سیاسی منظر نامہ

محمداحمد

لائبریرین
ویسے میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے کالا باغ ڈیم کو متنازع بنایا یا جنہوں نے حکومت میں رہتے ہوئے بھی اس کی تکمیل کی کوشش نہیں کی وہ قوم کے مجرم ہیں۔

ہم پھر اُنہی لوگوں کو ووٹ دینے جا رہے ہیں۔

ہندوستان نے اتنے ڈیم بنا لیے کہ اب پاکستان تک پانی اُن کی مرضی سے ہی پہنچتا ہے اور ہمارے والے سوتے رہے۔ ہم پھر بھی کہتے ہیں کہ ن لیگ اور پی پی ہی پاکستان کو سوٹ کرتی ہے۔ افسوس ہے!
 

ربیع م

محفلین
ڈھائی سو بے شک نہ بنے ہوں، بیس تیس ہی بن جائیں، صفر سے پھر بھی زیادہ ہی ہیں۔
یہی کام نون لیگ کرتی ہے کہ 20 ہزار میگاواٹ بجلی کا کہہ کر 2 ہزار میگاواٹ بجلی بنا لی.
نیز یہ سبھی پرانے بندوں کو مرمت کیا گیا ہے جنہیں لوگ پہلے پانی محفوظ کرنے کیلئے مقامی سطح پر بنایا کرتے تھے.
 

ربیع م

محفلین
ویسے میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے کالا باغ ڈیم کو متنازع بنایا یا جنہوں نے حکومت میں رہتے ہوئے بھی اس کی تکمیل کی کوشش نہیں کی وہ قوم کے مجرم ہیں۔

ہم پھر اُنہی لوگوں کو ووٹ دینے جا رہے ہیں۔

ہندوستان نے اتنے ڈیم بنا لیے کہ اب پاکستان تک پانی اُن کی مرضی سے ہی پہنچتا ہے اور ہمارے والے سوتے رہے۔ ہم پھر بھی کہتے ہیں کہ ن لیگ اور پی پی ہی پاکستان کو سوٹ کرتی ہے۔ افسوس ہے!
پرویز خٹک صاحب کا بیان پڑھا تھا اخبار میں کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے حوالے سے.
اس بارے میں عباس اعوان صاحب بتا سکتے ہیں کہ ان کی پارٹی کا کیا موقف ہے؟
 

عباس اعوان

محفلین
یہی کام نون لیگ کرتی ہے کہ 20 ہزار میگاواٹ بجلی کا کہہ کر 2 ہزار میگاواٹ بجلی بنا لی.
نیز یہ سبھی پرانے بندوں کو مرمت کیا گیا ہے جنہیں لوگ پہلے پانی محفوظ کرنے کیلئے مقامی سطح پر بنایا کرتے تھے.
فرق ہے۔
ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ڈھائی سو بن گئے ہیں۔ جتنے بنے اور زیر تعمیر ہیں، وہی بتائے ہیں۔
 

عباس اعوان

محفلین
پرویز خٹک صاحب کا بیان پڑھا تھا اخبار میں کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے حوالے سے.
اس بارے میں عباس اعوان صاحب بتا سکتے ہیں کہ ان کی پارٹی کا کیا موقف ہے؟
میں پارٹی کا ترجمان نہیں ہوں۔ بطور سپورٹر، میں اس معاملے میں خٹک کے بیان کی مخالفت کرتا ہوں۔ اور زیادہ شدت کے ساتھ، اگر اس نے یہ بیان پی ٹی آئی میں رہتے ہوئے دیا ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
پرویز خٹک صاحب کا بیان پڑھا تھا اخبار میں کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے حوالے سے.
اس بارے میں عباس اعوان صاحب بتا سکتے ہیں کہ ان کی پارٹی کا کیا موقف ہے؟

پی ٹی آئی ابھی کل کی پیداوار ہے۔

کالا باغ ڈیم کو متنازع بنانے والے کون ہیں یہ آپ بھی جانتے ہیں۔ اور متنازع بنانے کا سب سے زیادہ فائدہ کسے ہوا یہ بھی سب جانتے ہیں۔

اور کالا باغ ڈیم پر اسٹینڈ لینے والا ایک بھی نہیں رہا چاہے وہ سیاسی حکومت ہو یا فوجی!

کیا مشرف صاحب تمام تر عوامی اور فوجی طاقت کے ارتکاز کے ساتھ یہ کام نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن یہ سب لوگ ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں ۔
 

ربیع م

محفلین
پی ٹی آئی ابھی کل کی پیداوار ہے۔
پیداوار ابھی کل کی ہے لیکن جملہ شرکاء وہی پرانے ہیں.

میری نظروں سے ابھی تک پی ٹی آئی کا مضبوط موقف کالاباغ ڈیم کے حق میں نہیں گزرا.

بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ جو پارٹی محض اپنے چئیرمین کو وزیر اعظم بنانے کیلئے سبھی اصول ضابطے اور اخلاقیات پس پشت ڈال رہی ہے وہ کیسے اس موضوع پر عام لوگوں کی مخالفت مول لے گی. جبکہ ان کو سب سے زیادہ حمایت کی توقع بھی کے پی کے سے ہی ہے.
بہرحال اگر یہ کالاباغ ڈیم کی حمایت کرتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے اور اس پر داد کے مستحق ہیں یہ لوگ

لیکن مجھے لگتا نہیں...
 

محمداحمد

لائبریرین
بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ جو پارٹی محض اپنے چئیرمین کو وزیر اعظم بنانے کیلئے سبھی اصول ضابطے اور اخلاقیات پس پشت ڈال رہی ہے

بلاشبہ یہ ایک غلط بات ہے ۔ تاہم باقی جماعتیں بھی یہی سب کرتی ہیں۔

پی ٹی آئی نے واقعتاً نظریاتی محاذ پر بہت مایوس کیا ہے ۔ تاہم اس کے مخالفین پی ٹی آئی کو یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی ہمارے جیسے ہی ہیں ۔ البتہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہم سے بھی بد تر ہیں، سو ووٹ ہمیں دیا جائے۔
 

ربیع م

محفلین
بلاشبہ یہ ایک غلط بات ہے ۔ تاہم باقی جماعتیں بھی یہی سب کرتی ہیں۔

پی ٹی آئی نے واقعتاً نظریاتی محاذ پر بہت مایوس کیا ہے ۔ تاہم اس کے مخالفین پی ٹی آئی کو یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی ہمارے جیسے ہی ہیں ۔ البتہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہم سے بھی بد تر ہیں، سو ووٹ ہمیں دیا جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس لحاظ سے پی ٹی آئی زیادہ بڑی مجرم ہے کہ لوگوں میں تبدیلی کی خوش نما امید جگا کر انھیں دھوکہ دے رہی ہے اس طرح سے لوگوں میں تبدیلی کی بچی کھچی امید بھی ختم ہو جائے گی اور اگر کوئی واقعی اخلاص سے تبدیلی کیلئے اٹھے گا بھی تو لوگ مایوس ہو چکے ہوں گے اور اس کا ساتھ نہیں دیں گے
ویسے کیا واقعی کالا باغ ڈیم بننے سے کے پی کے کوئی نقصان ہو نے کا احتمال ہے؟
نقصان ہونے کا احتمال ہو یا نہ ہو البتہ مخالفت سب سے زیادہ وہیں سے ہے.
 

محمداحمد

لائبریرین
میں سمجھتا ہوں کہ اس لحاظ سے پی ٹی آئی زیادہ بڑی مجرم ہے کہ لوگوں میں تبدیلی کی خوش نما امید جگا کر انھیں دھوکہ دے رہی ہے اس طرح سے لوگوں میں تبدیلی کی بچی کھچی امید بھی ختم ہو جائے گی اور اگر کوئی واقعی اخلاص سے تبدیلی کیلئے اٹھے گا بھی تو لوگ مایوس ہو چکے ہوں گے اور اس کا ساتھ نہیں دیں گے

اس بات پر متفق ہوں۔

تاہم کافی جماعتیں بشمول طاہر القادری کی جماعت، تحریکِ لبیک ، ایم کیو ایم ، جماعت اسلامی سب نے ہی عوام کو انقلاب کے ہی لارے لپے دیے ہیں۔

ہر کوئی نواز شریف کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتا کہ "مسلم لیگ" جیسا بڑا نام مل جائے اور ڈکٹیٹر اُنہیں اُٹھا کر سیاستدان بنا دے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
جس طرح کی ذہن سازی مقامی لیڈرز کی جانب سے کر دی گئی ہے، اسے بدلنے میں وقت لگے گا۔

پہلے تو رہبرانِ ملت کی ذہن سازی کی ضرورت ہے کہ اتنا پیسہ بٹور کر بھی قبر میں خالی ہاتھ ہی جانا پڑے گا۔ حساب آپ دیں گے اور عیش باقی رہ جانے والے کریں گے۔ ساتھ ساتھ اپنے متعلقین کو حرام خوری کی روش پر ڈال کر وہ کوئی کمال نہیں کر رہے بلکہ گناہِ جاریہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

مزید یہ کہ ذاتی فائدے کے لئے مادرِ وطن سے غداری اور دشمنوں کے ایجنڈے پر کام کرنے والے اگر وقتی طور پر خوش ہو بھی لیں تب بھی اُن کے لئے اصل صلہ دائمی لعنت و ملامت ہی ہے۔

پہلے تو انہیں چاہیے کہ خوفِ خدا کریں ۔ اور اگر وہ کسی خدا اور آخرت پر یقین نہیں بھی رکھتے تو بھی ایسے بے دین لوگوں کو ہی اپنے لئے مشعلِ راہ بنا لیں کہ جو ملک و ملت کے لئے اپنا تن من دھن قربان کر دینے سے دریغ نہیں کرتے۔
 
ہر کوئی نواز شریف کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتا کہ "مسلم لیگ" جیسا بڑا نام مل جائے اور ڈکٹیٹر اُنہیں اُٹھا کر سیاستدان بنا دے۔
دراصل مسلم لیگ نام ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ رہا ہے، ایوب خان سے لیکر جنرل ضیاء اور مشرف سب نے مسلم لیگ کا نام استعمال کیا ۔ نواز کی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو جنرل صاحب نے اسے بھی مسلم لیگیا ہی کرنا تھا :)
 
آخری تدوین:

جان

محفلین
بیرون ملک زیادہ نجی دورے کیے انہوں نے۔اور آتے جاتے لندن یاترا ضروری تھی ان دوروں میں۔ 300 دورے چار سال میں کس ملک کا سربراہ کرتا ہے ؟ ملک کون چلائے گا ان سب دنوں میں ؟
پھر بے شمار انٹرنیشنل کانفرنسز ، اجلاس اور میٹنگز ہوتی ہیں، کیا ان سب کے لیے بھی وزیراعظم کو بھیجا جائے ؟
خواجہ آصف کو پہلے ہی کیوں نہیں لگا دیا گیا ؟ کیا اس وقت خواجہ آصف پر اعتبار نہیں تھا ؟ ان کی "کروڑوں" پر مشتمل پارٹی میں ان کو ایک شخص پر بھی اعتبار نہیں تھا؟
کیا ان "بے شمار" دوروں میں سے کسی ایک بھی دورے میں انہوں نے پاکستانی مؤقف ایسے پیش کیا جیسا کہ خواجہ آصف نے کیا ؟
بطور وزیرِخارجہ، نواز شریف کا کلبھوشن پر بیان سنا دیں، یا کوئی نیوز۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، بین لاقوامی پریشر پر ان کا سٹینڈ ؟
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے پاکستان کو جو دھمکیاں دیں، اس کا پاکستانی وزیر خارجہ نے کیا جواب دیا ؟ اس کے لیے بھی جوا ب چوہدری نثار کو دینا پڑا۔
"ٹیکنیکلی" قلمدان اپنے پاس رکھنے سے ذمہ داریاں بھی خود بخود ادا نہیں ہو جاتیں۔
آپ کے مراسلے میں 300 دورے چار سال میں اور پھر انٹرنیشنل کانفرسز، اجلاس اور میٹنگز کا ذکر ہے۔ ان کا ریکارڈ اگر عنایت کر دیں تو نوازش ہو گی اور ساتھ میں دفاعی دوروں کا تقابل بھی پیش کر دیں تو کیا ہی بات ہو گی۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
مجھے لگتا ہے عمران خان ہوسکتا ہے حکومت میں آکر تمام لوٹوں کو باہر نکال دے اور عوام کی دل سے خدمت میں لگ جائے
اس طرح اسٹیبلشمنٹ تمام لوٹوں کو نہ گھر کا نہ گھاٹ کا بنا کر چھوڑ دے گی
پاکستان میں صرف مخلص عمران خان جیسے لوگ رہ جائیں گے اور پاکستان دنیا کا ترقی یافتہ ترین ملک بن جائے گا انشاءاللہ
مجھے لگتا ہے ہمارا سیاسی ماحول شاید ایسے اقدام کا وزن نہ سہار سکے۔ اگر ایسا ہوا تو ہمارے "جمہوری" ماحول میں حکومت غیر مستحکم ہونے کےامکانات بہت بڑھ جائیں گےاور لامحالہ کوئی اور اہم بات ہوجائے گی ۔
واللہ اعلم۔اور مولی خیر رکھے عوام کی ۔
عوام کی تعلیم کے بغیر کوئی مستحکم حل ہر گز ممکن نہیں ۔
 

جان

محفلین
مجھے لگتا ہے ہمارا سیاسی ماحول شاید ایسے اقدام کا وزن نہ سہار سکے۔ اگر ایسا ہوا تو ہمارے "جمہوری" ماحول میں حکومت غیر مستحکم ہونے کےامکانات بہت بڑھ جائیں گےاور لامحالہ کوئی اور اہم بات ہوجائے گی ۔
واللہ اعلم۔اور مولی خیر رکھے عوام کی ۔
عوام کی تعلیم کے بغیر کوئی مستحکم حل ہر گز ممکن نہیں ۔
تعلیم، تعلیم اور بس تعلیم۔ بالکل متفق ہوں۔
 

محمداحمد

لائبریرین
مجھے لگتا ہے ہمارا سیاسی ماحول شاید ایسے اقدام کا وزن نہ سہار سکے۔ اگر ایسا ہوا تو ہمارے "جمہوری" ماحول میں حکومت غیر مستحکم ہونے کےامکانات بہت بڑھ جائیں گےاور لامحالہ کوئی اور اہم بات ہوجائے گی ۔
واللہ اعلم۔اور مولی خیر رکھے عوام کی ۔
عوام کی تعلیم کے بغیر کوئی مستحکم حل ہر گز ممکن نہیں ۔

ایسا ممکن نہیں ہے۔ ایوان میں اکثریت برقرار رکھنے کے لئے لوٹوں کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ۔

اور نہ ہی یہ ہو سکتا ہے کہ یہ لوٹے ذاتی مفادات پورے کیے بنا عمران خان کے ہر فیصلے پر صاد کہیں۔

پھر عمران خان کی بھی سیاسی تربیت کی ضرورت ہے۔ اور یہ کہنا بھی دشوار ہے کہ عمران خان ملک و ملت سے کتنے مخلص ہیں۔
 
Top