زبردست کتاب زبردست فارمیٹ میں

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

دوست

محفلین
ڈونگیاں گلاں نے جی جان دیو۔ مرزا صاحب بھی اسی بات کا رونا روتے مرگئے کہ مسلمان ان کو سمجھ ہی نہیں سکے۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
کوئی یہ بھی بتا دے کہ کتاب کا نام اور مصنف کا نام کیا ہے؟ تاکہ جو احباب یہ کتاب ڈاونلوڈ کرنا چاہیں وہ کرلیں اور جو نہ کرنا چاہیں وہ ڈاؤنلوڈ کرنے کی زحمت سے بچ سکیں۔
 

محمدصابر

محفلین
1974ء میں قومی اسمبلی کے اس جلاس کی مکمل کارروائی ہے جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ مولانا اللہ وسایا نے اسے قلمبند کیا ہے۔
 

طالوت

محفلین
قادیانیوں کے بارے میں عموما کتابیں انتہائی درشت لہجہ لئے ہوئے اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھے ہوتی ہیں ۔ ڈاکٹر غلام جیلانی کی کتاب “حرف محرمانہ“ اس موضوع پر میں نے سب سے اچھی کتاب پائی ہے ۔
وسلام
 
یہ پورا سچ نہیں ہے اور نہ ہی صحیح صورت حال کا عکاس۔
قادیانیوں کے بارے میں کتب کا ایک انبار موجود ہے جو خالصتا تبلیغی نوعیت کا ہے اور اس میں قادیانیوں کو بڑے اچھے طریقے سے راہ ہدایت سے روشناس کروایا گیا ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ مرزا غلام احمد بقلم خود جو کچھ بد اخلاقیات کا انبار لگا گیا ہے جب وہ کچھ بطور اقتباس پیش کیا جاتا ہے ، اس کی وہ باتیں نقل کی جاتی ہیں تو تحریر میں تلخی کا رنگ آ جاتا ہے لیکن اس کا ذمہ دار منصف کتاب کے بجائے خود غلام احمد قادیانی ہے۔
اب اگر میں یہاں یہ کہوں کہ مرزا نے تمام غیر قادیانیوں کو کنجری کی اولاد قرار دیا ہے تو یقینا یہ تحریر کی بد وضعی ہے لیکن کہی ہوئی بات مرزا کی ہی ہے ایسے ہی جو کچھ مرزا کی ہفوات حضرت عیسی علیہ السلام(حضرت عیسی علیہ السلام کو جس طرح اس نے گالیاں دیں ہیں ان کو پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے) ، حضرت علی حضرت حسین کے بارے میں کہا ہے یا جو کچھ مرزا کی لائف کے بارے میں ملتا ہے وہ میں نقل کروں چاہے اس کا مقصد نیک نیتی کے ساتھ تبلیغ ہی کیوں نہ ہو لیکن تحریر میں جو رنگ اترے گا وہ ان اقتباسات کی وجہ سے اچھا نہ ہو گا لیکن یہ بد اخلاقیات مرزا کی ہوں گی جو دیگر قادیانیوں کو حقیقیت سے روشناس کروانے کے لیے بتائی جائیں گی۔
 

arifkarim

معطل
یہ پورا سچ نہیں ہے اور نہ ہی صحیح صورت حال کا عکاس۔
قادیانیوں کے بارے میں کتب کا ایک انبار موجود ہے جو خالصتا تبلیغی نوعیت کا ہے اور اس میں قادیانیوں کو بڑے اچھے طریقے سے راہ ہدایت سے روشناس کروایا گیا ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ مرزا غلام احمد بقلم خود جو کچھ بد اخلاقیات کا انبار لگا گیا ہے جب وہ کچھ بطور اقتباس پیش کیا جاتا ہے ، اس کی وہ باتیں نقل کی جاتی ہیں تو تحریر میں تلخی کا رنگ آ جاتا ہے لیکن اس کا ذمہ دار منصف کتاب کے بجائے خود غلام احمد قادیانی ہے۔
اب اگر میں یہاں یہ کہوں کہ مرزا نے تمام غیر قادیانیوں کو کنجری کی اولاد قرار دیا ہے تو یقینا یہ تحریر کی بد وضعی ہے لیکن کہی ہوئی بات مرزا کی ہی ہے ایسے ہی جو کچھ مرزا کی ہفوات حضرت عیسی علیہ السلام(حضرت عیسی علیہ السلام کو جس طرح اس نے گالیاں دیں ہیں ان کو پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے) ، حضرت علی حضرت حسین کے بارے میں کہا ہے یا جو کچھ مرزا کی لائف کے بارے میں ملتا ہے وہ میں نقل کروں چاہے اس کا مقصد نیک نیتی کے ساتھ تبلیغ ہی کیوں نہ ہو لیکن تحریر میں جو رنگ اترے گا وہ ان اقتباسات کی وجہ سے اچھا نہ ہو گا لیکن یہ بد اخلاقیات مرزا کی ہوں گی جو دیگر قادیانیوں کو حقیقیت سے روشناس کروانے کے لیے بتائی جائیں گی۔

اور یہی کام قادیانی علماء باقی “مسلمانوں“ کیساتھ ایک لمبا عرصہ سے کرتے آئے ہیں۔ اور آجکل اپنے چینل ایم ٹی اے کے ذریعہ سوال و جواب لائیو ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں۔ اور یقیناً یہ لڑائی ہمیشہ کیلئے ہے، کیونکہ جب مسلمان سنی شیعہ کے مابین ۱۴۰۰ سال بعد بھی اتحاد قائم نہیں کر پا رہے تو باقی فتنے اسکے سامنے محض ’’مونگ پھلیاں‘‘ ہیں :)
 

محمد وارث

لائبریرین
جن دوستوں نے کتاب پڑھنی ہے وہ یہاں تبصرہ کیے بغیر بھی پڑھ سکتے ہیں، سو میں اسے مقفل کر رہا ہوں۔
والسلام
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top