صحافت،اخبار،صحافی،سوشل میڈیا،ٹی وی،

جاسمن نے 'اشعار اور گانوں کے کھیل' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 9, 2019

  1. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,447
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    تعجب کچھ نہیں داناؔ جو بازار سیاست میں
    قلم بک جائیں تو سچ بات لکھنا چھوڑ دیتے ہیں
    عباس دانا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,447
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اس قدر شور ہے کیوں سرخیٔ اخبار پہ آج
    جبکہ معلوم ہے ہر بات بنائی ہوئی ہے
    عفیف سراج
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,447
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    کچھ حرف و سخن پہلے تو اخبار میں آیا
    پھر عشق مرا کوچہ و بازار میں آیا
    (عرفان صدیقی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,077
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    خیاطِ قلم برسرِ بازارِ صحافت
    پوشاک کو قامت سے بڑا کاٹ رہے ہیں
    ظہیراحمدظہیر
     
    • زبردست زبردست × 2
  5. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,447
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    پس پردہ گلے مل کر وہ شاید رو پڑیں گے
    جنہیں پوری کہانی میں جدا رکھا گیا ہے
    پلومشرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,447
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    مصور نے تو ساری دل کشی تصویر میں بھر دی
    رہے گا فن سلامت جب تلک فن کار زندہ ہے

    ارم زہرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,077
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہم اہل قلم کیا ہیں؟
    از
    شورش کاشمیری
    اَلفاظ کا جھگڑا ہیں ، بے جوڑ سراپا ہیں
    بجتا ہوا ڈنکا ہیں ، ہر دیگ کا چمچا ہیں
    ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
    مشہور صحافی ہیں ، عنوانِ معافی ہیں
    شاہانہ قصیدوں کے، بے ربط قوافی ہیں
    ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
    چلتے ہوئے لَٹّو ہیں ، بے ِزین کے ٹَٹّو ہیں
    اُسلوبِ نگارش کے، منہ زور نِکھٹّو ہیں
    ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
    یہ شکل یہ صورت ہے، سینوں میں کدورت ہے
    آنکھوں میں حیا کیسی؟ پیسے کی ضرورت ہے
    ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
    اپنا ہی بَھرم لے کر، اپنا ہی قلم لے کر
    کہتے ہیں …کہ لکھتے ہیں، انسان کا غم لے کر
    ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
    تابع ہیں وزیروں کے، خادم ہیں امیروں کے
    قاتل ہیں اَسیروں کے، دشمن ہیں فقیروں کے
    ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
    اَوصاف سے عاری ہیں ، نُوری ہیں نہ ناری ہیں
    طاقت کے پُجاری ہیں ، لفظوں کے مداری ہیں
    ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
    تصویرِ زمانہ ہیں ، بے رنگ فسانہ ہیں
    پیشہ ہی کچھ ایسا ہے، ہر اِک کا نشانہ ہیں
    ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
    رَہ رَہ کے ابھرتے ہیں ، جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
    کہنے کی جو باتیں ہیں ، کہتے ہوئے ڈرتے ہیں
    ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
    بے تیغ و سناں جائیں ، با آہ و فغاں جائیں
    اس سوچ میں غلطاں ہیں ، جائیں تو کہاں جائیں ؟
    ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
     
    • زبردست زبردست × 1
  8. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,447
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بہت خوب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر