سمارٹ فونز کی کارستانیاں: پرانی کتابوں کے اتوار بازار بھی خریداروں سے خالی ہونے لگے

جاسم محمد نے 'انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 17, 2020

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    23,884
    سمارٹ فونز کی کارستانیاں: پرانی کتابوں کے اتوار بازار بھی خریداروں سے خالی ہونے لگے
    [​IMG]
    نیا دور
    فروری 17, 2020
    [​IMG]
    راولپنڈی: صدر کے علاقے میں جی پی او کے بالکل سامنے ہر اتوار کتابوں کا بازار لگتا ہے جہاں اردو ادب، طلبہ کے کورس، اسلامی کتب اور بچوں کی کہانیوں سمیت کئی اصناف کی کتب نہایت سستے داموں فروخت کی جاتی ہیں۔

    گذشتہ اتوار ایک کتب فروش نے نیا دور سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کتب فروشی کا کاروبار بھی بری صورتحال سے دو چار ہے۔ اور اس کی وجہ مہنگائی یا حکومتی پالیسیوں کے بجائے موبائل فون اور انٹرنیٹ ہیں۔

    کتب فروش سید افتخار علی نے بتایا کہ جب سے آن لائن کتب دستیاب ہوئی ہیں، لوگوں نے کتاب پڑھنا بہت کم کر دی ہیں۔ اب لوگ اپنے موبائل فونز وغیرہ پر ہی پڑھ لیتے ہیں۔

    افتخار علی نے نیا دور کو بتایا کہ اب کتاب خریدنے کے لئے زیادہ تر بڑی عمر کے لوگ ہی آتے ہیں، نئی نسل کا بازار میں آنا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ تاہم افتخار علی کا کہنا تھا کہ کتاب سے پڑھنے کا جو فائدہ ہے، وہ آن لائن پڑھنے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔

    راولپنڈی کا پرانی کتابوں کا یہ بازار گذشتہ کئی سالوں سے اس جگہ پر لگایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ گیلانی فاؤنڈیشن کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 75 فیصد یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنے کورس کے علاوہ کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی جب کہ صرف 9 فیصد سمجھتے ہیں کہ وہ کتابیں پڑھنے کے انتہائی شوقین ہیں۔
     
    • غمناک غمناک × 3
    • متفق متفق × 1
  2. فاخر

    فاخر محفلین

    مراسلے:
    902
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    یہ صورتحال پوری دنیا کی ہے ۔ تقریباً ایک سال قبل ’’یومِ ہندی ‘‘ پر بھارت کے مشہور اینکر رویش کمار نے اسی طرح کے مضمون پر مشتمل ایک پوسٹ انسٹاگرام پر کیا تھا جس میں ہندی قارئین کی گھٹتی ہوئی تعداد پر مرثیہ پڑھا تھا ۔ لکھا :’ کیلو کے بھاؤ سے بکنے والا ہندی ساہتیہ (ادب) اب پاٹھکوں (قارئین) سے دور بہت دور ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں پانچ روپے کیلو کتابوں کی قیمت لکھی تھی،لیکن اس کے بعد بھی قارئین کا کوئی میلان کتابوں کی طرف نہیں تھا۔
    آنے والا دور ’بک‘ اور ’پین‘ لیس ہوگا۔ نوبت یہ کہ سالوں سے کی بورڈ سے دو دو ہاتھ کرنے کے باعث قلم چھوٹ گیا، مجھے یاد ہی نہیں کہ کب میں نے استعمال کیلئے قلم خریدا تھا! دستی تحریر اتنی خراب ہوگئی ہے کہ اپنا لکھا بھی پڑھا نہیں جاتا، جب کہ طالب علمی کے زمانے میں میں’ خوشخط‘ تھا ۔ خط نستعلیق اور خط قرآنی میں ہمیشہ پوری جماعت میں اول تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  3. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    1,303
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کتاب اگر ہارڈ کاپی کے بجائے سافٹ کاپی کی شکل میں پڑھی جائے تب بھی وہ کتاب ہی کہلائے گی۔ صورت بدلنے سے معنی تو نہیں بدلتے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    کتب بینی فن لینڈ کے باشندوں کی امتیازی خصوصیت ہے۔ محض 55 لاکھ آبادی والے ملک میں آن لائن کی تمام سہولتیں میسر ہونے کے باوجود، یہاں کی اکثریت کتابیں خرید کر ہی پڑھنا پسند کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کا بہترین لائبریری نیٹ ورک مطالعہ کے ہر ممکن مواقع فراہم کرتا ہے۔

    ربط
     
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,752
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    امریکہ میں اوسطاً 12 کتب سالانہ
    One-in-five Americans now listen to audiobooks
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر