سوموار یا پیر

زیک نے 'پی‌ایچ‌پی‌بی‌بی کا اردو ترجمہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 17, 2005

?

آپ کے خیال میں Monday کی اردو کیا ہو؟

  1. پیر

    100.0%
  2. سوموار

    0 آرا
    0.0%
  1. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,738
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    Monday کے لئے اردو میں سوموار اور پیر دونوں استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں سے کونسا بہتر ہے؟ اس وقت اس محفل میں سوموار استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں اسے تبدیل کرنا چاہیئے؟
     
  2. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,738
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    چلیں یہ بھی ترجمے میں پیر کرنا پڑے گا۔
     
  3. محمد رضوان محمود

    محمد رضوان محمود محفلین

    مراسلے:
    1
    میرا جواب

    پیر یا سوموار میں ٹھیک لفظ پیر ہے
    یہی ہمیں بتایا گیا ہے ۔، واللہ ورسولہ اعلم
     
  4. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    زکریا صاحب!
    میرا خیال ہے کہ یہاں لفظ سوموار زیادہ مناسب ہے۔ یہ ایک ادبی لفظ ہے۔ میں تو کوشش کرتا ہوں کہ ہفتہ کے بجائے بھی “سنیچر“ کہوں کیوں کہ بنیادی طور پر ہفتہ تو سات دنوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس دن کا اصل نام تو “سنیچر“ ہے جسے اب ہفتہ کہا جانے لگا ہے۔
     
  5. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,069
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    میرے خیال میں تو سنیچر ہونا چاہیے اگر نہیں تو “ پیر “ بہتر ہے۔
     
  6. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    :shock: کیا ہوگیا شمشاد بھائی؟ سنیچر کو پیر سے کہاں ملادیا؟
     
  7. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,069
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اوپس بہت بڑی غلطی ہو گئی۔

    میرے خیال میں پیر ہی کا لفظ مناسب ہے۔
     
  8. پاکستانی

    پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    4,529
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    زیادہ ووٹ تو پیر کے حق میں جا رہے ہیں، مگر خیال میں Monday کے لئے لفظ سوموار زیادہ بہتر اور موزوں لفظ ہے۔
    ‘پیر‘ کچھ عجیب سا نہیں لگتا؟
     
  9. راج

    راج محفلین

    مراسلے:
    457
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Amused
    جہاں تک میری معلومات ہے سوموار سنسکرت کا لفظ ہے اور اردو میں دور دور تک سوموار کا استعمال نہیں ہوتا- پاکستان میں تو پتا نہیں مگر ہندوستان میں سوموار اردو ڈکشنرمیں موجود نہیں ہے- اس لئے اس کو استعمال کیا جائے یا نہیں سوچنا بھی فضول ہے-
    ویسے پیر منگل بدھ یہ خود سنسکرت کے لفظ ہیں- مگر اردو میں رائج ہو چکے ہیں اور روز مرہ کے استعمال میں ہیں- مگر سوموار رائج نہیں ہوا ہے اور نہ ہی روز مرہ کے استعمال میں ہے- کم سے کم ہندوستان میں تو نہیں-
    آپ کی معلومات کے لئے دنوں کے نام اور ان نام کے مطلب یہاں درج ہیں- "وار" کا مطلب دن ہوتا ہے- ہندووں نے بھگوان کے نام کے ساتھ وار لگا دیا-

    :idea: سوموار= شنکر بھگوان کے لئے ہے-
    :idea: منگل وار = گنیش بھگوان کے لئے-
    :idea: بدھ وار= برہما کے لئے
    :idea: گرو وار= وشنو بھگوان کے لئے-
    :idea: شُکروار= دیوی درگا کے لئے -
    :idea: شنی وار= شنی مہاراج کے لئے=

    اب ان سے تو ہم نے منگل وار کی جگہ منگل اور بدھ وار کی جگہ بدھ لیا تو اب یا تو سوم وار کی جگہ سوم لیا جائے یا روی وار کی طرح اتور میں بدل دیا جائے یعنی سوم وار کی جگہ پیر ہی کہا جائے-
    ہم نے اب تک اردو میں سنسکرت کے لفظ پورے نہیں لئے- تو سوموار کو بھی پوری طرح لینے کا تُک نہیں بنتا-

    اور رہی بات سنیچر اور ہفتہ کی تو ہندوستان میں ہفتہ استعمال نہیں ہوتا - ہاں میرے جو پاکستانی دوست ہیں ان سے ہی میں نے پہلی بار ہفتہ لفظ سنیچر کے لئے سنا - اور یہ کیوں کہا جاتا ہے نہیں معلوم-
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    خیر! جیسے آپ لوگ مناسب سمجھیں ورنہ یہاں تو میں نے دیکھا کہ اکثر ادبی تحریروں میں سوموار کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ بی۔بی۔سی اردو نے بھی اس کے لئے لفظ “سوموار“ ہی استعمال کیا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اب عام رواج “پیر“ کہنے کا ہوگیا ہے۔
    بہرحال! یہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اردو میں دونوں لفظ ہی مستعمل ہیں۔ دراصل “پیر“ ضعیف کے معنوں میں بھی آتا ہے، اس لئے میں اس کا متبادل “سوموار“ استعمال کرتا ہوں۔۔۔ اگر لفظ “پیر“ بھی استعمال کرلیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
     
  11. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,029
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    قطع نظر معنی جو الفاظ مقبول ہوچکے ہیں انھیں تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,122
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    راج حیدر آباد میں بھی سنیچر کو ہفتہ کہتے ہیں اور کنفیوز کرتے ہیں ہم کو۔ سوموار محض مشرقی یو پی میں میں نے مسلمانوں کو بھی بولتے سنا ہے اگر چہ پڑھے لکھے مسلم دو شنبہ کہتے ہیں۔ بطور خاص اودھ میں ۔ بدھ کو بھی یہاں حیدر آباد میں چہار شنبہ زیادہ تر کہا جاتا ہے۔ اردو اخبارات سارے ہندوستان میں پیر ہی لکھتے ہیں لیکن فرق بدھ اور سنیچر میں ہے کہ یہاں کے اخبارات بھی چہار شنبہ اور ہفتہ لکھتے ہیں۔
     
  13. حیدرآبادی

    حیدرآبادی محفلین

    مراسلے:
    154
    چہارشنبہ

    اعجاز صاحب ، ہم تو چونکہ حیدرآباد ہی میں پلے بڑھے ہیں لہذا ہمارے کنفیوز ہونے کی تو بات ہی نہیں ہے۔ حالانکہ جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے تب بھی ہمارے تمام ہندو دوست ساٹرڈے کو ہفتہ ہی کہتے تھے ، سنیچر کہتے ہوئے ہم نے تو نہیں سنا۔
    اور wednesday کو چہارشنبہ کہا جاتا ہے۔ وہ تو شمالی ہند اور کلکتہ جا کر ہی مجھے پتا چلا تھا کہ بدھ کہا جاتا ہے۔ اور سارے گلف میں سوائے حیدرآبادیوں کو چھوڑ کر سب بدھ ہی کہتے ہیں۔ اور جب بھی میں حیدرآباد چھٹی پر جاتا ہوں اور کبھی منہ سے بدھ نکل جائے تو ہمارے احباب گھور کر دیکھتے ہیں۔
    ویسے حیدرآباد کے اردو کلینڈروں میں ہفتے کے نام یوں لکھے جاتے ہیں
    یکشنبہ ، دوشنبہ ، سہ شنبہ ، چہار شنبہ ، پنجشنبہ ، جمعہ ، شنبہ
     
  14. راج

    راج محفلین

    مراسلے:
    457
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Amused
    حیدرآبادی صاحب بالکل بجا فرمارہیں ہیں آپ-
    یکشنبہ ، دوشنبہ ، سہ شنبہ ، چہار شنبہ ، پنجشنبہ ، جمعہ ، شنب
    اودھی بولی میں شامل تھا جب کھڑی بولی ہمارے زندگی میں رائج تھی - اور آہستہ آہستہ ہندو مسلمان تہذیب کے ایک دوسرے میں جذب ہونے کے نتیجے میں یہ اتوار پیر منگل بدھ اور سنیچر ایجاد ہوگیا-

    اب تو صرف اسکول میں ہمارے علم میں لانے کے لئے یہ بتا دیا جاتا ہے کہ اردو میں دنوں کے نام یکشنبہ ، دوشنبہ ، سہ شنبہ ، چہار شنبہ ، پنجشنبہ ، جمعہ ، شنب ہیں- مگر خود اسکول کے بورڈ پر اور کلینڈر میں ہر جگہ اتوار پیر مگنل ------ ہی نظر آئے گا-

    اور اگر دیکھا جائے توہندوستان میں جتنے اسٹیٹ ہیں اتنی ہی زبانیں اتنی ہی تبدیلیاں ----- اب اس بات پر اور بحث نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے اور جو آج ہمارے ادب میں رائج ہے ہمارے اسٹیٹ کے حساب سے اسے ہی اپنایا جائے -

    اور انٹر نیٹ پر عام رائے استعمال کی جائے کہ لوگ سب سے زیادہ کیا پسند کرتے ہیں- اسی کو استعمال کیا جائے -
     

اس صفحے کی تشہیر