1. اردو محفل بیس لاکھ عمومی پیغامات کے سنگ میل کی جانب تیز گام ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    اعلان ختم کریں

زکواۃ کا نصاب، ڈھائی فی صد کی کیا دلیل ہے؟

فاروق سرور خان نے 'اسلام اور عصر حاضر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 3, 2018

  1. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,657
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    میرا سوال بغور پڑھئے۔ اور پھر جواب عطا فرمائیے۔

    میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ڈھائی فی صد زکواۃ کے نصاب کی کیا دلیل ہےِ؟ پلیز اس کا ریفرنس، قرآن یا حدیث سے فراہم کیجئے یا پھر بعد کے علماء سے کہ ڈھائی فیصد کے نصاب کی سورس ، بنیاد کیا ہے؟
    قرآن کی آیت یا
    کوئی روایت یا
    بعد کے علماء کا کوئی فیصلہ

    مجھے ریفرنس درکار ہے کہ ڈھائی فی صد کا نصاب کہاں سے آیا ہے؟ مہربانی سے عطا فرمائیے

    مدیران سے درخواست:
    پلیز وہ جوابات حذف کردیجئے جن میں کوئی ریفرنس نا ہو۔ مجھے صرف ریفرنس درکار ہے کہ نصاب کی بنیاد کیا ہے؟ اور اس کا ریفرنس کیا ہے؟

    والسلام
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  2. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    955
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مسند امام اعظم میں کتاب الزکاة کے تحت باب الرّکاز ( ۸۷) باندھا گیا ہے ۔

    ابو حنیفہ عن عطاء بن ابن عمر قال قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم الرکاز ما رکزہ الله تعالی فی المعادن الذی ینبت فی الارض

    حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ رکاز وہ ہے جسکو الله تعالی نے کانوں میں گاڑا ہے ( اور ) جو پیدا ہوتی ہے زمین میں ۔

    تشریح :- سوال پیدا ہوتا ہے کہ رکاز کیا ہے ؟
    تو رکاز دراصل وہ چیز ہے جس کو الله تعالی کانوں میں بند پیدا فرماتا ہے ۔ یہ زمین ہی میں پیدا ہوتا ہے ۔
    امام شافعی و امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے درمیان رکاز ایک اختلافی بحث ہے ۔ حقیقت اس کی یہ ہے کہ امام شافعی اور امام مالک کانوں میں زکوة مانتے ہیں اور رکاز کو ایّام جاہلیت کے دفینوں کے ساتھ خاص کرتے ہیں اور ان میں وہ خمس کے قائل ہیں ۔ امام شافعی ومالک کے نزدیک رکاز کان اور دفینہ دونوں کو شامل ہے چنانچہ وہ ہر دو میں خمس کے قائل ہیں ۔ امام شافعی و مالک کے مذہب کی دلیل قوی بلال بن الحارث المزنی والی حدیث ہے جسکو مالک نے مؤطا میں بیان کیا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرع کے نامیہ میں معادن قبیلے کو بلال بن الحارث المزنی کی جاگیر میں دے دیا تھا پس ان معادن سے کچھ نہیں لیا جاتا ہے آج تک مگر زکوٰة
    امام صاحب اپنے خیال کے ثبوت میں قرآن پیش کرتے ہیں ۔ لفظ “ رکاز “ کی لغوی تحقیق کہ اختلاف یہیں ہے ۔ درحقیقت زمین سے نکالا جانے والا مال تین ناموں سے پکارا گیا ہے ۔ کنز ، معدن ، رکاز
    کنز ۔ وہ خزانہ ہے جس کو انسان خود زمین میں دفن کرے ۔
    معدن ۔ وہ جس کی تخلیق زمین کی تخلیق کے ساتھ ہوئی ہو ۔
    رکاز ۔ دونوں کو شامل ہے اور عام
    اب قرآن مجید میں اس طرح فرمایا ۔ واعلموا انما غنمتم من شیئٍ فإنّ لله خمسه
    کہ جانو تم یہ کہ جو کچھ لوٹ لو کسی چیز سے پس تحقیق واسطے الله کے ہے پانچواں حصہ اس کا ۔
    اور یہ ظاہر ہے کہ دفینہ اور اس کا محل زمین ہر دو پر لفظ غنیمت صادق آتا ہے کیونکہ پہلے وہ کفار کے قبضہ میں تھے پھر مسلمانوں نے ان کو چھینا ، لُوٹا اور قبضہ میں کیا ۔ جب یہ غنیمت میں شمار ہوئے تو اس کے حکم خمس کے نیچے بھی آئے اور ان میں خمس واجب ہوا ۔
    سنت کی حجیت اس طرح کہ صحاح ستہ میں حدیث وارد ہے

    (عن أبي هريرة- رضي الله عنه- أن رسول الله قال: "العجماء جبار، والبئر جبار، والمعدن جبار، وفي الركاز الخمس".

    صحيح البخاري: (9/15)

    کہ جانوروں میں بدلہ نہیں ، کنویں میں بدلہ نہیں ، کان میں بدلہ نہیں اور رکاز میں خمس ہے ۔ لہذا بنا پر تحقیق لغوی رکاز کو صرف دفینہ کے معنٰی میں لینا کوئی وجہ نہیں رکھتا خصوصا جبکہ خود آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی زبانی اس کی تائید ملتی ہو کہ امام محمد نے اپنی مؤطا میں اور نیز بیہقی نے نقل کیا ہے کہ آپ نے جب فرمایا کہ رکاز میں خمس ہے تو آپ سے پوچھا گیا یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم رکاز کیا چیز ہے ؟
    آپ نے فرمایا وہ مال جس کو الله تعالی نے زمین میں ان معادن میں پیدا کیا جو جبکہ آسمان و زمین کو پیدا فرمایا ۔
    اب شافعیہ کے استدلال کا جواب سنیے کہ حدیث بلال بن الحارث المزنی اول تو منقطع ہے ۔ جیسا کہ ابو عبید نے کتاب الاموال میں اس کی تصریح کی ہے پھر اس میں اس کا اظہار کب ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا تھا کہ معادن سے زکوة لی جائے بلکہ قرینِ قیاس ہے کہ یہ اہل ولات کا اجتہاد ہے کیونکہ اس باب میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی روایت نہیں ۔
    رہی مذہب حنفیہ کی بروئے قیاس تائید تو وہ بدیں صورت کے معادن کو پوری پوری غنیمت کی حیثیت حاصل ہے ۔ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا کہ پہلے یہ معادن کی زمین کفار کے قبضہ میں تھی ۔ پھر مسلمانوں نے اس کو بقوت وطاقت اپنے قبضہ میں کیا تو غنیمت ہوئی اور غنیمت میں چونکہ بلا شک وشبہ خمس ہے تو اس میں خمس کیوں نہ ہو ۔

    مسند امام اعظم ۔(مترجم اردو) ترجمہ وتشریح مولانا دوست محمد شاکر صاحب
    صفحہ ۱۷۳۔
     
  3. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    955
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    صحیح مسلم کتاب الزکوٰة کی پہلی حدیث مبارکہ ہے ۔

    عن أبي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ الله عَنْهُ:
    أنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: "لَيْسَ فيمَا دُونَ خَمْسَةِ أوْسَقٍ صَدَقَةٌ ولَا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ ذَوْدٍ صَدَقَة، وَلَا فِيمَا دُونَ خمس اواق صدقہ

    بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا پانچ ٹوکروں سے کم میں زکوة نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوة ہے اور نہ پانچ اوقیہ سے کم میں ۔

    امام نووی رحمہ نے وسق ، صاع اور رطل کی تحقیق بیان کی ہے ۔

    مترجم کہتا ہے کہ پانچ اوقیہ کے دوسو درہم ہوتے ہیں ۔ اور تولوں کے حساب سے دوسو درہم ساڑھے باون تولہ ہیں اور یہ نصاب چاندی کی ہے ۔ اس سے کم میں زکوة واجب نہیں

    جب دوسو درہم کی چاندی کا مالک ہو اور اس پر سال گزر جائے تو زکوة فرض ہوجاتی ہے پھر وہ ہر دو سو پر اپنے مال سے ربع عشر ادا کرے اور وہ پانچ درہم ہیں ہر دو سو درہم پر ۔

    زکاة الذھب والفضہ
    ( التسہیل الضروری ، المسائل القدوری فی فقہ امام الاعظم ابی حنیفہ النعمان بن ثابت الکوفی رحمہ الله )
    محمد عاشق الہی البرنی
    دوسو درہم کا خمس ہے یعنی پانچواں حصہ ۔۔۔۔ تو سو درہم کا اڑھائی فیصد
    والله اعلم
     

اس صفحے کی تشہیر