طالبان کا وزیرستان

فاتح

لائبریرین
براہ راست ربط ۔ بی بی سی اردو


طالبان کا وزیرستان

طالبان کی چوکی پر طیارہ شکن توپ نصب ہے۔
491356_anti_aircraft600.jpg


طالبان کی ایک چوکی کے باہر کا منظر جہاں طیارہ شکن توپ نظر آ رہی ہے
492040_taleban_base600.jpg


فوج سے چھینی گئی گاڑی پر طالبان کا جھنڈا لگا ہوا
49383_taleban_flag600.jpg


چوکی پر رابطے کے لیے بنایا گیا طالبان کا ریڈیو روم
494532_radio_room600.jpg


طالبان نے چوکی پر شمسی توانائی کا نظام لگا رکھا ہے
495019_solar_panel600.jpg


طالبان کے ٹھکانے پر رکھا ہوا اسلحہ
495356_seized_arms600.jpg


فوج سے چھینا ہوا کمیونیکیشن ٹاور طالبان کے قبضے میں
495516_seized_communication_tower6.jpg


ہارون رشید طیارہ شکن توپ کے ساتھ کھڑے ہیں
410248_haroon_antiaircraft600.jpg

 

زینب

محفلین
آفرین ہے ان لوگوں پے جو پھر بھی کہتے ہیں کے قبائلی علاقوں میں آپریشن غلط ہے۔۔۔۔۔۔
 

باسم

محفلین
کوئی اتحادیوں کے بغیر پائلٹ جاسوس طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بھی تصویریں دکھائے
اگر آپریشن درست ہے تو سینکڑوں فوجیوں کی حالیہ گرفتاریوں کے پیچھے کی کہانی کی کھوج لگانی چاہیے
اور جس کے گھر میں 9 بے گناہ لاشیں جائیں گی وہ مارنے والوں کا ساتھ دے گا چاہے وہ درست ہی ہو؟
(گمشدہ افراد کی فہرست میں اضافے کے خیال سے پیغام کو بدل دیا ہے)
 

Dilkash

محفلین
دونون طرف سے بہت خون بہا دیا گیا ہے۔۔دونوں طرف غریب لوگ مرے ہیں۔ایک طرف فوجی(سپاہی) ھمارے بھائی ہیں اور غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں،دوسری طرف قبائلی بھی Mna Mpa یا کوئی ملک ،خان،ارباب نہیں مر رہا ہے۔۔سارے غریب لوگ ہیں۔

اس درمیان ہمارے تبصرے بے گناہوں کے بہتے ہوئے خون کے ساتھ زیادتی ہے۔نہ تو ہمیں فوجیوں خوش ہونا چاہیے کہ وہ حکم کے تابع ہیں اور نہ قبائیلیوں کے بہتے ہوئے خون پر خوش ہونا چاہیے۔۔کہ کوئی اپنا خون بے مقصد نہیں بہاتا۔
ہمیں ان اندھے حکمرانوں کی عقل او دانش پر ماتم کرنا چاہئے کہ قبائیلیوں کو کیسے اعتماد میں لئے جائیں۔کہ اج تک طاقتوروں(امریکہ) کے سامنے تو زبان کھول نہیں سکے اور اپنے عوام پر گرگس کی طرح جپٹ رہے ہیں۔

میں کہتا ہوں بھاڑ میں جائے وہ ایٹم بم جو پاکستان نے بنایا ہے۔
کس کام کا جس کی وجہ سے ہم مزید مشکلات کا سامنا کرہے ہیں۔ کس کام کا جس کی وجہ سے پوری قوم پر امریکی مظالم کا بھر ما ہے۔اور کس کام یہ ایٹم بم جس کا رعب ہم کم از کم کسی پر بھی تو نہ جما سکے۔

کہیں پر پڑھا تھا کہ اسلحہ اس وقت تک خطرناک نہیں ہوتا جب تک خطرناک ہاتھوں تک نہ پہنچے۔
ہمارا اسلحہ کس کام کا جو ہیجڑوں کے ہاتھوں میں تھمادیا گیا ہے۔
 

بدتمیز

محفلین
نہیں آفرین ہے ان لوگوں پر جو تصاویر دیکھ کر فوجی آپریشن جائز سمجھتے ہیں۔
ان تصاویر میں جو اسلحہ ہے وہ "کس وجہ" سے سرحد پار کی بجائے "مقبوضہ اسلام آباد" کی طرف مڑ گیا؟
آپ لوگ امریکہ مخالف بھی ہیں اور طالبان مخالف بھی۔ بہت حیرانی کی بات ہے۔
نو دو گیارہ سے پہلے کوئی اغوا ہوتا تھا تو اسی علاقہ سے ملتا تھا اور غیر قانونی اسلحہ کی داستانیں تو پھر اگر مقامی طالبان کی کوئی قسم وجود میں آ گئی ہے جو ایسے لوگوں کو خاتمہ کر رہی ہے (قطع نظر طریقہ کار غلط یا صحیح) تو پھر اس پر اعتراض کیسا؟
انسانیت میدانی علاقوں میں ہوتی ہے۔ پہاڑوں‌میں قبیلے ہوتے ہیں اور ان کے رسم و رواج مختلف۔ ان کو سمجھے بغیر کسی قسم کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟
آپ کو نہیں علم آپ کسی معصوم کے لئے انا للہ پڑھ رہے ہیں یا غاصب کے لئے۔
کیا طالبان نام کی مخلوق کے علاوہ وہاں سب شریف معصوم اور بےگناہ رہ رہے ہیں؟

دلکش
فوجی وہ بھی حکم کے پابند تھے جنہوں نے چربی لگی گولیاں استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ شائد علم ہو۔ فوجی انہی علاقوں سے بھرتی ہوتے ہیں نہ؟ پنجاب سے تو نہیں وہاں جا رہے؟
یہ ایٹم بم آپ کس کے ہاتھ میں دینا پسند کریں گیں؟ یا کہاں چلانا پسند کریں گیں؟ کشمیر میں؟ پہلے تو اکثریتی مسلمانوں کا خاتمہ کریں گیں بعد میں ساری تابکاری پاکستان بھر کے پانی میں شامل کریں گین۔ اچھا بھارت پر؟ وہاں مسلمان تو ہوتے نہیں ہیں۔ چلیں پھر مون سون کے فوری بعد استعمال کریں تا کہ تابکاری کے اثرات اتنی جلد ظاہر نہ ہوں۔
یہ اس کام کا ہے کہ انڈیا آپ پر آج تک حملہ نہیں کر سکا۔ اٹوٹ انگ اٹوٹ انگ کہنے والا ابھی تک آپ کو ہڑپ کر چکا ہوتا۔ سرحد کے انتہائی قریب جانے پر امریکہ صاحب بہادر نے انڈیا کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی تھی جس کا نتیجہ ان بریگیڈئیر یا کسی اور چیز کی برطرفی تھی۔ ابھی تک اس کو جو کامیابیاں ملی ہیں وہ صدر پاکستان کی مرہون منت ہیں نا کہ انڈیا کی اپنی کوششوں کی وجہ سے۔ آپ کے پاس نہ ہوتا تو بھارت کا ٹیسٹ گراؤنڈ راجھستان کے بجائے تھرپارکر، چولستان یا پھر کوٕئی بھرا پرا شہر بھی ہو سکتا تھا۔ بھارت کو امریکہ صرف اس لئے نکیل ڈال دیتا ہے کہ جوابی کاروائی کی صورت میں وہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں‌کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ آپ کے پاس نہ ہوتا تو اب تک آپ افغانستان جیسے ہو جاتے۔
براہ کرم جدید ترین اسلحہ کے خلاف بولنے سے قبل حقائق کا ادراک کریں نہیں تو اخبار پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
 

ساجداقبال

محفلین
جہادیوں کی نانی اور دنبے کی طرح کٹتے قبائلی - حسن مجتبٰی​
’میرا ذہن اس بات کو سمجھنے میں پس و پیش کررہا ہے کہ پاکستان کے پختونخواہ یا صوبہ سرحد کے وہ قبائلی علاقے جہاں کے کھیتوں میں پچاس پچاس عورتیں ایک ساتھ کام کرتے دکھائي دیتی تھیں اور جہاں سے گزرنے والے مسافر پر نہیں بلکہ ان عورتوں کی بڑی پر لازم ہوتا تھا کہ وہ آنے والے مسافر سے ’پخير راغلے‘، ’تھڑے مشہ‘ کہیں وہ اچانک انتہا پسند کیسے ہوگئے؟ اور پاکستان کی وہ فوج جسکا ایک موٹو نہ فقط جہاد فی سبیل اللہ ہے اور جو خطے میں سارے جہادیوں کی نانی بھی رہی ہے راتوں رات ماڈریٹ فورس کیسے بن گئی؟
حقانیہ کے مدرسے میں داخل بچوں کی برین واشنگ اپنی جگہ لیکن رزمک کے کیڈٹ کالج میں کتنے مقامی قبائلیوں کے بچے پڑھتے ہیں؟

ساٹھ سال تک جس بائیس سو میل لمبی سرحد کی حفاظت اکیلے سر ان قبائلیوں نے کی تھی اب ان کے زخموں پر مرہم ’دشمن ملک‘ (بھارت) کے ڈاکٹر اس پار افغانستان میں رکھ رہے ہیں!‘

ایک دکھی پختون نے گولڈ لیف کی آدھی ڈبی سے سگریٹ سلگاتے ہوئے مجھ سے کہا۔

تیرہ کی وادی میں پہاڑوں کو اپنے گھر کی چاردیواری سمجھنے والے پشتون قبائلیوں کے ٹپے اب کچھ یوں ہیں کہ
’غم اتنا ہے کہ ہم پر بلبل بھی روتی ہے اور گل بھی،
نہ خزاں کے آنے کا پتہ پڑتا ہے نہ جانے کا‘

وہ قہوے خانے اور بازار کیا ہوئے جہاں کی شام کھوے سے کھوا چِھلتا تھا اور جیسے دیکھ کر قبائلی کہا کرتے ’بازار گرم شو‘ ( بازار گرم ہے)۔

کیا یہ وہ رزمک نہیں جہاں اعلان کیا جاتا تھا کہ فلاں دن فلاں وقت ہیلی پیڈ پر گورنر اترے گا، اس کے ساتھ سوئيڈن کا وفد بھی ہوگا اور یہی قبائلی تھے جو رزمک ہو کہ میران شاہ کا قلعہ ایک ہاتھ میں تلوار یا بندوق لیکر لوک رقص کیا کرتے تھے؟ محسود ، بہٹنی، داوڑ اور وزیر قبیلوں کے ہاتھوں میں ریشمی رومال لیے اپنے اپنے ڈوم اور ڈانسر ہوا کرتے اور جنہیں قبائلی دنبے پییش کرتے تھے۔

’لیکن اب قبائلی خود دنبے کیطرح کٹ رہے ہیں‘ مجھے کسی نے کہا۔
 

ساجداقبال

محفلین
ویسے ہم پاکستانیوں کو کیا حق ہے کہ وزیرستان کے بارے میں باتیں کریں۔ ہم نے وہاں پانی جیسی بنیادی سہولتیں تک نہیں دیں رہ گئی تعلیم اور دوسری بنیادی ضروریات۔ 50 سال سے زیادہ عرصہ تک انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں تھا۔ ہمیشہ اپنا الو سیدھا کرنے کیلیے انہیں استعمال کیا اور اب جب امریکہ ڈنڈا لیکر پیچھے پڑ گیا ہے تو وہ دہشتگرد اور جانے کیا کیا ہو گئے۔
دلکش کی بات صحیح ہے ایسے ایٹم بم بھاڑ میں جائیں تو اچھا ہے۔ بدتمیز کے دلائل بھی عقلی ہیں۔جس فوج کو 60 سال تک پیٹ کاٹ کر پاکستانیوں نے اس مقام تک پہنچایا وہ آج آستین کا سانپ بن گئی ہے۔۔۔چند جرنیلوں کی غلام۔ اپنے لوگوں کو مارنا ہو یا معاشی طور پر لوٹنا یا پھر ملٹری جمبہوریہ غائبستان ۔۔۔۔ فوج ہر جگہ ”پاک“ ہے۔ ویسے بھی پاک کے معنی عرصہ ہوا بدل چکے۔
ہمارے کچھ ”علماء“ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ جہاد صرف ریاست کی فوج کا کام ہے۔۔۔ لیکن ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ اپنے سے طاقتور سے ٹکرانا جہاد نہیں بیوقوفی ہے۔ ”پاک“ فوج ۔ ۔ ۔ زنداں آباد
 

Dilkash

محفلین
محترم بد تمیز
دنیا میں بہت سارے ممالک ایٹم بم اور جدید اسلحہ کے بغیر رھتے ہیں۔اور ہم سے زیادہ خوش اور ازاد نیز باوقار ہیں۔
میں 22 سالوں سے گلف میں رہ رھا ہوں۔۔بتاؤ کس کے پاس ایٹم بم ہے؟اور کون ہے جو معاشی فکر میں گرفتار ہے۔
یورپ میں بہت سارے ممالک کے پاس فوج نہیں ہے۔لیکن ہم سے زیادہ خوشحال ہیں۔اور ازاد بھی ہیں۔

اگر جدید اسلحہ بھی ہو اور بم بھی بقول اپکے ضروری ہے تو پھر اتنی مختاجی اور خوشنودی کیوں؟
اپنے ملک کے لوگوں کو اور اپنے ہمسائیہ ملک کے مسلمان بھائیوں کو قتل کرکے اپ انٹرنشنل اجرتی قاتل بن چکے ہیں۔

پھر ہمیں اتنی بڑی فوج رکھنی کی کیا ضرورت ہے؟انڈیا کی طاقت تسلیم کرو۔اور معاملہ ختم!!!!!کیونکی پاکستان بنتے وقت بھی کوئی فوج نہیں تھا۔اور بن گیا۔
جب امریکہ کی غلامی میں ہم لوگ گاجر مولیوں کی طرح کٹ رہے ہیں اور بھیڑ بکریوں کی طرح خرید و فروخت جاری ہے تو پھر ایسے فوج او ایسے ایٹم پر لعنت ہے۔
ساجد نے کیا خوب کہا ہے کہ جس رعایا کو اپ بنیادی سہولتیں نہیں دے سکتے اس پر اپنا تسلط برقرار رکھنا کہاں کا انصاف ہے۔
اسلامی بھائی چارگی اور احوت کے انجکش اب بے اثر ہے۔
اپ کے ساتھ پختنوں بلوچوں کا ایک ہی رشتہ تھا اور وہ اسلام کامضبوط رشتہ تھا۔ وہ بھی پاکستان کے حکمرانوں نے گنوا دیا ہے۔کیونکہ اسلام یہ نہیں جو وزیرستان میں استعمال ہورہا ہے۔

وہ لوگ تو اب یہ کہتے ہیں(اور ہم جیسے کٹر پاکستانی بھی اب یہی سوچ رہے ہیں) کہ نہ تو ہماری بولی ایک ہے نہ زبان،نہ کلچر نہ رواج اور پھر اسلامی اخوت کا بھی کوئی کردار نہیں بچا ،تعلیم،بجلی پانی ،صحت اور جان و مال کی حفاظت بھی نہیں تو پھر کس کھاتے میں ہم اپکے ساتھ رہیں؟؟؟؟
 

باسم

محفلین

طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے8فوجی افسروں کے کورٹ مارشل کا فیصلہ،ہتھیارنہیں ڈالے،فوجی ترجمان



اسلام آباد(رؤف کلاسرا)قبائلی علاقوں میں اگست میں فوجی اہلکاروں کے یرغمال بنائے جانے کے واقعہ کی تفصیلات بالآخر سامنے آرہی ہیں اور لیفٹیننٹ کرنل سمیت 8فوجی افسر، جنہوں نے ایک بھی گولی چلائے بغیر 240جوانوں کے ساتھ ہتھیار ڈالے تھے، کو اپنی رہائی کے فوراًبعد فوجی عدالت میں کورٹ مارشل کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف دو سالہ فوجی کارروائیوں کے دوران یہ پہلا موقع ہوگا کہ 8فوجی افسر، اگر وہ رہا ہوگئے تو انہیں فوجی عدالتوں کے روبرو پیش کیا جائے گا، ذرائع کے مطابق جی ایچ کیو اب بھی اس معاملے کو قصداً نظر انداز کررہا ہے تاکہ یرغمال فوجیوں کی رہائی سے قبائلی علاقوں میں برسر پیکار فوجیوں کو یہ اشارہ نہ ملے کہ اعلیٰ حکام عسکریت پسندوں کے سامنے سرنگوں ہونے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے سامنے سرنڈر کرنے والی رجمنٹ کے صرف 2افسروں کو بری الذمہ قرار دیا جائے گا کیونکہ وہ چھٹی پر تھے جبکہ باقی افسر جنہیں بزدل کہا جارہا ہے، کو ان کی رہائی پر سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 240جوانوں کی قیادت کرنے والے لیفٹیننٹ کرنل، جس نے اپنے سرپر بندوق رکھے جانے پر زندگی بچانے کیلئے ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا کو سخت سے سخت سزا بھگتنا ہوگی۔ ایک اعلیٰ ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ ان فوجی افسروں کو افواج پاکستان کی ساکھ مجروح کرنے پر ملازمت سے فارغ کئے جانے کا امکان بھی ہے کیونکہ انہوں نے مسلح اغوا کاروں کے خلاف مزاحمت کے لئے ایک گولی بھی نہیں چلائی۔
 

ساجد

محفلین
دونون طرف سے بہت خون بہا دیا گیا ہے۔۔دونوں طرف غریب لوگ مرے ہیں۔ایک طرف فوجی(سپاہی) ھمارے بھائی ہیں اور غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں،دوسری طرف قبائلی بھی Mna Mpa یا کوئی ملک ،خان،ارباب نہیں مر رہا ہے۔۔سارے غریب لوگ ہیں۔

اس درمیان ہمارے تبصرے بے گناہوں کے بہتے ہوئے خون کے ساتھ زیادتی ہے۔نہ تو ہمیں فوجیوں خوش ہونا چاہیے کہ وہ حکم کے تابع ہیں اور نہ قبائیلیوں کے بہتے ہوئے خون پر خوش ہونا چاہیے۔۔کہ کوئی اپنا خون بے مقصد نہیں بہاتا۔
ہمیں ان اندھے حکمرانوں کی عقل او دانش پر ماتم کرنا چاہئے کہ قبائیلیوں کو کیسے اعتماد میں لئے جائیں۔کہ اج تک طاقتوروں(امریکہ) کے سامنے تو زبان کھول نہیں سکے اور اپنے عوام پر گرگس کی طرح جپٹ رہے ہیں۔

میں کہتا ہوں بھاڑ میں جائے وہ ایٹم بم جو پاکستان نے بنایا ہے۔
کس کام کا جس کی وجہ سے ہم مزید مشکلات کا سامنا کرہے ہیں۔ کس کام کا جس کی وجہ سے پوری قوم پر امریکی مظالم کا بھر ما ہے۔اور کس کام یہ ایٹم بم جس کا رعب ہم کم از کم کسی پر بھی تو نہ جما سکے۔

کہیں پر پڑھا تھا کہ اسلحہ اس وقت تک خطرناک نہیں ہوتا جب تک خطرناک ہاتھوں تک نہ پہنچے۔
ہمارا اسلحہ کس کام کا جو ہیجڑوں کے ہاتھوں میں تھمادیا گیا ہے۔
دونون طرف سے بہت خون بہا دیا گیا ہے۔۔دونوں طرف غریب لوگ مرے ہیں۔ایک طرف فوجی(سپاہی) ھمارے بھائی ہیں اور غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں،دوسری طرف قبائلی بھی Mna Mpa یا کوئی ملک ،خان،ارباب نہیں مر رہا ہے۔۔سارے غریب لوگ ہیں۔

اس درمیان ہمارے تبصرے بے گناہوں کے بہتے ہوئے خون کے ساتھ زیادتی ہے۔نہ تو ہمیں فوجیوں خوش ہونا چاہیے کہ وہ حکم کے تابع ہیں اور نہ قبائیلیوں کے بہتے ہوئے خون پر خوش ہونا چاہیے۔۔کہ کوئی اپنا خون بے مقصد نہیں بہاتا۔

فیروز خان آفریدی ، آپ نے بہت پتے کی بات کہی اور یہی کچھ میں بھی کہتا آیا ہوں کہ کسی ملک ، سردار یا مُلا کا کوئی نقصان نہیں ہو رہا بلکہ غریب قبائلی اور ان کے بچے مارے جا رہے ہیں۔ اور دوسری طرف پاک فوج کا نقصان بھی ہمارا قومی نقصان ہے۔ مشرف یا شوکت عزیز کا نہیں۔ لیکن یار لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں اس قدر محو ہیں کہ کوئی اس المیے پر غور فرمانے کے لئیے تیار نہیں ہے۔ ہم شتر مُرغ کی طرح ریت میں سر دبا رہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کر کے اپنا پلا جھاڑ لیتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ انسانی قتل کرنے والوں کا ہاتھ روکا جانا چاہئیے خواہ وہ آرمی کے ہاتھوں ہو یا طالبان کے ہاتھوں۔
مشرف کی ڈھٹائی اور غلط پالیسیوں نے حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے اور اس ایک آدمی کی وجہ سے اب پوری فوج کو گالی دی جاتی ہے جو بجائے خود ایک غلط کام ہے۔ مشرف نہیں تھا تب بھی آرمی موجود تھی اور جب آرمی چھوڑ دے گا یہ پھر بھی موجود رہے گی لیکن ہم میں سے چند ساتھی جس غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے یہاں اور دیگر دھاگوں پر فوج کی ماں بہن ایک کر رہے ہیں وہ کوئی اچھی روایت قائم نہیں کر رہے۔ اور جو لوگ ان جنونی طالبان کے کرتوتوں کی وجہ سے تمام قبائلیوں کومؤرد الزام ٹھہراتے ہیں وہ بھی غلط ہیں۔
آخر ہم حالات کے غیر جانبدار تجزئیے سے کیوں بھاگتے ہیں ؟ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ اپنے آفس یا گھر کے کمرے میں بیٹھ کر لکھنے کی بجائے جائیے ان علاقوں میں اور دیکھئیے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ کس نے ان کو پاک آرمی کے سامنے لا کھڑا کیا ہے؟ خالی الزام تراشیوں سے کچھ بات نہیں بننے والی۔
ہاں یہ سچ ہے کہ یہ طالبان وہی ہیں جن کو پاکستان کی آئی ایس آئی ، آرمی اور خلیجی ممالک کی حمایت نے طاقت بخشی اور امریکہ ایک عرصے تک ان کا ان داتا رہا۔ یہ پراکسی وار کے مہرے تھے۔ اور مذہب کے نام پر مخالفوں کو قتل کرنے کے دھنی تھے اور ان کی اسی خونخوار جبلت سے امریکہ نے بھر پور فائدہ اٹھا کر افغانستان میں روس کو شکست سے دوچار کیا۔ جدید ترین اسلحے کی فراوانی اور ڈالروں کے سیلاب نے ان کو انسانیت کے سارے اصول و قواعد بھلا دئیے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ حکومتِ پاکستان نے بھی اپنے مفادات کے لئیے عرصہ دراز تک ان کے انسانیت سوز جرائم سے پہلو تہی اختیار کی کیوں کہ یہ امریکہ کی پالیسی تھی اور پاکستان اس کے خلاف نہیں چل سکتا تھا۔ ان کو کھل کھیلنے کا موقع ملا تو انہوں نے عام قبائلی نوجوانوں کو بھی ورغلایا ، مذہب کو اپنی ڈھال بنایا کہ اس کے بغیر قبائلیوں کی ہمدردی حاصل نہیں ہو سکتی تھی، اور قتل و غارت کا یہ گھناؤنا کھیل حکومت پاکستان کی ناک کے نیچے کھیلا جاتا رہا۔
جو لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ امریکہ کی افغانستان میں آمد سے قبل یہ دہشت گردی کیوں موجود نہ تھی وہ لوگ یہ بات فراموش کر جاتے ہیں کہ اس وقت یہ خونخوار گروہ افغانستان کے اندر بربریت کا کھیل کھیل رہے تھے اور محض عقیدے کے اختلاف کی بنیاد پر ہر روز سینکڑوں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے میں مصروف تھے۔مجسموں پر بمباری کر کے اپنے اسلام کا اظہار فرما رہے تھے۔ ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑ کر بازاروں میں اپنی خود ساختہ شریعت کا نفاذ کرنے میں پیش پیش تھے۔ افیون کی کاشت کہنے کو تو روک دی گئی لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی تھی اور ویسے بھی اب پورا ملک ان کے قابو میں تھا اس لئیے آمدنی کے دیگر ذرائع بھی کم نہ تھے۔ غیر مسلموں کو اپنے چہروں پر مخصوص نشانات لگانے کے احکامات جاری کر رہے تھے۔عورتوں کی تعلیم بند ، زچہ و بچہ بھلے گھر میں مر جائیں لیکن مرد ڈاکٹر کے پاس نہیں جا سکتے ، ٹی وی پر پابندی ، وڈیو پر فتوے ،،،،جی ہاں یہی لوگ تھے جو اس وقت یہ کام افغانستان میں کر رہے تھے۔ اور جب وہاں ان کے لئیے زمین تنگ پڑی تو یہ پاکستان کا رخ کرنے لگے اور اپنے قبائلی میزبانوں کا گھر تباہ کرنے کے درپے ہو گئے اور ان کے بچوں کو ورغلانے لگے جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
دوستو، بہت غلطیاں ہوئی ہیں ۔ حکومتِ پاکستان سے بھی اور قبائلی رہنماؤں سے بھی ۔لیکن ہم سب ایک ہی گھر کے مکین ہیں اور اپنے گھر میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کرنا ہمارا فرض ہے اس کو بھڑکتے ہوئے دیکھتے رہنا اور ایک دوسرے پر تہمت بازی کرنا مناسب نہیں ورنہ سب کچھ ختم ہو جائے گا۔
مشرف ، فوج ، قبائلی اور طالبان سب انسان ہیں اور غلطی کرتے ہیں لیکن ابھی بھی وقت ہے کہ غلطیوں کو سدھار لیا جائے ۔ ان خونیوں کو راہِ راست پر آنے کی ترغیب دی جائے اور کچھ لو اور دو کے اصول کی بنیاد پر بھی اس تشدد کو روکا جانا چاہئیے اور اس کے بعد بھی جو نہ مانے پھر اس کے لئیے معافی نام کی کوئی رعایت نہ رکھی جائے۔ آخر کب تک ہمارے قبائلی بھائی اور ہماری آرمی ان کی بربریت کا نشانہ بنتی رہے گی۔

میں اپنے ان دوستوں کہ جو قبائلی علاقہ اور صوبہ سرحد سے تعلق رکھتے ہیں ،سے گزارش کروں گا کہ وہ اس دھاگے پر اپنے احساسات کا اظہار فرمائیں تا کہ حقیقی تصویر کی رونمائی ہو سکے۔
 

ساجداقبال

محفلین
میرا اپنا نقطہ نظر یہ ہے کہ عسکریت اس مسئلے کا حل بالکل نہیں۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ان ”طالبان“(جنکے بارے میں ایک افغان رہنما کا کہنا تھا کہ انکی حرکتیں دیکھ کر افغانستان کے طالبان بھی کان پکڑیں گے ) کا بہت کم جبکہ عوام کا نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے ایک رائے قائم کر لی ہے کہ یہ سب لوگ(یعنی طالبان) غیرملکی اور غیرمقامی ہیں، یہ بات بالکل غلط ہے۔ غیر ملکی قلیل جب مقامی لوگ ان گروہوں میں کثیر تعداد میں ہیں۔ بیت اللہ محسود، عبداللہ محسود، نیک محمد، مولوی فقیر یہ سب لوگ مقامی ہیں۔ غیر ملکیوں کا شوشہ حکومت نے چند افراد کو بنیاد بنا کر اس کاروائی کا جواز گھڑنے کیلیے چھوڑا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں میرے گاؤں میں سی ڈیز کی دکان پر دھماکے ہوئے ، اب کسی ازبک تاجک کو کیا پتہ کہ وزیرستان سے 200کلومیٹر دور کسی گاؤں میں سی ڈیز کی دکان اس جگہ پر ہے۔ اس کا سیدھا سادھا مطلب یہی ہے کہ یہ مقامی لوگ ہیں اور یہی طالبان ہیں۔
اس لمبی تمہید کا مقصد یہی تھا کہ ہم غیر ملکیوں کو جواز بنا کر کیے گئے حملوں بمباریوں کی حمایت چھوڑ دیں اور ان ”گمراہ“ پاکستانیوں کی فکر کریں جو بقول شخصے اپنے ملک کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ ہم جدید دنیا میں رہتے ہیں جہاں مسائل افہام و تفہیم سے حل ہوتے ہیں نہ کہ لڑائی جھگڑوں سے۔ وزیرستان میں مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔ ایسی صورتحال میں عوام ہی وہ واحد ثالث ہے جو اس مسئلے کو حل کر سکتی ہے لیکن کیا کیا جائے کہ ہم عوام نہ اپنے کردار اور نہ ہی اپنی طاقت کا علم رکھتے ہیں۔ ہم اپنے من پسند لیڈروں کو (چاہے وہ فضل الرحمٰن جیسے کیوں نہ ہوں ) انگلش پریمئیر لیگ کی ٹیموں کیطرح فالو کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں موجودہ سیٹ اپ میں کسی ایک لیڈر سے کبھی بھی حل نہیں ہو سکتا۔
 

ساجد

محفلین
اس لمبی تمہید کا مقصد یہی تھا کہ ہم غیر ملکیوں کو جواز بنا کر کیے گئے حملوں بمباریوں کی حمایت چھوڑ دیں اور ان ”گمراہ“ پاکستانیوں کی فکر کریں جو بقول شخصے اپنے ملک کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ ہم جدید دنیا میں رہتے ہیں جہاں مسائل افہام و تفہیم سے حل ہوتے ہیں نہ کہ لڑائی جھگڑوں سے۔ وزیرستان میں مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔
ساجد اقبال ، آپ نے بہت اچھے انداز میں وضاحت کر دی ۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی سمجھ بُوجھ سے کام لینے کو تیار نہیں۔
چونکہ آپ کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے اور آپ صورتحال کو ہم سے بہتر جانتے ہیں اس لئیے میں آپ کے اس تجزئیے کو بطور خاص اپنے دوستوں کے گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ " گمراہ“ پاکستانیوں کی فکر کریں جو بقول شخصے اپنے ملک کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔" مشرف کی مجبوری ہے کہ غیر ملکیوں کی موجودگی کا مسئلہ بڑھا چڑھا کر پیش کرے کہ اس کو اپنے اقتدار سے زیادہ کوئی چیز پیاری نہیں۔ یہ کام ہم عوام کا ہے کہ صورت حال کی نزاکت کو سمجھیں اور اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں ایک دوسرے کا خون ہوتے دیکھ کر اپنے من پسند گروپ کی حمایت میں لکھنے اور دوسروں پر الزام تراشیوں سے گریز کریں۔
یہاں ایک گلہ بھی ہے اپنے علماء کرام سے کہ اگر وہ ثالثی کی کوشش کرتے تو حالات بہت جلد بہتر ہو جاتے لیکن دکھائی یہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بھی مصلحتوں کا شکار ہو گئے ہیں۔
 

ساجداقبال

محفلین
یہاں ایک گلہ بھی ہے اپنے علماء کرام سے کہ اگر وہ ثالثی کی کوشش کرتے تو حالات بہت جلد بہتر ہو جاتے لیکن دکھائی یہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بھی مصلحتوں کا شکار ہو گئے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ امریکن چمچہ گیری میں یہ بھی شرط شامل ہے کہ ان علاقوں کے طالبان اور حمایتیوں کو یہاں چین سے نہ بیٹھنے دیا جائے، تاکہ وہ ری گروپنگ کرکے افغانستان میں انکی نیندیں نہ خراب کر سکیں۔ ابھی مہینہ پہلے وہاں امن و امان تھا جسمیں بڑا کردار وہاں کے مقامی علماء کا تھا۔ لیکن فوج نے دوبارہ چوکیاں بنانا شروع کیں اور یہ تماشہ پھر شروع۔ میں مانتا ہوں کہ فوج کو حق حاصل ہے (قائد کی قبائلیوں کیساتھ انڈرسٹینڈنگ کے باوجود) کہ وہ یہاں چوکیاں بنائے، لیکن ایسے نازک حالات میں چوکیاں بنانے کی ضد۔۔چہ معنی دارد؟ یہ کام ایک دو سال امن سے گزارنے کے بعد آسانی سے ہو جاتا۔ میرا نہیں خیال کے معمولی سمجھ بوجھ کا کوئی لیڈر ایسے نازک وقت میں ایسے عقل سے عاری فیصلے کرے لیکن کیا کیجیے کہ جنرل کو اب امریکی فوجی امداد بھی ایف ڈی آئی اور زرمبادلہ نظر آنے لگے ہیں۔
میرا اپنا خیال ہے کہ قوموں کو دنیا میں باعزت مقام حاصل کرنے کیلیے اعتماد اور یقین کی دولت ضرورت ہوتی ہے نہ کہ ایٹم بم، اسلحہ اور لامتناہی وسائل۔ اگر ایسے ہوتا تو طاقتور روم و فارس آج تک قائم و دائم رہتے۔ ہم بحیثیت ملک و قوم ذلت کی اس انتہا پر پہنچ چکے ہیں، جہاں ہم دوسروں کی جنگ اپنی زمین پر لڑنے کو جائز و ناجائز قرار دینے کیلیے ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں۔ ذاتی طور پر میں اس جنگ(جس کو چھیڑنے کے اسباب تک مشکوک ہیں) کو اپنی سرزمین پر چھیڑنے کو اس سارے بکھیڑے کی وجہ گردانتا ہوں۔ ہمارے زہن جب تک امریکہ فوبیا سے آزاد نہیں ہونگے طالبان، وزیرستان یہ سب چیزیں ہمیں مزید تقسیم کرتے رہینگے۔
میں چاہوں گا کہ اس بحث میں ”پختون ذہنیت“ پر بھی بات کی جائے کیونکہ ہماری اپنی ویلیوز بھی ہیں جو ہمیں ایک مخصوص موقف کا حامل بناتی ہے، جو زمینی حقائق، بین الاقوامی سیاست اور دوسری الم غلم سے مبرا ہوتا ہے۔
 

Dilkash

محفلین
سے گزارنے کے بعد آسانی سے ہو جاتا۔ میرا نہیں خیال کے معمولی سمجھ بوجھ کا کوئی لیڈر ایسے نازک وقت میں ایسے عقل سے عاری فیصلے کرے لیکن کیا کیجیے کہ جنرل کو اب امریکی فوجی امداد بھی ایف ڈی آئی اور زرمبادلہ نظر آنے لگے ہیں۔


ہاہاہا
سمجھ بوجھ ہوتا تو یہ دن دیکھنے نصیب نہ ہوتے۔۔۔:confused::eek::(:mad:
 
Top