سلسلہ اویسیہ

نور وجدان نے 'تاریخ اسلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 26, 2016

  1. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    آپ پر سلامتی ہو سدا میرے محترم
    جی بلا شک دندان مبارک والا واقعہ ہی مراد ہے ۔
    کیا یہ واقعہ احادیث مبارکہ میں شامل ہونا چاہیئے تھا ؟
    احادیث مبارکہ میں نفس مضمون کس ہستی مبارک کے قول اور فعل کو بیان کرتا ہے ۔؟
    حدیث کہتے کسے ہیں ۔ ؟
    میرے محترم بھائی یہ حدیث نہیں ہے ۔ یہ اک واقعہ ہے جو کے بطور " ترغیب " سنتا پڑھتا آیا ہوں ۔
    کسی اک سے نہیں سنا نہ ہی کسی اک کتاب میں پڑھا ۔
    آج کل سے نہیں بلکہ قریب 50 سال ہو چکے ہیں ۔
    اس واقعہ میں ہے کیا ؟
    کیا پیغام ہے اس میں ؟
    کیا آپ واضح کر سکیں گے کہ
    کس " باعث " آپ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جناب اویس قرنی کا ذکر بہت پیار سے کرتے ان سے امت کے لیئے دعا کروانے کے مشتاق ہوئے ۔۔؟
    مان لیتے ہیں یہ واقعہ من گھڑت ہے ۔ یہ بھی مان لیتے ہیں جس نے گھڑا اس نے کچھ مفاد حاصل کیا ۔
    سوال تو یہ ہے کہ جب ہم یہ واقعہ پڑھتے ہیں تو کس رخ سے یہ واقعہ ہمیں گمراہ کرتا ہے ۔
    یا کس صورت ہمیں " حب رسول " کے دعوی کو عمل میں بدلنے کی نصیحت کرتا ہے ۔
    آپ کے جو محترم دوست احادیث کی تحقیق کرتے ہیں ۔
    ان سے مودبانہ گزارش کرتے یہ پوچھیئے گا کہ ان کی تحقیق میں شامل ذخیرہ احادیث عربی متن یا ترجمہ شدہ کا سن طباعت کیا ہے ۔؟
    موضوع سے دور جاتے اک سوال کہ " کیا یہ ممکن ہے کہ قائد اعظم " کی مشہور و متنازعہ"سیکولر پاکستان " والی تقریر بارے تحقیق کرتے یہ حقیقت سامنے لائی جائے کہ یہ تقریر سچ ہے کہ جھوٹ ۔۔۔؟ ملحوظ رہے یہ صرف قریب 68 سال پرانا واقعہ ہے ۔۔
    آپ اپنے اعتراضات بلا جھجھک لکھیں کہ آپ میرے نزدیک اہل علم ہیں اور احترام کے قابل ۔
    آپ سے گفتگو کرتے ان شاء اللہ مجھے علم ملے گا ۔۔۔
    بہت دعائیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    13,493
    جھنڈا:
    Pakistan
    قلندر سلسلہ نہیں اولیاء اللہ کا ایک طبقہ ہے جو دنیا و مافیہا سے بے خبر تجلیات الہیہ میں ہمہ وقت مستغرق رہتا ہے...
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,509
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جی ہم مسلمانوں بالعموم اور اہل سنت نے بالخصوص غلط روش پکڑی ہے کہ کبھی کسی بات کا حوالہ یا اس کی اصل تک جانے کی کوشش چھوڑ دی ہے۔ سن تو میں بھی بچپن سے رہا ہوں۔ کبھی ماں جی سے، کبھی احباب و خطبا سے۔
    حدیث کے لفظی معنی تو بات کہ ہیں۔ اصطلاحی معنی کم علمی کے باعث مختصرا عرض کر رہا ہوں۔ کتب حدیث اور اصول میں جامع درج ہیں۔
    آپ علیہ الصلوۃ والتسلیم کا قول، فعل، آپ کے سامنے ہوا فعل جس پر کچھ ارشاد فرمایا یا خاموش رہے، صحابی کا قول فعل۔
    آقا کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے اقوال کا مفہوم عرض ہے۔ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر|میری طرف جھوٹ باندھا|منسوب کیا۔ اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم بنایا۔
    کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات آگے پہنچائے۔
    یہ واقعہ غزوۂ احد میں سرکار علیہ الصلوۃ والتسلیم کے دندان مبارک شہید ہونے کی طرف منسوب ہے۔ اس لحاظ سے یہ واقعہ 3ہجری کا ہے۔ جبکہ جو روایت دعا والی موجود ہے وہ آقا کریم کے آخری ایام کی ہے لگ بھگ 10، 11 ہجری کا۔ اس کے علاوہ حضرت اویس قرنی کا ذکر روایات میں نہیں ملتا۔ لہذا 3 ہجری کی وہ روایت موجود ہونی چاہیے جس میں خواجہ صاحب کے دندان گرانے کا ذکر موجود ہو۔ دوم اسلام میں خود پر کسی بھی طرح سے ظلم، خودکشی حرام ہے۔ لہذا یہ شریعت کے بھی منافی ہے۔ علاوہ آپ کتب احادیث نہ سہی کتب تاریخ یا احوال اولیاء میں سے کہیں سے بھی اس روایت کی صحیح و حسن نہ سہی غریب یا ضعیف روایت ہی لا دیں۔ میں نے پہلے عرض کی میں نے اعتراض نہیں کیا سوال کیا ہے اور صرف اس فورم پہ نہیں اپنے دیگر احباب سے جو اس کی تلاش میں ہیں اگر واقعی کچھ ملا تو بتائیں گے ورنہ ہم اس روایت کو شدید موضوع ہی سمجھیں گے۔
    رہا سوال کہ آقا کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کیوں مشتاق ہوئے تو فقیر نے اتنی جرات نہیں کی کہ قول رسول پر کیوں کا سوال اٹھائے۔ یمن سے میرے آقا کو محبت تھی۔ آپ نے اس کے لیے دعائیں بھی فرمائی ہیں اور وہاں سے قافلوں کے آنے جانے کی روایات بھی موجود ہیں تو آپ کی بارگاہ میں اویس قرنی کا ذکر ہونا بعید از قیاس نہیں ہے۔
    کسی نے کیا مفاد حاصل کیا؟ نہیں معلوم۔ آپ نے محبت اور عشق کی مثالیں دینی اور نصیحتیں کرنی ہیں تو اولا صحیح روایات موجود ہیں نہیں تو خواجہ سعدی اور مولانا روم نے کس بھی ہستی سے منسوب کيے بغیر حکایات و روایات بیان کی ہیں۔ وہ طریقہ بھی موجود ہے۔ معاملہ بہر حال تحقیق طلب ہے۔
    ترجمہ شدہ وہ نہیں دیکھتے اور نہ ہی ترجمہ شدہ کی حوالہ دینے میں کوئی خاص حیثیت ہے۔ باقی جملہ کتب ہر جگہ میسر ہیں۔ ہاں ہمیں بترجمہ میسر نہیں ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ موجود ہی نہیں ہیں۔
    غیر متعلقہ سوال کا جواب مناسب تو نہیں ہے کہ دیا جائے۔ لیکن عرض اتنی ہے کہ یہ اعتراض کرنے والے کون ہیں؟ کب سے ہیں؟ ان کے بظاہر اور درپردہ کیا مقاصد ہیں؟ دوم یہ کہ دلائل بہت موجود ہیں دنیا دے رہی ہے دیتی رہے گی۔ اپنی گزارش یہ ہے کہ فقیر کے مرشد حضور امیر ملت بانی پاکستان پیر سید جماعت علی شاہ صاحب محدث علی پوری، کا نام اور کام تحریک پاکستان کے حوالے سے تعارف کا محتاج نہیں۔ سو سال سے زائد عمر کے باوجود آپ نے مسلمانوں کو مسلم لیگ میں شمولیت اور قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں قیام پاکستان کے لیے بے پناہ خدمات (جانی، مالی، تقریری) سر انجام دیں۔ آپ نے فرمایا تھا، جناح ہمارا مجاہد ہے۔ پاکستان بنانا ہمارا مشن ہے اور جناح اس مشن میں ہمارا کام کر رہا ہے۔ وہ اس سے دستبردار ہو بھی تو پاکستان کا قیام اٹل حقیقت ہے۔ پھر آپ کا مشہور قول کہ لوگ اس کی ظاہری حالت کیوجہ سے اسے فرنگی سمجھتے ہیں جبکہ اللہ کا ولی ہے۔ الغرض سو باتیں ہیں لیکن ہمارے لیے ہمارے مرشد کا قول معتبر ہے۔ اس سے غرض نہیں لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔
    اللہ و ورسولہ اعلم۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,509
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    آپ کے اس شدید حسن ظن پر آپ کا شکریہ۔ مجھے قطعی طور پر اہل علم میں شامل نہ کریں یہ ان کی توہین ہے۔ میرا مطالعہ کتب بالکل بھی نہیں ہے اور میں نہ ہی کوئی طالب علم ہوں کہ کسی طرح کتب سے وابسطہ ہوں۔ ایک کھلنڈرا ہوں۔ یہ ہی سمجھیں۔
    اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آپ کے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. خادم اویسی

    خادم اویسی محفلین

    مراسلے:
    1
    حضور فیض ملت علیہ الرحمہ کی بعض تصانیف جو سلسلہ اُویسیہ / بزرگانِ اُویسیہ کے متعلق لکھی گئیں
    وہ رسائل و کتب جو سلسلہ اُویسیہ کے متعلق ہیں

    سلسلہ اُویسیہ ایک مستقل سلسلہ ہے
    ۳ جمادی الآخر ۱۴۲۷ھ کو بہاولپور میں تصنیف فرمایا جس کو بزمِ فیضانِ اُویسیہ کراچی نے شائع کیا

    رسالہ اُویسیہ کے سبع اُصول
    ۳ جمادی الآخر ۱۴۲۷ھ کو بہاولپور میں ’’سلسلہ اُویسیہ کے سبع اُصول‘‘ کی تصنیف کا آغاز فرمایا جو ۲۷ جمادی الآخر ۱۴۲۷ھ بدھ کو بہاولپور میں مکمل فرمایا جسے بزمِ فیضانِ اُویسیہ کراچی نے شائع کیا۔

    سلسلہ اُویسیہ کے اوراد ووظائف
    ۲۴ ربیع الآخر۱۴۰۵ھ بروز بدھ بہاولپور میں ’’سلسلہ اُویسیہ کے اوراد و وظائف‘‘ مکمل فرمایا جے حضرت علامہ پیر سید محمد عارف شاہ اُویسی صاحب نے کراچی سے شائع کرایا۔

    سلسلہ اُویسیہ کے ثبوت کی علمی تحقیق
    ۱۸ رجب المرجب ۱۴۲۳ھ بروز جمعرات قبل صلوۃ العصر بہاولپور ’’سلسلہ اُویسیہ کے ثبوت کی علمی تحقیق‘‘ مکمل فرمایا جسے کئی اشاعتی ادارہ نے شائع کیا۔

    وہ رسائل و کُتب جو بزرگانِ اُویسیہ کے متعلق لکھے گئے جس میں سلسلہ اُویسیہ کے حوالے سے کئی مواد موجود ہے

    ۲۴ ذیقعدہ ۱۴۰۵ھ ، ۲۵فروری ۱۹۸۶ء کو سلسلہ اُویسیہ کے بانی محبوب سیّد المرسلینﷺ، خیر التابعین حضرت خواجہ سیّدنا اُویس قرنی رضی اللہ عنہ کے حالات پر جامع کتاب بنام ’’ذکر اُویس‘‘ مکمل فرمائی جسے مولانا بلال احمد غوری اُویسی نے مکتبہ اُویسیہ رضویہ بہاولپور سے شائع کرایا۔ بعدازاں کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔

    ۲۲ ذیقعدہ ۱۴۰۵ھ ، ۲۳ فروری ۱۹۸۶ء بروز ہفتہ بہاولپورمیں سلسلہ اُویسیہ کے دو عظیم بزرگوں کے مختصر حالات ’’حالات سیّدنا خواجہ اُویس قرنی وحضرت خواجہ عبدالخالق رحمہما اللہ‘‘ مکمل فرمایا جسے شیخ دلشاد احمد قریشی صاحب کے تعاون سے مکتبہ اُویسیہ رضویہ بہاولپورنے شائع کیا۔

    ۱۶ محرم الحرام ۱۴۰۶ھ بروز بدھ بہاولپور مین سلسلہ اُویسیہ کے شیخ کامل حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات پر تفصیلی کتاب ’’ذکر سیرانی‘‘ مکمل فرمائی جسے شیخ المیراث مفتی محمد صالح اُویسی رحمۃ اللہ علیہ نے بزم اُویسیہ رضویہ بہاولپور کے زیر اہتمام شائع کیا۔ بعدازاں مکتبہ اُویسیہ رضویہ بہاولپورنے کئی ایڈیشن شائع کئے۔

    ۲۴ ذیقعدہ ۱۴۲۲ھ کو بہاولپور میں سیّد محمد منصور شاہ اُویسی صاحب کی خواہش پر ’’مختصر سوانح حضرت خواجہ اُویس قرنی رضی اللہ عنہ‘‘ تحریر فرمائی جسے عطاری پبلشرکراچی نے جمادی الآخر۱۴۲۴ھ، اگست ۲۰۰۳ء میں شائع کیا۔

    ۲۳ صفر المظفر ۱۴۲۹ھ کو بہاولپور میں سلسلہ اُویسیہ کے بانی خیر التابعین حضرت خواجہ اُویس قرنی رضی اللہ عنہ کے اقوالِ زریں کی شرح میں ’’شرح ملفوظات اُویس‘‘ تصنیف فرمائی جسے محمد سہیل اُویسی کے زیر اہتمام ادارہ تالیفات اُویسیہ بہاولپور نے اپریل ۲۰۰۹ء میں شائع کیا۔

    یہ مسودہ جس کی ایک عرصہ سے فقیر کو تلاش ہے

    سلسلہ اویسیہ کے تین قطب
    یکم ذوالحجہ ۱۳۸۵ھ ، ۲۴ مارچ ۱۹۶۶ء بروز منگل بہاولپور میں ’’سلسلہ اُویسیہ کے تین قطب‘‘ کا آغاز فرمایا۔
     

اس صفحے کی تشہیر