صحنِ دل میں تماشا کیسا ہے ( ایم اے راجا)

ایم اے راجا

محفلین
ایک تازہ غزل آپکی نذر۔

صحنِ دل میں تماشا کیسا ہے
شور و غل بے تحاشہ کیسا ہے

دشتِ کربل میں مردِ مومن نے
عشقِ یزداں تلاشا کیسا ہے

ماتمِ عشق ہے بپا ہر سو
بج رہا پھر یہ طاشا کیسا ہے!

ذہنِ ویراں نے دستِ لرزاں سے
اک صنم جو تراشا، کیسا ہے؟

کون آیا ہے آج گلشن میں
گل پہ طاری یہ رعشہ کیسا ہے

ضربِ غم گر نہیں لگی راجا
دردِ دل بے تحاشہ کیسا ہے
 

جیلانی

محفلین
اگر یہاں جو کی جگہ کو لکھا جائے تو شعر پر کیا فرق پڑھے گا۔۔۔ یعنی معنی کے اعتبار سے
ذہنِ ویراں نے دستِ لرزاں سے
اک صنم جو تراشا، کیسا ہے؟

ذہنِ ویراں نے دستِ لرزاں سے
اک صنم کو تراشا، کیسا ہے؟

ذہنِ ویراں نے دستِ لرزاں سے
اک صنم جو تراشا، کیسا ہے؟

واہ بہت خواب راجا صاحب۔
 

ایم اے راجا

محفلین
جیلانی صاحب بہت شکریہ، میں یہ جواب آپکو نہیں دے سکتا، اساتذہ سے اپیل ہیکہ وہ یہ جواب دینا فرمائیں، میں صرف اتنا کہنے کی جسارت کروں گا کے اگر جو کی جگہ کو لگایا جائے تو شعر کی تفہیم تبدیل ہو جائے گی۔ مزید اساتذہ کرام سے درخواست ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
جیلانی، تمہارے مشورے میں تو ’کو‘ بھرتی کا نہیں لگ رہا؟ ان معنوں میں بغیر ’کو‘ کے بھی مطلب نکل جاتا ہے۔ ‘اک صنم تراشا‘ کافی ہے، یہی درست محاورہ ہے۔ ’صنم کو تراشا‘ نہیں۔ ’جو‘ ہی بپتر ہے کہ وزن کی ضرورت کو بھی پوری کرتا ہے اور محض بھرتی کا بھی نہیں لگتا۔
 

الف عین

لائبریرین
جیلانی سے ایک بات اور۔ اس قسم کے مشورے اصلاحِ سخن کی فورم میں دینا چاہئے تھا، اس قسم کی گفتگو وہاں بہتر ہے
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت خوب راجہ بھائی،

کافی عرصے کے بعد آپ کا کلام پڑھنے کو ملا۔ ماشاءاللہ غزل بہت اچھی ہے۔

داد قبول کیجے۔
 
Top