طرحی غزل برائے اصلاح -اُسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا ۔ از محمد اظہر نذیر

محمد اظہر نذیر نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 16, 2010

  1. محمد اظہر نذیر

    محمد اظہر نذیر محفلین

    مراسلے:
    1,818
    جھنڈا:
    Qatar
    موڈ:
    Angelic
    اساتذہ کرام کی خدمت میں ایک بار پھر اصلاح کی درخواست کے ساتھ حاضر ہوں، افتخار عارف صاحب کی ایک خوبصورت غرل کو طرح لگانے کی گستاخی سرزد ہو گئی ہے- اب آپ کے ہاتھ ہے اسے بہتر بنانا
    ممنون احسان
    اظہر

    مری تلاش تو ویسے ہی اک بہانا تھا
    اُسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا

    وہ دیکھتے بھی نہیں، ہو بلا سے اُنکی جو
    ہماری لہد بنے، اُس کو گھر بسانا تھا

    ہمیشہ بات تو مجھ سے، نگاہ مگر اُس پر
    اُسے تو ڈر بھی نہیں مجھ سے سب چھپانا تھا

    ہمیں سُنا نہ سُنا، سُن کے سب اڑا ہی دیا
    اُسی کی بات حقیقت، مری فسانا تھا

    کبھی سُنو گے ہماری یہ آس رہنے تو دو
    کہیں گے گر چہ کہا، یوں ہی سب گنوانا تھا

    کسی بھی طور سے بولا ہمیں محبت ہے
    کہا کہ کس سے؟ اُسے ہم کو بس ستانا تھا

    ہمیں پتا بھی نہ اظہر، مگر یہ دِل ناداں
    اِسے تو اپنی کتھا، حال جُو سنانا تھا

    بحر ہے مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,001
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ابھی تو دفتر میں مصروفیر ہے، بعد میں دیکھتا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,001
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    انشاء اللہ جلد ہی۔۔ کاپی پیسٹ کر لی ہے ابھی یہ غزل۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,001
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مری تلاش تو ویسے ہی اک بہانا تھا
    اُسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا
    ///درست، لیکن مفہوم مبہم ہے۔

    وہ دیکھتے بھی نہیں، ہو بلا سے اُنکی جو
    ہماری لدل بنے، اُس کو گھر بسانا تھا
    ///لحد کا تلفظ؟ میرے خیال میں اس کو غلط باندھا گیا ہے، درست لحَد ہے، یعنی ح متحرک، ساکن نہیں۔ وارث کا کیا خیال ہے اس سلسلے میں؟
    دوسری بات، پہلے مصرع میں ضمیر ’اُن‘ ہے، جب کہ دوسرے مصرع میں ’اُس‘ ہو گئی ہے۔ دونوں جگہ ایک ہی کر دیں، اس یا ان۔ (ان کی صورت میں محض ’ان کو گھر بسانا تھا‘ تبدیلی کی ضرورت ہے، ’اس‘ کی صورت میں، ’دیکھتا بھی نہیں‘ اور ’اس کی‘، دو جگہ تبدیلی کی ضرورت ہو گی۔
    تیسری بات، مفہوم میری ناقص عقل میں نہیں سما سکا۔

    ہمیشہ بات تو مجھ سے، نگاہ مگر اُس پر
    اُسے تو ڈر بھی نہیں مجھ سے سب چھپانا تھا
    ///پہلے مصرع میں ’نگہ‘ وزن میں آتا ہے۔ یا اگر نگاہ ہی استعمال کرنا ہے تو یوں کیا جا سکتا ہے:
    ہمیشہ بات تو مجھ سے، مگر نگاہ اُس پر
    یہ الف کا سقوط جائز ہے۔
    دوسرا مصرع؟ وہی میری ناقص عقل کہ سمجھ میں نہیں آیا کہ دونوں مصرعوں میں کیا ربط ہے؟

    ہمیں سُنا نہ سُنا، سُن کے سب اڑا ہی دیا
    اُسی کی بات حقیقت، مری فسانا تھا
    ///درست

    کبھی سُنو گے ہماری یہ آس رہنے تو دو
    کہیں گے گر چہ کہا، یوں ہی سب گنوانا تھا
    ///بظاہر کوئی غلطی نہیں۔ لیکن دوسرے مصرع کا پہلے سے کیا تعلق ہے؟ یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔

    کسی بھی طور سے بولا ہمیں محبت ہے
    کہا کہ کس سے؟ اُسے ہم کو بس ستانا تھا
    /// الفاظ کا استعمال کچھ نا مناسب ہے،‘کسی بھی طور سے بولا‘ مطلب؟ اور معانی بھی مبہم ہیں۔

    ہمیں پتا بھی نہ اظہر، مگر یہ دِل ناداں
    اِسے تو اپنی کتھا، حال جُو سنانا تھا
    /// یہ بھی ترسیل کا مسئلہ ہے، اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سوائے اس کے کہ اگر یہ ’دلِ ناداں‘ ہے تو بحر سے خارج ہے، ’دل ناداں‘ وزن میں آتا ہے۔
    مجموعی طور پر عروضی اغلاط بہت کم ہیں، لیکن تمہارا مسئلہ یہی ہے کہ معانی اپنے بطن میں محفوظ رکھتے ہو، جو سمجھاتے ہو، وہ مفہوم ان الفاظ سے ادا نہیں ہوتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. محمد اظہر نذیر

    محمد اظہر نذیر محفلین

    مراسلے:
    1,818
    جھنڈا:
    Qatar
    موڈ:
    Angelic

    مری تلاش تو ویسے ہی اک بہانا تھا
    اُسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا

    وہ دیکھتے بھی نہیں، ہو بلا سے اُنکی جو
    ہماری گور بنے، اُن کو گھر بسانا تھا

    ہمیشہ بات تو مجھ سے، مگر نگاہ اُس پر
    اُسے تو ڈر بھی نہیں مجھ سے سب چھپانا تھا

    ہمیں سُنا نہ سُنا، سُن کے سب اڑا ہی دیا
    اُسی کی بات حقیقت، مری فسانا تھا

    کبھی سُنو گے ہماری یہ آس رہنے تو دو
    کہیں گے گر چہ کہا، یوں ہی سب گنوانا تھا

    کسی بھی طور سے بولا ہمیں محبت ہے
    کہا کہ کس سے؟ اُسے ہم کو بس ستانا تھا

    ہمیں پتا بھی نہ اظہر، مگر یہ دِل ناداں
    اِسے تو اپنی کتھا، حال جُو سنانا تھا​

    اب ملاحظہ کیجیے اُستادِ محترم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,001
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اب مزید دیکھنے کی ضرورت ہے، انتظار کرو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    رسید حاضر ہے اظہر صاحب۔
    شکریہ بابا جانی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. صفدر علی

    صفدر علی محفلین

    مراسلے:
    6
    بہت خوب
    استاد بہر حال استاد ہے
    اصلاح انداز قابل ستائش ہے
     

اس صفحے کی تشہیر