سندھی تنظیم اور متحدہ کا مہاجرین کیمپ سندھ میں لگانے پر احتجاج

مہوش علی

لائبریرین
اچھی خبر نہیں ہے۔

سندھی تنظیم کا سندھ میں سوات کے مہاجرین کے لیے کیمپ لگانے پر احتجاج، اور متحدہ کے چند لیڈر بھی اس احتجاج میں ان کے ساتھ شامل تھے۔

http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?p...2-5-2009_pg12_2

jsqm, mqm oppose setting up of idp camps in sindh

karachi: Jeay sindh qaumi mahaz (jsqm) workers staged a protest demonstration against the setting up of relief camps for the nwfp idps in sindh.

The jsqm supporters gathered outside the karachi press club on thursday and chanted slogans against the settlement of outsiders in sindh. The demonstration was a part of jsqm’s protest against the influx of idps in the province. Mqm leaders also participated in the protest demonstration.

Addressing the protesters, jsqm chairman bashir khan qureshi alleged that sindh is being turned into swat by bringing outsiders here. He feared that the militants and suicide bombers were also entering the province disguised as idps.

“it seems that some elements want to create a situation of civil war in the province. Some four million pakhtoons are already residing in the province,” he said while adding that the urdu speaking people are brothers of sindhis and the heirs of sindh. The jsqm leader criticized sindh chief minister qaim ali shah for extending support to the idps. He demanded that he immediately wind up relief camps from the province and seal the borders of the province. He also demanded to convene a session of the sindh assembly to discuss the matter while adding that the people of sindh would come out on roads by taking weapons and siege the provincial assembly otherwise.

Nisar panwhar, an mpa belonging to mqm said that the people of sindh have sympathies with the affected persons and would also extend assistance to them but would not allow them to settle here. A jsqm leader asif baladi, mqm’s shabir qaimkhani and others also addressed on the occasion.

Earlier, a five member jsqm delegation had called on the mqm rabita committee members waseem aftab and shakir ali at the khursheed memorial hall near nine zero. Jsqm’s central finance secretary naeem mandhro led the delegates.

Both sides discussed the issue of idps in a half hour meeting and agreed that they needed to strengthen their contacts for a joint stance on sindh-specific issues such as the idps affair. The jsqm delegation expressed hope that the mqm would become a part of the peaceful strike by jsqm.

In response, the mqm rabita committee assured them of their full support. It has been learnt that jsqm has secured support from the sindh united party as well. “although the jsqm has not contacted us so far, individually we support the call for protest,” sindh taraqi passand party (stpp) vice chairman ali hassan chandio told daily times. Staff report
 

مہوش علی

لائبریرین
یہ قوم پرستی، یہ ذاتیں پاتیں، یہ لسانیت ۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ انسانیت سے بڑھ کر تو نہیں ہے۔

اس وقت سوات کی عوام کو بھرپور مدد کی ضرورت ہے جو کہ بری طرح سے مشکلات کا شکار ہے۔ اگر یہ خبر سچی ہے تو مجھے اپنی قوم کی اس حالت پر بہت افسوس ہوا یہ پڑھ کر۔
 

ساجداقبال

محفلین
یہی تو سارا رونا ہے۔۔۔
آپریشن کی حمایت ہو تو یہی تنظیمیں آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔۔۔اب مدد کا وقت آیا تو یہ حال
 

غازی عثمان

محفلین
ایک نظرادھر بھی ۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔

1100630354-1.gif

1100630341-1.gif
 

غازی عثمان

محفلین
م ق م ہمیشہ اپنے قول وفعل سے ثابت کرتی ریتی ہے کہ وہ ایک شدت و دہشت پسند لسانی گروہ کے سواء کچھ نہیں
 

شمشاد

لائبریرین
زین کہہ رہے ہیں کہ یہ خبر پہلے بھی پوسٹ ہو چکی ہے، تو کہاں ہوئی ہے، ربط ہی دے دیں تا کہ دونوں کو یکجا کر دیا جائے۔
 

باسم

محفلین
47457_big.jpg

پہلے آپریشن متاثرین کی سندھ آمد پر احتجاج کرتے ہیں، پھر انکی حمایت کرنے والوں سے پاکستان کے جھنڈے چھین کر گراتے ہیں، پاکستان کے حق میں نعروں کے مقابلے میں پاکستان مخالف نعرے لگاتے ہیں۔
پھر اپنی اس غنڈہ گردی میں آگے بڑھتے ہیں اور ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں جس میں لوگوں کی مالی املاک جلانے کے علاوہ شادی سے واپس آنے والی گیارہ بچوں کی ماں کو چار بیٹیوں کے سامنے زندہ جلا دیتے ہیں (شاید اس لیے کہ وہ انہیں غنڈہ گردی سے روکنے کیلیے احتجاجآ بس سے نہیں اتررہی تھیں)۔
 

موجو

لائبریرین
السلام علیکم!
ہاں چند دن انہوں نے بڑی کوشش کی کہ بختونوں کو طالبان کہہ کہہ کر لوگوں کو ڈرایا جائے وہ داؤ نہیں چلا تو اب سندھیوں کو استعمال کرلیا
 
سندھ: متاثرین کی آمد،جسقم کی ہڑتال

جسقم کی جانب سے سندھ بھر میں سوات کے متاثرین کی آمد کے خلاف جسقم نے انڈس ہائی وے پر دھرنا دیا ہے۔آج نیوز کے مطابق سوات آپریشن کے متاثرہ خاندانوں کی سند ھ آمد کے خلاف جئے سندھ قومی محاذ نے احتجاجی دھرنا دیا ہے دھرنے کے باعث چاروں صوبوں کے درمیان ٹریفک معطل ہوگئی ہے۔واضح رہے جسقم کی جانب سے سوات آپریشن کے متاثرہ خاندانوں کی سندھ آمد کے خلاف کراچی سمیت سندھ بھر میں شٹرڈاون ہڑتال کی کال دی ہے
 
سندھ نیشنل پارٹی کی جانب سے پناہ گزینوں کی آبادکاری کے خلاف ریلی نکالی گئی۔ ریلی پارٹی کے مرکزی آفس کینٹ اسٹیشن سے شروع ہوئی جس میں سیکڑوں کارکن شامل تھے جن کے ہاتھوں میں پارٹی پرچم، پناہ گزینوں کی آبادکاری و سندھ حکومت کی بے بسی کے خلاف نعرے درج تھے۔ ریلی کی قیادت مرکزی وائس چیئرمین رمضان بلیدی ، ڈاکٹر داوٴد آتھو، حبیب راجپر، علی بخش مگسی اور دیگر کر رہے تھے۔ کارکنوں نے وزیراعلیٰ ہاوٴس کے دونوں اطراف کے راستے بلاک کرکے دھرنا دیا ۔ اس موقع پر پارٹی وائس چیئرمین رمضان بلیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلسل پناہ گزینوں کی آبادکاری نے سندھ کی امن سلامتی اور مستقبل کو مستقل خطرے میں ڈالدیا ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے مسائل کے خاتمے کی بجائے سندھ کے حقوق اور سرحدوں کا تحفظ نہ کرکے سندھیوں کو ہمیشہ کے لئے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

خبر کا مآخذ
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=352745
 
تازہ ترین خبر

کراچی : جئے سندھ قومی محاذ کی اپیل پرسوات اور دیگر علاقوں کے متاثرین کی صوبہ سندھ آمد کے خلاف آج کراچی سمیت صوبہ سندھ کے تمام چھوٹے ، بڑے شہروں میں جزوی ہڑتال کی جا رہی ہے ، اس سلسلے میں متعدد شہروں میں کاروباری و تعلیمی مراکز بند ہیں جبکہ ٹریفک بھی معمول سے بہت کم ہے ۔

مختلف شہروں سے ون ورلڈ کے نمائندوں کے مطابق کراچی کے مختلف حصوں میں پرتشدد واقعات میں بارہ گاڑیاں نذر آتش کر دی گئیں جس سے شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ شہر میں ٹریفک انتہائی کم رہا اور دفاتر جانے والے افراد سمیت طالب علموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ کارباری مراکز بھی جزوی طور پر بند ہیں اور شہر میں امن و امان کے قیام کےلئے سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے ۔

حیدر آباد میں ریشم بازار سمیت دیگر مصروف کاروباری مراکز بند ہیں اور ٹریفک بھی بہت کم ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ اس کے علاوہ ٹنڈوالہ یار، لاڑکانہ، کشمور، کندھ کوٹ ، شکار پور، خیر پور ، کمبٹ ، رانی پور ، سو بھوڈیرو، ہنگورجہ اور سٹھارجہ ،ٹنڈو محمد خان ، دادو ، بھان ، سعید آباد ، سیہون ، جوہی ، کے این شاہ ، میہڑ ، ٹھٹھہ ، گھوٹکی ، میرپور ماتھیو اور ڈہر میں بھی جزوری ہڑتال جاری ہے ۔

مختلف شہروں میں جسقم کے کارکنوں نے سوات کے متاثرین کی سندھ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کیخلاف نعرے لگائے۔ مشتعل افراد نے کئی گاڑیوں پر پتھراﺅ بھی کیا۔ اطلاعات کے مطابق جیئے سندھ قومی محاذکے متعدد کارکنوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں جئے سندھ کے رہنما بشیر قریشی نے ون ورلڈ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ہڑتال سے حکمرانوں پر واضح ہو گیا ہے کہ سندھ کے لوگ کیا چاہتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ سوات کے متاثرین کو صوبہ سرحد تک ہی محدود رکھنا چاہیے تاکہ آپریشن کے بعد وہ اپنے گھروں کو آسانی سے لوٹ سکیں ۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کے صوبہ سندھ میں داخل ہونے سے یہاں کے مسائل میں اضافہ ہو گا ۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نقل مکانی کرنے والوں میں طالبان بھی شامل ہو سکتے ہیں جو یہاں کا امن و امان بھی تباہ کر دیں گے ۔

خبرکا ماخذ
http://www.thearynews.com/urdusite/newsdetail.asp?nid=27907
 
میں ابھی حیدر آباد میں ہوں یہاں بھی مکمل ہڑتال کی صورتحال سامنے آئی ہے ہڑتال کے باعث شہر بھر میں مکمل شٹر ڈاون کی صورتحال ہے
 

ساجداقبال

محفلین
ان سب تنظیموں کو یہ کامیاب ہڑتال مبارک ہو۔ یہی تنظیمیں آپریشن کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر بولتی تھیں اور جب مدد کا وقت آیا تو مہاجرین کیخلاف ہڑتالیں۔
 

مہوش علی

لائبریرین
السلام علیکم!
ہاں چند دن انہوں نے بڑی کوشش کی کہ بختونوں کو طالبان کہہ کہہ کر لوگوں کو ڈرایا جائے وہ داؤ نہیں چلا تو اب سندھیوں کو استعمال کرلیا

انیس بھائی، سندھیوں کو استعمال کرنے کا الزام تو شاید درست نہیں، کیونکہ بقیہ اخبارات کی خبروں سے مجھ لگ رہا ہے کہ شاید اس بندش کا متحدہ سے براہ راست تعلق نہیں اور جسقم نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ [چنانچہ شاید جسقم اس معاملے میں متحدہ کو استعمال کرنا چاہ رہی ہے]

باسم، کیا آپ کے پاس اس سلسلے میں مزید کچھ خبریں ہیں؟
 

مہوش علی

لائبریرین
انگلش کے اخبارات اور تبصرے پڑھنے کے بعد صورتحال کچھ مزید جو واضح ہوئی ہے، وہ کچھ یوں ہے:

1۔ سوات کے لوگوں کو انفرادی طور پر ملک میں ہر جگہ جانے کی آزادی ہے اور کوئی اس پر پابندی نہیں لگا سکتا۔

2۔ مگر اختلاف بنیادی طور پر متاثرین کے لیے لگائے جانے والے امدادی کیمپوں پر ہے۔
مطالبہ یہ ہو رہا ہے کہ جنگ پورے صوبہ سرحد میں نہیں پھیلی ہوئی ہے، اس لیے جتنے کیمپ لگانے ہیں وہ صوبہ سرحد میں ہی لگائے جائیں۔
امدادی کیمپوں کے حوالے سے اس معاملے میں پنجاب حکومت کی بھی یہی کوشش ہے کہ یہ امدادی کیمپ صوبہ سرح میں ہی لگیں اور پنجاب سے تمام تر امداد وہیں پر پہنچائی جائے۔

جنگ اخبار میں مشیر داخلہ کا یہ بیان نشر ہوا ہے۔

up62.gif
 
Top