سیما علی

لائبریرین
سیاست کا ہر پہلواں لڑ رہا ہے
یہاں لڑ رہا ہے، وہاں لڑ رہا ہے
بیاں کے مقابل بیاں لڑ رہا ہے
حسابِ دلِ دوستاں لڑ رہا ہے
ضمیر جعفری
 

سیما علی

لائبریرین
میں جانتا ہوں مگر تو بھی آئنہ لے کر
مجھے بتا کہ مرا اِنتخاب کیسا ہے؟؟؟؟
سید فخر الدین بلے
 

سیما علی

لائبریرین
منافقت کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا
بہت کتھن ہے خزاں کے ماتھے پہ داستانِ گلاب لکھنا
محسن نقوی
 

سیما علی

لائبریرین
سوال ہی نہ تھا دشمن کی فتح یابی کا
ہماری صف میں منافق اگر نہیں آتے
ماہر عبدالحی
 

سیما علی

لائبریرین
ایسا بدلا ہوں ترے شہر کا پانی پی کر
جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو
محسن نقوی
 

سیما علی

لائبریرین
چھپائے سے کہیں چھپتے ہیں داغ چہروں کے
نظر ہے آئینہ بردار ، آؤ سچ بولیں

قتیل جن پہ سدا پتھروں کو پیار آیا
کدھر گئے وہ گنہ گار، آؤ سچ بولیں

قتیل شفائی
 

سیما علی

لائبریرین
بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو
لوگ اُتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر


سلیم کوثر
 

جاسمن

لائبریرین
لبِ اظہار پہ تالے ہیں، زباں بندی ہے
فکرِ آزاد پہ اس دور میں پابندی ہے
حاکمِ شہر کو ہے زعم کہ وہ جو بھی کہے
بس وہ سُنت ہے، وہی شرعِ خداوندی ہے
 

جاسمن

لائبریرین
حاکمِ شہر کی خواہش ہے کہ حکومت کی جائے
ورنہ حالات تو ایسے ہیں کہ ہجرت کی جائے
اب ضرورت ہے کہ سب مل کے بچائیں اس کو
ڈوبتی ناؤ میں ہرگز نہ سیاست کی جائے
انجم فاروق
 

سیما علی

لائبریرین
حاکمِ شہر کی خواہش ہے کہ حکومت کی جائے
ورنہ حالات تو ایسے ہیں کہ ہجرت کی جائے
اب ضرورت ہے کہ سب مل کے بچائیں اس کو
ڈوبتی ناؤ میں ہرگز نہ سیاست کی جائے
انجم فاروق
:applause::applause::applause::applause::applause::battingeyelashes::applause:
ورنہ حالات تو ایسے ہیں کہ ہجرت کی جائے
سچ بٹیا ایسا لگتا ہے یہ ہر اُس شخص کا ترجمان ہے جو بے بسی محسوس کررہا ہے ۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
سرود و شعر و سیاست،کتاب و دِین و ہُنر
گُہر ہیں ان کی گِرہ میں تمام یک دانہ
ضمیرِ بندۂ خاکی سے ہے نمود ان کی
بلند تر ہے ستاروں سے ان کا کاشانہ
اگر خودی کی حفاظت کریں تو عینِ حیات
نہ کر سکیں تو سراپا فسُون و افسانہ
ہُوئی ہے زیرِ فلک اُمتوں کی رُسوائی
خودی سے جب اَدب و دِیں ہُوئے ہیں بیگانہ
علامہ اقبالؒ
 
Top