'سَمت' کا جشن زریں ( گولڈن جوبلی ) نمبر

الف عین

لائبریرین
آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ زیر ترتیب شمارے (جنوری تا مارچ) کے بعد اگلا شمارہ، بابت اپریل تا جون ۲۰۲۱ء۔ ہمارا پچاسواں شمارہ ہو گا جسے گولڈن جوبلی یا جشنِ زریں خاص نمبر کہا جائے گا۔ اس شمارے کے بارے میں یہ سوچا گیا ہے کہ اس خاص نمبر کے دو حصے کیے جائیں، پہلے حصے میں ۲۰۰۵ء، یعنی جب سے آپ کا یہ جریدہ شائع ہونا شروع ہوا ہے، سے ۲۰۲۱ء تک شائع شدہ اہم (یا آپ کی پسند کی) کتابوں پر تبصرے اور ان کے مطالعے شامل کیے جائیں۔ اور دوسرے حصے میں ان آف لائن جریدوں کا شعری اور نثری انتخاب شائع کیا جائے جن کا انٹر نیٹ پر کوئی وجود نہیں ہے۔ یعنی جن ہندوستانی رسالوں کے مشمولات کا پاکستانیوں کو پتہ تک نہیں چلتا، یا وہ پاکستانی رسالے جن کے مشمولات سے ہم ہندوستان میں واقف نہیں ہیں۔ جیسے پاکستان کے رسائل فنون، بیاض، آج، الحمراء اور ہندوستانی رسائل قلم، شاعر، انتساب، نیا ورق وغیرہ۔
اس لئے اس تقریبی شمارے کے لئے درخواست ہے کہ ایک طرف آپ یا تو اہم کتابوں، جو آپ کو پسند آئی ہوں (اور جن پر آپ گفتگو کرنا پسند کریں) کے بارے میں مضامین کے ذریعے دوسرے سامعین کو بھی متعارف کرائیں۔ اور دوسری طرف، آپ اپنی اور اپنے پسندیدہ ادیبوں کی ان آف لائن رسائل میں شائع ہونے والی تخلیقات جمع کرنا شروع کر دیں، جن کا آن لائن وجود اب تک نہیں ہوا ہے یا جن کی تخلیقات تک انٹر نیٹ زائرین کی دسترس نہیں ہو سکی ہے۔ اس ضمن میں خیال رہے کہ ’سَمت‘ کی کوئی ادارتی ٹیم نہیں ہے، اس کا سارا کام ایک فرد واحد انجام دیتا آیا ہے جس کا نام اعجاز عبید ہے۔ اور ظاہر ہے کہ میں دو چار سطروں سے زیادہ ٹائپ کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ اس لئے بہتر ہو کہ انہی مضامین یا رسائل کی ان پیج فائلیں حاصل کر کے بھیجیں۔ اور مذکورہ تخلیق کی نشان دہی بھی ساتھ ہی کر دیں، یا اگر آپ کے پاس خود ہی آپ کی اپنی تخلیق کی ان پیج فائل موجود ہو تو اس کی ان پیج فائل اس تفصیل کے ساتھ کہ وہ کس جریدے کے کس شمارے میں شائع ہوئی ہے (جریدے کا نام، مدیر کا نام، شہر اشاعت، ماہ و سال یا شمارہ نمبر)۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس دوسرے حصے کی ادارت آپ کے ہی سپرد ہے، میں صرف ترتیب دینے کی کوشش کروں گا۔
 
سر ماشا اللہ، زبردست خیال ہے
"سمت" میں شامل کرنے کے لئے مواد کہاں شئیر کیا جائے سر
اور میرا ایک سوال ہے
میری مرحومہ اہلیہ نے شفیق الرحمٰن کی کتاب آبِ گم پر ایک تبصرہ اپنے کالج میں تدریس کے دوران پڑھا تھا، میرے پاس محفوظ ہے، کیا میں اس کے نام سے اشاعت کے لئے پیش کر سکتا ہوں
 
سر ماشا اللہ، زبردست خیال ہے
"سمت" میں شامل کرنے کے لئے مواد کہاں شئیر کیا جائے سر
اور میرا ایک سوال ہے
میری مرحومہ اہلیہ نے شفیق الرحمٰن کی کتاب آبِ گم پر ایک تبصرہ اپنے کالج میں تدریس کے دوران پڑھا تھا، میرے پاس محفوظ ہے، کیا میں اس کے نام سے اشاعت کے لئے پیش کر سکتا ہوں
یہاں محفل میں پیش فرمادیجیے۔ استادِ محترم یہیں سے پسند فرمالیں گے!
 

جاسمن

مدیر
انتہائی محترم استاد گرامی! آپ کی کاوشوں اور ہمت کو سلام ہے۔
ماشاءاللہ آپ نے تنہا ہی بہت بڑے کاموں کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے۔ آپ کے خلوص اور انتھک محنت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔
البتہ دعائیں ہیں۔
اللہ آپ آپ کے وقت و وسائل میں برکتیں عطا فرمائے۔ ایمان کی لازوال دولت، کامل صحت و تندرستی ، آسانیوں اور خوشیوں والی لمبی عمر دے۔منسلک رشتوں کی خوشیاں اور سکھ دکھائے۔ آمین!
ثم آمین!
 

الف عین

لائبریرین
یوسفی کی آبِ گم تو 1990 میں شائع ہو چکی تھی، تبصرہ بھیج دیں، اگر قابل اشاعت ہوا تو مجھے کسی بھی شمارے میں شائع کر کے خوشی ہو گی۔ اگر یہ کہیں شائع ہو چکا ہے تو 'گاہے گاہے باز خواں' کے تحت شامل کیا جا سکتا ہے
سر ماشا اللہ، زبردست خیال ہے
"سمت" میں شامل کرنے کے لئے مواد کہاں شئیر کیا جائے سر
اور میرا ایک سوال ہے
میری مرحومہ اہلیہ نے شفیق الرحمٰن کی کتاب آبِ گم پر ایک تبصرہ اپنے کالج میں تدریس کے دوران پڑھا تھا، میرے پاس محفوظ ہے، کیا میں اس کے نام سے اشاعت کے لئے پیش کر سکتا ہوں
 

الف عین

لائبریرین
میرے پاس پاکستان میں دادا مرحوم کے چھوڑے فنون کے کچھ قدیم نسخے موجود ہیں ۔۔۔ اگر ان تک رسائی کی کوئی صورت بنی تو ان شاء اللہ ضرور شیئر کروں گا۔
متن کی صورت میں ضرور، تصویری شکل میں تو ممکن نہیں، ہاں، شمارے اسی صدی کے ہوں
 
یوسفی کی آبِ گم تو 1990 میں شائع ہو چکی تھی، تبصرہ بھیج دیں، اگر قابل اشاعت ہوا تو مجھے کسی بھی شمارے میں شائع کر کے خوشی ہو گی۔ اگر یہ کہیں شائع ہو چکا ہے تو 'گاہے گاہے باز خواں' کے تحت شامل کیا جا سکتا ہے
محترم الف عین
سر معذرت، ہاتھ کے لکھے نسخہ سے ٹائپ کرنے میں تاخیر ہو گئی۔
یہ تحریر کہیں چھپی نہیں تھی۔ میری مرحومہ اہلیہ نے، جب وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ تھی، کہیں نوے کی دہائی میں اسے اپنے کالج میں " بک ریویو" کے طور پر پڑھا تھا۔ اور بس۔
ذیل میں یہ تبصرہ شئر کر رہا ہوں اگر قابلِ اشاعت محسوس ہو تو مجھے خوشی ہو گی۔


آبِ گم ۔۔۔۔ ایک تبصرہ

آ ب گم مشتاق احمد یوسفی کی ایسی تصنیف ہے جو اپنے قاری کے فہم اور ادراک کے لیے ایسے دریچے کھولتی ہے جو اسے کبھی تو خوش نما وادیوں میں لے جاتے ہیں اور کبھی غم کی بوجھل گپھاؤں میں چھوڑ آتے ہیں۔

مشتاق احمد یوسفی اگرچہ پیشے کے اعتبار سے بینکار ہیں لیکن اقتصادیات اور شماریات کے خشک ساتھ نے بھی ان کی فطری شگفتگی کو ماند نہیں پڑنے دیا، اور یوں ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کے مطابق ،"ہم اردو مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں"۔

یوسفی کی اولین تصانیف،چراغ تلے، اور ،خاکم بدہن، کے موضوعات اگرچہ روایتی تھے مگر اسلوب جدا گانہ اور یوسفی صاحب کی انفرادیت لیئے ہوئے تھے۔ اپنی انگلی تصنیف ،زر گزشت، میں وہ اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کے پوشیدہ گوشوں کو اسی زندہ دلی سے سر عام بے نقاب کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جو ان کی تحریروں کا خاصہ تو ہے، مگر آپ بیتی کی روایات سے بالکل ہٹ کر ہے ۔

آب گم موضوعاتی اعتبار سے سابقہ تمام تصانیف سے منفرد ہے کیونکہ اسکا بنیادی موضوع ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جو انسانی افعال اور اقوال کا مکمل اور ہمہ وقت احاطہ کئے رہتی ہے جسے ناسٹل جیا ، یادش بخیریا، یا نشئہ ماضی کہا جاتا ہے۔

یوسفی صاحب نے اس کتاب میں نہ صرف اس مریضانہ کیفیت کی وجوہات اور تفصیلات پر روشنی ڈالی ہے ، بلکہ وہ نشتر بھی مہیا کیا ہے جس سے اس ناسور کی جراحی ممکن ہو سکے۔

آب گم بنیادی طور پر پانچ کہانی نما خاکوں پر مشتمل ہے، بلکہ بقول یوسفی صاحب factاور fiction کا ملغوبہ یعنی Faction ہے۔

"حویلی" کی کہانی ایک متروکہ ڈھنڈار حویلی اور اسکے مغلوب الغضب مالک کے گرد گھومتی ہے، جو ہر کسی کو حویلی کا فوٹو دکھا کر کہتے ہیں ، " یہ چھوڑ آئے ہیں" ۔

“سکول ماسٹر کا خواب "مولانا کرامت کی بےبسی اور بے چارگی کا بیان ہے جو نا موافق حالات میں بھی خود داری اور شکر گزاری کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے۔

"کار، کابلی والا،اور الہ دین بے چراغ " ایک ایسے زندہ دل پٹھان کی داستان ہے جس نے آخری دم تک موت کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا ۔

جبکہ "شہر دو قصہ"میں بشارت علی فاروقی اپنے بچھڑے ہوئے کانپور سے دوبارہ ملاقات کرتے ہیں ، مگر ماضی کے دشتِ باز گشت میں اپنے ہمزاد کے خیمہ زنگار گوں کو پہچان نہیں پاتے۔

"دھیرج گنج کا پہلا یادگار مشاعرہ "ایک قدیم قصباتی سکول اور اسکے ٹیچر کا کیری کیچر ہے۔

آب گم دراصل اس نسل کا طنزو مزاح سے مزین نوحہ ہے جو کسی قومی،اجتمای مقاصد کی خاطر یا پھر انفرادی اور معاشی ترقی کی خاطر ہجرت اختیار کرتے ہیں، چاہے وہ کانپور سے کراچی ہو یاکراچی سے لندن۔

یوسفی صاحب اپنے کرداروں کو ماضی پرست،ماضی زدہ،اور مردم گزیدہ کہہ کر متعارف کرواتے ہیں جنہیں اپنا ماضی حال سے زیادہ پرکشش نظر آنے لگتا ہے اور مستقبل نظر آنا ہی بند ہو جاتاہے۔ ایسا عموماً بڑھاپے میں ہوتا ہے مگر یوسفی صاحب نے خبردار کیا ہے کہ بڑھاپے کا یہ جوانی لیوا حملہ کسی بھی عمر میں، بالخصوص بھرپور جوانی میں بھی ہو سکتا ہے۔

بڑھاپے کے اس جوانی لیوا حملے کا علاج بھی یوسفی صاحب تجویز کرتے ہیں تاکہ انکا قاری ڈپریشن اور یاسیت کا شکار نہ ہو جائے۔ یوسفی صاحب کے مطابق ایسے افراد کا اصل رونا جغرافئے کا نہیں ، جوانی اور بیتے سمے کا ہے جو حیات امروز میں زہر گھول دیتا ہے ، چنانچہ ماضی کی یادگاروں کا جدید سفر انہیں افاقہ پہنچا سکتا ہے۔

جہاں آب گم کا موضوع منفرد اور اچھوتا ہے، وہیں اس سجی سجائی خوبصورت ،رواں مگر نقش و نگار سے مزین تحریر کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک رنگوں سے بھرپور مصوری کا نظارہ کر رہے ہوں یا نگینوں اور موتیوں جڑا شاہی لباس ہاتھوں سے چھو کر محسوس کر رہے ہوں۔ ایک ایک سطر اور جملے میں تشبیہات،تلمیہات، لطافت اور مزاح کے کیا کیا ذخیرے پوشیدہ ہیں۔ قاری کسی فقرے کو غیر اہم سمجھ کر سرسری انداز میں پڑھ کر گزر جانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا ۔

آب گم کوئی ایک بار پڑھے جانے والی کتاب نہیں، یہ بار بار پڑھے جانے کے لئے ہے اور ہر مرتبہ نئے معانی ، جذبات اور احساسات سے روشناس کراتی ہے۔


تحریر: انیلہ شکیل (پس از مرگ)
 
Top