شمار کا خمار۔۔۔ محسن حجازی

فواد آپ خلط مبحث کے مرتکب ہورہے ہیں اوپرجو لنک دے گئے اور یہ بات ......................in September 2002, جو ٹینٹ نے کی یہ عراق کے حوالے سے بطور خاص تھی جس کو آپ نے نظر انداز کر دیا اور افغانستان کا دکھڑا لے کر بیٹھ گئے
امریکا کے عراق اور افغانستا ن پر حملے غیر قانونی اور غیر اخلاقی تھے آپ بتائیے کیا عراق پر حملے کی اجازت امریکا کو اقوام متحدہ کی طرف سے دی گئی اگر نہیں تو امریکا نے کیسے اقوام متحدہ کو بائی پاس کیا؟ یہ بات ایک عمومی رائے عامہ کی نہیں‌ہے بلکہ قاعدے قانون کی ہے اگر امریکا کو کسی ملک یا تنظیم سے خطرہ ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہں کہ وہ اس پر چڑھائی کر دے؟ اس کا ایک صحیح طریقہ معاملے کو اقوام متحدہ میں لے جانا اور وہان کی منظوری کے بعد عمل ہے (حالانکہ خود اقوام متحدہ ایک عام رائے کے مطابق امریکی رکھیل ہے ( ہے کیا امریکا نے اس پر عمل کیا ؟ دوسری بات یہ کہ اس وقت صدام بھی مکمل طور پر اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کر رہا تھا چنانچہ یہ بات یقینی ہے کہ اقوام متحدہ کو نظر انداز کر کہ جو حملہ امریکا نے عراق پر کیا وہ صریحا غیر قانونی اور وحشیانہ تھا اور ساتھ ہی ساتھ میں نے جو دوسرا نقطہ اٹھا یا تھا یعنی اس حملے سے دنیا کی سلامتی متاثر ہو گی یہ بات خود امریکی ایجنسییز نے بش کو باور کرائی تھی اور ایسا ہی ہوا تو اب آپ کیسے بش حکومت کو مبرا قرار دے سکتے ہیں؟
افغانستان پر جو حملے آپ نے کیے اس پر صرف ایک سوال میں آُ پ سے پوچھنا چاہوں گا کیا طالبان نے آپ کے ملک کو یہ پیشکش کی تھی یا نہیں کہ وہ اسامہ بن لادن کو کسی تیسرے ملک کے سپرد کرنے کو تیار ہیں جہاں اس سے آزادانہ تحقیقات کی جاسکیں ؟
فواد یہ بات تو آپ بھی تسلیم کریں گے کہ اس وقت یہ بات نزاعی تھی کہ یہ حملے اسامہ نے کیے ہیں یا نہیں‌اور اس سلسلے میں امریکی حکومت کسی قسم کے ثبوت بھی فراہم نہیں کر رہی تھی بلکہ بزور قوت صرف یہ مطالبہ کر رہی تھی کہ اسامہ کو ان کے حوالے کر دیا جائے یہ مطالبہ ناجائز تھا جب تک اسامہ کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہ کیا جاتا تو کیسے طالبان اسامہ کو آپ کے حوالے کر دیتے ؟ ہاں اس سلسلے ،میں‌تحقیقات کی جاسکتیں تھیں اور اس کے لیے طالبان تیار تھے۔
آخری بات اگر میں طالبان اور القاعدہ کے موقف کا آپ کے پیمانوں سے جازہ لوں تو اسطرح تو القائدہ اور طالبان امریکا کو ختم کرنے اس کو نیست و نابود کرنے بش کو قتل کرنے میں حق بجانب نظر آتے ہیں کیونکہ جب امریکا ایک موہوم خطرے کی وجہ سے دو ممالک کو تباہ کرنے میں‌آزاد ہے تویہ دونوں بھی ایک موجود خطرے (یعنی امریکا( کی وجہ سے امریکا کو تباہ کرنے میں آزاد ہیں کہ یہی ان کی بقا کا تقاضا بھی ہے

نوٹ : اس پہلے میں نے جو پوسٹ کی تھی ہفتے بھر میں فواد کی سمجھ میں اس میں صرف ایک لائن آئی ہے اس سے امریکیوں کی قوت سمجھ یا قوت مطلب سمجھ کا پتہ چلتا ہے میرے خیال میں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیچارے طالبان اور صدام کو کس مصبیت کا سامنا کرنا پڑا ہو گا بش انتظامیہ سے بات کرنے میں ؟
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department


ڈبليو – ايم – ڈی ايشو کے حوالے سے امريکی حکومت کا موقف ميں پہلے بھی اس فورم پر پيش کر چکا ہوں۔ آپ کی خواہش پر ايک مرتبہ پوسٹ کر رہا ہوں۔

اس حوالے سے يہ بھی اضافہ کرنا چاہوں گا کہ اگر سال 2003 ميں امريکی حملے سے پہلے عراق کی صورت حال اور اس پر عالمی رائے عامہ کا جائزہ ليں تو يہ واضح ہے کہ عالمی برداری اور بالخصوص امريکہ پر صدام حسين کی جانب سے عراقی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموشی اور مناسب کاروائ نہ کرنے پر مسلسل شديد تنقيد کی جاتی رہی ہے۔ کئ غير جانب دار تنظيموں کی جانب سے ايسی بے شمار رپورٹس ريکارڈ پر موجود ہيں جن ميں عراقی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستانيں رقم ہیں۔

جب ڈبليو – ايم – ڈی کا معاملہ دنيا کے سامنے آيا تو صدام حسين نے اس ضمن ميں تعاون اور عالمی برداری کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دينے سے صاف انکار کر ديا۔ يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ 911 کے واقعات کے بعد کسی بڑی دہشت گردی کی کاروائ کوئ غير حقيقی يا ناقابل يقين بات نہيں تھی۔

يہ درست ہے کہ امريکہ کی جانب سے عراق ميں کاروائ کی بڑی وجہ ڈبليو – ايم – ڈی ايشو کے حوالے سے امريکہ کے تحفظات تھے۔ يہ بھی درست ہے کہ ڈبليو – ايم – ڈی کے حوالے سے انٹيلی جينس غلط ثابت ہوئ۔ ليکن انٹيلی جينس رپورٹس کی ناکامی کسی بھی صورت ميں صدام حسين کو "معصوم" ثابت نہيں کرتيں۔ صدام حسين ايک ظالم حکمران تھا جس کی حکومت عراق کے ہمسايہ ممالک سميت خود عراق کے اندر بے شمار انسانوں کی موت کا سبب بنی۔ صدام حکومت کے خاتمے کے نتيجے ميں عراق بالخصوص اور يہ خطہ بالعموم ايک بہتر مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس حقيقت کا ادراک عراق ميں تشدد کے واقعات ميں بتدريج کمی اور جمہوری نظام کی مضبوطی کے نتيجے ميں بڑھتا جا رہا ہے۔

ڈبليو – ايم – ڈی ايشو – امريکی حکومت کا موقف

امريکہ کی خارجہ پاليسی کے حوالے سے کيے جانے والے سارے فيصلے مکمل اور غلطيوں سے پاک نہيں ہيں اور نہ ہی امريکی حکومت نے يہ دعوی کيا ہے کہ امريکہ کی خارجہ پاليسی 100 فيصد درست ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ عراق ميں مہلک ہتھياروں کے ذخيرے کی موجودگی کے حوالے سے ماہرين کے تجزيات غلط ثابت ہوئے۔ اور اس حوالے سے امريکی حکومت نے حقيقت کو چھپانے کی کوئ کوشش نہيں کی۔ بلکل اسی طرح اور بھی کئ مثاليں دی جا سکتی ہيں جب امريکی حکومت نے پبلک فورمز پر اپنی پاليسيوں کا ازسرنو جائزہ لينے ميں کبھی قباحت کا مظاہرہ نہيں کيا۔

اس ايشو کے حوالے سے بل کلنٹن انتظاميہ اور موجودہ امريکی حکومت کے علاوہ ديگر ممالک کو جو مسلسل رپورٹس ملی تھيں اس ميں اس بات کے واضح اشارے تھے کہ صدام حسين مہلک ہتھياروں کی تياری کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے صدام حسين کا ماضی کا ريکارڈ بھی امريکی حکام کے خدشات ميں اضافہ کر رہا تھا۔ نجف، ہلہ،ہلاجہ اور سليمانيہ ميں صدام کے ہاتھوں کيميائ ہتھیاروں کے ذريعے ہزاروں عراقيوں کا قتل اور 1991 ميں کويت پر عراقی قبضے سے يہ بات ثابت تھی کہ اگر صدام حسين کی دسترس ميں مہلک ہتھياروں کا ذخيرہ آگيا تواس کے ظلم کی داستان مزيد طويل ہو جائے گی۔ خود صدام حسين کی جانب سے مہلک ہتھياروں کو استعمال کرنے کی دھمکی ريکارڈ پر موجود ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے حادثے کے بعد امريکہ اور ديگر ممالک کے خدشات ميں مزيد اضافہ ہو گيا۔

1995 ميں جب صدام حسين کے داماد حسين کمل نے عراق سے بھاگ کرجارڈن ميں پناہ لی تو انھوں نے بھی صدام حسين کے نيوکلير اور کيميائ ہتھياروں کے حصول کے ليے منصوبوں سے حکام کو آگاہ کيا۔ 2003 ميں امريکی حملے سے قبل اقوام متحدہ کی سيکيورٹی کونسل عراق کو مہلک ہتھياروں کی تياری سے روکنے کے ليے اپنی کوششوں کا آغاز کر چکی تھی۔

يہی وجہ ہے کہ جب اقوام متحدہ کئ تحقيقی ٹيموں کو عراق ميں داخلے سے روک ديا گيا تو نہ صرف امريکہ بلکہ کئ انٹرنيشنل ٹيموں کی يہ مشترکہ رپورٹ تھی کہ صدام حکومت کا وجود علاقے کے امن کے ليے خطرہ ہے۔ ميں آپ کو يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی ايک رپورٹ اور ايک ویب سائيٹ کا لنک دے رہا ہوں جس ميں صدام کے ظلم کی داستان تفصيل سے پڑھ سکتے ہيں۔

http://www.usaid.gov/iraq/pdf/iraq_mass_graves.pdf

http://massgraves.9neesan.com/

يہ رپورٹ پڑھنے کے بعد يہ فيصلہ ميں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ عراق کے مستقبل کے ليے کيا صورتحال زيادہ بہتر ہے صدام حسين کا وہ دوراقتدار جس ميں وہ اپنے کسی عمل کے ليے کسی کے سامنے جوابدہ نہيں تھے اور سينکڑوں کی تعداد ميں عراقيوں کو قید خانوں ميں ڈال کر ان پر تشدد کرنا معمول کی بات تھی يا 12 ملين عراقی ووٹرز کی منتخب کردہ موجودہ حکومت جو عراقی عوام کے سامنے اپنے ہر عمل کے ليے جوابدہ ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ حکومت سازی کے حوالے سے ابھی بھی بہت سے مسائل ہيں ليکن مستقبل کے ليے اميد افزا بنياديں رکھ دی گئ ہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

جب امریکا ایک موہوم خطرے کی وجہ سے دو ممالک کو تباہ کرنے میں‌آزاد ہے تویہ دونوں بھی ایک موجود خطرے (یعنی امریکا( کی وجہ سے امریکا کو تباہ کرنے میں آزاد ہیں کہ یہی ان کی بقا کا تقاضا بھی ہے[/SIZE]

ميں آپ کی اس رائے سے متفق نہيں ہوں کہ افغانستان ميں امريکہ کی فوجی کاروائ پری ايمٹوو سٹرائيک کے زمرے ميں آتی ہے۔ ميں آپ کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز عراق اور افغانستان ميں فوجی کاروائ سے نہيں ہوا تھا۔ اس جنگ کا آغاز 911 کے واقعات سے بھی نہيں ہوا تھا۔ القائدہ نے قريب 10 سال پہلے امريکہ کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کيا تھا جس کے بعد دنيا بھر ميں درجنوں امريکی املاک پر براہراست حملے کيے گئے تھے۔

حقيقت يہ ہے کا امريکہ پر " پری ايمٹوو سٹرائيک" کی بجائے يہ الزام لگايا جا سکتا ہے کہ امريکہ نے القائدہ کے خلاف اس وقت زيادہ موثر کاروائ نہيں کی جب القائدہ اپنی تشکيل کے ابتدائ مراحل ميں تھی۔ يہ بات تاريخ سے ثابت ہے کہ اگر معاشرہ جرائم پيشہ عناصر کی مناسب سرکوبی نہ کرے تو اس سے جرم کے پھيلنے کے عمل کو مزيد تقويت ملتی ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اس پہلے میں نے جو پوسٹ کی تھی ہفتے بھر میں فواد کی سمجھ میں اس میں صرف ایک لائن آئی ہے اس سے امریکیوں کی قوت سمجھ یا قوت مطلب سمجھ کا پتہ چلتا ہے میرے خیال میں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیچارے طالبان اور صدام کو کس مصبیت کا سامنا کرنا پڑا ہو گا بش انتظامیہ سے بات کرنے میں ؟

ميں نے کسی بھی سوال کا جواب دينے سے معذرت نہيں کی۔

سوالات کی بوچھاڑ ميں مجھے يہ فيصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کون سے موضوعات ہيں جن کا جواب کئ فورمز پر ايک ساتھ پوسٹ کيا جا سکے۔ اسی قسم کے بے شمار سوالات مجھ سے ديگر قورمز پر بھی کيے جا رہے ہيں۔ مگر ميرے ليے زيادہ ضروری چيز محض جذبات کا اظہار نہيں ہے بلکہ متعلقہ موضوعات پر امريکی حکومت کے موقف کے حوالے سے اصل معلومات حاصل کرنا ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov
 
يں نے کسی بھی سوال کا جواب دينے سے معذرت نہيں کی۔

سوالات کی بوچھاڑ ميں مجھے يہ فيصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کون سے موضوعات ہيں جن کا جواب کئ فورمز پر ايک ساتھ پوسٹ کيا جا سکے۔ اسی قسم کے بے شمار سوالات مجھ سے ديگر قورمز پر بھی کيے جا رہے ہيں۔ مگر ميرے ليے زيادہ ضروری چيز محض جذبات کا اظہار نہيں ہے بلکہ متعلقہ موضوعات پر امريکی حکومت کے موقف کے حوالے سے اصل معلومات حاصل کرنا ہے۔

فواد میں انتظار کر رہا ہوں اوپر کی جو میری دو تین پوسٹ ہیں ان کو ذرا غور سے پڑھیئے اور ان میں اٹھائے نکات کا جواب دیجئے میں اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس مسئلے پر آپ سے گفتگو چاہتا ہوں کیا آپ تیار ہیں؟
لیکن بات اب پوری ہو گی یہ آدھی ٹوٹی گفتگو کہ آپ تمام مراسلے میں سے کوئی ایک سطر چن کر اپنا پالیسی بیان جاری کر دیں مجھے اس سے کوفت ہو تی ہے وقت نکالیئے میں تیار ہوں۔
 

محسن حجازی

محفلین
ميں نے کسی بھی سوال کا جواب دينے سے معذرت نہيں کی۔

سوالات کی بوچھاڑ ميں مجھے يہ فيصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کون سے موضوعات ہيں جن کا جواب کئ فورمز پر ايک ساتھ پوسٹ کيا جا سکے۔ اسی قسم کے بے شمار سوالات مجھ سے ديگر قورمز پر بھی کيے جا رہے ہيں۔ مگر ميرے ليے زيادہ ضروری چيز محض جذبات کا اظہار نہيں ہے بلکہ متعلقہ موضوعات پر امريکی حکومت کے موقف کے حوالے سے اصل معلومات حاصل کرنا ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov

امریکی حکومت کی طرح کئی محاذ کھولنے کی بجائے بہتر نہیں ہوگا کہ آپ یہاں پر ہی جواب دے دیں؟
یہ فورم اردو کا سب سے بڑا اور اہم فورم ہے۔
میرے پاس وقت کی شدید کمی ہے وگرنہ بحث کو ضرور آگے بڑھاتا
 

مغزل

محفلین
اب سر پکڑ کے روئیے سامان تو گیا
گھر بیچ کر وہ گھر کا نگہبان تو گیا۔۔۔

اب کیا تاویلیں تلاشتے پھریں ہم۔۔۔
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

آپ بتائیے کیا عراق پر حملے کی اجازت امریکا کو اقوام متحدہ کی طرف سے دی گئی اگر نہیں تو امریکا نے کیسے اقوام متحدہ کو بائی پاس کیا؟ یہ بات ایک عمومی رائے عامہ کی نہیں‌ہے بلکہ قاعدے قانون کی ہے اگر امریکا کو کسی ملک یا تنظیم سے خطرہ ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہں کہ وہ اس پر چڑھائی کر دے؟ اس کا ایک صحیح طریقہ معاملے کو اقوام متحدہ میں لے جانا اور وہان کی منظوری کے بعد عمل ہے (حالانکہ خود اقوام متحدہ ایک عام رائے کے مطابق امریکی رکھیل ہے ( ہے کیا امریکا نے اس پر عمل کیا ؟

سب سے پہلے تو ميں يہ واضح کر دوں کہ عراق کے خلاف فوجی کاروائ کا فيصلہ کسی غير متعلقہ ملک کے خلاف کيا جانے والا جذباتی فيصلہ ہرگز نہيں تھا۔ حکومت کی ہر سطح پر کئ ماہ تک اس مسلئے پر بحث کی گئ تھی جس کے بعد اجتماعی سطح پر يہ فيصلہ کيا گيا تھا۔ اس ايشو کا ايک تاريخی تناظر بھی ہے جسے اکثر نظرانداز کيا جاتا ہے۔ سال 1991 ميں کويت پر عراق کے قبضے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے 60 کے قريب قرارداديں منظور کی گئ تھيں۔ عراق ان ميں سے جن قراردادوں کی خلاف ورزی کا مرتکب تھا ان ميں قرارداد نمبر

678،686،687،688،707،715،949،1051،1060،
1115،1134،1137،1154،1194،1205،128،1441

شامل ہيں۔ قرارداد نمبر 1441 ميں يہ واضح درج ہے کہ ان قراردادوں پر عمل نہ کرنے کی صورت ميں عراق کے خلاف سخت کاروائ کی جائے گی۔

http://daccessdds.un.org/doc/UNDOC/GEN/N02/682/26/PDF/N0268226.pdf?OpenElement

قرارداد نمبر 678 ميں اقوام متحدہ کی ماضی اور مستقبل ميں منظور کی جانے والی قراردادوں پر عمل درآمد يقينی بنانے کے ليے تمام اختيارات کی منظوری دی گئ ہے۔

http://daccessdds.un.org/doc/RESOLUTION/GEN/NR0/575/28/IMG/NR057528.pdf?OpenElement

اس قرارداد کے مطابق "کويت کی حکومت کی مدد کرنے والے تمام ممبر ارکان کو يہ اختيار ہے کہ وہ (1) اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 660 اور دیگر قراردادوں پر عمل درآمد اور کويت پر عراقی قبضے کو ختم کروانے اور عراقی افواج کی واپسی کو يقينی بنوانے کے ليے تمام اختيارات کو استعمال کرنے کے مجاز ہيں۔ (2) خطے ميں ديرپا سيکورٹی اور امن کے قيام کو يقينی بنايا جائے۔

اس ضمن ميں ديگر بے شمار قراردادوں کے علاوہ سال 1991 ميں قرارداد نمبر 687 بھی منظور کی گئ تھی جس ميں عراق کی حکومت سے يہ مطالبہ کيا گيا تھا کہ وہ اپنے کيمياوی ہتھياروں (ڈبليو – ايم – ڈی) اور بالسٹک ميزائل کے بارے ميں مفصل حقائق سے اقوام متحدہ کو آگاہ کرے۔

سال 1991 ميں اتحادی افواج کی کاروائ کے نتيجے ميں قرارداد نمبر 678 کے پہلے حصے پر عمل درآمد کروا ليا گيا تھا ليکن اس قرارداد کے باقی حصوں پر عمل درآمد نہيں ہوا تھا۔ کويت سے عراقی افواج کی پسپائ کے بعھ بھی اتحادی افواج اور عراقی افواج کے درميان جھڑپيں جاری رہيں۔ اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 678 نہ تو منسوخ ہوئ اور نہ ہی اس ضمن ميں منظور کی جانے والی ديگر قراردادوں ميں قرارداد نمبر 678 کے حوالے سے کوئ شرط عائد کی گئ۔ اس قرارداد کی رو سے امريکہ کو عراق کے خلاف طاقت کے استعمال کا اختيار حاصل تھا۔ اس کے علاوہ عراق کی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کو کيمياوی ہتھياروں کے ضمن ميں معلومات کی فراہمی سے انکار سال 1991 ميں جنگ بندی کے خاتمے کے معاہدے اور منظور شدہ مينڈيٹ کی واضح خلاف ورزی تھی۔ عراق کی حکومت نے وہ شرائط پوری نہيں کی تھيں جن کا مطالبہ اقوام متحدہ کی جانب سے کيا گيا تھا۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

فواد یہ بات تو آپ بھی تسلیم کریں گے کہ اس وقت یہ بات نزاعی تھی کہ یہ حملے اسامہ نے کیے ہیں یا نہیں‌اور اس سلسلے میں امریکی حکومت کسی قسم کے ثبوت بھی فراہم نہیں کر رہی تھی بلکہ بزور قوت صرف یہ مطالبہ کر رہی تھی کہ اسامہ کو ان کے حوالے کر دیا جائے یہ مطالبہ ناجائز تھا جب تک اسامہ کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہ کیا جاتا تو کیسے طالبان اسامہ کو آپ کے حوالے کر دیتے ؟


سب سے پہلے تو ميں يہ وضاحت کر دوں کہ اسامہ بن لادن 911 کے واقعات سے پہلے بھی امريکی حکومت کو مطلوب افراد کی لسٹ ميں شامل تھے۔ اگست 1998 ميں کينيا اور تنزانيہ ميں امريکی سفارت خانوں پر حملوں اور اس کے نتيجے ميں 225 افراد کی ہلاکت اور 4000 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے واقعات ميں اسامہ بن لادن امريکی حکومت کو مطلوب تھے۔

اکتوبر 1999 ميں اقوام متحدہ کی جنب سے منظور کردہ قرداد نمبر 1267 ميں يہ واضح درج ہے کہ طالبان کی جانب سے اسامہ بن لادن کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان کی حکومت سے اسامہ بن لادن کو حکام کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی اس قرارداد کا حصہ ہے۔

http://daccessdds.un.org/doc/UNDOC/GEN/N99/300/44/PDF/N9930044.pdf?OpenElement

يہ درست ہے کہ امريکہ پر يہ الزام لگايا جا سکتا ہے کہ امريکہ نے القائدہ کے خلاف اس وقت زيادہ موثر کاروائ نہيں کی جب القائدہ اپنی تشکيل کے ابتدائ مراحل ميں تھی۔

جب مختلف تجزيہ نگار اسامہ بن لادن کے خلاف ثبوت کے حوالے سے اظہار خيال کرتے ہیں تو وہ يہ بات نظرانداز کر ديتے ہيں کہ اسامہ بن لادن نے 911 کے واقعات سے کئ سال پہلے امريکہ کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کيا تھا۔ اسامہ بن لادن کی تنظيم کی جانب سے دنيا بھر ميں امريکی املاک پر براہ راست حملے کيے جا رہے تھے جس ميں سينکڑوں کی تعداد ميں بے گناہ شہری ہلاک ہو چکے تھے۔ 911 کے واقعات سے پہلے ہی ان کے جرائم کی لسٹ خاصی طويل تھی۔ افغانستان ميں ايک فوجی کاروائ کے دوران حاصل ہونے والی ويڈيو ٹيپ اور اس ميں ان کا اقبال جرم محض ان ثبوتوں کی تصديق تھا جو پہلے ہی ان کے خلاف موجود تھے۔

نومبر 9 2001 کو قندھار ميں اسامہ بن لادن اور القائدہ تنظيم کے بعض ليڈروں کے مابين ايک ملاقات ہوئ جس ميں ہونے والی گفتگو کی ريکارڈنگ کی گئ۔ نومبر 30 2001 کو صدر بش کو يہ ويڈيو دکھائ گئ۔ صدر بش نے ماہرين کی جانب سے اس ويڈيو کی تصديق کے بعد اسے ميڈيا پر ريليز کرنے کی اجازت دے دی۔ دسمبر 9 2001 کو واشنگٹن پوسٹ نے ايک امريکی اہلکار کے حوالے سے اس ويڈیو کی تصديق کی خبر شائع کر دی تھی۔ دسمبر 13 2001 کو يہ ویڈیو دنيا بھر کے نشرياتی اداروں کے ذريعے ريليز کر دی گئ۔

اس ويڈيو ميں اسامہ بن لادن کا 911 کے واقعات ميں ملوث ہونے کے حوالے سے اقبال جرم ان کے خلاف ثبوتوں ميں ايک اہم اضافہ تھا۔ اس ويڈيو ميں کی جانے والی گفتگو سے يہ واضح تھا کہ اسامہ بن لادن 11 ستمبر کے واقعات سے نہ صرف باخبر تھے بلکہ اس منصوبے کی تشکيل ميں بھی شامل تھے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov
 
سب سے پہلے تو ميں يہ واضح کر دوں کہ عراق کے خلاف فوجی کاروائ کا فيصلہ کسی غير متعلقہ ملک کے خلاف کيا جانے والا جذباتی فيصلہ ہرگز نہيں تھا۔ حکومت کی ہر سطح پر کئ ماہ تک اس مسلئے پر بحث کی گئ تھی جس کے بعد اجتماعی سطح پر يہ فيصلہ کيا گيا تھا۔ اس ايشو کا ايک تاريخی تناظر بھی ہے جسے اکثر نظرانداز کيا جاتا ہے۔ سال 1991 ميں کويت پر عراق کے قبضے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے 60 کے قريب قرارداديں منظور کی گئ تھيں۔ عراق ان ميں سے جن قراردادوں کی خلاف ورزی کا مرتکب تھا ان ميں قرارداد نمبر

678،686،687،688،707،715،949،1051،1060،
1115،1134،1137،1154،1194،1205،128،1441

شامل ہيں۔ قرارداد نمبر 1441 ميں يہ واضح درج ہے کہ ان قراردادوں پر عمل نہ کرنے کی صورت ميں عراق کے خلاف سخت کاروائ کی جائے گی۔

http://daccessdds.un.org/doc/UNDOC/G...df?OpenElement

قرارداد نمبر 678 ميں اقوام متحدہ کی ماضی اور مستقبل ميں منظور کی جانے والی قراردادوں پر عمل درآمد يقينی بنانے کے ليے تمام اختيارات کی منظوری دی گئ ہے۔

http://daccessdds.un.org/doc/RESOLUT...df?OpenElement

اس قرارداد کے مطابق "کويت کی حکومت کی مدد کرنے والے تمام ممبر ارکان کو يہ اختيار ہے کہ وہ (1) اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 660 اور دیگر قراردادوں پر عمل درآمد اور کويت پر عراقی قبضے کو ختم کروانے اور عراقی افواج کی واپسی کو يقينی بنوانے کے ليے تمام اختيارات کو استعمال کرنے کے مجاز ہيں۔ (2) خطے ميں ديرپا سيکورٹی اور امن کے قيام کو يقينی بنايا جائے۔

اس ضمن ميں ديگر بے شمار قراردادوں کے علاوہ سال 1991 ميں قرارداد نمبر 687 بھی منظور کی گئ تھی جس ميں عراق کی حکومت سے يہ مطالبہ کيا گيا تھا کہ وہ اپنے کيمياوی ہتھياروں (ڈبليو – ايم – ڈی) اور بالسٹک ميزائل کے بارے ميں مفصل حقائق سے اقوام متحدہ کو آگاہ کرے۔

سال 1991 ميں اتحادی افواج کی کاروائ کے نتيجے ميں قرارداد نمبر 678 کے پہلے حصے پر عمل درآمد کروا ليا گيا تھا ليکن اس قرارداد کے باقی حصوں پر عمل درآمد نہيں ہوا تھا۔ کويت سے عراقی افواج کی پسپائ کے بعھ بھی اتحادی افواج اور عراقی افواج کے درميان جھڑپيں جاری رہيں۔ اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 678 نہ تو منسوخ ہوئ اور نہ ہی اس ضمن ميں منظور کی جانے والی ديگر قراردادوں ميں قرارداد نمبر 678 کے حوالے سے کوئ شرط عائد کی گئ۔ اس قرارداد کی رو سے امريکہ کو عراق کے خلاف طاقت کے استعمال کا اختيار حاصل تھا۔ اس کے علاوہ عراق کی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کو کيمياوی ہتھياروں کے ضمن ميں معلومات کی فراہمی سے انکار سال 1991 ميں جنگ بندی کے خاتمے کے معاہدے اور منظور شدہ مينڈيٹ کی واضح خلاف ورزی تھی۔ عراق کی حکومت نے وہ شرائط پوری نہيں کی تھيں جن کا مطالبہ اقوام متحدہ کی جانب سے کيا گيا تھا۔
فواد آپ نے جو لنک اقوام متحدہ کے جو لنک مہیا کیے ہیں وہ کھل نہیں رہے ہیں تاہم اس ضمن میں چند باتیں مزید تفصیل کی محتاج ہیں

میری معلومات کے مطابق جب عراق پر امریکی حملہ ہوا تو اسوقت عراق اقوام متحدہ سے مکمل تعاون کر رہا تھا عراق میں قوام متحدہ کے انسپیکٹرز موجود تھے جو کہ وہاں مممنوعہ اسلحہ تلاش کر رہے تھے اور بار بار یہ مطالبہ کر ہے تھے کہ ان کو مزید وقت دیا جائے اور امریکا عراق پر حملہ نہ کرے لیکن امریکا ان پر ناجائز دباؤ ڈال رہا تھا اور ان کو مجبور کر رہا تھا کہ وہ عراق کے خلاف سخت رپورٹ پیش کریں اقوام متحدہ کے یہ اہلکار امریکی حملہ تک عراق میں موجود رہے اور ان کو ممنوعہ اسلحے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہانس بلکس جو کہ اس ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے نے بعد میں متعدد بار یہ کہا کہ عراق پر امریکی حملہ بلا جواز تھا۔چنانچہ ایسے میں جبکہ عراق میں خود اقوام متحدہ اپنی کاروائی میں ً مصروف تھا یہ کہنا کہ یہ حملے اقوام مٹھدہ کی کسی باراہ سال پرانی قرارداد کی بنا پر کیے گئے خود اقوام متحدہ کی توہیں کے مترادف ہے۔
آپ یہ بتائے کہ عراق پر امریکی حملہ کیوں کیا گیا یہ سوال آپ سے میں اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ اوپر آپ نے جو موقف عراق پر امریکی حملے کا پیش کیا ہے وہ اس موقف سے یکسر مختلف ہے جو امریکا کا اسوقت تھا 2003 میں امریکا نے جب عراق پر حملہ کیا تو اس وقت امریکا نے دو بڑے الزام عراق پر عائد کیے تھے {جن دونوں کو بعد میں وہ ثابت نہیں کر سکا۔}1۔عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار موجود ہیں اور 2۔ صدام کے القاعدہ سے روابط ہیں۔ اوپر اقوام متحدہ کی جن قراردادوں کی آپ بات کرہے ہیں ان کو کبھی بھی زیر بحث نہیں لا یا گیا اور یہ بات بھی اہم ہےکہ جس وقت عراق پر اقوام متحدہ کی مرضی کے بغیر حملہ کیا گیا اسوقت اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک اس حملے کے خلاف تھے بشمول فرانس اور جرمنی کے اور فرانس وہ رکن ملک ہے جس کے پاس ویٹو کا حق بھی موجود ہے اس لیے امریکا کبھی بھی اقوام متحدہ کی حمایت سے یہ حملئے کر ہی نہیں سکتا تھا لہذا آپ کا یہ موقف سراسر غلط ہے کہ یہ حملے اقوام متحدہ کی ایسی پرانی قرارداد کی رو سے جائز تھے جس کی توسیق و منظوری اقوام متحدہ نے بعد ازاں نہیں دی۔
یہاں میں ہانس بلکس کے اور چند اور افراد کے بیان دئیے دیتا ہوں

اقوامِ متحدہ کے ہتھیاروں کی معائنہ ٹیم کے سابق سربراہ ہانس بلکس نے پھر کہا ہے کہ عراق کے خلاف جنگ امریکہ اور برطانیہ کی بلا جواز مسلح کارروائی تھی۔

مریکی نائب صدر نے یہ بھی کہا: ’امریکہ عراق کو غیر مسلح کرنے پر تیار ہے خواہ اس کے لئے معائنہ کاروں کی عزت کم ہو جائے۔‘

ہانس بلکس کہتے ہیں کہ ڈک چینی کی اس بات سے وہ یہ سمجھ گئے کہ اگر ’ہمیں جلد ہتھیار نہ ملے تو امریکہ یہ اعلان کردے گا کہ معائنہ کاروں کی کوشش فضول ہے اور دیگر ذرائع استعمال کرکے عراق کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘
http://www.bbc.co.uk/urdu/news/story/2004/03/040310_hans_blix_rza.shtml

برطانوی وزیرخارجہ نے برطانوی پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ انٹیلیجنس کے سربراہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ اس دعویٰ کو ثابت نہیں کر سکتے کہ عراق کے پاس پینتالیس منٹ میں کیمیائی یا جراثیمی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی صلاحیت تھی۔

ستمبر دو ہزار دو میں عراق پر حملے کی عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے جاری کیے جانے والے حقائق نامے میں اس دعوے کو انتہائی اہم دلیل کے طور پر پیش کیا گیا تھا کہ عراق پینتالیس منٹ کے اندر جراثیمی اور کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عراق پر حملہ کرنے سے پہلے بش انتظامیہ نے یہ تاثر دینے کی بھر پور کوشش کی تھی کہ صدام حسین اور القاعدہ میں روابط ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ کولن پاؤل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ عراق میں القاعدہ کے تربیتی کیمپ ہیں۔


امریکی معائنہ کار جنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں تھے

نائب صدر ڈک چینی نے زوردار طریقے سے کہا تھا کہ گیارہ ستمبر سے پہلے عراقی ایجنٹ القاعدہ والوں سے پراگ میں ملے تھے۔ لیکن دو روم قبل نیویارک میں ایک تِھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ کا کہنا تھا ’انٹیلیجنس کی برادری میں اس بارے میں اختلافات ہیں کہ رابطہ کس قسم کا تھا لیکن جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے مجھے اس رابطے کے بارے میں کوئی ٹھوس شہادت دیکھائی نہیں دی‘

http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/story/2004/10/041013_iraq_usukwithdraw_sen.shtml
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ وہ فرانس اور جرمنی کی ان تجاویز کو چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عراق کے خلاف فوجی کارروائی کو مؤخر کیا جائے۔

وہ یہ جاننے کا بھی مطالبہ کریں گے کہ کیا جرمنی اور فرانس صدام حسین کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں
؟

فرانس کا کہنا ہے کہ عراق کی جانب سے معائنہ کاروں کے ساتھ رویے میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔

جرمنی کے چانسلر گے ہارڈ شروڈر کا اصرار ہے کہ عراق میں معائنہ کاری جاری رہنا چاہیے تا کہ اس بات کا حتمی اندازہ لگایا جا سکے کہ عراق کے پاس کس نوعیت کے ہتھیار موجود ہیں۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/news/030213_europe_iraq_am.shtml

غرضکہ یہ سارا عمل غیر قانونی تھا ۔
میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ آخر امریکا نے اقوام متحدہ کے زریعے ہی معاملات کو حل کرنے کی کوشش کیوں نہ کی؟ کیوں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو مناسب وقت نہیں دیا گیا کیوں حملے سے پیشتر ایک قرارداد منظور نہ کرائی گئی اور جب کہ خود بعض امریکی ادارے وارننگ دے رہے تھے کہ امریکی حملے کے بعد حالات خراب ہوجائیں گئے تو کیوں اس وارننگ کو نظر انداز کیا گیا؟
 
سب سے پہلے تو ميں يہ وضاحت کر دوں کہ اسامہ بن لادن 911 کے واقعات سے پہلے بھی امريکی حکومت کو مطلوب افراد کی لسٹ ميں شامل تھے۔ اگست 1998 ميں کينيا اور تنزانيہ ميں امريکی سفارت خانوں پر حملوں اور اس کے نتيجے ميں 225 افراد کی ہلاکت اور 4000 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے واقعات ميں اسامہ بن لادن امريکی حکومت کو مطلوب تھے۔

اکتوبر 1999 ميں اقوام متحدہ کی جنب سے منظور کردہ قرداد نمبر 1267 ميں يہ واضح درج ہے کہ طالبان کی جانب سے اسامہ بن لادن کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان کی حکومت سے اسامہ بن لادن کو حکام کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی اس قرارداد کا حصہ ہے۔

http://daccessdds.un.org/doc/undoc/g...df?openelement

يہ درست ہے کہ امريکہ پر يہ الزام لگايا جا سکتا ہے کہ امريکہ نے القائدہ کے خلاف اس وقت زيادہ موثر کاروائ نہيں کی جب القائدہ اپنی تشکيل کے ابتدائ مراحل ميں تھی۔

جب مختلف تجزيہ نگار اسامہ بن لادن کے خلاف ثبوت کے حوالے سے اظہار خيال کرتے ہیں تو وہ يہ بات نظرانداز کر ديتے ہيں کہ اسامہ بن لادن نے 911 کے واقعات سے کئ سال پہلے امريکہ کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کيا تھا۔ اسامہ بن لادن کی تنظيم کی جانب سے دنيا بھر ميں امريکی املاک پر براہ راست حملے کيے جا رہے تھے جس ميں سينکڑوں کی تعداد ميں بے گناہ شہری ہلاک ہو چکے تھے۔ 911 کے واقعات سے پہلے ہی ان کے جرائم کی لسٹ خاصی طويل تھی۔ افغانستان ميں ايک فوجی کاروائ کے دوران حاصل ہونے والی ويڈيو ٹيپ اور اس ميں ان کا اقبال جرم محض ان ثبوتوں کی تصديق تھا جو پہلے ہی ان کے خلاف موجود تھے۔

نومبر 9 2001 کو قندھار ميں اسامہ بن لادن اور القائدہ تنظيم کے بعض ليڈروں کے مابين ايک ملاقات ہوئ جس ميں ہونے والی گفتگو کی ريکارڈنگ کی گئ۔ نومبر 30 2001 کو صدر بش کو يہ ويڈيو دکھائ گئ۔ صدر بش نے ماہرين کی جانب سے اس ويڈيو کی تصديق کے بعد اسے ميڈيا پر ريليز کرنے کی اجازت دے دی۔ دسمبر 9 2001 کو واشنگٹن پوسٹ نے ايک امريکی اہلکار کے حوالے سے اس ويڈیو کی تصديق کی خبر شائع کر دی تھی۔ دسمبر 13 2001 کو يہ ویڈیو دنيا بھر کے نشرياتی اداروں کے ذريعے ريليز کر دی گئ۔

اس ويڈيو ميں اسامہ بن لادن کا 911 کے واقعات ميں ملوث ہونے کے حوالے سے اقبال جرم ان کے خلاف ثبوتوں ميں ايک اہم اضافہ تھا۔ اس ويڈيو ميں کی جانے والی گفتگو سے يہ واضح تھا کہ اسامہ بن لادن 11 ستمبر کے واقعات سے نہ صرف باخبر تھے بلکہ اس منصوبے کی تشکيل ميں بھی شامل تھے۔

فواد میرا سوال اب بھی اپنی جگہ برقرا ر ہے ۔ اسامہ بن لادن نے جو کچھ ماضی میں کیا اس کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں تھا مگر جب 2001 میں ٹریڈ سینٹرز پر حملے ہوئے تو اسوقت امریکا نے بن لادن کی حوالگی کا معاملہ اٹھایا تھا اور بغیر کسی ثبوت کے۔طالبان کا موقف یہ تھا کہ یا تو اسامہ کو کسی تیسرے ملک کے حوالے کیا جائے جہاں اس پر مقدمہ چلے اور یا امریکا ٹھوس ثبوت دے ؟ آپ اس مطالبے کو غیر قانونی ثابت کیجے ۔ وضاحت کیجئے کس طرح طالبان کا موقف قانونی تقاضوں کے برخلاف تھا؟
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

ویسے کیا کبھی امریکہ نے غلطی بھی کی ہے؟

شايد ميں اس سے پہلے بھی اسی فورم پر اس بات کا جواب دے چکا ہوں۔

ميں نے کبھی يہ دعوی نہيں کيا کہ امريکی حکومت اور انظاميہ کے اراکين عقل کل ہيں يا ہميشہ درست فيصلے کرتے ہيں۔ ميں نے اکثر اپنی پوسٹ ميں يہ بات کہی ہے کہ يقينی طور پر غلطياں سرزد ہوئ ہيں اور ايسے فيصلے بھی کيے گئے ہيں جو وقت گزرنے کے ساتھ غلط ثابت ہوئے ہيں۔

ميں صرف اس پس منظر، تاريخی حقائق اور تناظر کی وضاحت کرتا ہوں جن کی بنياد پر فيصلے کيے گئے تھے اور پاليسياں مرتب کی گئيں۔ يہ نامکن ہے کہ غلطيوں سے پاک ايسی پاليسياں تشکيل دی جائيں جس سے دنيا کے سارے مسائل حل کيے جا سکيں۔ ايسا کرنا امريکہ سميت دنيا کی کسی بھی حکومت کے ليے ممکن نہيں ہے۔

ليکن ميں اس بنيادی سوچ اور نقظہ نظر سے اختلاف رکھتا ہوں جس کے تحت ہر واقعہ، بيان اور پاليسی کو سازش کی عينک سے ديکھا جاتا ہے۔ يہ سوچ فہم اور منطق کے منافی ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

جب 2001 میں ٹریڈ سینٹرز پر حملے ہوئے تو اسوقت امریکا نے بن لادن کی حوالگی کا معاملہ اٹھایا تھا اور بغیر کسی ثبوت کے


اسامہ بن لادن کے 911 کے واقعات ميں ملوث ہونے کے حوالے سے يہ نقطہ بھی اہم ہے کہ ابتدا ميں القائدہ کی ليڈرشپ کی جانب سے اس کی سختی سے ترديد کی گئ تھی۔ اس ضمن ميں آپ کو حامد مير کے مشہور زمانہ انٹرويو کا حوالہ دوں گا جس ميں اسامہ بن لادن نے واضح طور پر کہا تھا کہ ان کا 911 کے واقعات سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ ليکن جب اسامہ بن لادن کی ويڈيو ٹيپ (جس ميں وہ اس حملے کا اعتراف کر رہے ہيں) اور القائدہ کے کئ سابق ممبران کے بيانات سميت متعدد ناقابل ترديد ثبوت منظرعام پر آئے تو القائدہ کی ليڈرشپ کی جانب سے 911 کے واقعات کے ضمن ميں حکمت عملی ميں واضح تبديلی آئ۔ حاليہ برسوں ميں القائدہ کی ليڈرشپ کی جانب سے نہ صرف يہ کہ 911 کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئ ہے بلکہ اشتہاری مواد ميں اس "کاميابی" کو اجاگر کر کے مزيد دہشت گرد تيار کرنے کے ليے برملا استعمال کيا جا رہا ہے۔

حال ہی ميں القائدہ کے نمبر 3 ليڈر شيخ سعيد کا جيو کے رپورٹر نجيب احمد کے ساتھ انٹرويو جو کہ کامران خان کے شو پر دکھايا گيا اس کی تازہ مثال ہے۔ اس انٹرويو ميں موصوف نے نہ صرف القائدہ کی جانب سے 911 کے واقعات کا اعتراف کيا بلکہ اسلام آباد ميں ڈينش ايمبسی پر خودکش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔

http://www.geo.tv/7-22-2008/21247.htm
http://www.friendskorner.com/forum/f137/kamran-khan-special-al-qaida-kal-aaj-21st-july-2008-a-53906/


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov
 

جوش

محفلین
شايد ميں اس سے پہلے بھی اسی فورم پر اس بات کا جواب دے چکا ہوں۔

ميں نے کبھی يہ دعوی نہيں کيا کہ امريکی حکومت اور انظاميہ کے اراکين عقل کل ہيں يا ہميشہ درست فيصلے کرتے ہيں۔ ميں نے اکثر اپنی پوسٹ ميں يہ بات کہی ہے کہ يقينی طور پر غلطياں سرزد ہوئ ہيں اور ايسے فيصلے بھی کيے گئے ہيں جو وقت گزرنے کے ساتھ غلط ثابت ہوئے ہيں۔

ميں صرف اس پس منظر، تاريخی حقائق اور تناظر کی وضاحت کرتا ہوں جن کی بنياد پر فيصلے کيے گئے تھے اور پاليسياں مرتب کی گئيں۔ يہ نامکن ہے کہ غلطيوں سے پاک ايسی پاليسياں تشکيل دی جائيں جس سے دنيا کے سارے مسائل حل کيے جا سکيں۔ ايسا کرنا امريکہ سميت دنيا کی کسی بھی حکومت کے ليے ممکن نہيں ہے۔

ليکن ميں اس بنيادی سوچ اور نقظہ نظر سے اختلاف رکھتا ہوں جس کے تحت ہر واقعہ، بيان اور پاليسی کو سازش کی عينک سے ديکھا جاتا ہے۔ يہ سوچ فہم اور منطق کے منافی ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov

روزنامہ جنگ سے اقتباس

"واشنگٹن(جنگ نیوز)امریکی صدر جارج بش نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے عراق پر حملہ غلط انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا جس کا انہیں انتہائی افسوس ہے۔امریکی ٹی وی اے بی سی کو انٹرویو میں صدر بش نے کہاکہ عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کی اطلاعات پر نہ صرف میری انتظامیہ میں شامل لوگ بلکہ اراکین کانگریس اور کئی عالمی رہنماوٴں نے صدام کو ہٹانے کے لئے کہالیکن عراق سے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار نہیں ملے ۔انہوں نے کہا کہ عراق پر حملہ غلط معلومات کی بنیاد پر کیا گیا جس پر انہیں انتہائی افسوس ہے۔صدر بش نے مزید کہا کہ وہ سانحہ 9/11کے بعد جنگ پر تیار نہیں تھے لیکن وہ اپنے فیصلے کی تائید حاصل نہ کرسکے۔صدر بش نے کہا کہ غلط انٹیلی جنس معلومات ان کی انتظامیہ کی ناکامی تو ہے ہی مگر ساتھ ساتھ ارکان کانگریس اور دیگر ممالک کو بھی اس ناکامی میں اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔"


فواد ان غلطیوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد جان بحق ہوے، اور پورا خطہ غیر مستحکم ہوگیا، اگر یہ کاو بواے کی ان غلطی ہے، تو 9/11 تو چند لوگوں کی بہت "چھوٹی" سی غلطی گردانی چا ہیے، اگر امریکہ کے پاس انصاف کا پیمانہ ہے تو؟
 

شمشاد

لائبریرین
شايد ميں اس سے پہلے بھی اسی فورم پر اس بات کا جواب دے چکا ہوں۔

ميں نے کبھی يہ دعوی نہيں کيا کہ امريکی حکومت اور انظاميہ کے اراکين عقل کل ہيں يا ہميشہ درست فيصلے کرتے ہيں۔ ميں نے اکثر اپنی پوسٹ ميں يہ بات کہی ہے کہ يقينی طور پر غلطياں سرزد ہوئ ہيں اور ايسے فيصلے بھی کيے گئے ہيں جو وقت گزرنے کے ساتھ غلط ثابت ہوئے ہيں۔

ميں صرف اس پس منظر، تاريخی حقائق اور تناظر کی وضاحت کرتا ہوں جن کی بنياد پر فيصلے کيے گئے تھے اور پاليسياں مرتب کی گئيں۔ يہ نامکن ہے کہ غلطيوں سے پاک ايسی پاليسياں تشکيل دی جائيں جس سے دنيا کے سارے مسائل حل کيے جا سکيں۔ ايسا کرنا امريکہ سميت دنيا کی کسی بھی حکومت کے ليے ممکن نہيں ہے۔

ليکن ميں اس بنيادی سوچ اور نقظہ نظر سے اختلاف رکھتا ہوں جس کے تحت ہر واقعہ، بيان اور پاليسی کو سازش کی عينک سے ديکھا جاتا ہے۔ يہ سوچ فہم اور منطق کے منافی ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov

بہت شکریہ لیکن غلط فیصلے کے نتیجے میں دوسروں کا جو نقصان ہوا اسے کیسے repent کیا جاتا ہے۔ اور اگر اس غلط فیصلے کے نتیجے میں جانوں کا ضیاع ہوا ہے تو کیا اسے friendly firing کہہ کر ٹال دیا یا خالی خولی معذرت کر کے ٹرخا دیا۔ کیا کوئی ایسی مثال ہے کہ غلط فیصلے میں جانوں کے ضیاع کے ذمہ داروں کو بھی لٹکایا گیا ہو؟
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

"واشنگٹن(جنگ نیوز)امریکی صدر جارج بش نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے عراق پر حملہ غلط انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا جس کا انہیں انتہائی افسوس ہے۔

جس انٹرويو کا حوالہ ديا گيا ہے وہ آپ اس ويب لنک پر ديکھ سکتے ہیں۔

http://abcnews.go.com/video/playerIndex?id=6379043

ڈبليو – ايم – ڈی ايشو کے حوالے سے اينٹلی جينس کی ناکامی محض امريکی اداروں تک محدود نہيں تھی بلکہ حقيقت يہ ہے کہ اس ايشو کے حوالے سے رپورٹنگ ميں امريکہ سميت بہت سے ديگر ممالک کے اداروں نے مساوی کردار ادا کيا تھا۔

صدر بش اپنے انٹرويو میں ان عوامل اور محرکات کا ذکر کر رہے تھے جو عراق پر کاروائ کے فيصلے کے ضمن ميں زير بحث تھے۔ ڈبليو – ايم – ڈی پر انٹيلی جينس رپورٹ فيصلہ سازی کے عمل کا اہم حصہ تھی۔ اگر يہ رپورٹ مختلف ہوتی تو اس کے نتيجے ميں سرکاری اور غير سرکاری سطح پر بحث بھی مختلف ہوتی۔ اس وقت حکومتی سطح پر کيے جانے والے فيصلے ڈبلیو – ايم – ڈی کی موجودگی کی صورت ميں ممکنہ خطرات کی روشنی ميں کيے گئے تھے۔ ليکن يہ حقيقت بہرحال اٹل ہے کہ صدام حکومت اس خطے اور عراقی عوام کے ليے ايک مستقل خطرہ تھی۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov
 

شمشاد

لائبریرین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ليکن يہ حقيقت بہرحال اٹل ہے کہ صدام حکومت اس خطے اور عراقی عوام کے ليے ايک مستقل خطرہ تھی۔

یہ تو آپ کہتے ہیں ناں۔ اب کوئی یہ کہے کہ امریکہ اور امریکی حکومت دنیا کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔ پھر آپ کیا کہیں گے؟
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

طالبان کا موقف یہ تھا کہ یا تو اسامہ کو کسی تیسرے ملک کے حوالے کیا جائے جہاں اس پر مقدمہ چلے اور یا امریکا ٹھوس ثبوت دے ؟ آپ اس مطالبے کو غیر قانونی ثابت کیجے ۔ وضاحت کیجئے کس طرح طالبان کا موقف قانونی تقاضوں کے برخلاف تھا؟

ميں آپ کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ طالبان کی جانب سے يہ دليل صرف رائے عامہ کی حد تک اور حاليہ برسوں میں استعمال کی گئ ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کو ثبوت مل جانے کے بعد کسی ملک کے حوالے کرنے کے ليے تيار تھے۔ حقیقت يہ ہے کہ 911 کے واقعے سے قبل بھی اقوام متحدہ کی ايک مشترکہ قرارداد ريکارڈ پر موجود ہے جس ميں طالبان سے القائدہ کی حمايت ترک کرنے اور اسامہ بن لادن کو حکام کے حوالے کرنے کا واضح مطالبہ موجود تھا اس کے باوجود طالبان عالمی برداری کے اس مشترکہ مطالبے کو مسلسل نظرانداز کر کے القائدہ کو دنيا بھر ميں اپنی کاروائياں کرنے کے ليے تحفظ فراہم کرتے رہے۔

ستمبر11 2001 کے حادثے کے بعد امريکہ نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ طالبان حکومت اسامہ بن لادن کو امريکی حکومت کے حوالے کر دے تا کہ اسے انصاف کے کٹہرے ميں لايا جا سکے۔ اس حوالے سے حکومت پاکستان کی جانب سے دو ماہ ميں 5 وفود بيجھے گئے۔ ليکن تمام تر سفارتی کوششوں کے باوجود طالبان حکومت نے يہ واضح کر ديا کہ وہ دہشت گردوں کی حمايت سے پيچھے نہيں ہٹيں گے۔

11 ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد يہ واضح نہيں تھا کہ القائدہ کا نيٹ ورک کتنا پھيل چکا ہے اور دنيا ميں کن ممالک ميں ان کے سيل کام کر رہے ہيں۔ القائدہ عالمی برداری کے ليے ايک واضح خطرہ بن کر منظر عام پر آئ تھی اور اس حوالے سے امريکہ اور يورپ سميت تمام مغربی ممالک ميں شديد خدشات تھے۔ طالبان کے صاف انکار کے بعد امريکہ کو کيا کرنا چاہيے تھا؟ کيا القائدہ تنظیم کو طالبان حکومت کے سائے تلے مزيد مضبوط ہونے کے مواقع فراہم کرنا صحيح فيصلہ ہوتا؟

2002 ميں جن وفود نے طالبان سے مذاکرات کيے تھے ميں ان سے کچھ افراد کو ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ طالبان نے ان ملاقاتوں ميں تسليم کيا تھا کہ اسامہ بن لادن دہشت گردی ميں ملوث ہيں ليکن ان کا موقف يہ تھا کہ "اسامہ بن لادن ہمارے مہمان ہيں اور اپنی قبائلی روايات کے حساب سے اپنے مہمان کی حفاطت ہمارا فرض ہے"۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://usinfo.state.gov
 
Top