شاعروں کا ڈوپ ٹیسٹ - از - محمد احمدؔ

محمداحمد نے 'آپ کی طنزیہ و مزاحیہ تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 2, 2016

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    شاعروں کا ڈوپ ٹیسٹ
    از محمد احمد
    کھیلوں کی دنیا سے وابستہ لوگ جانتے ہیں کہ بہت سے کھلاڑی /ایتھلیٹس کارکردگی کو بڑھانے کے لئے دوائیں استعمال کرتے ہیں تاہم ان دواؤں کا استعمال کھیل کی روح کے منافی سمجھا جاتا ہے ۔ اور اس عمل کی روک تھام کے لئے کھلاڑیوں کی جانچ بذریعہ ڈوپ ٹیسٹ کی جاتی ہے۔ ٹیسٹ میں مثبت رپورٹ آنے پر کھلاڑیوں کے خلاف تادیبی کاروائی بھی کی جاتی ہے اور اُن کی کارکردگی کو انصاف کے اصولوں کے منافی بھی سمجھا جاتا ہے۔

    ہم سمجھتے ہیں کہ بعینہ یہی بات ایسے شعراء پر بھی صادق آتی ہے کہ جو اپنی کاکردگی بڑھانے کے لئے مے نوشی کا سہارا لیتے ہیں اور پی پلا کر ایسی ایسی شاعری کرتے ہیں کہ پڑھنے سننے والے دنگ رہ جائیں۔

    اگر آپ کا اردو شاعری سے تھوڑا بہت بھی علاقہ رہا ہے تو آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ ہمارے شعراء ہر دوسری غزل اور چوتھے شعر میں شراب کا ذکر کرتے ہیں تاہم یہ کوئی قاعدہ نہیں ہے کبھی زیادہ موڈ ہو تو یہ لوگ شراب کو ردیف میں شامل کر لیتے ہیں اور ہر شعر میں جام کے جام لنڈھانے سے دریغ نہیں کرتے۔

    جہاں تک شاعری میں شراب کے ذکر کی بات ہے تو ہمیں اُس پر کوئی اعتراض نہیں ہے چاہے وہ استعاراتی معنوں میں ہو یا حقیقی معنوں میں۔ ہم تو بات کر رہے ہیں اُن شعراء کی جو شراب پی کر شاعری کرتے ہیں یا شراب پی جانے کی وجہ سے شاعری کرنے لگتے ہیں ۔

    ہمارے ہاں یہ تاثر بڑا عام ہے کہ جو شعراء دخترِ رز سے آشنائی رکھتے ہیں اُن کی شاعری میں ایک الگ ہی جذب اور گہرائی ملتی ہے۔ اُن کے مضامین طاق ہوا کرتے ہیں اور تخیّل اوج پر ہوتا ہے۔ یہ بات بڑی حد تک صحیح بھی ہے کہ ہمارے ہاں بے شمار نامی گرامی شعراء ایسے ہیں اور ماضی میں بھی رہے ہیں کہ جو مے نوشی سے نسبت رکھتے ہیں اور بہت اچھی شاعری اُن کا خاصہ ہوا کرتی ہے۔ نام ہم اس لئے نہیں لے رہے کہ نام بہت سارے ہیں اور نام لکھنے سے یہ مضمون مقالہ معلوم ہونے لگے گا۔ مزید براں بہت سے شعراء اس بات پر معترض ہوں گے کہ مے نوشوں میں اُن کا نام کیوں لکھا اور بہت سے اس بات پر کہ مے نوشوں میں اُن کا نام کیوں نہ لکھا۔ سو نام رہنے دیتے ہیں۔ ویسے بارہ پندرہ نام تو آپ کے ذہن میں بھی آ ہی گئے ہوں گے۔

    اس تمام پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ نشہ اور خمار انسان کے ذہن کو فکرِ سخن کے لئے یکسوئی اور ایسا شاعرانہ نظم فراہم کرتا ہے کہ انسان دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور یوں شاعری کے لئے ایک ایسی فضا ہموار ہو جاتی ہے کہ ہوش وحواس میں رہتے ہوئے جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

    بقول غالب :


    مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
    اک گو نہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

    گو کہ غالب نے اپنے تئیں اپنی صفائی پیش کی ہے کہ ہمیں شراب سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیکن اسی شعر سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ غالب کو شراب کی ضرورت اس لئے رہی کہ وہ ایک مستقل بے خودی کی کیفیت خود پر طاری رکھنا چاہتے تھے ۔ اور اس کیفیت کے زیرِ اثر فکرِ سخن کے علاوہ بھلا کیا کام ہو سکتا تھا۔ بے خودی میں قدم اُٹھانے کے متمنی تو غالب بھی نہیں ہوں گے۔

    بعد میں غالب نے اسی شعر کو اُلٹا کرکے بھی پیش کیا۔

    بے خود ی بے سبب نہیں غالبؔ
    کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

    حالانکہ پردہ داری کی چنداں ضرورت نہیں تھی اور لوگ جانتے تھے کہ غالب پر کس شے کے باعث بے خودی طاری رہا کرتی تھی۔

    سو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ ہمارا مدعا یہ ہے کہ جو شاعر اپنی کارکردگی بڑھانے کے لئے دوا دارو کا استعمال کرتے ہیں اُن کا ڈوپ ٹیسٹ ہونا چاہیے اور ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر ان کی شاعری کو شاعری کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے اُن پر چھ آٹھ ماہ کی پابندی لگا دینا چاہیے۔ تاحیات پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے لیکن ہم ایسی سخت دلی کی سفارش نہیں کرتے۔

    اس طرح اُن لوگوں کو تشفی ہوگی جو بن پیے لہراتے ہیں یعنی شاعری کرتے ہیں۔ سچ پوچھیے تو ہم اُن لوگوں کو سراہنا چاہتے ہیں جو بن پیے شاعری کیا کرتے ہیں کہ یہ بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔

    آپ فکرِ سخن میں ہیں کہ بیگم کہتی ہے دہی لا دیں۔ آپ دہی لانے کے لئے اُٹھنا نہیں چاہتے اور چاہتے ہیں کہ فکرِ سخن کے علاوہ کوئی اور فکر لاحق نہ ہو لیکن بیگم آپ کے دماغ کی دہی بناتی رہتی ہے اور آپ دماغ کی لسی بننے کے خوف سے چار و ناچار دہی لینے کے لیے چلے جاتے ہیں اور غزل اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔

    تاہم اگر آپ پیے ہوئے بیٹھے ہیں تو دہی لانے کی فرمائش ہو سکتا ہے کہ آپ کے کان تک ہی نہ پہنچے ۔ اور اگر پہنچ بھی جائے تو آپ کو اوجِ ثریا سے اُتار کر دہی کی دوکان تک لے جانے والی کرین ابھی ایجاد نہیں ہوئی ہے۔ سو چار و ناچار بیگم آپ پر تین حرف بھیجے گی اور پڑوسی کے بچے کو دہی لینے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ ہوش میں آنے تک دو چار غزلیں تیار ہوں گی۔ اور بیگم کی فرمائش پر دہی لانے والا شاعر دوسرے دن مشاعرے میں آپ کی غزلوں پر سر دھن رہا ہوگا اور کھٹی ڈکاریں لے رہا ہوگا۔

    اس طرح کے بہت سے منظر ہم آپ کو دکھا سکتے ہیں کہ کس طرح صہبا اور صراحی کے ہم نشین، دہی اور کونڈے کے خاک نشین سے آگے نکل جاتے ہیں تاہم تھوڑے کہے کو بہت سمجھتے ہوئے یہیں پر بس کرتے ہیں اور مزید مناظر آپ کی تخیلانہ صلاحیتوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔

    ایک بات اور بھی ہے اور وہ یہ کہ اچھی اور معیاری شاعری کے لئے جس ذہنی بالیدگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ اب چیدہ چیدہ لوگوں کے پاس ہی رہ گئی ہے۔ اب یہ چیدہ چیدہ لوگ اگر مے نوشی کر لیں تو ساری سنجیدگی اور بردباری یک بہ یک روانہ ہو جاتی ہے اور یہ لوگ وہ وہ حرکتیں کرنے لگتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔۔۔!

    اس کے برخلاف غیر سنجیدہ حضرات پر مے نوشی کا اُلٹا اثر ہوتا ہے۔ بقول حضرتِ فراق:


    آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراق
    جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہوگئے

    اب ایسی سنجیدگی کے ساتھ جب سنجیدہ شاعری کی جاتی ہے تو وہ ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہے اور اس ناہنجار شے کے باعث غیر سنجیدہ لوگ معتبر ٹھہرتے ہیں اور معتبر لوگ غیر سنجیدہ۔

    اس سب قضیے کے باوجود شاعر اپنے شراب پینے کو جائز قرار دیتا ہے اور چِلا چِلا کر کہتا ہے:


    ہنگامہ ہے کیوں برپا ، تھوڑی سی جو پی لی ہے
    ڈاکہ تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کی ہے

    تو ہم شاعرِ موصوف کو کہتے ہیں کہ بھائی آپ نے ڈاکہ تو واقعی نہیں ڈالا لیکن اُس بے چارے شاعر کا کیا قصور جس نے کٹھن حالات میں دو شعر کہے اور باقی غزل دہی اور دلیے کی نظر ہو گئی۔

    سو ہماری پر زور اپیل ہے کہ شعراء کے لئے بھی اینٹی ڈوپنگ ادارہ قائم کیا جائے اور ایسے شعراء کے ٹیسٹ سب سے پہلے کیے جائیں جن کے شاعری شراب اور بے خودی کے گرد گھومتی ہے اور وہ خود صراحی اور پیمانے کے گرد۔

    ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہماری اس جسارت پر بہت سے شائقینِ مے ناب ہمیں کھری کھری سنائیں گے اور بہت سے تلملا کر یہ تک کہہ دیں گے :

    ؎ ہائے کم بخت تو پی ہی نہیں


    تاہم ہم اس دیرینہ طعنے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا وضاحتی بیان جار ی کریں گے کہ جناب ہمیں آپ کی مے نوشی پر اعتراض نہیں ہے بلکہ ہمیں تو رخشِ مے نوشی پر سوار ہو کر سخنوری کرنے پر اعتراض ہے۔ جناب آپ دل کھول کر پیئں اور جب دل چاہے پیئں لیکن کبھی بغیر پیے بھی دو چار غزلیں لکھنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ غزل کس طرح ہوتی ہے۔


    نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں
    اس رنگ کو کیا جانے، پوچھو تو کبھی پی ہے؟

    اگر آپ اس طرح کا کوئی شعر یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو رہنے دیجے ہم نے یاد دلا دیا ہے اور بھی بہت سے ہیں جو یاد کرنے پر سلسلہ وار یاد آتے چلے جائیں گے۔ لیکن ہم پھر یہی کہیں گے کہ جناب ہماری اس چھوٹی سی گزارش کو دعوتِ مبارزت نہ سمجھیے بلکہ ہوش کے ناخن لیجے اور اُن سے اپنے نادیدہ زخم کرید کر دیدہ و دانستہ باقائمی ہوش و حواش فکرِ سخن کیجے تاکہ آپ بھی کہہ سکیں کہ جناب یہ ہوتی ہے اسپورٹس میں اسپرٹ۔ :)
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 2, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 13
    • زبردست زبردست × 13
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,136
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    آپ نے تو شعراء کا راز افشاء کر دیا ہے۔
    کچھ پی کر شاعر بنتے ہیں کچھ پینے کی خواہش سے ہی کام چلا لیتے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کی شاعری انہیں پلانے لے جاتی ہے۔
    اب نیا زمانہ ہے۔ چھوٹے موٹے شعراء عروض ڈاٹ کام کی ڈرپ سے ہی کام چلا لیتے ہیں۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 10
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 2
  3. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    اچھی تحریر ہے مگر ۔۔۔۔
    نشے کے بنا شاعری آسان کہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
    نشہ چاہے شراب کا ہو چاہے گولی مارفین راکٹ کا ۔
    زمانہ جدید میں پیناڈول بھی نشے کا متبادل
    کون ہے وہ شاعر جس نے پی نہیں کبھی اور شاعری کہی ایسی جو مقبول عام ہوئی ؟
    میر غالب اقبال فیض زیدی عارف فراز سب اس کوچے کے دائمی اسیر ،،،۔۔۔
    بہت دعائیں
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  4. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    رسید حاضر ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  5. ابن توقیر

    ابن توقیر محفلین

    مراسلے:
    3,587
    بے چاری غزل کو دہی میں ڈوبتے محسوس کرکے بہت دکھ ہوا۔
    اب تو اس تحریر پر پینے والوں اور بغیر پیے کام چلانے والوں کے مکالمے کا انتظار ہے جو اس مسئلے پر مزید روشنی ڈال سکتے ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 2, 2016
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  6. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ہاہاہا۔ اسی طرح محبوب کے تذکرے پر پولی گرافک ٹیسٹ ہو جائے؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  7. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جس طرح سارے شرابی شاعر نہیں ہوتے اسی طرح سارے شاعر بھی شرابی نہیں ہوتے بلکہ کچھ ساغر صدیقی کے معتقد بھی ہوتے ہیں :)
     
    • پر مزاح × 5
    • پسندیدہ × 3
    • متفق × 3
    • زبردست × 1
    • معلوماتی × 1
  8. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    چرسی؟
     
    • متفق متفق × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جی شنید تو یہی ہے باقی اب احمد صاحب ڈوپ ٹیسٹ کرنے کے بعد ہی تصدیق کر سکتے ہیں :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
  10. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ہاہاہاہا۔۔۔!

    اسے انگریزی میں اوپن سیکرٹ کہا جاتا ہے۔ :)

    یعنی سب کے معاملات چل رہے ہیں کسی نہ کسی طرح! :)

    :) :p

    یہ بھی خوب کہی۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  12. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    :)
    یعنی
    خمار کچھ تو بہرِ سخنوری چاہیے :) :)

    اچھا! واقعی؟ :)
    :)

    کیا عارف سے مراد "افتخار عارف" ہیں؟
    بہت شکریہ! آپ بھی شاد آباد رہیے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  13. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    شکریہ! :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  14. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ایسے تو شاعری کی انڈسٹری ہی بیٹھ جائے گی۔ :p

    یہ الگ بات کہ شاعر کی آنکھوں سے محبوب کو دیکھنا ممکن ہو تو پولی گرافک ٹیسٹ میں پھنسنے کا امکان بہت کم رہ جائے گا۔ :)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  15. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    پھر تو آفتھلمالوجسٹ (ماہر امراض چشم) کا کاروبار چمک اٹھے گا
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    :)

    اور اگر دونوں شرائط پوری ہو جائیں تب تو ڈوپ ٹیسٹ بنتا ہے نا! :)
    کہیں تو اس بات کو اور قیصرانی بھائی والے جواب کو یکجا کرکے 'معلوماتی' کے زمرے میں ڈال دیں۔ :)

    حالانکہ ساغر صدیقی کے تو نام سے ہی ساغرو مینا یاد آتے ہیں۔ :) :) :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  17. نکتہ ور

    نکتہ ور محفلین

    مراسلے:
    668
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    :biggrin::biggrin::biggrin::biggrin::biggrin::biggrin::biggrin::biggrin::biggrin:
    دل جلے لوگ
    مثبت ریٹنگ دینے والوں سمیت
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  18. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    :)

    اینٹی ڈوپنگ ادارہ تو محفل کے اساتذہ کی نگرانی میں ہی بن سکے گا۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  19. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ہاہاہاہا :p

    ارے بھیا! آپ ہی ایک منفی ریٹنگ پاس کر دیتے۔ تاکہ یہ ساری کاروائی یکطرفہ نہ معلوم ہوتی، :LOL: اور جو بھی فیصلہ ہوتا وہ فریقین کی موجودگی میں ہوتا۔ :) :) :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  20. ادب دوست

    ادب دوست معطل

    مراسلے:
    3,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ویسے محمداحمد بھائی، شاعر تو آپ بھی بے مثال ہیں۔۔۔۔۔۔۔:silly:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر