زندگی غم کا تانا بانا ہے

ابن رضا

لائبریرین
برائے اصلاح

درد کا ہم سے دوستانہ ہے
زندگی غم کا تانا بانا ہے

اپنا ہنسنا تو اِک بہانہ ہے
مُسکراہٹ سے غم چھپانا ہے

چار و ناچار کھا رہے ہیں ہم
جو یہاں اپنا آب و دانہ ہے

عمر گزری ہے سوچتے جس کو
اب اُسی شخص کو بُھلانا ہے

غم مِٹانے کی ایک سعی سہی
اب مقدر تو آزمانا ہے

اُس کے پہلو میں بیٹھ کر اپنا
قصۂ غم اُسے سنانا ہے

لوگ اکثر یہ بات پوچھتے ہیں
کب تلک دُکھ سے جی لگانا ہے

آج تک اِس سے کون بھاگ سکا
موت ہی زیست کا ٹھکانہ ہے

ختم ہوگا یہ زندگی کے ساتھ
ہمنوا ، روگ یہ پرانا ہے

ٹھان لی ہے یہ دوستوں نے رضاؔ
بات بے بات دل دُکھاناہے


تقطیع یہاں ملاحظہ کریں۔
ابنِ رضا کی تُک بندیاں

ٹیگ: اساتذہ کرام جناب الف عین صاحب و جناب محمد یعقوب آسی صاحب و برادران
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
زیست کے ساتھ ہی ختم ہوگا
یہاں ختم صحیح نہیں بندھا۔اسے درد پر موزوں کریں۔کہیں کہیں تھوڑی چستی میں کسر بھی ہے ۔ مثلاً۔
عمر گزری ہے سوچتے جس کو
اب کہ اُس شخص کو بُھلانا ہے
اب اُسی شخص کو۔ شاید بہتر ہو۔وغیرہ
 

الف عین

لائبریرین
مُسکرانا تو اِک بہانہ ہے
مُسکراہٹ سے غم چھپانا ہے
÷دونوں جگہ مسکراہٹ اچھا نہیں لگتا، پہلا مصرع یوں کہو تو
اپنا ہنسنا تو اک بہانا ہے

چار و ناچار ہم نے کھانا ہے
جو یہاں اپنا آب و دانہ ہے
اس تیسرے مطلع کی ضرورت نہیں۔
روز و شب ایک ہی تمنا ہے
قصۂ غم اُسے سنانا ہے
÷÷پہلا مصرع بدل دو توبہتر ہے۔
 

ابن رضا

لائبریرین
زیست کے ساتھ ہی ختم ہوگا
یہاں ختم صحیح نہیں بندھا۔اسے درد پر موزوں کریں۔کہیں کہیں تھوڑی چستی میں کسر بھی ہے ۔ مثلاً۔
عمر گزری ہے سوچتے جس کو
اب کہ اُس شخص کو بُھلانا ہے
اب اُسی شخص کو۔ شاید بہتر ہو۔وغیرہ
تشکر عاطف بھائی. جزاک الله
 

ابن رضا

لائبریرین
مُسکرانا تو اِک بہانہ ہے
مُسکراہٹ سے غم چھپانا ہے
÷دونوں جگہ مسکراہٹ اچھا نہیں لگتا، پہلا مصرع یوں کہو تو
اپنا ہنسنا تو اک بہانا ہے

کچھ مزید گزارشات پر نظر فرمائیں
چار و ناچار ہم نے کھانا ہے
جو یہاں اپنا آب و دانہ ہے
اس تیسرے مطلع کی ضرورت نہیں۔

چار و ناچار کھا رہے ہیں ہم
جو یہاں اپنا آب و دانہ ہے

روز و شب ایک ہی تمنا ہے
قصۂ غم اُسے سنانا ہے
÷÷پہلا مصرع بدل دو توبہتر ہے

اُس کے پہلو میں بیٹھ کر اپنا
قصۂ غم اُسے سنانا ہے

اور کچھ یہ نشست میں تبدیلی

ساتھ ہی زندگی کے ختم ہوگا
ہمنوا ، روگ یہ پرانا ہے
 

الف عین

لائبریرین
باقی تو درست ہیں، لیکن یہ نیا شعر
ساتھ ہی زندگی کے ختم ہوگا
ہمنوا ، روگ یہ پرانا ہے
پہلا مصرع بحر سے خارج ہو گیا۔ ہوگا کی ہ گر جانے کی وجہ سے
ختم ہو گا یہ زندگی کے ساتھ؎
کیا جا سکتا ہے
 

ابن رضا

لائبریرین
باقی تو درست ہیں، لیکن یہ نیا شعر
ساتھ ہی زندگی کے ختم ہوگا
ہمنوا ، روگ یہ پرانا ہے
پہلا مصرع بحر سے خارج ہو گیا۔ ہوگا کی ہ گر جانے کی وجہ سے
ختم ہو گا یہ زندگی کے ساتھ؎
کیا جا سکتا ہے
جی بہتر ۔
شکریہ، سلامت رہیے۔
 
Top