1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

جون ایلیا زمزمہ خواں گزر گئے، رقص کناں گزر گئے

فہد اشرف نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 10, 2016

  1. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,542
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    خوش گذران شہر غم ، خوش گذراں گزر گئے
    زمزمہ خواں گزر گئے ، رقص کناں گزر گئے

    وادی غم کے خوش خرام ، خوش نفسان تلخ جام
    نغمہ زناں ، نوازناں ، نعرہ زناں گزر گئے

    سوختگاں کا ذکر کیا، بس یہ سمجھ کہ وہ گروہ
    صر صر بے اماں کے ساتھ ، دست فشاں گزر گئے

    زہر بہ جام ریختہ، زخم بہ کام بیختہ
    عشرتیان رزق غم ، نوش چکاں گزر گئے

    اس در نیم وا سے ہم حلقہ بہ حلقہ صف بہ صف
    سینہ زناں گزر گئے ، جامہ وراں گزر گئے

    ہم نے خدا کا رد لکھا نفی بہ نفی لا بہ لا!
    ہم ہی خدا گزیدگاں تم پہ گراں گزر گئے

    اس کی وفاکے باوجود اس کو نہ پا کے بد گماں
    کتنے یقیں بچھڑ گئے ، کتنے گماں گزر گئے

    مجمع مہ وشاں سے ہم زخم طلب کے باوجود
    اپنی کلاہ کج کیے ، عشوہ کناں گزر گئے

    خود نگران دل زدہ ، دل زدگان خود نگر!
    کوچہ ءِ التفات سے خود نگراں گزر گئے

    اب یہی طے ہوا کہ ہم تجھ سے قریب تر نہیں
    آج ترے تکلفات دل پہ گراں گزر گئے

    رات تھی میرے سامنے فرد حساب ماہ و سال
    دن ، مری سرخوشی کے دن، جانے کہاں گزر گئے

    کیا وہ بساط الٹ گئی، ہاں وہ بساط الٹ گئی
    کیا وہ جواں گزر گئے ؟ ہاں وہ جواں گزر گئے

    جون ایلیا
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 10, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,542
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed

اس صفحے کی تشہیر