سمارٹ فونز کی کارستانیاں: پرانی کتابوں کے اتوار بازار بھی خریداروں سے خالی ہونے لگے

جاسم محمد

محفلین
سمارٹ فونز کی کارستانیاں: پرانی کتابوں کے اتوار بازار بھی خریداروں سے خالی ہونے لگے

نیا دور
فروری 17, 2020

راولپنڈی: صدر کے علاقے میں جی پی او کے بالکل سامنے ہر اتوار کتابوں کا بازار لگتا ہے جہاں اردو ادب، طلبہ کے کورس، اسلامی کتب اور بچوں کی کہانیوں سمیت کئی اصناف کی کتب نہایت سستے داموں فروخت کی جاتی ہیں۔

گذشتہ اتوار ایک کتب فروش نے نیا دور سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کتب فروشی کا کاروبار بھی بری صورتحال سے دو چار ہے۔ اور اس کی وجہ مہنگائی یا حکومتی پالیسیوں کے بجائے موبائل فون اور انٹرنیٹ ہیں۔

کتب فروش سید افتخار علی نے بتایا کہ جب سے آن لائن کتب دستیاب ہوئی ہیں، لوگوں نے کتاب پڑھنا بہت کم کر دی ہیں۔ اب لوگ اپنے موبائل فونز وغیرہ پر ہی پڑھ لیتے ہیں۔

افتخار علی نے نیا دور کو بتایا کہ اب کتاب خریدنے کے لئے زیادہ تر بڑی عمر کے لوگ ہی آتے ہیں، نئی نسل کا بازار میں آنا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ تاہم افتخار علی کا کہنا تھا کہ کتاب سے پڑھنے کا جو فائدہ ہے، وہ آن لائن پڑھنے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔

راولپنڈی کا پرانی کتابوں کا یہ بازار گذشتہ کئی سالوں سے اس جگہ پر لگایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گیلانی فاؤنڈیشن کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 75 فیصد یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنے کورس کے علاوہ کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی جب کہ صرف 9 فیصد سمجھتے ہیں کہ وہ کتابیں پڑھنے کے انتہائی شوقین ہیں۔
 

فاخر

محفلین
یہ صورتحال پوری دنیا کی ہے ۔ تقریباً ایک سال قبل ’’یومِ ہندی ‘‘ پر بھارت کے مشہور اینکر رویش کمار نے اسی طرح کے مضمون پر مشتمل ایک پوسٹ انسٹاگرام پر کیا تھا جس میں ہندی قارئین کی گھٹتی ہوئی تعداد پر مرثیہ پڑھا تھا ۔ لکھا :’ کیلو کے بھاؤ سے بکنے والا ہندی ساہتیہ (ادب) اب پاٹھکوں (قارئین) سے دور بہت دور ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں پانچ روپے کیلو کتابوں کی قیمت لکھی تھی،لیکن اس کے بعد بھی قارئین کا کوئی میلان کتابوں کی طرف نہیں تھا۔
آنے والا دور ’بک‘ اور ’پین‘ لیس ہوگا۔ نوبت یہ کہ سالوں سے کی بورڈ سے دو دو ہاتھ کرنے کے باعث قلم چھوٹ گیا، مجھے یاد ہی نہیں کہ کب میں نے استعمال کیلئے قلم خریدا تھا! دستی تحریر اتنی خراب ہوگئی ہے کہ اپنا لکھا بھی پڑھا نہیں جاتا، جب کہ طالب علمی کے زمانے میں میں’ خوشخط‘ تھا ۔ خط نستعلیق اور خط قرآنی میں ہمیشہ پوری جماعت میں اول تھا۔
 

عدنان عمر

محفلین
افتخار علی کا کہنا تھا کہ کتاب سے پڑھنے کا جو فائدہ ہے، وہ آن لائن پڑھنے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
کتاب اگر ہارڈ کاپی کے بجائے سافٹ کاپی کی شکل میں پڑھی جائے تب بھی وہ کتاب ہی کہلائے گی۔ صورت بدلنے سے معنی تو نہیں بدلتے۔
 

عرفان سعید

محفلین
کتب بینی فن لینڈ کے باشندوں کی امتیازی خصوصیت ہے۔ محض 55 لاکھ آبادی والے ملک میں آن لائن کی تمام سہولتیں میسر ہونے کے باوجود، یہاں کی اکثریت کتابیں خرید کر ہی پڑھنا پسند کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کا بہترین لائبریری نیٹ ورک مطالعہ کے ہر ممکن مواقع فراہم کرتا ہے۔

ربط
 

محمداحمد

لائبریرین
ویسے ہمارے ہاں تو لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا رواج بہت کم ہے۔

اور جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں وہ زیادہ تر ایسے ہیں جو ہارڈ کاپیز پڑھتے ہیں اور پھر اُن کے بعد وہ لوگ ہیں جو ہارڈ کاپیز بھی پڑھتے ہیں اور سافٹ کاپیز بھی۔

لوگوں میں کتابیں پڑھنے کے رجحان کو فروغ دیا جانا بہت ضروری ہے چاہے وہ کسی بھی شکل میں کتابیں پڑھیں۔

اور یہ کہ لوگوں کو اس بات کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور پائیرسی سے بچیں۔
 

علی وقار

محفلین
میری نظر میں کتاب پڑھنے کی ضرورت کو ابھارے جانے کی ضرورت ہے۔ جب کتاب پڑھے بغیر کام چل رہا ہے تو کون سا طالب علم، ریسرچر اور خواندہ فرد اس تردد میں پڑے گا۔ کتاب پڑھنے کا شوق عام طور پر بچپن سے پڑتا ہے اس لیے اب نئی پود کو اس طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ مشکل یہ ہے کہ سکول اور کالج کےزیادہ تر اساتذہ محض نصابی کتب پڑھ کر کلیدی عہدوں پر پہنچ گئے ہیں اور انہیں غیر نصابی کتاب کی اہمیت کا ادراک تک نہیں۔ طلباء میں مفت لیپ ٹاپ تو بانٹ دیے جاتے ہیں، مگر رعایتی قیمت پر یا مستحق ہونہار طلباء میں مفت کنڈل تقسیم کرنا بھی ایک حل ہے کہ اس میں ہزار ہا کتب بیک وقت سما جاتی ہیں اور آنکھوں پر مطالعہ کرتے ہوئے بوجھ بھی نہیں پڑتا۔ ہمیں اب ہارڈ کاپی اور سافٹ کاپی کے چکر سے نکلنا ہو گا۔ جدید دور میں لکھنے پڑھنے کا چلن یکسر بدل گیا ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
میری نظر میں کتاب پڑھنے کی ضرورت کو ابھارے جانے کی ضرورت ہے۔

کتاب پڑھنے کا شوق عام طور پر بچپن سے پڑتا ہے اس لیے اب نئی پود کو اس طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے۔
درست!!

جب کتاب پڑھے بغیر کام چل رہا ہے تو کون سا طالب علم، ریسرچر اور خواندہ فرد اس تردد میں پڑے گا۔

مشکل یہ ہے کہ سکول اور کالج کےزیادہ تر اساتذہ محض نصابی کتب پڑھ کر کلیدی عہدوں پر پہنچ گئے ہیں اور انہیں غیر نصابی کتاب کی اہمیت کا ادراک تک نہیں۔
جی ہمارا تعلیمی نظام چونکہ امتحان پاس کرنا سکھاتا ہے ۔ اس لئے ہمارے ہاں کے بچوں کو غیر نصابی مطالعے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ نہ ہی آج کے ٹیچر غیر نصابی مطالعے کو فروغ دیتے نظر آتے ہیں۔

طلباء میں مفت لیپ ٹاپ تو بانٹ دیے جاتے ہیں، مگر رعایتی قیمت پر یا مستحق ہونہار طلباء میں مفت کنڈل تقسیم کرنا بھی ایک حل ہے کہ اس میں ہزار ہا کتب بیک وقت سما جاتی ہیں اور آنکھوں پر مطالعہ کرتے ہوئے بوجھ بھی نہیں پڑتا۔
لیپ ٹاپ کا تو یہ ہے کہ وہ ہر طرح کی کمپیوٹیشن کے کام آسکتا ہے۔ لیکن کنڈل صرف کتابوں تک محدود ہے۔

حکومتی سطح پر کتابوں کے فروغ کے کچھ کام کیے بھی جاتے ہیں۔ جیسے نیشنل بک فاؤنڈیشن نصف قیمت پر کتابیں دینے کی ایک مہم چلاتی ہے۔ لیکن اس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
کتابیں نہ پڑھنے کی ایک اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کا عمومی تعلیمی نظام انتہائی غیر معیاری ہے۔ اور اچھے خاصے تعلیمی سال گزارنے کے باوجود بچوں کی اکثریت کو اردو اور انگریزی زبان پڑھنے اور سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے۔

انگریزی اسکول کے بچے انگریزی تو پڑھ اور سمجھ لیتے ہیں لیکن اردو کی کتابیں پڑھنا اُن کے لئے دشوار ہوتا ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
جیسے نیشنل بک فاؤنڈیشن نصف قیمت پر کتابیں دینے کی ایک مہم چلاتی ہے۔
50%25%20discount%20standee%20and%20banner%20%281%29_0.JPG


ریڈر کلب
 

شہزاد وحید

محفلین
میری خود یہی حالت ہے۔ کبھی ایسے جمعہ اور اتوار بازاروں میں دن گزرا کرتے تھے۔ کتاب کی ضنخامت خوشگوار ی کا احساس دلاتی تھی۔ لیکن اب آئی پیڈ نے فلم بینی سے لیکر کتاب بینی تک تمام ضروریات پوری کر دی ہیں۔ گوجرانوالہ شہر کی تمام لائبریریز بند ہو چکی ہیں۔ صرف ایک میونسپلٹی لائبریری اپنے ملازموں کو روزگار دینے کا کام کر رہی ہے۔
 

عثمان

محفلین
گذشتہ دنوں تارڑ کی کچھ کتب ای بک کی صورت میں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان کے انٹرویو سے معلوم ہوا کہ مصنف اور ناشر دونوں ہی ای بک کے حق میں نہیں کہ ان کے نزدیک پائریسی بڑھے گی حالانکہ پائریسی کے عادی لوگ پہلے ہی اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ ای بک نہ چھاپ کر وہ محض جائز کتب خریدنے والوں کو اپنے سے دور کر رہے ہیں۔
 

محمداحمد

لائبریرین
گذشتہ دنوں تارڑ کی کچھ کتب ای بک کی صورت میں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان کے انٹرویو سے معلوم ہوا کہ مصنف اور ناشر دونوں ہی ای بک کے حق میں نہیں کہ ان کے نزدیک پائریسی بڑھے گی حالانکہ پائریسی کے عادی لوگ پہلے ہی اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ ای بک نہ چھاپ کر وہ محض جائز کتب خریدنے والوں کو اپنے سے دور کر رہے ہیں۔

یہ بات بالکل درست ہے!

آج نہیں تو کل انہیں ای بک کی طرف آنا پڑے گا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
میری خود یہی حالت ہے۔ کبھی ایسے جمعہ اور اتوار بازاروں میں دن گزرا کرتے تھے۔ کتاب کی ضنخامت خوشگوار ی کا احساس دلاتی تھی۔
پرانی یادیں!
لیکن اب آئی پیڈ نے فلم بینی سے لیکر کتاب بینی تک تمام ضروریات پوری کر دی ہیں۔
بہ یک وقت اچھی اور برُی بات :)
گوجرانوالہ شہر کی تمام لائبریریز بند ہو چکی ہیں۔ صرف ایک میونسپلٹی لائبریری اپنے ملازموں کو روزگار دینے کا کام کر رہی ہے۔
افسوسناک!
 

آوازِ دوست

محفلین
سافٹ فارم میں کتابیں پڑھنا اس لیے آسان ہے کہ کتاب گویا ہر وقت سرہانے دھری ہے۔ آڈیو بکس آپ کو بتاتی ہیں کہ ایفرٹ لیس ایز کسے کہتے ہیں۔ ایک دن ممکن ہے کسی بھی حِس کو کام میں لائے بغیر ابلاغ ہو جائے مگر اے دوست یہ ساری ترقی، ہاں یہ ساری کی ساری ترقی مل کر بھی اصل کتاب میں رکھے کسی مرجھائے ہوئے پھول کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔کاغذ والی تحریریں کتابِ زندگی کا سدا بہار ورق بن سکتی ہیں۔
 
Top