سیاسی منظر نامہ

عباس اعوان نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 15, 2018

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
    نواز شریف کی مریم کو عدلیہ بحالی تحریک اور اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت کی ہدایت
    ویب ڈیسک 2 گھنٹے پہلے
    [​IMG]
    اب ووٹ کو عزت سے بڑھ کر ن لیگ کا کوئی اور نعرہ نہیں، نواز شریف فوٹو:فائل

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کو ’ووٹ کو عزت دو‘ اور ’عدلیہ بحالی تحریک‘ کو آگے بڑھانے اور اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) میں بھر پور شرکت کی ہدایت کردی۔

    مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سے مریم نواز نے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں دو گھنٹے ملاقات کی۔ اس موقع پر مریم نواز کی بیٹی مہرالنساء، داماد راحیل منیر، ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور کیپٹن ر صفدر بھی موجود تھے۔ نوازشریف نے مریم نواز کو ووٹ کو عزت دو اور عدلیہ بحالی تحریک کو آگے بڑھانے اور اپوزیشن کی اے پی سی میں بھر پور شرکت کی ہدایت کی۔

    نواز شریف نے کہا کہ اب ووٹ کو عزت سے بڑھ کر ن لیگ کا کوئی اور نعرہ نہیں، آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، غریب عوام کو مہنگائی کی چکی میں پستا نہیں دیکھ سکتا، اس کے خلاف اب اٹھ کھڑا ہونا ہوگا، جو کہتے تھے شہباز شریف واپس نہیں آئیں گے اب وہ منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے ایک روپے کی کرپشن نہیں کی، اس کے باوجود پابند سلاسل رکھا جارہا ہے، مجھے اپنی صحت کی فکر نہیں رہی لیکن ملک کی معاشی صورتحال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ نواز شریف نے وزیرستان میں دہشت گردوں کی جانب سے پاک آرمی کے جوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

    شہباز شریف کل اتوار کو لندن سے وطن واپس پہنچیں گے۔ مسلم لیگ (ن) نے ان کے استقبال کے لئے کوئی باضابطہ کال نہیں دی تاہم کارکنوں کو اپنے طور پر ایئرپورٹ پہنچ کر استقبال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
    اے لو جی۔ نواز شریف نے خود ہی اپنی معاشی پالیسی کا پول کھول دیا ہے۔
    موصوف آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لے کر عوام کو عارضی ریلیف فراہم کرتے تھے۔ اور5 سال بعد یہ پیسے ختم ہونے پر دوبارہ ان کے در پر پہنچ جاتے ۔ یعنی ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے ایک ریفارم نہیں کیا۔ الٹا ریکارڈ قرضے ملک و قوم پر چڑھا کر کر معاشی ترقی کا ڈھونگ رچاتے رہے۔
     
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
    ملک میں سب کچھ ہوسکتا ہے آصف زرداری اور نوازشریف کی حکومت نہیں،شیخ رشید
    ویب ڈیسک 3 گھنٹے پہلے
    [​IMG]
    نواز شریف کے لیے شہباز شریف راستہ بنا رہے ہیں، شیخ رشید فوٹو: فائل

    لاہور: وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ اس ملک میں سب ہو سکتا ہے لیکن آصف زرداری اور نوازشریف کی حکومت نہیں ہوسکتی۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید احمد نے کہا کہ جب معیشت بیٹھ جاتی ہے تو ملک بیٹھ جاتے ہیں، ملک میں سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن آصف زرداری اور نواز شریف کی حکومت نہیں آسکتی۔ ملک میں سارا بحران چوروں کی وجہ سے آیا ہے، اس ملک کے اصل ڈریکولا گیس اور بجلی میں سبسڈی لینے والے ہیں، اس ملک کا سب سے بڑا دشمن شوگر مافیا ہے، چور اور ڈاکو قانون کی زد میں نہ آئے تو غریبوں کا لاوا پھٹ جائے گا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ شریف خاندان کا ایشو صرف یہ ہے کہ ملاقات نہیں ہونے دی، میری ماں مر گئی تو میں جیل میں تھا، نواز شریف اور شہباز شریف کی سیاست کا انداز مختلف ہے، شہباز شریف ابھی بھی وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہے ہیں، شہباز شریف نواز شریف کیلیے راستہ بنا رہے ہیں، شہبازشریف کو قائد حزب اختلاف بنانا سب سے بڑی غلطی تھی۔

    شیخ رشید نے کہا کہ پی ٹی آئی سے متعلق سوالات نہ پوچھے جائیں، ایسا وزیر نہیں جو کمپنی کی مشہوری کیلئے لگے رہتے ہیں، ہمیشہ نمبر ون سے دوستی اور دشمنی کرتاہوں، عمران خان میری بات سنتے ہیں، اسد عمر کو وزیر دیکھنا چاہتا تھا، عمران خان سے صرف ایک آدمی کی سفارش کی ہے، ان کے گھر مٹھائی بھیجی تو پتہ چلا وہ گھر چھوڑ گئے ہیں، عمران خان نے جو کیا بہتر کیا ہے، عمران خان ایک سال میں سارے مسائل حل کر لیں گے۔

    پاک بھارت تعلقات پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بھارت کو خط لکھا ہے، سب چاہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے چاہیئں۔ بھارتی میڈیا کے لیے اکیلا شیخ رشید کافی ہے، پوری قوم پاک فوج کو سلام پیش کرتی ہے، پاک بھارت کشیدگی کم کرانے میں آرمی چیف نے اہم کردار ادا کیا، دونوں ملکوں کے درمیان اگر کسی نے اس بار جنگ کو ٹالا ہے تو وہ جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں۔

    وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے لیکن اپوزیشن کے پاس کوئی شفاف چہرہ نہیں،سیاسی منظرنامے پر کوئی تبدیلی نہیں دیکھ رہا، بہت سے وزیر تبدیل ہوگئے لیکن کسی کو پتہ نہیں چلا۔

    کراچی سرکلر ریلوے سے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ چیف جسٹس نے کراچی میں تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا ہے، بجٹ کے بعد سندھ جا رہا ہوں۔ بجٹ کے بعد کراچی سرکلر ریلوے چلا کر دکھاوَں گا۔
     
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
  5. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    16,519
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    [​IMG]
    وزیر موصوف کی اہلیت کا شاندارمظاہرہ۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  6. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,801
    کیا یہ کنفرم ہے کہ یہ اس وزیر کا اصلی اکاؤنٹ ہے؟ ویریفائڈ کیوں نہیں ہے؟
     
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
    میرا خیال ہے اصلی ہی ہے۔ کبھی اس کی تردید نہیں کی گئی۔
     
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
    یہ تو کچھ بھی نہیں۔ دو ماہ قبل اسمبلی کے فلور پر فرمایا کہ ’بارشوں ہوتی ہیں جب نیک حکمران آتے ہیں‘
     
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
  10. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,446
     
    آخری تدوین: ‏جون 10, 2019 7:22 شام
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
    کیا یہ پاکستان میں نہیں ہو رہا؟
    [​IMG]
     
  13. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,446
    اس قول میں کرپشن کی تعریف وہ نہیں ہے جو تحریکِ 'انصاف' کی ہے۔ سول حکومت کا ملٹری کی قدم بوسی کرنا اختیارات کی سنگین ترین کرپشن ہے۔ آپ بلا اعتراض نواز شریف کو پکڑیں، زرداری کو پکڑیں لیکن 'اسیٹ بیانڈ مینز' اگر آپ نے حقیقی معنوں میں دیکھنا ہے تو چکلالہ گیریسن کا چکر لگائیں۔ کیا جرنیلوں کی تنخواہ سیاست دانوں یا کاروباری حضرات سے زیادہ ہوتی ہے؟ ادھر آپ کی نظر نہیں جاتی کیونکہ وہ تحریکِ انصاف کی 'کرپشن' کی تعریف پہ پورا نہیں اترتیں۔ لہذا بابا جی کہتے ہیں 'خوش فہمی' کی دنیا میں جیو اور مثبت رپورٹنگ کرتے رہو جب تک چھری اپنی گردن تک نہیں پہنچتی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  14. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,446
    آپ کے قول پہ قول پوسٹ کرنے سے کچھ نہیں ہو گا بلکہ قول کی روح کو سمجھیے، اس کے پیغام کو سمجھیے! دن رات پارٹی کے حق میں مراسلے کرنا بڑی بات نہیں بلکہ آپ اپنی پارٹی کو ان اندھیروں کی طرف دھکیل رہے ہیں جہاں آنے والے کل میں یہ امکانات بہت زیادہ ہیں کہ آپ کو بھی وہی نعرہ ایجاد کرنا پڑے گا "کل بھی عمران خان زندہ تھا، آج بھی عمران خان زندہ ہے!" یوں تو میں بھی بیسیوؤں قول پوسٹ کر سکتا ہوں، اپنے من پسند سیاستدانوں کے حق میں دن رات پوسٹ کر سکتا ہوں لیکن میں ایسا نہیں کروں گا کیونکہ میں انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر سکتا، میں کسی پروپیگنڈے کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے اور گلے میں غلامی کا پٹا باندھ لینے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔ سیاستدان، سیاستدانوں کو نیچا دکھانے کے چکر میں 'ملک دشمن' عناصر کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ کل مجیب غدار تھا، آج محسن داوڑ غدار ہے، کب تک قوم کو گمراہ رکھیں گے؟ اس وقت تک جب ملک کے ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جائیں؟
     
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
    فوجیوں نے جو ناجائز اثاثے بنائے ہیں وہ ملک کے اندر ہی موجود ہیں۔ جلد یا بدیر یہ بھی ریل اسٹیٹ ٹائکون ملک ریاض کی طرح قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ جس کے بارہ میں مشہور تھا کہ اسے کوئی ماں کا لعل ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اس نے کچھ ماہ قبل ہی عدالت سے ریکارڈ 460 ارب روپے کی پلی بارگین کر وا کر بحریہ ٹاؤن کرپشن کیس سے جان چھڑائی ہے۔
    بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب روپے کی پیشکش قبول، قومی احتساب بیورو کی کاروائی معاہدے کی خلاف ورزی سے مشروط

    البتہ دیگر پاکستانیوں نے جو ریکارڈ ناجائز اثاثے منی لانڈرنگ کرکے بیرون ممالک میں بنا لئے ہیں۔ ان کے خلاف نہ ملک کا قانون کچھ کر سکتا ہے۔ اور نہ ہی بیرون ممالک کی عدالتوں میں کوئی شنوائی ہوتی ہے۔ اُلٹا وہاں چوری کا پیسا ان کے ملک میں لانے والوں کو حکومت کی طرف سے خاص مراعات سے نوازا جاتا ہے۔
    ماضی میں بھی زرداری، نواز شریف وغیرہ کے بیرون ملک اثاثوں پر ریاست پاکستان کافی پیسا برباد کر چکی ہے۔ البتہ روایتی این آر او دینے کی وجہ سے ایک ٹکے کی ریکوری نہ ہو سکی۔ اب چونکہ این آر او کا دور دور تک کوئی سوال نہیں ہے۔ اس لئے قومی چور اب لوٹا ہوا پیسا واپس کریں گے یا جیل جائیں گے۔ تیسری کوئی راہ نہیں ہے۔
    نوازشریف اور آصف زرداری کے پاس فرار کا کوئی رستہ نہیں، تحریک انصاف
     
  16. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,446
    اگر فوجیوں کے اثاثے ملک کے اندر ہیں تو ان سے تو ریکور کرنا زیادہ آسان ہے کیونکہ وہ تو بالکل سامنے ہیں اور ریاستِ پاکستان کی تحویل میں ہیں۔
    فوجی قومی چور نہیں ہیں؟ یا ان پہ ریاست پاکستان کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔ جیل جانے سے لوٹا ہوا پیسہ واپس آ جائے گا؟ اور عوام کو ریلیف مل جائے گا؟ مزہ تو تب ہے آپ سوشل میڈیا پہ شور مچانے کی بجائے لوٹی ہوئی رقم ریکور کریں تاکہ ملک و قوم کا فائدہ ہو۔ آپ کی پوری حکومت بس 'کرپشن' کے کھوکھلے سیاسی نعروں پہ کھڑی ہے۔ جب بھی کارکردگی کا پوچھا جائے تو جواب 'کرپشن' اور 'پچھلی حکومت کے کارنامے' ملتا ہے۔
    میں تو اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ قصور آپ کا نہیں بلکہ میرا ہے کیونکہ میں یہ بہت جلدی بھول جاتا ہوں کہ کس سے بحث کر رہا ہوں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
    یہ بات آپ کی درست ہے کہ حکومت فی الحال پی ٹی ایم سے متعلق فوج کے موقف پر چل رہی ہے۔ جس کا مستقبل میں کوئی مثبت نتیجہ نکلتا نظر نہیں آ رہا۔
     
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
    ریکوری کے معاملہ میں کارکردگی دکھانا صرف حکومت کا کام نہیں، پوری ریاست کا ہے۔ اگر پاکستان سعودی طرز کی بادشاہت ہوتی محض چند ماہ کے کریک ڈاؤن سے کرپٹ اشرافیہ کی جیبوں سے اربوں ڈالرز کی ریکوری ہو جاتی۔
    Saudi Arabia Collects $107 Billion as Prince Ends Crackdown
    ایک طرف آپ کو جمہوریت چاہئے جہاں آئین و قانون بڑے بڑے چوروں کو تحفظ دیتا ہے۔ دوسری طرف یہ تکلیف بھی ہے کہ قومی چوروں سے جلدی جلدی ریکوری کیوں نہیں ہو رہی۔
     
  19. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,446
    تو پھر آپ مان گئے ہیں کہ 'تحریکِ انصاف' فاشسٹ پارٹی ہے!
    اللہ آپ کا بھلا کرے آپ بھول رہے ہیں کہ مشرف کے بادشاہت کے دور میں ہی این آر او آیا تھا۔ لہذا اپنی حکمتِ عملی کو دوش دیں، یہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کہ بادشاہت سے بہتر کوئی نظام نہیں اگر ایسا ہوتا تو یورپیئن ملکوں نے تو آپ کو اپنے ملکوں میں داخل بھی نہیں ہونے دیتا، آزادی تو دور کی بات ہے۔ اگر سسٹم کمزور ہے تو اسے مضبوط کریں اور اگر نہیں کر سکتے تو پھر مان جائیں کہ آپ کی حکومت نااہل ہے۔ ووٹ چوری کر کے اور بیک ڈور سے فوجیوں کے سہارے آپ حکومت میں تو آ سکتے ہیں لیکن اپنی نااہلی کو نظامِ حکومت کے پیچھے نہیں چھپا سکتے کیونکہ یہی جواز اگر آپ کے لیے درست ہے تو پھر پچھلی حکومتوں کے لیے بھی درست ہے! کارکردگی دکھانا اگر پوری ریاست کا کام ہے تو پچھلی حکومتوں کو دوش کس بنیاد پر دیا جائے؟
     
  20. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,416
    جب مشرف نے نواز شریف کا تختہ اُلٹا اس وقت اس کے پاس شریفوں کی کرپشن کے تمام کیسز شواہد کے ساتھ موجود تھے۔ بجائے یہ کہ ان چوروں کو سزائیں دلواتا، اس نے ان کے ساتھ جدہ ڈیل کر کے ملک سے باہر بھجوا دیا۔
    دوسری طرح آصف زرداری جس کے بیرون ملک اثاثوں کا کیس آخری مراحل میں پہنچ گیا تھا اور ان کی ریکوری ہونے والی تھی کہ اسے این آر او کی نظر کر کے عام معافی دے دی گئی۔
    عمران خان نے مشرف کی ان تاریخی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ہی ان دونوں جماعتوں کو کسی قسم کے این آر او ، ڈیل یا ڈھیل دینے سے مکمل انکار کیا ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ان کے ساتھ مفاہمت، مصالحت کا مطلب اپنی ہی سیاسی موت کو دعوت دینا ہے۔
    [​IMG]
     

اس صفحے کی تشہیر