ساقی بھلے پھٹکنے نہ دے پاس جام کے-راحیلؔ فاروق

ساقی بھلے پھٹکنے نہ دے پاس جام کے
نیت تو باندھ سکتے ہیں پیچھے امام کے

قدموں میں دیں جگہ ہمیں اہلِ کرم کہیں
ہم راندگاں ہیں سجدہ‌گہِ خاص و عام کے

آنکھوں کی بات چھڑ گئی باتوں کے درمیان
مے‌خانے والے رہ گئے پیمانے تھام کے

واعظ کو اونچ نیچ محبت کی کیا پتا
یہ مسئلے نہیں علمائے کرام کے

کیا خوب وحی پیرِ خرابات کو ہوئی
جھگڑے ہیں سب حرام حلال و حرام کے

دو چار اشک حال پہ میرے بہائیے
شبنم گرے لبوں پہ کسی تشنہ‌کام کے

آتا نہ ہو برات ستاروں کی لے کے چاند
رخسار سرخ کیوں ہوئے جاتے ہیں شام کے

انسان ہیں فرشتہ و ابلیس ہم نہیں
قائل نہیں رکوع و سجود و قیام کے

اہلِ زمانہ ان سے نہ باندھیں توقعات
عشاق آدمی ہیں حسینوں کے کام کے

شہرِ بتاں میں ہیں جو درِ مے‌کدہ پہ دفن
پہنچے ہوئے بزرگ تھے راحیلؔ نام کے
راحیلؔ فاروق
 

یاسر شاہ

محفلین
ایک شعر میں شاید typo ہو گئی آپ سے .اصل یوں ہونا چاہیے کہ
ابلیس ہیں فرشتہ و انساں نہیں ہیں ہم
قائل جو ہوں رکو ع و سجود و قیام کے
 

الف عین

لائبریرین
راحیل کہاں رہ گئے؟ انہوں نے ہی کیوں پوسٹ نہیں کیا اسے؟ اتنی اچھی غزل کی ڈائریکٹ داد وصول کرتے!!
 
راحیل خود بھی مجھ سے بات کرنا چاہ رہے تھے واٹس ایپ پر پیغام دیا تھا۔ اور ابھی ابھی میں نے کال کیا ہے ان کو لیکن انہوں نے رسپانس نہیں دیا۔
گذشتہ چند ماہ پہلے محفل میں منتظمین اور کچھ محفلین کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے کافی محفلین فورم سے پُراسرار طور پر لاتعلق ہوگئے ہیں۔
 
Top