زیرک کی پسندیدہ اردو نظمیں

زیرک نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 26, 2019

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    پانی ٹوٹ نہیں سکتا
    لیکن ضد پر آ جائے تو
    پتھر چھلنی ہو جاتے ہیں
    لوہے کی زنجیریں، تالے اور سلاخیں
    زنگ میں ڈوب کے مر جاتی ہیں

    عابی مکھنوی​
     
  2. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    فراق

    وہ شب، جس کو تم نے گلے سے لگا کر
    مقدس لبوں کی حسیں لوریوں میں
    سُلایا تھا سینے پہ ہر روز
    لمبی کہانی سنا کر
    وہ شب، جس کی عادت بگاڑی تھی تم نے
    وہ شب، آج بستر پہ اوندھی پڑی رو رہی ہے

    گلزار​
     
  3. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    رخصت

    جیسے جھنّا کے چٹخ جائے کسی ساز کا تار
    جیسے ریشم کی کسی ڈور سے انگلی کٹ جائے
    ایسے اک ضرب سی پڑتی ہے کہیں سینے میں
    کھینچ کر توڑنی پڑ جاتی ہے جب تجھ سے نظر
    تیرے جانے کی گھڑی، سخت گھڑی ہے جاناں

    گلزار​
     
  4. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ریشم کا یہ شاعر

    تُوت کی شاخ پہ بیٹھا کوئی
    بُنتا ہے ریشم کے تاگے
    لمحہ لمحہ کھول رہا ہے
    پتہ پتہ بین رہا ہے
    اک اک سانس کو کھول کے اپنے تن پر لپٹاتا جاتا ہے
    اپنی ہی سانسوں کا قیدی
    ریشم کا یہ شاعر اِک دن
    اپنے ہی تاگوں میں گھٹ کر مر جائے گا

    گلزار​
     
  5. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    دل ڈھونڈتا ہے

    دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
    جاڑوں کی نرم دھوپ اور آنگن میں لیٹ کر
    آنکھوں پہ کھینچ کر تِرے آنچل کے سائے کو
    اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لیے ہوئے
    یا گرمیوں کی رات کو پُروائی جب چلے
    بستر پہ لیٹے دیر تلک جاگتے رہیں
    تاروں کو دیکھتے رہیں چھت پر پڑے ہوئے
    برفیلے موسموں کی کسی سرد رات میں
    جا کر اسی پہاڑ کے پہلو میں بیٹھ کر
    وادی میں گونجتی ہوئی خاموشیاں سنیں
    دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

    گلزار​
     
  6. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    دکھی

    اپنی اپنی مدت پوری کرنے والے
    بہت ساری مدتیں پوری کرنا چاہتے ہیں
    اور اپنی آدھی کھو بیٹھتے ہیں
    اور دکھی ہو جاتے ہیں

    فرحت عباس شاہ​
     
  7. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    چلو محبت میں جیتنا جیتنا کھیلتے ہیں
    اور نفرت میں ہارنا، ہارنا
    حالانکہ مجھے پتہ ہے
    تم محبت میں ہار جاؤ گے
    اور میں نفرت میں
    لیکن پھر بھی ایک بار کھیل، کھیل لینے میں حرج ہی کیا ہے

    فرحت عباس شاہ​
     
  8. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    تلخی

    آنکھیں تلخیوں سے بھری ہوئی پیالیاں یں
    دل کوئی دکھا ہوا زخم
    آتی جاتی ہوئی سانس
    دل کو چھیل کر گزرتی ہے
    پیالیاں اور زیادہ بھر جاتی ہیں

    فرحت عباس شاہ​
     
  9. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    باتیں

    میں ہر رات سونے سے پہلے
    بہت ساری باتیں
    لپیٹ کے تکیے کے نیچے رکھ دیتا ہوں
    اور خوابوں میں
    انہیں دوسروں کے تکیوں کے نیچے
    تلاش کرتا ہوں

    فرحت عباس شاہ​
     
  10. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    سبز سے سفید میں آنے کا غم

    نظر اٹھاؤں تو سنگ مر مر کی کور، بے حس سفید آنکھیں
    نظر جھکاؤں تو شیرِ قالین گھورتا ہے
    مِرے لیے اس محل میں آسودگی نہیں ہے
    کوئی مجھے ان سفید پتھر کے
    گنبدوں سے رہا کرائے
    میں اک صدا ہوں
    مگر یہاں گنگ ہو گیا ہوں
    مِرے لیے تو
    انہیں درختوں کے سبز گنبد میں شانتی تھی
    جہاں میری بات گونجتی تھی

    خورشید رضوی​
     
  11. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    چل اے دل! آسمان پر چل
    وہاں سے چل کے اس پُرشور بزمِ ہست کو دیکھیں
    بلند و پست کو دیکھیں
    زمیں کی سرنگونی آسمان سے کیسی لگتی ہے
    پہاڑوں کی سرافرازی وہاں سے کیسی لگتی ہے

    خورشید رضوی​
     
  12. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    صنم خانۂ خیال

    شیریں لبوں میں خلد کا مفہوم بے نقاب
    زلفوں میں جھومتی ہوئی موجِ جنوں نواز
    موجِ جنوں نواز میں طوفانِ بےخودی
    طوفانِ بے خودی میں تمناؤں کا گداز
    باتوں میں لہلہاتی ہوئی جام کی کھنک
    اور جام کی کھنک میں بہاروں کے برگ و ساز
    اعضاء میں لوچ، باتوں میں رس، دل میں مستیاں
    آنکھوں میں نور، نور میں رنگینیٔ مجاز
    رنگینیٔ مجاز میں گہری حقیقتیں
    گہری حقیقتوں میں بہت ہی عَمیق راز
    رازوں میں میرے شعر کا سر چشمۂ خیال
    وہ ہیں عدمؔ کہ ایک صنم خانۂ خیال

    عبدالحمید عدم​
     
  13. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    رات کتنی مست ہے
    شوق کیا جوان ہے
    فرشِ گُل ہے زیرِ پا
    سر پہ آسمان ہے
    ہر نظر ہے التجا
    ہر ادا زبان ہے
    ابرووٴں میں گیت ہے
    انکھڑیوں میں تان ہے
    اک گِرہ اُدھیڑ د ے
    گیسووٴں کے جال کو
    چار سُو بکھیر کر
    دیکھتی ہوں راستہ
    نین پھیر پھیر کر
    کاش لائے چاندنی
    کوئی صید گھیر کر
    دیکھ دیکھ ر ے سجن
    اب نہ اتنی دیر کر
    آ کے مجھ کو بھینچ لے
    مے سے ہونٹ سینچ لے

    عبدالحمید عدم​
     
  14. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    لا ادھر ہاتھ
    کہ ہم درد کی اس ڈوبتی ناؤ سے اتر کر
    چلیں اس پار
    جہاں کوچہ و بازار نہ ہوں
    درد کے آثار نہ ہوں
    در و دیوار اگر ہوں بھی
    تو اُن میں
    ترے آنسو، مرے آزار نہ ہوں

    حسن عباس رضا​
     
  15. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی

    اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی
    اب رین کہاں جو سووت ہے
    لڑکپن کھیل میں کھویا
    جوانی نیند بھر سویا
    بڑھاپا دیکھ کے رویا
    جو سووت سو کھووت ہے
    جو جاگت ہے سو پاوت ہے

    اٹھ نیند سے اکھیاں کھول ذرا
    اور اپنے رب سے دھیان لگا
    یہ پریت کرن کی ریت نہیں
    رب جاگت ہے تُو سووت ہے

    جو کل کرنا ہے آج کر لے
    جو آج کرنا ہے اب کر لے
    جب چڑین نے چگ کھیت لیا
    پھر پچھتائے کیا ہووت ہے

    نادان بھگت کرنی اپنی
    اے پاپی پاپ میں چین کہاں
    جب پاپ کی گٹھڑی سیس دھری
    پھر سیس پکڑ کیوں رووت ہے

    بھگت کبیر

     
  16. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    پریتم ایسی پریت ناں کریو جیسی کہ کھجور
    دھوپ لگے تو سایہ ناہیں، بھوک لگے پھل دُور
    پریت ناں کریو پنچھی جیسی جل سوکھے اُڑ جائے
    پریت تو کریو مچھلی جیسی جل سوکھے مر جائے
    پریت کبیرا! ایسی کریو جیسی کرے کپاس
    جیو تو تن کو ڈھانپے مرو تو نہ چھوڑے ساتھ

    بھگت کبیر​
     
  17. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    سنا ہے تلخئ ایام سے لاچار ہو چکے
    برباد ہو چکے، وہ بے زار ہو چکے
    گر یوں ہے
    تو بے تشنہ و آباد کیوں نہ ہم
    سرِ عام کوئی ہجر کا ازالہ کر چلیں
    بڑی مشکل سے، اپنے دل سے
    ہمیں نکالا تو کیوں نہ ہم
    مر کر ذرا مشکل میں اور اضافہ کر چلیں

    صہیب مغیرہ صدیقی​
     
  18. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جو بات گنتی کے کچھ دنوں سے شروع ہوئی تھی
    وہ سالہا سال تک چلی ہے
    کئی زمانوں میں بٹ گئی ہے
    میں ان زمانوں میں لمحہ لمحہ تمہاری نظروں کے بن رہا ہوں
    میں اب تلک بھی تمہارے جانے کا باقی نقصان گن رہا ہوں

    صہیب مغیرہ صدیقی​
     
  19. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اے کہ وجہِ سخن
    جان و رنگِ غزل
    کائناتی محبت کا ردِ عمل
    اے اداسی کے ہونے میں واحد خلل
    تجھ سے نادم ہوں میں
    میرے وہم و گماں میں
    قلم میں مِرے اور قرطاس میں
    تیرا ہونا، مسلسل نہیں ہو رہا
    میری باونویں کوشش میں بھی اب تلک
    تیرا خاکہ مکمل نہیں ہو رہا

    صہیب مغیرہ صدیقی​
     
  20. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اگر
    دو، چار دن
    ہفتہ، مہینہ
    میرا کوئی لفظ
    میرا کوئی شعر
    نظر تم کو نہ آ پائے
    کوئی دکھ سکھ کا لمحہ
    کوئی شکوہ شکایت بھی
    آپ اپنی موت ہی مر جائے
    تو مجھ کو جان کر مردہ
    مجھے اک بات بتلاؤ
    خوشی کتنی مناؤ گے؟
    غم کتنا مناؤ گے؟​
     

اس صفحے کی تشہیر