1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

زیرک کی پسندیدہ اردو نظمیں

زیرک نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 26, 2019

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    عدو سے جا کے کہہ دینا
    شجاعت کا حسِیں جذبہ
    دماغ و دل میں مت ڈھونڈے
    شہادت وہ تمنا ہے
    جسے مردِ مجاہد کا لہو تجسِیم کرتا ہے
    بدن سے ماوراء ہے جو
    مِرے دشمن کو سمجھانا
    کہ لاہوتی پرندوں کا
    بدن مسکن نہیں ہوتا

    عاطف جاوید عاطف​
     
  2. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ایزی لوڈ

    دل کی سِم میں جانِ جاں
    جس قدر بھی بیلنس تھا
    قرض تھا محبت کا
    خرچ کر دیا ہم نے سانس کی تجارت میں
    کیش کے زمانے میں
    ادھار کون دیتا ہے؟
    دھڑکنوں کا ایزی لوڈ یار کون دیتا ہے

    عاطف جاوید عاطف​
     
  3. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    انگلیوں کی پوروں پہ
    رابطے میسر ہیں
    پھر بھی گر یہ دوری ہے
    تو جاننا ضروری ہے
    کہ فاصلے زماں کے ہیں ؟
    یا دلوں میں دوری ہے؟​
     
  4. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    خالی ہاتھ

    جب اس کے ساتھ تھی
    میں اس وسیع کائنات میں
    نفس نفس، قدم قدم
    نظر نظر امیر تھی
    اور اب
    غبارِ روز و شب کے
    جام میں اسیر ہوں

    ادا جعفری​
     
  5. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    آشوبِ آگہی

    جیسے دریا کنارے
    کوئی تشنہ لب
    آج میرے خدا
    میں یہ تیرے سوا اور کس سے کہوں
    میرے خوابوں کے خورشید و مہتاب سب
    میرے آنکھوں میں اب بھی سجے رہ گئے
    میرے حصے میں کچھ حرف ایسے بھی تھے
    جو فقط لوحِ جاں پر لکھے رہ گئے

    ادا جعفری​
     
  6. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کیسے لوگوں کے شکنجے میں ہے بستی میری
    آگ بھی خود ہی لگاتے ہیں مری بستی میں
    اور پھر خود ہی بجھانے بھی چلے آتے ہیں

    راشد مراد​
     
  7. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    گُل فروشوں کا شہر ہے، اس میں
    پھول ملتے نہیں ٹھکانے پر
    تتلیاں جا بجا بھٹکتی ہیں

    راشد مراد​
     
  8. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    پہلے جیسا ہے آج کا فرعون
    اپنے جاہ و جلال کی خاطر
    یہ بھی بچوں کو مار دیتا ہے

    راشد مراد​
     
  9. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    گُل فروشوں کی مہربانی ہے
    کھل کے ہنسنے کے دن ہیں اور کلیاں
    مسکراتے ہوئے بھی ڈرتی ہیں

    راشد مراد​
     
  10. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    تجزیہ

    میں تجھے چاہتا نہیں، لیکن
    پھر بھی جب پاس تو نہیں ہوتی
    خود کو کتنا اداس پاتا ہوں
    گم سے اپنے حواس پاتا ہوں
    جانے کیا دھن سمائی رہتی ہے
    اک خموشی سی چھائی رہتی ہے
    دل سے بھی گفتگو نہیں ہوتی
    میں تجھے چاہتا نہیں، لیکن
    پھر بھی رہ رہ کے میرے کانوں میں
    گونجتی ہے تری حسیں آواز
    جیسے نادیدہ کوئی بجتا ساز
    ہر صدا ناگوار ہوتی ہے
    ان سکوت آشنا ترانوں میں
    میں تجھے چاہتا نہیں، لیکن
    پھر بھی شب کی طویل خلوت میں
    تیرے اوقات سوچتا ہوں میں
    تیری ہر بات سوچتا ہوں میں
    کون سے پھول تجھ کو بھاتے ہیں
    رنگ کیا کیا پسند آتے ہیں
    کھو سا جاتا ہوں تیری جنت میں
    میں تجھے چاہتا نہیں، لیکن
    پھر بھی احساس سے نجات نہیں
    سوچتا ہوں تو رنج ہوتا ہے
    دل کو جیسے کوئی ڈبوتا ہے
    جس کو اتنا سراہتا ہوں میں
    جس کو اس درجہ چاہتا ہوں میں
    اس میں تیری سی کوئی بات نہیں
    میں تجھے چاہتا نہیں، لیکن

    جاں نثار اختر​
     
  11. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    پیڑوں سے سیکھا ہے میں نے
    شاخیں ساری کٹ جائیں تو
    پھر کیسے زندہ رہتے ہیں

    راشد مراد​
     
  12. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اکیلے ایک ہم نہیں

    کبھی کبھی یہ سوچ کر بهی
    اپنے رنج کم ہوئے
    کہ اس کٹهن سراب میں
    حیات کے عذاب میں
    اکیلے ایک ہم نہیں
    بہت ہیں لوگ اور بهی
    بہت ہیں اپنے ہمسفر
    جو بے نیازِ غم نہیں
    اکیلے ایک ہم نہیں

    اعتبار ساجد​
     
  13. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    2,898
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    تو کیا

    تو کیا تم اتنی ظالم ہو
    مِرے تیمار داروں سے
    مسیحا جب یہ کہہ دیں گے
    دوا تاثیر کھو بیٹھی
    دُعا کا وقت آ پہنچا
    یہ بیماری بہانہ تھی
    قضا کا وقت آ پہنچا
    تو کیا تم اتنی بے حس ہو
    یقیں اس پر نہ لاؤ گی
    تو کیا تم اتنی ظالم ہو
    مجھے ملنے نہ آؤ گی

    اعتبار ساجد​
     

اس صفحے کی تشہیر