسی کنفیوژن کا فائدہ سیف کذاب نے سب سے پہلے اٹھایا، اور ابتک اس کا استعمال ہوتا آ رہا ہے۔

    زمانہ جاہلیت سے ہی لفظ .سبائیہ. کی اصطلاح اٗس سبا کے لیے استعمال ہوتی آئی ہے جو کہ بیٹا تھا یشجوب کا، جو بیٹا تھا یعروب کا، جو بیٹا تھا قطحان کا۔
    اور یہ قطحان وہی ہے جو قطحانیہ، یا یمنیہ کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ یہ مقام یمن میں رہائش پذیر تھے۔
    لوگوں کے اس گروہ (یعنی سبائیہ\قطحانیہ\یمنیہ) کی طرح لوگوں کا ایک اور گروہ بھی تھا جو کہ عدنانیہ، نظاریہ یا مدہریہ کے نام سے جانا جاتا تھا [/size]اور ان کا تعلق مدہر سے تھا جو کہ بیٹا تھا نظر کا، جو بیٹا تھا عدنان کا، جو بیٹے تھے اسمعیل علیہ السلام کے۔

    اور لوگوں کے ان دو گروہوں کے علاوہ بھی وہاں ان کے کچھ دیگر حامی قبائل تھے، جو ان کی حفاظت میں تھے، مگر انہیں بھی انہی دونوں گروہوں کے ناموں سے پہچانا جاتا تھا۔

    المختصر، عرب لوگ اپنی اصل انہی دونوں گروہوں میں ڈھونڈتے ہیں۔ جب یہ دونوں قبائل مدینہ میں اکھٹے ہوئے (جناب رسولِ خدا ص کے دور میں) تو جن کا تعلق قبیلہ قطحان سے تھا، وہ "انصار" کہلوائے، اور جن کا تعلق قبیلہ عدنان سے تھا، وہ مہاجرین کہلوائے۔

    عبداللہ ابن وہب سبائی (خارجیوں فرقہ کا سردار)


    ایک شخص گذرا ہے جس کا نام تھا "عبداللہ ابن وہب السبائی"، جو کہ فرقہ خوارج کے سرداروں میں سے تھا (یعنی وہ لوگ جو جنگ صفین کے بعد علی کے کٹر مخالف ہو گئے تھے)۔
    اس "عبداللہ ابن وہب سبائی" کا تعلق پہلے قبیلے سے تھا (جسے "سبائیہ" یا "قحطانیہ" کہا جاتا تھا)۔ یہ وہی شخص تھا جس نے فرقہ خوارج کی ابتدا سے لیکر جنگ نہروان تک خوارج فوجوں کی قیادت کی۔ اس کا ذکر تمام تاریخوں میں آپ کو مل جائے گا۔

    صحاح ستہ کے راویان کا سبائی ہونا

    صحاح ستہ میں احادیث کے راویان کے حالات زندگی جب پڑھیں گے، تو آپ کو اُن میں سے بہت سوں کے ناموں کے ساتھ سبائی لکھا ہوا بھی دکھائی گے گا۔ مگر اس کا تعلق عبداللہ ابن سبا سے ہر گز نہیں ہے بلکہ اوپر بیان کیے گئے گروہوں سے ہے [نوٹ: بے شمار خارجیوں کی روایات آپکو صحاح ستہ میں مل جائیں گی]


    میں نے حالات کو بہت مختصر بیان کیا ہے، مگر امید ہے کہ پس منظر آپ کو واضح ہو گیا ہو گا۔

    اب ہم محترم فرید صاحب کی پوسٹ کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ان کے دلائل درج ذیل ہیں:

    عبداللہ بن سبا کے وجود کے قائلین

    سنی حضرات
    اعشی ہمدانی متوفی ،84 ہجری نے اپنے دیوان ص 148 پر فرقہ سبعیہ کا ذکر کیا ہے ، پہلی صدی ہجری میں سبئیہ فرقہ کا ذکر ابن سبا کے وجود کی طرف دلالت کرتا ہے ، مختار بن ابو عبید ثقفی نے بھی اس کی ہجو بیان کی ہے ۔


    تبصرہ:
    1۔ اگر ممکن ہو سکے تو گذارش ہے کہ پوری روایت پیش کر دیں تاکہ احباب خود ہی انصاف کر سکیں۔

    2۔ ممکن ہے کہ یہ عبداللہ ابن سبا اور اُس کے اُن ساتھیوں کی طرف اشارہ ہو جنہیں علی ابن ابی طالب نے آگ میں جلوا دیا تھا۔ آپ کیسے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سیف کذاب کی دیو مالائی کہانیوں والا عبداللہ ابن سبا ہے۔

    3۔ ممکن ہے کہ یہاں اشارہ ہو عبداللہ ابن وہب سبائی کے فرقہ خوارج کی طرف

    4۔ لیکن اگر آپ کو پھر بھی دعویٰ ہے کہ اس سے مراد سیف کذاب والا دیو مالائی کہانیوں والا عبداللہ ابن سبا ہی ہے تو یہ فرمائیے کہ وہ کونسی چیزیں تھی جو اس بات میں موانع تھیں کہ یہ اعشی ہمدانی صاحب اس تاریخ انسانی کی سب سے بڑی اور عظیم سازشی کردار اور دورِ فتن کے اتنے بڑے عرصہ کے متعلق اتنی چھوٹی سی، مبہم اور غیر واضح روایت نقل کرتے؟

    امام محمد بن حنفیہ متوفی 95 ہجری کی کتاب ارجاء میں بھی فرقہ سبئیہ کا ذکر ہے ، جہاں امام نے حضرت حیسن رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ارجاء کی نسبت بابت کلام فرمایا ہے ،

    تبصرہ:
    تمام تر وہ تنقید جو اوپر گذر چکی ہے، اس روایت کےلیے بھی ہے۔


    اسی طرح شعبی متوفی 103 ہجری کی روایت ابن عساکر نے نقل کی ہے ،
    مہشور شاعر فرزدق متوفی 116 ہجری “”دیر جماجم” کے معرکہ کا ذکر کرتے ہوءے سبعیہ کی برائی بیان کرتا ہے ، اس کے شعر میں اس کے رئیس کے یہودی ہونے کی بھی صراحت ہے ، یہ شعر بھی فریقین موضوع بحث ہے ، اور عربی وکی پر بھی اس کے متعلق بحث مجھے نظر آئی تھ
    ی

    تبصرہ:
    ابن عساکر نے کی اسناد والی روایات میں صرف عبداللہ ابن سبا کے جلائے جانے کا ذکر ہے۔ (جیسا کہ آپ آرٹیکل میں پڑھ چکے ہیں)۔
    میں فرید صاحب سے ہی پوچھتی ہوں کہ کیا وہ اس آگ میں روایت کو مانتے ہیں (کیونکہ آگ میں جلانے بہت بڑی گمراہی اور بدعت ہے اور شریعت کسی کو یہ سزا دینے کی اجازت نہیں دیتی ۔ اس صورت میں نہ صرف خلیفہ چہارم علی ابن ابی طالب، بلکہ تمام کے تمام اس وقت مدینے میں موجود صحابہ پر ضلالت و گمراہی کا فتویٰ لگانا ہو گا کیونکہ انہوں نے یہ بدعت ہوتے ہوئی دیکھی مگر اسے نہ روکا۔

    اس کے علاوہ، اگر صرف سبائیہ کی برائی کا ہی بیان ہے، تو اس سے سیف کذاب کی دیو مالائی کہانی کیسے ثابت ہوتی ہے؟ کیا اس سے یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ وہ عبداللہ ابن سبا جو علی کے دور میں ظاہر ہوا اُس کی برائی کی جا رہی ہے؟
     
  13. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    میرے پاس مزید وقت نہیں۔

    انشاء اللہ باقی بعد میں۔
     
  14. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,627
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    اگر اس فورم کے ناظم کے پاس فرصت نہیں ہے تو میں خود اس تھریڈ کو مقفل کر دوں گا۔۔ اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس فورم کو بھی گول کردیا جائے گا۔

    فرید اور مہوش علی آپ اپنی توانائیاں کسی بہتر کام میں بھی صرف کر سکتے ہیں۔
     
  15. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    11,293
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    نبیل میں دو دفعہ گزارش کر چکا ہوں کہ اب کوئی پوسٹ نہ کی جائے مگر لگتا ہے اب مقفل ہی کرنا پڑے گا۔
     
  16. فرید احمد

    فرید احمد محفلین

    مراسلے:
    451
    جی مہوش صاحبہ
    وقت نہیں تو فقط ان دو تین صاحبوں کا تجزیہ بھی کیوں کیا ؟
    اور بہت سارے مورخین رہ گئے ، جن کا میں نے حوالہ دیا ہے ،
    کئی شیعہ بھی ہیں ۔
    پہلے عبد اللہ بن سبا کے وجود کی ہاں یا نا کہیے، دیومالائی قصے یا اس کی شر انگیزی کی بات بعد میں کروں گا ۔ آپ اور آپ کے دیے رسائل کی باتیں اس باب میں پیچیدگی کا شکار ہیں ۔
    اور ہاں سیف بن عمر کو چھوڑیے ، میں نے کئی لوگ ذکر کیے ، طبری نے ہی ایک شیعہ کی روایت نقل کی ہے ، ایک قتادہ کی روایت اپنی تفسیر میں نقل کی ہے ، طبری کی روایات پر آپ کے دیے رسالہ کے مصنف بہت زور دیتے ہیں ، اور ابن حجر کی بات کا جواب بھی نہیں کہ سیف ضعیف فی الحدیث عمدۃ فی التاریخ !!!
    جب کہ آپ کے رسالہ کے مصنف ابن حجر کی بات کو جس شد مد سے بیان کرتے ہیں وہ آپ نے دیکھا ہی ہے ،
    اور آخری بات
    آپ نے اب تک اپنے مطالعہ کا حاصل کتنا لکھا، اور دوسروں کی کتابوں کا حوالہ ان پر اعتماد کرکے دیا کیے ، اپنی بات کروں تو کسی کی بات پر اعتماد کرنے کی بجائے خود اس کے لیے تاریخ کو کھنگالا ، ویب پر وقت صرف کیا ، ہر دو مسلک کی کتابیں اور سائٹس دیکھیں ، اور اپنا خلاصہ اپنے الفاظ میں نقل کیا ، اسے تاریخ کا مطالعہ اور تحقیق کہتے ہیں ، مسلکی محبت میں ہم مسلکوں کی بات کا حوالہ دیتے رہنا انصاف نہیں ، ایک بار حق چار یار کے رسالہ کا حوالہ ایک چھوٹی سی چیز کے ثبوت کے لیے تھا،
    اگر ہمت ہو تو کوئی اور اردو فورم منتخب کر دیں ،
    چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد !‌
    نبیل صاحب ، معاف کریں ، صبر نہیں ہوتا ،
    دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    معاف کریں ۔
    مقفل کر دیں۔
    خدا نے چاہا تو کہیں اور بحث کر لیں گے،
    خواتین کا لباس والی بحث ایک بار پہلے بھی کر چکے ہیں ،
     
  17. mamoon rashid

    mamoon rashid محفلین

    مراسلے:
    13
    جی فورم کو اب مقفل کر دیں
    ویسے بحث اب نتیجہ خیز ہو رہی ہے ، اس لیے کہ عبد اللہ بن سبا کے وجود کی نفی یا ثبوت کا ہی سوال فرید نے کر دیا ہے ، اگر مہوش ہاں یا نا کہ دے تو بات یقینا صحیح سمت میں آگے بڑھے گی ، میں نے بھی اوپر یہی کہا تھا کہ اس کے وجود کی ہاں یا نا بھریئے
    خواتین کے لباس میں دونوں اسلامی مطالعہ والی سائٹ پر بحث کر چکے ہیں ، دیکھنے جیسی ہے ۔ میرے خیال میں اس موضوع میں بھی اب مہوش کا حشر ویسا ہی ہوا جا رہا ہے جیسا خواتین کے لباس والی میں ہوا تھا۔ اس وقت بھی مہوش نے اولا بڑے زور سے اور غصہ میں فرید سے بات کی تھی، اور پھر جو دوسرے فورم پر جا کر میں نے دیکھا تو مہوش مہینہ غیر حاضر رہی ، اور ہفتہ پہلے آئی بھی تو آئین بائین شائیں کر دی ۔اور بس
     
  18. فرید احمد

    فرید احمد محفلین

    مراسلے:
    451
    شکریہ مامون صاحب
    میری طرف داری نہ کریں
    نبیل صاحب تو پورے فورم کو گول کر دینے کی بات کر رہے ہیں
    نبیل صاحب برا نہ مانیے ،
    یاد رکھیں کہ
    ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
    اگر آپ نے فورم بند کر دیا تو کوئی دوسرا آدمی دوسرا فورم چالو کرے گا ، یہ گاڑی اب رکنے والی نہیں ، خدانے یہ سعادت آپ کو دی ہے تو برائے کرم ، براہِ عفو و نرمی و خوش خوئی اسے نباہ لیجیے ، خدا آپ کا بھلا کرے گا ۔
    “ استاد ! آئندہ ایسا نہ کروں گا ، اب کی بار جانے دیں “
     
  19. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,627
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    فرید میں نے صرف بے کار مباحث والے موضوعات کو ختم کرنے کی بات کی تھی۔ باقی جس مقصد کے لیے یہ فورم سیٹ اپ کی گئی ہے، الحمداللہ وہ میں اپنی استطاعت کے مطابق کر رہا ہوں۔ آپ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں، صحیح یا غلط، میں ہی یہاں کے معاملات سنبھالے ہوا ہوں۔ آپ کو جس قسم کی بحث مرغوب ہے، اس کے لیے انٹرنیٹ پر وافر مقدار میں فورم موجود ہیں۔
     
  20. فرید احمد

    فرید احمد محفلین

    مراسلے:
    451
    مولائے محترم
    ایسی مختلف فیہ بحثیں مجھے بھی پسند نہیں ،
    اور آج وقت آ گیا اپنی صفائی کا ، آپ تاریخ اسلام 1 والا ٹھریڈ دیکھ لیں ، بات مولانا مودودی سے قتل عثمان کی طرف گئی، میں نے عرض کیا سازشیوں یا یورش کرنے والوں نے اقربا پروری کو بہانہ بنایا تھا، اس پورے ٹھریڈ میں اولا میری طرف سے کہیں عبداللہ بن سبا کا نام نہیں آیا ، مہوش سمجھتی تو اس سے ابن سبا مراد نہ لیتی ، آخر دوسرے سازشی بھی تو تھے ہی ، ابن سبا نہیں تو اس کے بقول جو تھے وہ ، اسی نے میرے لفظ سازشی یا یورش کرنے والوں سے ابن سبا مراد لیا اور ایک دفتر میرے حوالہ کیا ، میں نے تحقیق کی اور پیش کی ،
    آپ کی اس انتہائی رکھی پوسٹ پڑھ کر دل مضطرب ہو گیا، آپ ہم سب کے محسن ہیں، اس فورم کے آپ ہی کرتا دھرتا ہو ، اور آپ کی خوشی ہم سب کی خوشی ، اس ناراضگی پر معذرت خواہ ہوں ۔
    سچ کہیے بہت افسوس ہوا ، آپ کا دل دکھانے کا !
    فانی ہم دوبتے دیکھی ہے ، نبض کائنات
    مزاج یا ذرا جو برہم نطر آیا
    فرید
     
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر