سندھی تنظیم اور متحدہ کا مہاجرین کیمپ سندھ میں لگانے پر احتجاج

بہت خوب سرمد جی ۔۔۔۔ بہت ہی حقیقی تجزیہ کیا ہے ۔ مگر کیا کجیئے تعصب اور نفرت ایسی چیزیں ہیں ۔ جس کے زیراثر آکر آدمی اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے ۔ اور پھر الاپ شالاپ بکنے لگتا ہے ۔ اللہ ہم سب کو کسی کی طرف انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گربیاں میں بھی جھانکنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔ آمین

ظفری !

خدا کی قسم ، ابھی اس قوم یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ کس عفریت کے جال میں آہستہ آہستہ پھنس رہی ہے، ہمارے انگریزی کے استاد ایک تھیوری کا تذکرہ بڑے افسردہ انداز میں کرتے تھے کہ جب کسی گھر کو برباد کرنا ہو تو اس میں ایک دوسرے کے خلاف وہم، شکوک، حسد کی آگ جلا دو آپ کو کچھ نہیں کرنا پڑے گا بلکہ وہ خود ہی لڑ لڑ کر مر جائیں گے اور ہر پٹنے والا آپ کو ہی آکر مدد کے لئے پکارے گا

امریکہ بھی یہی کرتا ہےاور کر رہا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ تعصب سے بالاتر ہوکر صرف پاکستانی بن کر سوچیں

ورنہ

نہ رہے گا تاج و تخت نہ رہے گا شاہ کا فرمان
 
divide and rule کی پالیسی کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ سوال ظفری اور سرمد سے ہے :)

ایک قومی نظریہ ہی اسکا واحد حل ہے ورنہ اگر ڈیوائڈ اینڈ رول کی بات کرتے ہیں تو پھر یہ چھینا جھپٹی تو لگی رہے ہر کوئی ایک دوسرے کو برا کہتا رہے گا اور ایک دن یہ شاخ ٹوٹ جائے گی

پھر

نہ رہے گا ڈیوائڈ اور نہ رہے گا رول
 

ظفری

لائبریرین
ایک قومی نظریہ ہی اسکا واحد حل ہے ورنہ اگر ڈیوائڈ اینڈ رول کی بات کرتے ہیں تو پھر یہ چھینا جھپٹی تو لگی رہے ہر کوئی ایک دوسرے کو برا کہتا رہے گا اور ایک دن یہ شاخ ٹوٹ جائے گی

پھر

نہ رہے گا ڈیوائڈ اور نہ رہے گا رول

قومی نظریہ ۔۔۔ سرمد بھائی ۔ ؟؟؟؟؟
اس سلسلے میں آپ میرا یہ آرٹیکل پڑھیئے ۔

http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=20220
 
پیپلز پارٹی کے وفاقی اور صوبائی وزراء اور سینیٹرز نے بھی مالاکنڈ متاثرین کی سندھ آمد کی کھل کر مخالفت کی ہے۔
 
جیے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر خان قریشی کا موقف ہے کہ مالاکنڈ سے سندھ میں آنے والے فوجی آپریشن کے متاثرین نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے طالبان ہیں جنہوں نے داڑھیاں منڈھوا کر بھیس بدل لیا ہے اور فرار ہوکر سندھ پہنچ رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ طالبان اور القاعدہ اپنا مرکز سرحد سے سندھ منتقل کر رہے ہیں۔
 
جسقم کا مطلب ہے (جئے سندھ قومی موومنٹ) یہ ایک ایسی تنظیم ہے جس کا بانی جی ایم سید تھا لیکن زینب ایک بات بہت واضح ہے کہ اگر جئے سندھ یا اس طرح کو کوئی بھی تنظیم کسی ایسے فلاحی کام کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں تو اس پر احتجاج ضرور ہونا چاہیئے
بس یہ سمجھئے کہ یہ ایک رد عمل ہے جو وقتا فوقتا سامنے آتا رہتا ہے ۔ لیکن ان کی یہ تحریک کافی کمزور ہے اور کافی عرصے سے چل رہی ہے ۔ ہوگا کچھ نہیں آپ بے فکر رہیئے
معلومات میں اضافہ کرنے کا شکریہ، مجھے پہلے پتہ نہیں تھا کہ جسقم کا مطلب جئے سندھ قومی مومنٹ ہے، اب میری عقل ٹھکانے لگ رہی کہ کیوں یہاں کے مفکر ایسی باتیں کرتے ہیں ایک مفکر نے کہا تھا کہ اندرون سندھ 95 فیصد خواتین پر ظلم ہوتا ہے!
 

ساجداقبال

محفلین
یہ ہڑتال یا مکمل شڑ ڈاون اس لیے نہیں کہ لوگ ان کے حمایتی ہیں یہ اس لیے کہ لوگ جلاو گھیراو سے اپنی املاک بچانا چاہتے ہیں اس لیے دکانیں بند کر دی جاتی ہیں‌۔۔۔۔۔۔۔۔ایم کیو ایم بھی تو اس نام نہاد جقسم کے ساتھ ہے اور مکمل حمایت کر رہی ہے ۔میں‌کہتی ہوں سندھ کوئی ایم کیو ایم والوں‌کے"باپ"کا ہے۔۔۔۔۔جو قبضہ جمانا چاہتے ہیں میرا مطالبہ ہے کہ طالبان کے بعد اگلا آپریشن پاک فوج اس ایم کیو ایم کے خلاف کرے ‌ختم کیا جائے اس ملک دشمن غدار پارٹی کو
میرا مطالبہ ہے کہ اس آپریشن کی ذمہ داری تھرڈ فرائی پین ڈویژن کی بریگیڈئیر زینب کو سونپی جائے۔ :grin:
 

مہوش علی

لائبریرین
سندھ کوئی ایم کیو ایم کے "باپ"کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی بھی پاکستانی کہیں بھی پورے ملک میں آجا سکتا ہے ۔۔پنجاب نے اسیی کوئی بات نہیں کہی کہ مہاجرین پنجاب نہیں آسکتے۔۔۔۔۔شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو پنجاب کے سکولوں‌میں‌مہاجرین کی رہائش کا بندوبست کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایم کیو ایم اور یہ جو جقسم نا م کی بلا ہے میں‌نے نام ہی پہلی بار سنا:ُ یہ اپنا ملبہ اب پنجاب پر گرا کر پاک صاف ہونا چاہ رہے ہیں ۔۔۔۔جبکہ یہ نہیں جانتے کہ عوام جانتی ہے کوئی بھی موقعہ ہو قوم کے متحدہ ہونے کا ایم کیو ایم کسی نا کسی کے پیچھے چھپ کر یا سامنے آکر گند ہی کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زینب سسٹر،

مجھے ڈر ہے کہ آپ پنجاب حکومت کے موقف کو صحیح نہیں سمجھی ہیں۔
پنجاب حکومت کا بنیادی موقف وہی ہے جو سندھ کی پارٹیوں کا ہے، اور وہ یہ کہ انفرادی طور پر تو لوگ پنجاب آ سکتے ہیں، مگر مہاجرین کیمپ صوبہ سرحد کے اندر ہی لگائے جائیں۔ نیز جو لوگ انفرادی طور پر اپنے رشتے داروں کے ہاں آئیں، انکی بھی لازمی رجسٹریشن ہونی چاہیے ہے کیونکہ طالبان جوابی ردعمل میں اس وقت ہائی ٹارگٹ خود کش حملے کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں اور سیکورٹی رسک لیول بہت زیادہ ہوا ہوا ہے۔

اس میں واحد اچھی بات جو ہے وہ یہ ہے کہ مزید انہوں نے کہا ہے کہ اگر یہ پالیسی کامیاب نہیں ہو پاتی تو پھر پنجاب میں بھی مہاجرین کیمپ لگ سکتے ہیں۔

میں نے اوپر پنجاب حکومت کے موقف کے لیے لنک مہیا کر دیا ہے۔ اس میں یہ ساری تفصیل موجود ہے۔
نیز سید شاہی نے کل جنگ اخبار میں پنجاب اور سندھی جماعتوں کی مذمت کی ہے اور اپیل کی ہے کہ وہ پہلے دن سے مہاجر کیمپوں کو کھلا رکھیں۔


c*****************

میرا اپنا خیال یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے جو صوبہ سرحد کے اپنے اندر کیمپ بنانے کی تجویز پیش کی، تو اس میں نسل پرستی کا دخل بہت کم تھا اور زیادہ مسئلہ سیکورٹی رسک کا تھا۔

مگر سندھ میں یہ چیز الٹ ہو گئی۔ سیکورٹی رسک مسئلہ ہو ہے ہی، مگر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ مسئلہ نسلی عصبیت کی صورت میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا ہے [پنجاب اور سندھ کی صورتحال میں فرق یہ ہے کہ کراچی میں 50 لاکھ پختون آبادی پہلے سے موجود ہے اور یہ بہت بڑی کمیونٹی ہے، جبکہ پنجاب کو کسی ایسے مسئلے کا سامنا نہیں ہے]


کیا دوسرے صوبوں میں آنے والے مہاجرین واپس مالاکنڈ جانا پسند کریں گے؟

اس وقت جس مشکل اور مصائب سے یہ متاثرین جنگ گذر رہے ہیں، اس صورتحال میں میرے نزدیک یہ سوچنا انکے ساتھ زیادتی ہے۔
مگر دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ کراچی و سندھ میں لوگ ایسے نہیں سوچیں گے، بلکہ وہ اپنے مفادات کو پہلے سامنے رکھیں گے۔ اور انکو بڑا خدشہ یہ ہے کہ کیمپوں میں موجود متاثرین کی اکثریت واپس جانے کی بجائے ہر صورت یہاں بس جانا چاہییں گے کیونکہ مالاکنڈ میں طالبان سے جنگ دور دور تک ختم نہیں ہوئی ہے اور تباہ و برباد مالاکنڈ میں روزگار کے مواقع کم ہی کم ہیں۔

اس لیے ان کی بھرپور کوشش یہ ہی ہے کہ متاثرین کے کیمپ صوبہ سرحد میں ہی لگیں اور تمام تر امداد وہیں پر پہنچائی جائے۔


سید شاہی کا پنجاب اور سندھ پارٹیوں پر نسلی عصبیت کا الزام لگانا
میں اپنی قوم سے پنجاب اور سندھ میں کیمپ نہ لگانے کی وجہ سے ناخوش تھی، اداس تھی۔

کل سید شاہی پنجاب اور سندھ کے ان لوگوں پر نسلی عصبیت کا الزام لگا رہا تھا۔

اور مجھے یاد آ رہا تھا کہ میں تو اپنی قوم سے اس سے کہیں پہلے بہت مایوس ہو چکی تھی جب ڈھائی لاکھ بہاری پاکستانیوں کو میری اسی قوم نے بنگلہ دیش کے کیمپوں میں گلنے سڑنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔

اور یہ سید شاہی اور اسکی پارٹی اے این پی بھی ان بڑے مجرمان میں شامل تھی جو اس وقت ان محصورین پاکستان کو لانے کی بڑھ چڑھ کر مخالفت کرتے تھے۔ انسان کیا منافق چیز ہے کہ آج یہی شاہی سید دوسروں کو نسلی عصبیت کا الزام دے رہا ہے جبکہ بذات خود وہ اسکی سب سے بڑی تصویر رہا ہے۔
 
متاثرین کے بھیس میں سندھ میں لینڈمافیا ،ڈرگ مافیا اور اسلحہ سپلائیرمافیا نے اپنی دوکان لگانے کی سازش کر رہی ہے۔

مالاکنڈ سے سندھ میں آنے والوں‌ کی حقیقت

1۔ مالاکنڈ سے سندھ میں آنے والے فوجی آپریشن کے متاثرین نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے طالبان ہیں جنہوں نے داڑھیاں منڈھوا کر بھیس بدل لیا ہے اور فرار ہوکر سندھ پہنچ رہے ہیں۔ اور خدشہ ہے کہ طالبان اور القاعدہ اپنا مرکز سرحد سے سندھ منتقل کر رہے ہیں۔

2۔ افغانیوں کو مالاکنڈ کے متاثرین کے بھیس میں لاکرخالی زمینوں پر جھگیوں میں بساناہے اور پھر آہستہ آہستہ اس پر جھگی کو پکے گھر میں تبدیل کرنا ہے۔
 
پیپلز پارٹی کے وفاقی اور صوبائی وزراء اور سینیٹرز نے بھی مالاکنڈ متاثرین کی سندھ آمد کی کھل کر مخالفت کی ہے۔
 
زینب سسٹر،

کل سید شاہی پنجاب اور سندھ کے ان لوگوں پر نسلی عصبیت کا الزام لگا رہا تھا۔

اور مجھے یاد آ رہا تھا کہ میں تو اپنی قوم سے اس سے کہیں پہلے بہت مایوس ہو چکی تھی جب ڈھائی لاکھ بہاری پاکستانیوں کو میری اسی قوم نے بنگلہ دیش کے کیمپوں میں گلنے سڑنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔

اور یہ سید شاہی اور اسکی پارٹی اے این پی بھی ان بڑے مجرمان میں شامل تھی جو اس وقت ان محصورین پاکستان کو لانے کی بڑھ چڑھ کر مخالفت کرتے تھے۔ انسان کیا منافق چیز ہے کہ آج یہی شاہی سید دوسروں کو نسلی عصبیت کا الزام دے رہا ہے جبکہ بذات خود وہ اسکی سب سے بڑی تصویر رہا ہے۔

شاہی سید نامی شخص پختون ایکشن کمیٹی یا لویہ جرگہ کا سرغنہ ہے۔شاہی سیدکراچی کے ٹرانسپوٹرز سے بھتہ بھی لیتا ہے اور اس آدمی کے چھ پٹرول پمپ بھی ہیں۔ اس بات کی گواہی 30اپریل 2009بروز جمعرات کوایک ٹی وی چینل "بزنس پلس"کے لائیو پروگرام "Pulse"میں مسلم لیگ کراچی کے رہنمانہال ہاشمی نے دی ۔ اس آدمی نے دولت کےانبار سندھ میں زمینوں پر قبضے ، ڈرگس اوراسلحہ فروخت کرکے لگائے ہیں۔
 

گرائیں

محفلین
زینب سسٹر،

مجھے ڈر ہے کہ آپ پنجاب حکومت کے موقف کو صحیح نہیں سمجھی ہیں۔
پنجاب حکومت کا بنیادی موقف وہی ہے جو سندھ کی پارٹیوں کا ہے، اور وہ یہ کہ انفرادی طور پر تو لوگ پنجاب آ سکتے ہیں، مگر مہاجرین کیمپ صوبہ سرحد کے اندر ہی لگائے جائیں۔ نیز جو لوگ انفرادی طور پر اپنے رشتے داروں کے ہاں آئیں، انکی بھی لازمی رجسٹریشن ہونی چاہیے ہے کیونکہ طالبان جوابی ردعمل میں اس وقت ہائی ٹارگٹ خود کش حملے کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں اور سیکورٹی رسک لیول بہت زیادہ ہوا ہوا ہے۔

اس میں واحد اچھی بات جو ہے وہ یہ ہے کہ مزید انہوں نے کہا ہے کہ اگر یہ پالیسی کامیاب نہیں ہو پاتی تو پھر پنجاب میں بھی مہاجرین کیمپ لگ سکتے ہیں۔

میں نے اوپر پنجاب حکومت کے موقف کے لیے لنک مہیا کر دیا ہے۔ اس میں یہ ساری تفصیل موجود ہے۔
نیز سید شاہی نے کل جنگ اخبار میں پنجاب اور سندھی جماعتوں کی مذمت کی ہے اور اپیل کی ہے کہ وہ پہلے دن سے مہاجر کیمپوں کو کھلا رکھیں۔


c*****************

میرا اپنا خیال یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے جو صوبہ سرحد کے اپنے اندر کیمپ بنانے کی تجویز پیش کی، تو اس میں نسل پرستی کا دخل بہت کم تھا اور زیادہ مسئلہ سیکورٹی رسک کا تھا۔

مگر سندھ میں یہ چیز الٹ ہو گئی۔ سیکورٹی رسک مسئلہ ہو ہے ہی، مگر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ مسئلہ نسلی عصبیت کی صورت میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا ہے [پنجاب اور سندھ کی صورتحال میں فرق یہ ہے کہ کراچی میں 50 لاکھ پختون آبادی پہلے سے موجود ہے اور یہ بہت بڑی کمیونٹی ہے، جبکہ پنجاب کو کسی ایسے مسئلے کا سامنا نہیں ہے]


کیا دوسرے صوبوں میں آنے والے مہاجرین واپس مالاکنڈ جانا پسند کریں گے؟

اس وقت جس مشکل اور مصائب سے یہ متاثرین جنگ گذر رہے ہیں، اس صورتحال میں میرے نزدیک یہ سوچنا انکے ساتھ زیادتی ہے۔
مگر دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ کراچی و سندھ میں لوگ ایسے نہیں سوچیں گے، بلکہ وہ اپنے مفادات کو پہلے سامنے رکھیں گے۔ اور انکو بڑا خدشہ یہ ہے کہ کیمپوں میں موجود متاثرین کی اکثریت واپس جانے کی بجائے ہر صورت یہاں بس جانا چاہییں گے کیونکہ مالاکنڈ میں طالبان سے جنگ دور دور تک ختم نہیں ہوئی ہے اور تباہ و برباد مالاکنڈ میں روزگار کے مواقع کم ہی کم ہیں۔

اس لیے ان کی بھرپور کوشش یہ ہی ہے کہ متاثرین کے کیمپ صوبہ سرحد میں ہی لگیں اور تمام تر امداد وہیں پر پہنچائی جائے۔


سید شاہی کا پنجاب اور سندھ پارٹیوں پر نسلی عصبیت کا الزام لگانا
میں اپنی قوم سے پنجاب اور سندھ میں کیمپ نہ لگانے کی وجہ سے ناخوش تھی، اداس تھی۔

کل سید شاہی پنجاب اور سندھ کے ان لوگوں پر نسلی عصبیت کا الزام لگا رہا تھا۔

اور مجھے یاد آ رہا تھا کہ میں تو اپنی قوم سے اس سے کہیں پہلے بہت مایوس ہو چکی تھی جب ڈھائی لاکھ بہاری پاکستانیوں کو میری اسی قوم نے بنگلہ دیش کے کیمپوں میں گلنے سڑنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔

اور یہ سید شاہی اور اسکی پارٹی اے این پی بھی ان بڑے مجرمان میں شامل تھی جو اس وقت ان محصورین پاکستان کو لانے کی بڑھ چڑھ کر مخالفت کرتے تھے۔ انسان کیا منافق چیز ہے کہ آج یہی شاہی سید دوسروں کو نسلی عصبیت کا الزام دے رہا ہے جبکہ بذات خود وہ اسکی سب سے بڑی تصویر رہا ہے۔


ان بہاری پاکستانیوں کو نہ لاسکنے کا الزام صرف سید شاہی کو یا ان کی پارٹی کو دینا نا انصافی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اے این پی نے کبھی بھی اتنی زیادہ طاقت نہ مرکز میں حاصل کی نہ اسمبلی میں کہ وہ ان پاکستانیوں کی بحالی میں مدد کر سکے۔ اے این پی بےچاری تو سندھ میں اپنےپٹھانوں کی مدد نہیں کر سکتی، بنگلہ دیش میں کیا کرے گی؟

کیا یہ سوال آپ نے ایم کیو ایم والوں سے انھی الفاظ میں پوچھا؟
 

گرائیں

محفلین
اور مجھے افسوس اس بات کا ہوا کہ پوری دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں ہمارے علاقے کو بہادروں کی سرزمین، غیرت مند لوگوں کا وطن اور پتہ نہیں کیا کیا کہہ کر آگے لگایا گیا اور آج جب ہمیں مڑ کر اپنے ہی لوگوں سے مدد کی ضرورت ہے تو کتنے گھٹیا بہانے استعمال کیئے جا رہے ہیں ۔

شرم کرو تم پاکستانیو۔۔ ہمارا پیارا وطن تم لوگوں کی خاطر تباہ ہوا، آج ہمارا ایک بھی گاؤں سلامت نہیں ہے، اور تم لوگ اسلام آباد اور لاہور اور کراچی کے کلبز میں ملکی صورت حال پر ایک ڈسکشن ایک انٹرٹیننگ ماحول میں کرتے ہو۔ اور پھر گھر جا کر اے سی میں سو جاتے ہو۔۔

صد افسوس۔۔۔

اپنے ہی ہیں کمیں گاہ میں۔ اور کون ہو سکتا ہے۔
 

زین

لائبریرین
متاثرین کے بھیس میں سندھ میں لینڈمافیا ،ڈرگ مافیا اور اسلحہ سپلائیرمافیا نے اپنی دوکان لگانے کی سازش کر رہی ہے۔

مالاکنڈ سے سندھ میں آنے والوں‌ کی حقیقت

1۔ مالاکنڈ سے سندھ میں آنے والے فوجی آپریشن کے متاثرین نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے طالبان ہیں جنہوں نے داڑھیاں منڈھوا کر بھیس بدل لیا ہے اور فرار ہوکر سندھ پہنچ رہے ہیں۔ اور خدشہ ہے کہ طالبان اور القاعدہ اپنا مرکز سرحد سے سندھ منتقل کر رہے ہیں۔

2۔ افغانیوں کو مالاکنڈ کے متاثرین کے بھیس میں لاکرخالی زمینوں پر جھگیوں میں بساناہے اور پھر آہستہ آہستہ اس پر جھگی کو پکے گھر میں تبدیل کرنا ہے۔

بہت خوب !!
کیا ثبوت فراہم کئے ہیں :applause:
 

طالوت

محفلین
پنجاب میں پٹھانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے خصوصا افغانیوں کی مگر فرق صرف اتنا ہے کہ سندھ میں یہ صرف کراچی میں مخصوص علاقوں میں مقیم ہیں جب کہ پنجاب میں ایسا نہیں ۔
رہی بات کہ کس کو کہاں نوکری ملتی ہے اور کہاں نہیں ، کہاں کیا ہے اور کیا نہیں کس کا استحصال ہوا ہے اور کس نے کیا ہے تو یہ ایک لمبی چوڑی بحث ہے ، جو اس موضوع سے متعلق نہیں ، اور یوں بھی جب اتحاد و اتفاق کے نقارے بجائے جائیں تو پھر ان میں ایسی باتوں کا تڑکا ہرگز دانش مندی نہیں ۔
وسلام
 
Top