قمر جلالوی ::::: شیخ آخر یہ صُراحی ہے، کوئی خُم تو نہیں ::::: Qamar Jalalvi

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 3, 2016

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm


    [​IMG]
    غزل

    شیخ آخر یہ صُراحی ہے، کوئی خُم تو نہیں
    اور بھی، بیٹھے ہیں محِفل میں تمہی تم تو نہیں

    ناخُدا ہوش میں آ، ہوش تِرے گُم تو نہیں
    یہ تو ساحِل کے ہیں آثار ، تلاطُم تو نہیں

    ناز و انداز و ادا ، ہونٹوں پہ ہلکی سی ہنسی !
    تیری تصویر میں سب کُچھ ہے تکلّم تو نہیں

    دیکھ، انجام محبّت کا بُرا ہوتا ہے !
    مجھ سے دُنیا یہی کہتی ہے بس اِک تم تو نہیں

    مسکراتے ہیں سلیقے سے چمن میں غُنچے
    تم سے سیکھا ہُوا، اندازِ تبسّم تو نہیں

    اب یہ منصُور کو دی جاتی ہے نا حق سولی
    حق کی پُوچھو! تو وہ اندازِ تکلم تو نہیں

    چاندنی رات کا ، کیا لُطف قمرؔ کو آئے
    لاکھ تاروں کی ہو بہتات، مگر تم تو نہیں

    قمر ؔجلالوی
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. مدیحہ گیلانی

    مدیحہ گیلانی محفلین

    مراسلے:
    2,282
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    واہ کیا خوب انتخاب ہے !
    لاجواب
     
    • زبردست زبردست × 2
  3. توصیف یوسف مغل

    توصیف یوسف مغل محفلین

    مراسلے:
    413
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت خوب انتخاب
     
    • زبردست زبردست × 2
  4. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    تشکّر
    :)
     
  5. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    نوازش اظہار خیال پر
    :)
     
    • زبردست زبردست × 1
  6. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے
    کہو کیسے کوئی محبت چھپالے
    کرے کیا کوئی جو وہ آئیں یکا یک
    نگاہوں کو روکے یا دل کو سنبھالے
    چمن والے بجلی سے بولے نہ چالے
    غریبوں کے گھر بے خطا پھونک ڈالے
    قیامت ہیں ظالم کی نیچی نگاہیں
    خدا جانے کیا ہو جو نظریں اٹھالے
    کروں ایسا سجدہ وہ گھبرا کے کہ دیں
    خدا کے لیےاب تو سر کو اٹھا لے
    تمہیں بندہ پرور ہمیں جانتے ہیں
    بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے
    بس اتنی سی دوری یہ میں ہوں یہ منزل
    کہاں آکے پھوٹے ہیں پاؤں کے چھالے
    قمؔر میں ہوں مختار تنظیمِ شب کا
    ہیں میرے ہی بس میں اندھیرے اجالے

    استاد قمر ؔجلالوی
     
  7. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    مرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کچھ سنا دینا
    زباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا

    نشیمن ہو نہ ہو یہ تو فلک کا مشغلہ ٹھہرا
    کہ دو تنکے جہاں پر دیکھنا بجلی گرا دینا

    میں اس حالت سے پہنچا حشر والے خود پکار اٹھے
    کوئی فریاد والا آ رہا ہے راستہ دینا

    اجازت ہو تو کہہ دوں قصۂ الفت سر محفل
    مجھے کچھ تو فسانہ یاد ہے کچھ تم سنا دینا

    میں مجرم ہوں مجھے اقرار ہے جرم محبت کا
    مگر پہلے تو خط پر غور کر لو پھر سزا دینا

    ہٹا کر رخ سے گیسو صبح کر دینا تو ممکن ہے
    مگر سرکار کے بس میں نہیں تارے چھپا دینا

    یہ تہذیب چمن بدلی ہے بیرونی ہواؤں نے
    گریباں چاک پھولوں پر کلی کا مسکرا دینا

    قمرؔ وہ سب سے چھپ کر آ رہے ہیں فاتحہ پڑھنے
    کہوں کس سے کہ میری شمع تربت کو بجھا دینا

    استاد قمر ؔجلالوی
     
  8. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بارش میں عہد توڑ کے گر مے کشی ہوئی
    توبہ مری پھرے گی کہاں بھیگتی ہوئی

    پیش آئے لاکھ رنج اگر اک خوشی ہوئی
    پروردگار یہ بھی کوئی زندگی ہوئی

    اچھا تو دونوں وقت ملے کوسیئے حضور
    پھر بھی مریض غم کی اگر زندگی ہوئی

    اے عندلیب اپنے نشیمن کی خیر مانگ
    بجلی گئی ہے سوئے چمن دیکھتی ہوئی

    دیکھو چراغ قبر اسے کیا جواب دے
    آئے گی شام ہجر مجھے پوچھتی ہوئی

    قاصد انہیں کو جا کے دیا تھا ہمارا خط
    وہ مل گئے تھے ان سے کوئی بات بھی ہوئی؟

    جب تک کہ تیری بزم میں چلتا رہے گا جام
    ساقی رہے گی گردش دوراں رکی ہوئی

    مانا کہ ان سے رات کا وعدہ ہے اے قمرؔ
    کیسے وہ آ سکیں گے اگر چاندنی ہوئ

    استاد قمر ؔجلالوی
     
  9. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    حالات گلستاں پہ بہت ہم نے نظر کی
    اپنوں کے سوا بات کسی سے نہ کی ڈر کی

    صیاد کو دیتا ہے پتا نغمۂ بلبل
    گلچیں کو بلا لیتی ہے خوشبو گل تر کی

    استاد قمر ؔجلالوی
     

اس صفحے کی تشہیر