1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

سو لفظوں کی کہانیاں

محمد خلیل الرحمٰن نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 14, 2017

  1. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,610
    ایک بادشاہ کے سر میں درد ہوا. کسی نے مشورہ دیا کہ بارہ سنگھے کے سینگوں کا سفوف زیتون کے تیل میں ملا کر لگانے سےدرد جاتا رہے گا۔

    سپاہیوں نے ایک بارہ سنگھا پکڑا اور اس کے سینگوں کا سفوف زیتون کے تیل میں بادشاہ کے سامنے پیش کیا ۔
    اب مشکل یہ تھی کہ تیل بادشاہ کے سر پر لگائے کون.

    اس کے لئے ملکہ کی خدمات لی گئیں.

    ملکہ نے تیل لگاتے ہوئے بادشاہ کا کرتا خراب کردیا جس پر بادشاہ آگ بگولہ ہوگیا.

    ملکہ جھٹ سے بولی. داغ تو اچھے ہوتے ہیں، سرف ایکسل ہے نا!
     
    آخری تدوین: ‏اگست 26, 2018
    • زبردست زبردست × 3
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  2. نور ازل

    نور ازل محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت خوب۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,702
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    محمد خلیل الرحمٰن بھائی بہت اعلیٰ تحاریر ہیں۔ ڈھیر ساری داد قبول فرمائیے :) یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے :)

    بہت خوب :) اس پر پرمزاح کی بھی ریٹنگ بنتی ہے :D فاخر بھائی آپ میں بھی لکھنے کی بہت اچھی صلاحیت نظر آرہی ہے :) لکھتے رہئے گا :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,183
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    7- دو بادشاہ
    از محمد خلیل الرحمٰن​


    دو پڑوسی ملک ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے۔ کاموں میں ہمیشہ ایک دوسرے کی نقل کرتے۔

    ایک نے بم بنایا تو دوسرے نے بھی بم بنایا۔

    ایک نے کسی بیوقوف کو بادشاہ بنایا تو دوسرے نے بھی ایک بیوقوف کو پکڑ کر بادشاہ بنادیا۔


    ایک بادشاہ نے نیا جغرافیہ ایجاد کیا، افریقہ کو ایک ملک بنادیا، جرمنی اور جاپان کو پڑوسی قرار دیا، نئی روحانی سائینس دریافت کی تو دوسرے نے ایسے بادل بنائے جن کے درمیان سے ریڈار نہ گزرے۔

    دونوں ایک دوسرے کی حماقتوں پر خوب ہنستے، یہاں تک کہ دشمنی بھول کر ہنسی خوشی رہنے لگے۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 13, 2019
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  5. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,183
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    8- آخری آدمی
    از محمد خلیل الرحمٰن​


    دنیا گناہوں سے بھر گئی۔

    وہ بھی گناہگار تھا۔جب بھی اسے اپنے گناہ یاد آتے وہ رو پڑتا۔

    اسے پرانی کتاب میں ایک پیشنگوئی ملی۔ اس میں اسی کے دور کا ذکر تھا اور آخری نیک آدمی کی نشانیاں بھی۔

    وہ اس نیک آدمی کی تلاش میں نکل پڑا۔

    گھر سے نکلا تو دیکھا ہر شخص گناہوں میں مصروف ہے۔

    اپنی تلاش میں قریہ قریہ گھومتے، بستی بستی چھانتے اس کی ٹانگوں پر ورم آگیا ، پاؤں میں چھالے پڑ گئے لیکن اس نے ہار نہ مانی۔

    ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ چکراکر گرا اور مرگیا۔

    فطرت نے آخری منظر ترتیب دے ڈالا۔
     
  6. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,183
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    9-نمک
    از محمد خلیل الرحمٰن​


    کسی بادشاہ نے اپنی بیٹی سے پوچھا، ’’ میں تمہیں کتنا اچھا لگتا ہوں؟‘‘

    اس نے جواب دیا۔ ’’نمک جتنا!‘‘

    بادشاہ نے یہ سنتے ہی غصے میں بیٹی کو اسکے شوہر سمیت محل سے نکال دیا۔

    شہر شہر گھومتے، تجارت کرتے ، وہ امیر ہوگئے۔ واپس آکر انہوں نے بادشاہ کی دعوت کی اور کھانے میں نمک نہیں ڈالا۔

    بادشاہ نے کہا ، ’’تمہیں کیسے پتا چلا کہ مجھے بلند فشارِ خون ہے؟‘‘

    بیٹی گلے لگ گئی۔ بادشاہ نے پہچان کرکہا۔

    ’’ واقعی! بیٹیوں کا پیار نمک کی طرح ہے۔ باپ کے بغیر رہ نہیں سکتیں لیکن ایک دن اسے چھوڑ دیتی ہیں۔‘‘

    ×××××××××​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,183
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    جزاک اللہ۔ خوش رہیے

    زیک ہم آپ کا اشارہ سمجھ گئے تھے لیکن اُس وقت شاید جواب دینا مناسب نہ ہوتا۔
     
  8. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,712
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    محشر
    از نزہت وسیم
    اسے جنت میں داخلے کا طریقہ سمجھا دیا گیا اورجنتی ہونے کی گارنٹی دے دی گئی
    رمضان میں شیطان جکڑ لیے گئے تھے ۔ اس لیے اس کا کام مزید آسان ہوگیا ۔

    اس نے جیکٹ پہنی اور کچھ لوگوں کو جہنم رسید کرنے جمعہ کے دن مسجد جا پہنچا ۔

    صدر دروازے پر جہنم کے دروغے وردی میں ملبوس اس کی منزل کھوٹی کرنے لگے ۔

    اس نے وہیں خود کو پھاڑ دیا ۔ مرنے والے جنت میں داخل ہوگئے۔

    ان کے بیوی بچے میدان حشر میں پہنچ گئے ۔

    اور​
    ان کا حساب کتاب شروع ہوگیا ۔
     
  9. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,183
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ہم نے گنے تو ترانوے الفاظ ہیں۔ سات لفظوں کی کمی ہے۔
     
  10. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,712
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
  11. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,712
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    محشر

    اسے جنت کی رغبت و شوق دلایا گیا داخلے کا ٹکٹ تھما کر جنتی ہونے کی گارنٹی بھی دی گئی
    رمضان میں شیطان جکڑ لیے گئے تھے چنانچہ اس کا کام مزید آسان ہوگیا
    اس نے جیکٹ پہنی جنت کی طلب میں کچھ لوگوں کو جہنم رسید کرنے جمعہ کے دن مسجد جا پہنچا صدر دروازے پر جہنم کے دروغے وردی میں ملبوس اس کی منزل کھوٹی کرنے لگے
    اس نے وہیں خود کو پھاڑ دیا مرنے والے شھید ہوئے اور جنت میں داخل ہوگئے
    ان کے بیوی بچے میدان حشر میں پہنچ گئے
    اور ان کا حساب کتاب شروع ہوگیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  12. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,712
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    گنتی تو پوری ہوگئی ۔ کہانی کے بارے میں رائے درکار ہے ۔
    دراصل پہلی کوشش ہے اور مزید کا ارادہ ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,183
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    خوبصورت خوبصورت۔

    لکھتی رہیے نزہت بہنا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,459
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس بہانے اویس کی امی کا نام معلوم ہو گیا! شکریہ نزہت
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,712
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    2۔ بھوک
    از نزہت وسیم ​
    وہ دیہاڑی دار تھا ۔ مزدوری مل جاتی توپیٹ بھر لیتا ورنہ ندیدوں کی طرح جگہ جگہ کھانے والوں کو تکتا رہتا ۔

    بھوک مٹنے کی بجائے بھڑک اٹھتی ۔

    کام کی تلاش میں گلی گلی پھرتے سڑکوں پر لگے بل بورڈ دیکھتا رہتا ۔

    اس جیسی عورتیں پیٹ کی آگ بجھانے جسم کا کاروبار کرتی تھیں ۔ بھوک بھڑک اٹھتی ۔

    ایسی ہی ایک شام گھر لوٹا تو کزن کی کمسن بچی اکیلی جاتی دکھائی دی ۔

    ٹافی کے لالچ میں بھاگ کر پاس آگئی ۔

    بچی کا ہاتھ پکڑ کراندر جاتے اس نے سوچا :

    “ برتن چھپانے کے لیے جنگل ، گڑھا ، گٹر، پٹرول یا تیزاب ، کیا بہتر رہے گا ؟ “ ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت خوب -مگر "پہچان "لفظ کھٹک رہا ہے-یوں محسوس ہوتا ہے اس سے پہلے تو اجنبی تھے اور اب پہچانا جوکہ بعید از قیاس ہے -
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  17. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    اچھی کوشش ہے -

    البتہ بحیثیت قاری ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ مرنے والوں میں خودکش خود بھی تھا کیا وہ بھی سب کے ساتھ جنّت میں چلا گیا کیونکہ اس کا الگ سے انجام بیان نہیں ہوا -
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,183
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    لکھاری کا کہنا ہے کہ خودکش کو تو جنت کی گآرنٹی دے دی گئی تھی، مرنے والے دیگر افراد بھی جنت پہنچے لیکن اصل جہنم تو باقی رہ جانے والے پسماندگان کے لیے شروع ہوئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  19. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,183
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    درست نشاندھی ہے۔ یوں ہونا چاہیے؛

    " بیٹی باہر آکر گلے لگ گئی۔ بادشاہ نے کہا۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,712
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    3۔ لانگ بوٹ
    از نزہت وسیم ​

    ایک بادشاہ تھا ۔ وہ سڑکیں بنانے اور رنگ برنگی ٹرینیں چلانے کا شوقین تھا ۔

    اسے ترچھی ٹوپی اور لانگ بوٹ بہت پسند تھے ، جنہیں پہننے کے لیے وہ برسات کا انتظار کرتا ۔

    جونہی بارشیں شروع ہوتیں اس کے ماتحت سڑکوں سے پانی غائب کر دیتے ،

    چنانچہ وہ رات بھر پانی کی تلاش میں مارا مارا پھرتا تاکہ ترچھی ٹوپی

    اور لانگ بوٹ کے ساتھ میڈیا کے لیے فوٹو شوٹ کروا سکے ۔

    پھر زمانے کے تغیر نے اسے ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا ۔

    بارش نے ملتان روڈ کے سپر سٹاپ کو پھر چھپڑ سٹاپ میں بدل دیا ۔

    کیونکہ اب لانگ بوٹ کے ساتھ تصویر بنوانے والا جا چکا تھا
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر