اقبال عظیم زہر دے دے نہ کوئی گھول کے پیمانے میں

فاتح نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 4, 2016

  1. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    زہر دے دے نہ کوئی گھول کے پیمانے میں
    اب تو جی ڈرتا ہے خود اپنے ہی میخانے میں

    جامِ جم سے نگہِ توبہ شکن تک، ساقی
    پوری روداد ہے ٹوٹے ہوئے پیمانے میں

    سارا ماضی میری آنکھوں میں سمٹ آیا ہے
    میں نے کچھ شہر بسا رکھے ہیں ویرانے میں

    بے سبب کیسے بدل سکتا ہے رندوں کا مزاج
    کچھ غلط لوگ چلے آئے ہیں میخانے میں

    اب پرستار نیا طرزِ پرستش سیکھیں
    کچھ نئے بت بھی ابھر آئے ہیں بت خانے میں

    مجھ پہ تنقید بھی ہوتی ہے تو القاب کے ساتھ
    کم سے کم اتنا سلیقہ تو ہے بیگانے میں

    میں نے یہ سوچ کے ان سے کبھی شکوہ نہ کیا
    بات کچھ اور الجھ جاتی ہے سلجھانے میں

    پیاس کانٹوں کی بجھاتا ہے لہو سے اپنے
    کتنی بالغ نظری ہے ترے دیوانے میں

    اس کو کیا کہتے ہیں اقبالؔ کسی سے پوچھو
    دل نہ اب شہر میں لگتا ہے نہ ویرانے میں
    اقبال عظیم​
    محمد خورشید عبداللہ صاحب کے خزانے سے ہاتھ لگا ہوا مال۔
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 4, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
  2. ڈاکٹرعامر شہزاد

    ڈاکٹرعامر شہزاد معطل

    مراسلے:
    2,162
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    واہ کیا بات ہے ۔۔۔ بہت ہی زبردست انتخاب ہے۔
    فاتح سر آپ کے اپنے تازہ ترین کلام کا شدت سے انتظار ہے ۔۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    واہ. عمدہ انتخاب فاتح بھائی.
    ابھی دفتر میں ہوں. لہٰذا سن نہیں سکا. :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    واہ کیا جگر شگاف شعر ہے
    غزل ساری ہی بہت خوب ہے
    مگر یہ شعر بہت پسند آیا
    شراکت کا شکریہ
    سلامت رہیں
     

اس صفحے کی تشہیر