سری لنکا کرکٹ‌ ٹیم پر لاہور میں‌ حملہ

جہانزیب نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 3, 2009

  1. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    انتہاپسندی اور جلدبازی کے تجزیے [بشکریہ بی بی سی ]
    وجاہت مسعود
    لاہور
    [​IMG]
    [​IMG] [​IMG]
    پاکستان کے ذرائع ابلاغ اور کچھ سیاسی حلقوں میں انتہا پسندی کے عذرخواہوں کی کوئی کمی نہیں لاہور لبرٹی چوک میں سری لنکا کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے کے چند ہی منٹ بعد ایک ٹی وی چینل پر ایک معروف ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کا براہ راست انٹرویو نشر کیا گیا جنھوں نے حملے کے قلابے ممبئی کے دہشت گرد حملوں سے ملاتے ہوئے خیال ظاہر کیا کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے ممبئی حملوں کا انتقام ہے۔
    اس ابتدائی اشارے کے بعد پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینلوں کا رُخ ممبئی حملوں اور پھر بھارت کے ممکنہ انتقامی کردار کی طرف مُڑ گیا۔ بہت کم تجزیہ کاروں نے اِس نکتے پر توجہ دی کہ اگر ممبئی حملوں اور لاہور کے لبرٹی چوک میں دہشت گردی کے طریقہ واردات میں مماثلت پائی جاتی ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہیں زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ یہ واردات بھی غالباً اُسی تنظیم کا کام ہے جس نے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔
    بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ہمسایہ ملک پر سازش کا الزام لگانے کا مقصد لاہور میں حملے کے مرتکب افراد کی نشاندہی سے زیادہ اُن کی طرف سے توجہ ہٹانا معلوم ہوتا تھا۔

    [​IMG] خوف و ہراس

    پاکستان کے ذرائع ابلاغ اور کچھ سیاسی حلقوں میں انتہا پسندی کے عذرخواہوں کی کوئی کمی نہیں۔ اِن حلقوں کا آزمودہ طریقہ کار انتہا پسندی کی کسی واردات کے بعد ایسی دھول اُڑانا ہے جس سے واردات کے مرتکب عناصر سے توجہ ہٹ جائے اور رائے عامہ کو انتہا پسندی کے مفروضہ اسباب اور سازشی نظریات میں اُلجھا دیا جائے۔ یہ اصحاب اِس امر کی نشاندہی کرنے میں تو بہت دلچسپی رکھتے ہیں کہ انتہا پسندی کی پشت پناہی کون کر رہا ہے لیکن یہ بیان کرنے سے ہچکچاہتے ہیں کہ ایسی کارروائیاں در حقیقت کون کر رہا ہے؟ یہ طریقہ کار انتہاپسندوں کے لیے نہایت مفید مطلب ہے۔
    ابتدائی غبار بیٹھنے کے کچھ عرصہ بعد انتہا پسند تنظیمیں واقعے کی ذمہ داری قبول کر لیتی ہیں۔ ڈنمارک کے سفارت خانے یا میریٹ ہوٹل پر حملوں کے فوراً بعد تواتر سے بیرونی ہاتھ کا ذکررہا ۔ کچھ عرصہ بعد القاعدہ نے تسلیم کر لیا کہ دونوں مقامات پر اس کے فرستادہ اراکین نے حملے کیے تھے۔
    دہشت گردی کی کسی بھی واردات کے بعد رائے عامہ میں انتہاپسندوں کے خلاف شدید نفرت پیدا ہونا لازمی امر ہے۔ جھوٹ یا تاویل آرائی کی مدد سے اس ممکنہ نفرت کو دبانا کسی بھی انتہا پسند کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
    ایک نکتہ یہ بھی اُٹھایا گیا کہ القاعدہ یا اِس کی ذیلی تنظیمیں سری لنکا کو نشانہ کیوں بنائیں گی؟ اِس استدلال میں بنیاد پرست انتہا پسندی کی نوعیت کو سرے سے نظر اندازکر دیا گیا۔ القاعدہ یا اُس کی حلیف تنظیموں کو فلسطین، کشمیر یا افغانستان سے کوئی خصوصی تعلق نہیں ۔
    1998ءمیں القاعدہ نے مغربی دنیا کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا تو اُس میں فلسطین یا کشمیر کا ذکر تک نہیں تھا۔ بنیاد پرستوں کا اصل مقصد اپنی ہدف سرزمینوں اور بالآخر پوری دنیا پر اپنا تصور مذہب اور اُس سے پھوٹنے والا تصور سیاست مسلط کرنا ہے۔ اس راہ میں بُدھا کے مجسمے تباہ کیے جا سکتے ہیں اور اہلِ تشیع مسلمانوں پر حملے بھی ہو سکتے ہیں۔

    [​IMG] القاعدہ منشور
    [​IMG] 1998ءمیں القاعدہ نے مغربی دنیا کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا تو اُس میں فلسطین یا کشمیر کا ذکر تک نہیں تھا۔ بنیاد پرستوں کا اصل مقصد اپنی ہدف سرزمینوں اور بالآخر پوری دنیا پر اپنا تصور مذہب اور اُس سے پھوٹنے والا تصور سیاست مسلط کرنا ہے۔ اس راہ میں بُدھا کے مجسمے تباہ کیے جا سکتے ہیں اور اہلِ تشیع مسلمانوں پر حملے بھی ہو سکتے ہیں
    [​IMG]


    انتہا پسند کسی قوم یاگروہ کا اس لیے مخالف نہیں کہ مذکورہ قوم یا گروہ نے اُسے کوئی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے تصور عالم میں ہر وہ فرد، گروہ اور قوم اُس کی دشمن اور جائز ہدف ہے جو اُس سے مختلف ہے یا اُس کے دستِ وحشت خیز پر بیعت کے لیے تیار نہیں۔ لاہور میں حملے کے بعد ایک سوال یہ اُٹھا کہ انتہا پسند کرکٹ کے کھلاڑیوں کو کیوں نشانہ بنائیں گے؟ اِس دلیل میں یہ مفروضہ کار فرما ہے کہ یہ لوگ کرکٹ جیسے معصوم شغل سے کیوں کِد رکھیں گے۔ اِس میں یہ حقیقت فراموش کی جا رہی ہے کہ انتہا پسندی بنیادی انسانی معصومیت ہی کی دشمن ہے۔ ہدف جس قدر معصوم ہو دہشت گردی اُسی قدر موثر قرار پاتی ہے۔ دہشت گردی کا مقصد خوف زدہ کرنا ہے۔ ایک بالغ انسان کی مصیبت کے مقابلے میں کسی معصوم بچے کی اذیت زیادہ دہشت ناک ہوتی ہے۔
    یوں بھی اب سے پچیس برس پہلے ڈاکٹر اسرار احمد نے کرکٹ کو فُحش کھیل قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ اُن دنوں تحریک انصاف کے رہنما عمران خان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے۔ طالبان کے افغانستان میں گیند سے کھیلنے والے بچوں پر تشدد کیا جاتا تھا۔ بات کرکٹ کی معصومیت یا کھلاڑیوں کی غیر سیاسی شناخت کی نہیں، انتہا پسند اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوئی بھی راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔
    انتہا پسند پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے میں اپنے پنجے موثر طور پر گاڑ چکے ہیں۔ اگلا منطقی ہدف پنجاب ہے۔ اقتصادی اور سیاسی طور پر پسماندہ سرائیکی خطے میں فرقہ واریت کا ہتھیار موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ڈیرہ غازی خان، میانوالی اور بھکر جیسے علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا گراف بلند کیا جا رہا ہے۔

    [​IMG] مرکزی پنجاب کو دھڑکا
    [​IMG] مرکزی پنجاب میں شہری متوسط طبقہ کو یہ دھڑکا ہے کہ ان کی اقتصادی خوشحالی پنجاب کے دیگر حصوں کو کھٹکتی ہے۔ چنانچہ مرکزی پنجاب میں انتہا پسندوں نے ہراول دستے کے طور پر ایسی کارروائیاں شروع کی ہیں جنھیں بظاہر انتہاپسندی کے بڑے دھارے سے منسوب کرنا مشکل نظر آتا ہے
    [​IMG]


    مرکزی پنجاب میں شہری متوسط طبقہ کو یہ دھڑکا ہے کہ ان کی اقتصادی خوشحالی پنجاب کے دیگر حصوں کو کھٹکتی ہے۔ چنانچہ مرکزی پنجاب میں انتہا پسندوں نے ہراول دستے کے طور پر ایسی کارروائیاں شروع کی ہیں جنھیں بظاہر انتہاپسندی کے بڑے دھارے سے منسوب کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ لاہور میں تھیٹروں اور دیگر تفریحی مقامات پر متعدد دھماکے کیے گئے جن میں جانی نقصان کا اندیشہ زیادہ نہیں تھا لیکن خوف و ہراس میں خاصا اضافہ ہوا۔ کرکٹ کے کھیل پر حملہ اِسی رجحان کا اگلا مرحلہ سمجھنا چاہیے۔ اب کئی برس تک کوئی بین الاقوامی کرکٹ ٹیم پاکستان نہیں آئے گی۔ سیاحت کا دروازہ ایک عرصے سے بند ہو چکا ہے۔ پاکستان کی عالمی تنہائی بڑھ رہی ہے اور داخلی استحکام مخدوش ہو رہا ہے۔
    پاکستان کو انتہاپسندی سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ مشکل یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور رائے عامہ اس خطرے کا مقابلہ کرنے میں پوری طرح یکسو نہیں ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,357
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    اب اس طویل مراسلے پر میں کچھ نہیں کہتا ماسوائے اس کے کہ کنفیوژن پیدا کرنے ، بے جا اور متعصب بیانات اور غیر ضروری ہمدردیاں حاصل کرنے کی ایک لاحاصل کوشش ہے ۔۔
    وسلام
     
  3. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    واللہ یہ بعینیہ وہی بات ہے جو میں نے اوپر جنگ اخبار کے حامد میر جیسے اینکرز کے لیے آپ کے گوش گذار کی تھی۔

    کاش کہ قوم کوئی سبق سیکھ سکے اور اور اللہ کرے کہ حق بات کو پہچاننے میں کبھی ان سازشوں کا شکار نہ ہو۔ امین۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    منتظمین سے میری گذارش یہ ہے کہ اس تھریڈ کو مقفل نہ کیا جائے اور ہر کوئی اپنی رائے پیش کرنے کا مجاز ہے بغیر دوسرے رکن کو پر اعتراض کیے اور صرف موضوع پر گفتگو کی جائے۔ ابھی یہ معاملہ حل نہیں ہوا ہے اور ثبوت مسلسل سامنے آ رہے ہیں اور ہر کوئی حالات کے متعلق اپنی رائے بیان کرنے میں آزاد ہے۔
    *************************

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    گفتگو اگر موضوع پر رہے گی تو مقفل نہیں کیا جائے گا۔
     
  6. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    نذیر ناجی سے جتنے بھی پرسنل اختلافات ہوں، مگر نذیر ناجی جو لکھتے ہیں، اُس سے ہم بطور قوم پھر بھی بہت کچھ اچھا سیکھ سکتے ہیں۔

    یہ ہمارے میڈیا کے شاہد مسعود، حامد میر و انصار عباسی جیسے سب سے بڑے اینکرز اور کالم نگار دانشوران کا حال ہے [بشمول نواز و عمران خان جیسے سیاستدانوں کے] جن کا زور دہشتگردوں پر نہیں بلکہ سارا زور فقط گورنر سلمان تاثیر کے خلاف ہے۔ اور عمران خان کے دوغلے پن کو پہچاننے میں میں نے بہت شروع سے کوئی غلطی نہیں کی جب جامعہ حفصہ سے لیکر پاکستانی طالبان کی ہر ہر قاتلانہ کاروائیوں پر یہ شخص نہ صرف آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا بلکہ الٹا اس کے دو چار بیانات آئے بھی تو وہ بھی ان دہشتگردوں کی ہمدردی میں لٹے پٹے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  7. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce

    شکریہ ’’آبی ٹوکول, خرم, سعود الحسن, طالوت ‘‘ کے آپ نے میری بات پر اتفاقیہ ’’ شکریہ ‘‘ ادا کیا ۔:battingeyelashes:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  8. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,357
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    ایک اور "اتفاقیہ" شکریہ :)
    وسلام
     
  9. زینب

    زینب محفلین

    مراسلے:
    11,211
    اف مہوش بہت ہو گئی آپ کی جیالی تقریریں اب بس کریں کوئی جواب نہیں دے رہا اپ سے کوئی کسر رہ بھی گئی تو ہمت علی ہے نا ۔۔۔۔۔اور اپ اتنی تو سیانی ہیئں ہی کہ جب ہماری کسی بات کا اگلا بندہ جواب نا دے رہا ہو تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    بشکریہ جنگ
    [​IMG]
    [​IMG] [​IMG] [​IMG] یہ بشریٰ کی پچھلے چھ ماہ میں مجھے دوسری کال تھی۔ وہ لاہور میں ایک آرکیٹیکٹ ہے۔ کم عمری میں اس کا باپ اسے سندھ سے ہجرت کرا کر لاہور لے آیا تھا کیونکہ وہاں پنجابی بولنے والوں کیلئے حالات خراب ہوتے جا رہے تھے۔ جب پہلی بار اس نے مجھے کال کیا تھا تو وہ بڑی دیر تک مجھے بتاتی رہی کہ وہ جس سندھ کی دھرتی پر پیدا ہوئی تھی اسے چھوڑ کر پنجاب میں آ کر بسنا اس کیلئے کتنا تکلیف دہ کام تھا۔ وہ ہر لمحے سندھ کی اسی دھرتی کی یادوں میں کھوئی رہتی ہے جہاں وہ بڑی ہوئی تھی۔ اپنے ہی ملک میں ہونے والی اس ہجرت نے بشریٰ کو ہلا کر رکھ دیا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنی زندگی کو نئے سرے سے لاہور میں اپنے میاں طارق کے ساتھ شروع کیا۔ خدا نے کرم کیا اور زندگی اچھی گزرنے لگی۔ اولاد کی کمی بھی بہت جلد پوری ہو گئی۔ بشریٰ اس ملک کے دکھوں کا رونا روتی رہی۔ میں کچھ دنوں بعد بشریٰ کی یہ کال بھول گیا کیونکہ اب میں اس بات کا عادی ہو چکا ہوں کہ بہت سارے حساس دل لوگ میرے جیسے لوگوں کو فون کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد قدرے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا فریضہ پورا کر دیا تھا۔ جب میں ڈیپریس ہو کر ٹی وی اسکرین پر لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے کے بار بار مناظر دیکھ رہا تھا تو بشریٰ کا فون آیا۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آج اس کے شہر میں کیا حشر ہو گیا تھا۔ وہ حیران تھی کہ اتنی دیدہ دلیری سے صرف چند لوگ اتنی بڑی کارروائی کر گزریں گے اور ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔ یہ بھلا کیونکر ممکن تھا کہ لاہور شہر کے دل میں چند دہشتگرد آدھے گھنٹے تک خون کھیلنے کے بعد بڑے مزے سے ٹہلتے ہوئے موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر بیٹھ کر فرار ہو جائیں۔ کیا ریاست کی رٹ سوات کے بعد لاہور میں بھی ختم ہو گئی تھی کہ جو چاہے گن اٹھا کر سڑک پر آ جائے اور اپنی مرضی کی کارروائی کرکے چائے پیتا، سگریٹ پھونکتا کیمروں کے سامنے مسکراتا ہوا اور ہمیں چڑاتا ہوا گزر جائے۔ جوں جوں بشریٰ کی آواز میں تلخی، غصہ، چڑچڑاہٹ اور بے بسی بڑھ رہی تھی ویسے ہی میرا ذہن اپنے ملک کے ان حکمرانوں، فوجیوں، بیوروکریٹس، دانشوروں اور صحافیوں کی طرف جا رہا تھا جنہوں نے اس ملک کے عوام کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیا تھا۔
    یہ ہم ہی لوگ تھے جنہوں نے اپنے غریب طبقات کو اعلیٰ تعلیم اور زندگی میں بہتر مواقعے دینے کے بجائے انہیں اپنی سہولتوں کی خاطر ترقی نہیں کرنے دی تھی۔ ایک ظلم تو ہم نے ان طبقات کے ساتھ یہ کیا کہ انہیں اپنے بچوں کی طرح اپنا نہیں سمجھا کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ ترقی کرنا، تعلیم حاصل کرنا اور دولت اکٹھی کرنا صرف ہمارا اور ہمارے بچوں کا حق تھا۔ اگر ان غریب اور محروم طبقات کے استحصال میں کوئی کمی رہ گئی تھی تو ہم نے نسیم حجازی کے ناولوں کے زیر اثر افغانستان، سنٹرل ایشیاء اور دنیا کے باقی ملکوں پر قبضے کا منصوبہ بنایا۔ بڑی سنجیدگی کے ساتھ بھارت کے لال قلعہ پر اپنا جھنڈا لہرانے کا خواب دیکھا۔ ان سب کو اسلام کے نام پر ایک گن دیکر افغانستان میں امریکہ کی جنگ لڑنے بھیجا اور مڑ کر یہ بھی نہیں سوچا کہ کسی دن یہ جنگ ہمارے گھروں تک بھی آ پہنچے گی۔ ہم اندھا دھند اس جھوٹے رومانس کے زیر اثر پوری دنیا سے لڑنے کیلئے تیار ہو گئے۔
    جب افغانستان میں طالبان کی حکومت آئی تو ہم سب بڑے خوش ہوئے کہ اب وہاں امن ہو جائے گا جو کہ ہو بھی گیا تھا لیکن یہ کسی کو علم نہیں تھا کہ پانچ سال بعد اسی امن سے یہی طالبان اپنے اور ہمارے لیے امریکہ کی شکل میں اتنی بڑی تباہی اس خطے میں لائیں گے کہ جس سے ہماری آنے والی نسلیں تک محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔
    ارب پتی اسامہ بن لادن نے بھی اپنے سرمائے کی مدد سے افغانستان میں جدید یونیورسٹیاں، اسکول اور تعلیمی ادارے کھولنے کے بجائے وہاں ٹریننگ کیمپ کھول دیئے جن میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو مفت داخلہ دیا گیا۔ یہ سارے جہادی جو امریکہ کے ساتھ مل کر ان کے اتحادی کے طور پر کام کرتے رہے تھے وہی اب اس کے دشمن ہوگئے تھے۔ امریکہ کا تو شاید کچھ نہیں بگڑا لیکن اس جنگ میں اب تک بارہ لاکھ سے زیادہ افغانی مارے گئے ہیں اور ہم پاکستانیوں کے مرنے کی گنتی تو اب شروع ہو رہی ہے۔ ایلیٹ فورس کے ان بہادر سپاہیوں کے علاوہ دیگر پولیس فرار ہو گئی تھی۔ اپنی روایتی میزبانی کیلئے مشہور زندہ دلان لاہور اپنے سری لنکا کے مہمانوں کو لبرٹی چوک میں دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ہمارے فوجی اور صحافیوں دانشوروں کے ارشادات پڑھ رہے تھے کہ کیسے ہم نے جلد پوری دنیا کو فتح کر لینا ہے۔ آج دنیا حیران ہے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ ملک جس کے پاس ایٹم بم ہے اس کے ایک بڑے شہر میں بارہ دہشتگرد آتے ہیں۔ دن دیہاڑے قتل عام کرتے ہیں اور بڑے مزے سے وہاں سے فرار ہو جاتے ہیں۔ ابھی تک ان میں سے ایک بھی نہیں پکڑا جاسکا۔ ہمارے اس غریب عوام کی جیب میں سے اربوں روپے کے فنڈز سیکرٹ ایجنسیوں کو دیئے جاتے ہیں۔ سب سے مہنگی اور قیمتی گاڑیاں انہی کے افسروں کے پاس ہوتی ہیں۔ کسی میں اتنی جرات نہیں ہے کہ ان کا آڈٹ کر سکے۔ اس کے بدلے وہ اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اس ملک میں دہشت گردی کرنے والے چند سو لوگوں کو ٹریس کر سکیں۔ اب انہوں نے یہ نیا وطیرہ بنا لیا ہے کہ وہ ریڈی میڈ رپورٹیں تیار رکھتے ہیں جو اس طرح کے مواقعوں سے چند روز پہلے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھیج کر وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا کام پورا کر لیا ہے۔ اگر دہشت گردی ہو جائے تو فخر سے فرمائیں گے کہ ہم نے تو پہلے بتا دیا تھا۔ جناب یہ انٹیلی جنس نہیں ہوتی کہ آپ کو پتہ چل جائے کہ کوئی کارروائی ہونے والی ہے۔ اصل رول تو یہ ہوتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو ٹریس کریں جو یہ کارروائی کرنے والے ہیں۔ امر یکہ اور برطانیہ کی ایجنسیوں سے صرف ایک دفعہ غفلت ہوئی مگر اس کے بعد انہوں نے دوبارہ اپنی سرزمین پر دہشتگردی نہیں ہونے دی۔ ہمارے ہاں روزانہ یہ دہشت گردی ہو رہی ہے۔ کسی نے سی آئی ڈی سے یہ نہیں پوچھا کہ اگر آپ کے پاس یہ انفارمیشن تھی کہ یہ کارروائی ہونے والی ہے تو پھر اگلے آٹھ دنوں میں دہشتگردوں کو ٹریس کرنے کی کوئی کوشش کی تھی یا محض سمجھداری سے کام لیکر آپ نے ایک جنرل رپورٹ بنا کر بھیج دی تھی کہ دہشتگرد اس ٹیم کو ہوٹل اور اسٹیڈیم کے درمیان نشانہ بنا سکتے ہیں کیونکہ اسٹیڈیم اور ہوٹل میں اس ٹیم پر حملہ کرنا مشکل کام تھا۔ میرے خیال میں سی آئی ڈی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی جو آٹھ دنوں میں ان لوگوں کو ٹریس نہیں کر سکے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ ٹیم پر حملہ کرنے والے تھے۔ کوئی بھی واقعہ ہو جائے وہ را کے کھاتے میں ڈال کر سارے چپ کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں۔ ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ را کی ان کارروائیوں کو پاکستان میں کاؤنٹر کرنے کیلئے ہماری اپنی ایجنسیاں کیا کر رہی تھیں۔ پاکستان میں کسی ایک ذمہ دار بندے کو بھی یہ شرم نہیں آئی کہ وہ بھارتی وزیر کی طرح اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیتا جیسے انہوں نے ممبئی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے بعد دیئے تھے۔ اپنی ٹی وی اسکرین پر بار بار ان دہشت گردوں کے مناظر دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ کسی نے مجھے چوک پر کھڑا کر کے ننگا کر دیاتھا۔
    اچانک بشریٰ کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ اس کی ایک بات سن کر مجھے اپنا لہو برف کی طرح جمتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ کہہ رہی تھی کہ میرا خاوند طارق کہتا ہے کہ ہمیں دوسرا بچہ پیدا کرنا چاہیے اور میں خوف کے مارے پوچھتی ہوں کہ کیا ہمیں اپنے بچے کے ساتھ یہ ظلم کرنا چاہیے۔ کیا اسے ایسے شہر میں جنم دیں جہاں دن دیہاڑے بارہ لوگ پورے شہر کو آدھے گھنٹے تک یرغمال بنا کر اور آٹھ لوگوں کو قتل کر کے ٹی وی کیمروں کے سامنے چائے پیتے، پان کھاتے اور سگریٹ سلگاتے موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر بیٹھ کر فرار ہو جائیں اور ان کا پتہ بھی نہ چلے۔ بشریٰ کے منہ سے ایک اور سسکی سی نکلی کہ سندھ سے جان بچا کر تو یہاں آ گئے تھے اب کہاں جائیں !!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. ظہور احمد سولنگی

    ظہور احمد سولنگی محفلین

    مراسلے:
    1,388
  12. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    جنگ اخبارکے اینکرز سنسنی پھیلانے کے لیے سچ میں جھوٹ اور جھوٹ میں سچ کی خوب آمیزش کرنے کے بعد اپنے مقاصد میں کامیاب ہیں اور قوم اتنی کنفیوزڈ اور ہیجان میں مبتلا ہے کہ اصل حقیقت آنے تک وہ اس قابل ہی نہ رہے گی کہ اس فتنے و قتل عام پر کوئی احتجاج بھی کر سکے۔ قوم کی اس بے حسی و مردہ پنے کے سیاسی نا اہل لیڈروں سے زیادہ میڈیا میں بیٹھے یہ خاموش طالبانی فتنے کے حامی اینکرز ہیں جنہوں نے پہلے دن سے ہی یہ وطیرہ اپنایا ہوا تھا کہ ملک میں ہونے والے ہر فتنے کا الزام اپنے اوپر سے ہٹا کر بس افغانستان، اور انڈین را پر لگا دو۔
    کرتے کرتے آج یہ حالت ہے کہ قوم کے گریبان میں اتنی گندگی جمع ہو چکی ہے اور قدر تعفن ہے کہ قوم کا ہر ہر عضو بس بیماری سے عضو معطل بنتا جا رہا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,357
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    آپ نے قوم کی اس "گندگی" کو صاف کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے نا ، کرتی رہیے مگر باربار قوم ، گندگی اور تعفن کو مت جوڑیں ۔۔ آپ سے درخواست ہے ۔۔ آپ ایک ہی لاٹھی سے جو ساری قوم کو ہانک رہی ہیں اس سے باز رہیں ۔۔۔۔
    وسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    یعنی آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ یہ جو کچھ بھی ہوا ہے، وہ ہمارے اپنے پاکستانیوں کی کارستانی ہے؟
     
  15. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ہماری صحافت اور اخباروں کا تو کام ہی یہی ہے کہ سنسنی پھیلاؤ تا کہ اخبار زیادہ بِکے، اور ہر روز خبریں بدل بدل کر دو تاکہ دلچسپی برقرار رہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر