زبان کی آفتیں۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

الشفاء نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 20, 2019

  1. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,650
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    زبان کی آفتیں
    کتاب احیاء علوم الدین از امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ
    زبان، ایک عظیم نعمت: زبان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت اور لطائف صنائع میں سے ایک لطیفہ ہے۔ اس کا حجم اگرچہ مختصر ہے لیکن اس کی اطاعت بھی زیادہ ہے اور گناہ بھی بڑا ہے۔ ایمان اور کفر دونوں حقیقتوں کا اظہار زبان ہی کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ ان میں اول الذکر غایت اطاعت ہے اور ثانی الذکر انتہائی درجے کی معصیت ہے۔ ہر چیز خواہ وہ موجود ہو یا معدوم، خالق ہو یا مخلوق، خیالی ہو یا حقیقی، ظنی ہو یا وہمی ، زبان پر آتی ہے اور زبان ہر چیز کے متعلق نفی یا اثبات کرتی ہے۔ علم کے دائرے میں جتنی بھی چیزیں ہیں خواہ وہ حق ہوں یا باطل، سب کی سب زبان ہی کے ذریعے بیان کی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو زبان کو دوسرے تمام اعضاء سے ممتاز کرتی ہے۔ آنکھ کی رسائی صرف رنگوں اور شکلوں تک ہے، کانوں کے دائرہ اختیار میں صرف آوازیں ہیں، ہاتھ صرف ان چیزوں تک دراز ہو سکتے ہیں جن کا جسمانی وجود ہو۔ یہی حال تمام اعضاء کا ہے۔ ان میں صرف زبان ہی ایسا عضو ہے جس کا دائرہ اختیار انتہائی وسیع ہے۔ جس طرح زبان خیر کے میدان میں دوڑ سکتی ہے اسی طرح شر کےمیدان میں بھی اسے کوئی شکست دینے والا نہیں۔ اس لیے زبان پر قابو رکھنا نہایت ضروری ہے۔ جو شخص زبان پر قابو نہیں رکھتا شیطان اس سے نہ جانے کیا کچھ کہلوا لیتا ہے اور اسے برے انجام کی طرف لے جاتا ہے۔
    زبان کے شر سے وہی شخص محفوظ رہ سکتا ہے جو اسے شریعت کی لگام پہنائے اور سنت کی زنجیریں ڈال دے۔ اور صرف اس وقت آزاد کرے جب کوئی ایسی بات کرنی ہو جو دین و دنیا کے لیے مفید ہو اور اسے ہر ایسی بات سے روکے جس کی ابتدا یا انتہا سے برے انجام کی توقع ہو۔ تاہم یہ بات معلوم کرنا کہ کون سی بات اچھی ہے اور کون سی بات بری،کہاں زبان کو بولنے کے لیے آزاد کرنا بہتر ہے اور کہاں برا ہے، انتہائی دشوار ہے۔ اور معلوم بھی ہوجائے تو اس پر عمل کرنا اس سے زیادہ مشکل ہے۔ انسان کے اعضاء میں سب سے زیادہ نافرمانیاں زبان سے سر زد ہوتی ہیں کیونکہ اسے حرکت دینے میں نہ کوئی دقت ہے اور نہ تعب و تھکن۔ لوگ زبان کی آفات سے بچنے میں تساہل برتتے ہیں اور اس کے شر کو معممولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ شیطان کا مؤثر ترین ہتھیار ہے۔ اس کے ذریعے وہ اللہ کے بندوں کو شکست دیتا ہے اور انہیں گمراہی کے راستے میں چلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ آنے والے صفحات میں ہم ، بتوفیق ایزدی، زبان کی آفتیں الگ الگ بیان کریں گے اور پوری تفصیل کے ساتھ ہر آفت کی حدود، اسباب اور نتائج پر گفتگو کریں گے، نیز اس سے بچنے کی تدابیر بھی ذکر کریں گے اور اس کی مذمّت میں جتنے اخبار و آثار وارد ہوئے ہیں انہیں بھی بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔۔۔
    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 2
  2. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,650
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    زبان کی آفات بیان کرنے سے پہلے ہم زبان کے خطرات اور خاموشی کے فضائل بیان کرتے ہیں۔

    زبان کا خطرہ عظیم اور خاموشی کی فضیلت :-جاننا چاہیے کہ زبان کا خطرہ عظیم ہے۔ اور اس سے بچنے کا واحد راستہ خاموشی ہے۔ اسی لیے شریعت نے خاموشی کی مدح کی ہے اور اپنے متبعین کو خاموش رہنے کی ترغیب دی ہے، چنانچہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :-
    مَنْ صَمَتَ نَجا۔۔۔ جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔ (ترمذی)​
    اسی طرح ابو منصور دیلمی حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں:-
    الصَّمْتُ حِكَمٌ, وَ قَلِيلٌ فَاعِلُهُ ۔۔۔ خاموشی حکمت ہے لیکن اس کے کرنے والے (خاموش رہنے والے) کم ہیں۔ (بیہقی)​
    عبداللہ بن سفیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے اسلام کے متعلق کوئی ایسی بات بتلائیے کہ آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ آپ نے فرمایا ، کہہ میں اللہ پر ایمان لایا ، اس کے بعد اس ایمان پر ثابت قدم رہ۔
    میں نے عرض کیا؛ یا رسول اللہ، میں کس چیز سے اجتناب کروں؟ آپ نے زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔(مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

    عن عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : قُلْتُ : يَارَسُولَ اللهِ ، مَا النَّجَاةُ ؟ قَالَ : امْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ.
    عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ نجات کا راستہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنی زبان پر قابو رکھ، اور تیرا گھر تجھے کافی ہونا چاہیے(یعنی گھر سے باہر مت نکل) اور اپنی غلطی پر (ندامت کے) آنسو بہا۔ (مسند امام احمد، ترمذی و صحیح الالبانی)​

    من یتکفل لی بما بین لحییه و رجلیه، اتکفل له بالجنة۔ جو شخص مجھے اپنی دونوں داڑھوں کے درمیان کی چیز (یعنی زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (یعنی شرمگاہ) سے بچنے کی ضمانت دے میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔ (صحیح بخاری)۔

    من وقي شر قبقبه وذبذبه ولقلقه فقد وقي الشر كله۔ جو شخص اپنے پیٹ، اپنی شرمگاہ اور اپنی زبان کے شر سے محفوظ رہا وہ ہر طرح کے شر سے محفوظ رہا۔(ابو منصور دیلمی)​

    یہی تین اعضاء ایسے ہیں جن کی شہتوں کے باعث عام طور پر لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے پیٹ اور شرمگاہ کی شہتوں کے بیان سے فارغ ہونے کے بعد زبان کی آفتیں بیان کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے باعث لوگ جنت میں داخل ہوں گے، فرمایا: تقوی اللہ و حسن خلق۔ یعنی اللہ کا خوف اور خوش خلقی۔ عرض کیا گیا کہ وہ چیز بھی بتلا دیجیئے جس کی بنا ء پر لوگ دوزخ میں جائیں گے، فرمایا: الا جوفان الفم والفرج۔ یعنی دو کھوکھلی چیزوں ، منھ اور شرمگاہ کے باعث۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

    اس حدیث میں منھ سے مراد زبان کی آفات بھی ہو سکتی ہیں کیونکہ منھ زبان کا محل ہے، اور اس سے پیٹ بھی مراد ہو سکتا ہے کیونکہ منھ پیٹ بھرنے کا ذریعہ اور راستہ بھی ہے۔
    حضر معاذ بن جبل نے سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ جو کچھ ہم بولتے ہیں اس پر بھی مواخذہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ جَبَلٍ ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ۔ اے ابن جبل! تیری ماں تجھے روئے، دوزخ میں لوگ اپنی زبانوں کا بویا کاٹنے کے لیے اوندھے منھ ڈالے جائیں گے۔(ترمذی، ابن ماجہ و حاکم)

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :​
    لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ ، وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ ، وَلَا يَدْخُلُ رَجُلٌ الْجَنَّةَ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ۔
    بندے کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہوتا جب تک اس کا قلب درست نہ ہو، اور اس کا قلب اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک اس کی زبان صحیح نہ ہو۔ اور جنت میں وہ شخص داخل نہ ہو گا جس کا پڑوسی اس کے شر سے مامون نہ ہو۔(ابن ابی الدنیا، خرائطی)

    ایک حدیث میں ہے :مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْلَمَ فَلْيَلْزَمِ الصَّمْتَ ۔ جسے سلامتی پسند ہو اسے خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ (انس بن مالک،ابن ابی الدنیا)۔
    حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآل وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:
    إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ الأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ فَتَقُولُ: اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّمَا نَحْنُ بِكَ، فَإِنْ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنْ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا۔
    جب آدمی صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضاء زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارے سلسلے میں اللہ عزوجل سے ڈرنا، اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور تو ٹیڑھی ہوئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔ (ترمذی ، ابن خزیمہ)​

    صفون بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:​
    ألاّ أخبركم بأيسر العبادة وأهونها على البدن؟ الصمت وحسن الخُلق۔ کیا میں تمہیں ایسی عبادت نہ بتلاؤں جو بہت سہل اور بدن کے لیے بہت آسان ہے، (وہ عبادت) خاموشی اور خوش خلقی ہے۔ (ابوذر، ابو درداء۔ ابن ابی الدنیا)
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:​
    مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ- جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)۔​

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 2
  3. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,650
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کا کلام زیادہ ہوتا ہے اس کی لغزشیں زیادہ ہوتی ہیں۔ اور جس کی لغزشیں زیادہ ہوتی ہیں اس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں۔ اور جس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں وہ آگ کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔ (ابو نعیم، ابو حاتم و بیہقی)۔
    حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی زبان کو بولنے سے روکنے کے لیے منھ میں کنکر ڈال لیا کرتے تھے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، زبان کے علاوہ کوئی چیز لمبی قید کی محتاج نہیں ہے۔ وہب بن منبہ حکمت آل داؤد میں فرماتے ہیں کہ عقل مند پر واجب ہے کہ وہ اپنے زمانے کی معرفت رکھنے والا، اپنی زبان کی حفاطت کرنے والا اور اپنی وضع پر رہنے والا ہو۔ حسن کہتے ہیں کہ جو شخص اپنی زبان کی حفاظت نہیں کرتا اسے دین کی سمجھ نہیں ہے۔ محمد بن واسع نے مالک بن دینار سے کہا کہ ابو یحیٰ، زبان کی حفاظت درہم و دینار کی حفاظت سے افضل ہے۔ ابو بکر بن عیاش کہتے ہیں کہ فارس، روم ہندوستان اور چین کے بادشاہوں کی ملاقات ہوئی، ان میں سے ایک نے کہا کہ میں بات کہہ کر نادم ہوتا ہوں، چپ رہ کر نادم نہیں ہوتا۔ دوسرے نے کہا کہ جب میں کوئی لفظ زبان سے نکالتا ہوں اس کے اختیار میں ہو جاتا ہوں اور وہ میرے اختیار میں نہیں رہتا، اور جب تک وہ لفظ زبان سے نہیں نکالتا اس وقت تک وہ میرے اختیار میں رہتا ہے۔ تیسرے نے کہا مجھے ایسے بولنے والے پر حیرت ہوتی ہے کہ اگر اس کا کلام اس پر واپس ہو تو اسے نقصان پہنچائے اور واپس نہ ہو تب بھی کوئی نفع نہ ہو۔ چوتھے نے کہا کہ ان کہی بات ہٹانے پر قدرت رکھتا ہوں لیکن جو بات زبان سے نکل جائے اسے لوٹانے پر قادر نہیں ہوں۔
    خاموشی کے افضل ہونے کی وجہ: - یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خاموشی اس قدر افضل کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بولنے میں بے شمار آفات ہیں۔ غلطی،جھوٹ، غیبت، چغل خوری، ریاء، نفاق، فحش گوئی، خود نمائی، خود ستائی، خصومت، لغو گوئی، تعریف، بات بڑھانا گھٹانا، ایذا دہی اور پردہ دری جیسے عیوب کا تعلق زبان ہی سے ہے۔ زبان کو حرکت دینے میں نہ کوئی تکلیف ہے اور نہ تھکن۔ بلکہ بولنے میں لذت ملتی ہے۔ خود طبیعت بھی بولنے پر اکساتی ہے اور شیطان بھی کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ جو لوگ بولنے کے عادی ہیں وہ عموماً یہ نہیں دیکھتے کہ ہمیں کہاں بولنا ہے اور کہاں خاموش رہنا ہے۔ بہرحال بولنے میں خطرات ہیں اور خاموشی میں ہر خطرے سے حفاظت ہے۔ اسی لیے اس کی فضیلت بھی زیادہ ہے۔ خاموشی کے بے شمار فائدے ہیں۔ ہمت مجتمع رہتی ہے، خیالات میں انتشار نہیں ہوتا، وقار بنا رہتا ہے، فکر، ذکر اور عبادت کے لیے فراغت رہتی ہے، دنیا میں بولنے کے غلط نتائج سے اور آخرت میں اس کے محاسبے سے نجات ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌO وہ مُنہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے۔ سورۃ ق، آیت نمبر 18۔​

    خاموش رہنے کی فضیلت پر ایک بہترین دلیل یہ ہے کہ کلام کی چار قسمیں ہیں، ایک وہ جس میں صرف ضرر ہے، دوسری وہ جس میں صرف نفع ہے، تیسری وہ جس میں نفع بھی ہے اور ضرر بھی ، اور چوتھی وہ جس میں نہ نفع ہے اور نہ ضرر۔ جہاں تک کلام کی اس قسم کا تعلق ہے جس میں صرف ضرر ہے اس سے بچنا اور خاموش رہنا ضروری ہے۔ یہی حکم اس کلام کا ہے جس میں ضرر اور نفع دونوں ہوں بشرطیکہ ضرر نفع سے زیادہ ہو۔ تیسری قسم جس میں نہ نفع ہو اور نہ ضرر، لغو اور بے کار ہے ایسے کلام سے بھی سکوت ضروری ہے۔ کیونکہ اس طرح کے کلام میں مشغول ہونا محض اپنا وقت ضائع کرنا ہے اور وقت کا ضیاع سب سے بڑا نقصان ہے۔ اب صرف ایک قسم رہ جاتی ہے۔ اس طرح کلام کے تین حصے ختم ہو جاتے ہیں اور صرف ایک حصہ باقی رہ جاتا ہے اور اس میں بھی خطرات اور اندیشے موجود ہیں۔ بعض دفعہ ریاء ، تصنع، غیبت، خودستائی اور دوسرے عیوب کلام میں اس طرح گھس آتے ہیں کہ بولنے والے کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ اس لے مفید کلام کرنے والا بھی گویا خطرات سے کھیلنے والا ہے ۔ جو شخص زبان سے تعلق رکھنے والی آفتوں کی باریکیاں سمجھ لے گا وہ اس اعتراف پر مجبور ہو گا کہ اس سلسلے میں سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے کہ
    مَنْ صَمَتَ نَجا۔۔۔ جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔ (ترمذی)​

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,650
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    (امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب میں زبان کی کل بیس آفات نہایت شرح و بسط سے بیان فرمائی ہیں۔ ہم کوشش کریں گے کہ ان کو مختصر طور پر یہاں پیش کر دیا جائے)۔

    پہلی آفت- لایعنی (بے فائدہ) کلام:-
    بہتر یہ ہے کہ آدمی اپنے الفاظ کی ان تمام آفات سے حفاظت کرے جو ہم نے اوپر ذکر کی ہیں یعنی غیبت، چغل خوری،جھوٹ اور خصومت وغیرہ۔ اور صرف وہ بات کہے جو جائز ہو اور جس میں نہ بولنے والے کے لیے کوئی ضررہو اور نہ کسی مسلمان بھائی کے لیے۔ جائز اور ضرر نہ دینے والی بعض باتیں ایسی بھی زبان سے نکل جاتی ہیں جن کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ لایعنی اور بے فائدہ باتیں ہیں۔ ان میں وقت کا ضیاع بھی ہے اور آخرت کا محاسبہ بھی ہے۔ اور بہتر کے عوض کمتر کو حاصل کرنے کا عمل بھی ہے کیونکہ اگر متکلم بولنے کی بجائے اپنے قلب و دماغ کو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں فکر کرنے کی طرف مائل کرتا تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہوتا۔ بہت ممکن تھا کہ اس فکر کے نتیجے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے کھل جاتے اور قلب کو انشراح نصیب ہو جاتا۔ جو شخص خزانہ حاصل کر سکتا ہو اگر وہ پتھر جمع کرنے بیٹھ جائے تو اسے بدبختی کے علاوہ کیا کہا جائے گا۔ یہ اس شخص کی مثال ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر ترک کر کے کسی لا یعنی اور بے فائدہ مگر مباح کام میں مشغول ہو جائے ۔ اگرچہ وہ گنہگار نہیں ہے لیکن یہی نقصان کیا کم ہے کہ اسے نفع عظیم حاصل نہیں ہو سکا۔ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہمِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ ۔ آدمی کے اسلام کے اچھا ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ لایعنی کام ترک کر دے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
    حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ کیا میں تجھے ایسا عمل نہ بتلا دوں جو جسم کے لیے ہلکا ہو اور میزان کے لیے بھاری ہو۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ضرور بتلائیں۔ فرمایا ،هو الصمت, وحسن الخلق, وترك ما لا يعنيك۔ وہ عمل خاموشی، خوش اخلاقی اور غیر ضروری (کام یا کلام) کا ترک کرنا ہے۔ (ابن ابی الدنیا)
    بے فائدہ کلام کی تعریف : بے فائدہ کلام اس کلام کو کہتے ہیں کہ اگر تم خاموش رہو تو نہ کوئی گناہ لازم آئے ، اور نہ فی الوقت یا بعد میں کسی وقت اس کی وجہ سے کسی نقصان کا اندیشہ ہو۔ اس کلام کی مثال یہ ہے کہ تم کسی مجلس میں بیٹھ کر اپنے سفر کے قصے سناؤ اور لوگوں کو بتلاؤ کہ میں نے بلند و بالا پہاڑ اور رواں دواں نہریں دیکھی ہیں، خوش ذائقہ کھانے کھائے ہیں، طرح طرح کی چیزوں کا مشاہدہ کیا ہے ، فلاں فلاں بزرگوں اور مشائخ سے ملاقاتیں کی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ امور ہیں کہ اگر تم انہیں بیان نہ بھی کرو تب بھی کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ کسی قسم کا نقصان ہے۔ یہ بھی اس صورت میں ہے جب کہ تمام واقعات بلا کم و کاست صحیح صحیح بیان کیے جائیں۔ نہ ان میں کسی قسم کمی ہو نہ زیادتی، نہ کسی شخص کی غیبت ہو اور نہ کسی مخلوق کی مذمت، نہ خود ستائی اور نہ اظہار تفاخر۔ اس احتیاط کے باوجود یہی کہا جائے گا کہ تم نے اپنے سفر کا حال بیان کر کے وقت ضائع کیا ہے۔ یہی حکم کسی شخص سے غیر ضروری بات پوچھنے کا ہے۔ اس طرح کا سوال کرنا بھی وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ بلکہ سوال میں زیادہ قباحت ہے کیونکہ سوال کر کے تم نے اپنے مخاطب کو جواب پر مجبور کیا ہے اور اس کا وقت بھی ضائع کیا ہے، اور یہ اس صورت میں ہے جب کہ سوال کرنے میں کوئی آفت نہ ہو، ورنہ اکثر سوالات میں آفات پوشیدہ ہوتی ہیں۔ مثلاً تم کسی سے یہ پوچھو کہ کیا تم روزے سے ہو، اور وہ اثبات میں جواب دے تو کہا جائے گا کہ اس نے اپنے جواب سے عبادت کا اظہار کیا ہے، ممکن ہے وہ اس اظہار سے ریاء کا شکار ہو جائے، اگر ریاء کا شکار نہ بھی ہو تب بھی اس کی خفیہ عبادت کھلی عبادت میں بدل جائے گی جبکہ چھپ کر عبادت کرنا افضل ہے۔ اور اگر اس نے نفی میں جواب دیا تو یہ جھوٹ ہو گا۔ جواب نہ دیا خاموش رہا تو اس سے سوال کرنے والے کی تحقیر لازم آئے گی اور اسے تکلیف ہو گی۔ اور اگر کوئی حیلہ ایسا کیا کہ جواب نہ دینا پڑے تو خواہ مخواہ کی ذہنی الجھن ہو گی۔ اس طرح ایک غیر ضروری سوال کی وجہ سے ان آفات میں سے ایک آفت ضرور لازم آئے گی۔ اسی طرح گناہوں کا حال بھی نہ پوچھنا چاہیے اور نہ کوئی ایسی پوشیدہ بات پوچھنی چاہیے جسے بتلانے میں شرم آئے۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  5. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,650
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بے فائدہ کلام، گزشتہ سے پیوستہ:-
    اسی طرح کسی عالم سے ایسا مسئلہ دریافت نہ کرو جس کی تمہیں ضرورت نہ ہو۔ بعض اوقات مسئول (جس سے سوال کیا جائے) جواب نہ دینے میں اپنی توہین محسوس کرتا ہے اور وہ علم و بصیرت کے بغیر مسئلہ بتلا کر اپنے آپ بھی گمراہ ہوتا ہے اور تمہیں بھی غلط راستے پر ڈال دیتا ہے۔ غیر مفید کلام میں اس طرح کے سوالات داخل نہیں ہیں کیونکہ ان میں گناہ یا ضرر بہرحال موجود ہے۔ غیر مفید کلام سے ہمارا مقصد اس مثال سے واضح ہو گا کہ حضرت لقمان حکیم حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس گئے۔ وہ اس وقت زرہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے اس سے پہلے زرہ نہ دیکھی تھی اس لیے انہیں لوہے کا لباس دیکھ کر حیرت ہوئی اور انہوں نے حضرت داؤد علیہ السلام سے اس کے متعلق دریافت کرنے کا ارادہ کیا لیکن حکمت مانع آئی اور خاموش رہے۔ جب زرہ تیار ہو گئی تو حضرت داؤد علیہ السلام نے اسے پہن کر دیکھا اور فرمایا کہ لڑائی کے لیے زرہ کتنا عمدہ لباس ہے۔ لقمان حکیم نے دل میں کہا کہ خاموشی ہی بڑی حکمت ہے، لیکن اس راز کو سمجھنے والے اور سمجھ کر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ یہاں انہیں سوال کے بغیر ہی زرہ کا علم ہو گیا اور پوچھنے کی ضرورت نہ رہی۔ اس طرح کے سوالات میں اگر ضرر، کسی کی اہانت ، مبالغہ آمیزی، ریاء اور جھوٹ وغیرہ کے عیوب نہ بھی ہوں تو وہ غیر مفید کلام میں داخل ہیں اور ان کا ترک کرنا حسن اسلام کی دلیل ہے۔
    بے فائدہ کلام کے اسباب اور اس کا علاج :-
    بے فائدہ کلام کئی اسباب کی بناء پر کیا جاتا ہے۔ کبھی اس لیے کہ متکلم کو غیر ضروری بات پوچھنے کی حرص ہوتی ہے۔ کبھی اس لیے کہ بات پھیلانا اس کی عادت ہوتی ہے یا وہ تفصیلی بات کر کے مخاطب کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتا ہے۔ کبھی اس لیے کہ مخاطب سے محبت ہوتی ہے اور لمبی بات کر کے زیادہ دیر تک اسے مخاطب بنائے رکھنے کی خواہش ہوتی ہے۔ کبھی دل بہلانے کے لیے قصے کہانیاں کہی جاتی ہیں۔ ان سب کا علاج یہ ہے کہ موت کو اپنے سامنے تصور کرے اور یہ سوچے کہ مجھ سے ہر لفظ کا محاسبہ کیا جائے گا۔ میرے سانس راس المال ہیں اور زبان ایک جال ہے جس کے ذریعہ میں جنت کی ابدی نعمتیں پھانس سکتا ہوں۔ اپنا اصل سرمایہ ضائع کرنا اور اتنے قیمتی جال کو بے کار پڑے رہنے دینا کہاں کی عقل مندی ہے۔ یہ بے فائدہ کلام کے مرض کا علمی علاج ہے۔ عملی علاج یہ ہے کہ گوشہ تنہائی اختیار کرے، یا اپنی زبان کو کبھی کبھی مفید کلام سے بھی روک لیا کرے تاکہ غیر مفید کلام نہ کرنے کی عادت ہو جائے۔ تاہم اس شخص کے لیے جسے گوشہ تنہائی کی بجائے مل جل کر رہنا زیادہ پسند ہو ، زبان کو روکنا بہت مشکل ہے۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  6. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,650
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    دوسری آفت۔ زیادہ بولنا:-
    زیادہ بولنا بھی ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس میں بے فائدہ کلام بھی شامل ہے اور وہ کلام بھی جو مفید تو ہو لیکن قدر ضرورت سے زائد ہو جائے۔ مفید کلام مختصر بھی ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اختصار پر قدرت رکھنے کے باوجود ایک لفظ کی جگہ دو لفظ بولے تو یہ کہا جائے گا کہ وہ فضول گو ہے خواہ اس تکرار سے تقریر یا تاکید مقصود ہو۔ یہ فضول گوئی بھی ممنوع ہے، اگرچہ اس میں کوئی گناہ یا ضرر نہیں ہے۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہیں فضول گوئی سے نفرت تھی۔ ان کے نزدیک کتاب اللہ ، سنت رسول اللہ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور دنیا کی شدید ضرورتوں سے تعلق رکھنے والے کلام کے علاوہ ہر کلام زائد شمار ہوتا تھا۔ کیا اس بات سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ ہر انسان کے دائیں بائیں کراماً کاتبین بیٹھے ہوئے اچھے اور برے اعمال نامے ترتیب دے رہے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے کہ
    مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌO وہ مُنہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے۔ سورۃ ق، آیت نمبر 18۔​
    کیا تمہیں اس بات سے شرم نہیں آتی کہ جب میدان حشر میں تمہارا اعمال نامہ کھلے گا تو اس میں بے شمار باتیں ایسی ہوں گی کہ نہ ان کا تعلق دین سے ہو گا نہ دنیا سے۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ لوگ مجھ سے ایسے سوالات کرتے ہیں کہ جس طرح پیاسے کو ٹھنڈا پانی لذیذ لگتا ہے اسی طرح مجھے ان کا جواب دینے میں مزا آتا ہے، لیکن میں اس ڈر سے خاموش رہ جاتا ہوں کہ کہیں میرا کلام زائد نہ ہو جائے۔
    زائد کلام کا حصر: یہ بتلانا بہت مشکل ہے کہ کون سا کلام زائد اور غیر ضروری ہے، کیونکہ اس کاحصر نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں زائد کلام سے ڈراتا ہوں، آدمی کے لیے اتنا کلام کافی ہے جو ضرورت پوری کر دے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ آدمی کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اپنے بچے کو خاموش کرنے کے لیے کہہ دے کہ میں تیرے لیے فلاں چیز خرید کر لاؤں گا اور خریدنے کی نیت نہ ہو تو اسے جھوٹ لکھا جائے گا۔ حضرت ابراہیم تیمی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مؤمن بولنے سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ بولنا اس کے حق میں مفید ہے یا مضر، اگر مفید ہو تو بولتا ہے ورنہ چپ رہتا ہے اور فاجر بے سوچے سمجھے بولتا ہے۔ حضرت ابراہیم بن ادہم کہتے ہیں کہ آدمی مال اور کلام کی زیادتی سے تباہ ہوتا ہے۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
  7. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,650
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    تیسری آفت- باطل کا ذکر:-
    باطل سے وہ کلام مراد ہے جس کا تعلق معاصی سے ہو، مثلاً عورتوں کے حسن و جمال اور عشق و محبت کے قصے سنانا، فسق و فجور کی مجلسوں کا حال بیان کرنا، مالداروں کی عیاشی کا ذکر کرنا، بادشاہوں کے اعمال بد کا ذکر کرنا، یہ سب باطل امور ہیں اور ان میں مشغول ہونا حرام ہے۔ غیر ضروری کلام حرام نہیں ہے صرف غیر مستحب اور ناپسندیدہ ہے، اسی طرح زیادہ بولنا بھی حرام نہیں ہے ، یہ بھی ناپسندیدہ عمل ہے ، لیکن باطل کلام میں حرمت پائی جاتی ہے۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ غیر ضروری موضوع پر زیادہ بولنے والا ، بہکنے اور باطل میں پڑ جانے کے قریب رہتا ہے۔ تفریحی گفتگو آج کے دور کا خاص مشغلہ ہے۔ اکثر لوگ اس مشغلے کے لیے مجلسیں ترتیب دیتے ہیں اور ان مجلسوں کا موضوع باطل ہوتا ہے، کسی کا مذاق اڑایا جاتا ہے، کسی کے عیوب ظاہر کیے جاتے ہیں، کسی میں عیوب تلاش کیے جاتے ہیں ، کسی کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں۔ غرضیکہ کوئی مجلس معصیت سے خالی نہیں ہوتی۔ باطل کی انواع اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا حصر کرنا ممکن نہیں۔ ان سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی دینی مہمات اور دنیاوی ضروریات سےمتعلق گفتگو پر اکتفا کرے۔
    باطل امور کا ذکر ایک خطرناک آفت ہے۔ اس آفت کا شکار ہونے والا عموماً تباہ و برباد ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ اس ذکر کو معمولی سمجھتا ہے اور اس کے خطرات کا احساس نہیں کرتا لیکن قیامت کے روز اس پر یہ انکشاف ہو گا کہ وہ جس معصیت کو معمولی سمجھ رہا تھا وہ اس کے لیے کتنی تباہی لے کر آئی ہے۔ حضرت بلال بن الحرث رضی اللہ عنہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ ارشاد مبارک نقل کرتے ہیں کہ " آدمی اللہ کو خوش کرنے والا ایک لفظ کہتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس سے کوئی بڑی خوشنودی حاصل نہیں ہو گی، لیکن اللہ تعالیٰ اس لفظ کی وجہ سے قیامت تک کے لیے اپنی رضا مندی لکھ دیتا ہے۔ اور کبھی آدمی اللہ کو ناراض کرنے والا ایک لفظ بولتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض نہیں ہوں گے لیکن اللہ عزوجل اس ایک لفظ کی وجہ سے قیامت تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے"۔(ابن ماجہ، ترمذی)
    قرآن مجید کی یہ دو آیتیں بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
    وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَO اور بیہودہ مشاغل والوں کے ساتھ (مل کر) ہم بھی بیہودہ مشغلوں میں پڑے رہتے تھے۔(سورۃالمدثر، آیت نمبر 45)۔

    فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ۔ تو تم ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ (انکار اور تمسخر کو چھوڑ کر) کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں۔ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ (سورۃ النساء ، آیت نمبر 140)۔
    ابن سیرین کہتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی جب اس طرح کا باطل کلام کرنے والوں کی مجلس سے گزرتے تو ان سے فرماتے، وضو کر لو اس لیے کہ تمہاری بعض باتیں حدث سے بھی زیادہ بری ہیں۔ یہ ہے باطل کلام کی تفصیل۔ یہ غیبت، چغل خوری اور بد گوئی سے الگ ایک قسم ہے۔ باطل کلام ان ممنوعہ امور کا ذکر کرنا ہے جن کا سابق میں وجود ہو چکا ہو اور کوئی دینی ضرورت ان کے ذکر کا باعث نہ ہو، اسی میں بدعات اور فاسد مذاہب کی حکایات اور صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کا ذکر بھی داخل ہے۔۔۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
  8. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,650
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    چوتھی آفت- بات کاٹنا اور جھگڑا کرنا:-
    بات کاٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں " اپنے بھائی کی بات مت کاٹ، اور نہ اس سے (ناشائستہ) مذاق کر اور نہ اس سے کوئی ایسا وعدہ کر جسے تو پورا نہ کرے"۔(ترمذی، عن ابن عباس رضی اللہ عنہ)۔
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ "بندے کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ بات کاٹنا نہ چھوڑ دے اگرچہ حق پر ہی کیوں نہ ہو"۔ (ابن ابی الدنیا)۔ مسلم بن یسار کہتے ہیں کہ قطع کلامی سے بچو، عالم کی جہالت کا لمحہ وہی ہے جس میں وہ کسی دوسرے کی بات کاٹتا ہے ، اور اسی وقت شیطان اس کی لغزش کا متمنی رہتا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دین میں جھگڑوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے، یہ بھی فرمایا کہ بات کاٹنے اور جھگڑا کرنے سے دل سخت ہو جاتا ہے اور سینوں میں کینے کا بیج پڑ جاتا ہے۔
    بات کاٹنے کی تعریف: کسی کی بات کاٹنے کے لیے احادیث میں "مراء" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مراء کی تعریف یہ ہے کہ کسی شخص پر اس کے کلام میں نقص نکال کر اعتراض کیا جائے خواہ یہ نقص کلام کے الفاظ میں ہو یا معنی میں یا اس کے ارادہ و نیت میں۔ اس سلسلے میں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ جو کلام بھی تم سنو اگر حق ہو تو اس کی تصدیق کر دو اور باطل ہو تو چپ رہو بشرطیکہ کلام دین سے متعلق نہ ہو۔بعض لوگ زبان سے اچھی طرح واقف نہیں ہوتے ، بعض لوگ بولنا کچھ چاہتے ہیں اور زبان سے کچھ نکل جاتا ہے، عبارت میں غلطی کی وجہ کچھ بھی ہو اس پر نکتہ چینی کرنے کا جواز نہیں ہے۔
    جدال اور مراء سے بچنے کا طریقہ: ان دونوں سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ آدمی مباحات سے بھی خاموش رہے۔ یہ دونوں عیوب دراصل اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ ہر شخص کو اپنے مخالف کی تحقیر اور اپنی برتری مقصود ہوتی ہے۔ اپنی برتری کا اظہار خود ستائی کی قبیل سے ہے اور خودستائی اپنے آپ کو بڑا اور بلند و اعلیٰ سمجھنے کا ردعمل ہے جبکہ کبریائی اور عظمت رب کریم کی صفات ہیں اور اسی کو زیب دیتی ہیں۔ یہ ایک مرض ہے جس کا علاج یہ ہے کہ اس کبر کا قلع قمع کیا جائے جس سے اپنی برتری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ہر مرض کا علاج اس کے اسباب دور کرنے سے ہی ممکن ہے۔ مراء اور جدال کے اسباب کبر و غرور اور بہیمانہ اوصاف ہیں۔ جب تک ان اوصاف کا ازالہ نہ ہو گا یہ مرض دور نہیں ہو گا۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے داؤد طائی سے ان کی عزلت نشینی کی وجہ دریافت کی ، انہوں نے کہا کہ میں اس لیے عزلت میں بیٹھتا ہوں تاکہ جدال نہ کرنے کا مجاہدہ کروں۔ امام صاحب نے فرمایا کہ یہ مجاہدہ کہاں ہوا، مجاہدہ تو یہ ہے کہ مجلسوں میں جاؤ، لوگوں کی سنو اور خاموش رہو۔ داؤد طائی کہتے ہیں کہ میں نے اس پر عمل کیا، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس مجاہدے سے سخت کوئی مجاہدہ نہیں ہو سکتا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی کی زبان سے غلط بات سن کر خاموش رہنا بڑا مشکل اور صبر آزما کام ہے، خاص طور پر اس صورت میں کہ جب وہ اس غلطی کی تصحیح پر قادر بھی ہو۔ اسی لیے سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا نہ کرتا ہو، جنت کے اعلیٰ درجے کی بشارت دی ہے کیونکہ حق کا علم رکھتے ہوئے باطل پر خاموش رہنا نفس پر بڑا شاق گزرتا ہے۔ انسان کے لیے بہتر یہ ہے کہ اہل قبلہ کو کچھ کہنے سے زبان کو باز رکھے۔ اگر کوئی بدعت میں مبتلا نظر آئے تو اسے نرمی کے ساتھ تنہائی میں نصیحت کرے۔ اگر یہ دیکھے کہ نصیحت کا اس کے دل میں کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے اور یہ کہ اس کے دل میں قبول حق کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے تو اپنے نفس میں مشغول ہو جائے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دے۔ ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات مرتبہ یہ فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ اس پر شخص پر رحم کرے جو اس اچھے قول کے علاوہ جس پر وہ قدرت رکھتا ہو ، اہل قبلہ سے اپنی زبان کو روکے۔ (ابن ابی الدنیا)۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
  9. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,650
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    پانچویں آفت۔ خصومت:-
    خصومت بھی ایک مذموم صفت ہے، یہ جدال اور مراء سے الگ ایک صفت ہے کیونکہ مراء کہتے ہیں کسی کے کلام میں نقص پیدا کر کے اس طرح طعن کرنا کہ اس طعن اور اظہار نقص سے متکلم کی تحقیر اور اہانت اور اپنی ذہانت و ذکاوت کے اعلان کے علاوہ کوئی اور غرض وابستہ نہ ہو۔ اور جدال ان بحثوں کو کہتے ہیں جن کا تعلق مذاہب اور عقائد سے ہو۔ خصومت میں بھی جدال پایا جاتا ہے لیکن اس جدال سے مقصود کسی کے مال یا حق پر قبضہ کرنا ہوتا ہے۔ خصومت میں کبھی اعتراض ہوتا ہے اور کبھی اعتراض نہیں ہوتا جبکہ مراء اور جدال میں اعتراض ضرور ہوتا ہے۔ روایات و آثار میں خصومت کی مذمت وارد ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے نقل کرتی ہیں کہ " اللہ کے نزدیک آدمیوں میں سب سے برا شخص وہ ہے جو بہت زیادہ جھگڑالو اور خصومت پسند ہو"- (بخاری)۔
    ابن قتیبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا کہ بشر ابن عبداللہ بن ابی بکرہ ادھر سے گزرے تو مجھے وہاں بیٹھا دیکھ کر پوچھنے لگے، یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ میں نے عرض کیا ایک خصومت کی وجہ سے جو میرے اور میرے چچا زاد بھائی کے درمیان چل رہی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ تیرے باپ کا مجھ پر ایک احسان ہے میں اس کا بدلہ چکانا چاہتا ہوں ، یاد رکھ خصومت سے زیادہ بری چیز کوئی دوسری نہیں ہے۔ یہ دین کو ضائع کرتی ہے، جبین شرافت کو داغدار کرتی ہے، اس سے زندگی کا لطف ختم ہو جاتا ہے اور دل ذکر و فکر میں لگنے کی بجائے خصومت کی الجھنوں میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ ابن قتیبہ کہتے ہیں کہ میں بشر بن عبداللہ کی یہ نصیحت سن کر جانے کے لیے کھڑا ہوا تو میرے حریف نے کہا ، کہاں چلے؟ میں نے جواب دیا کہ اب میں تجھ سے خصومت نہیں کروں گا۔ اس نے کہا کہ خصومت ترک کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ تو نے میرا حق تسلیم کر لیا ہے۔ میں نے کہا کہ حق تو تسلیم نہیں کیا، البتہ میں حصول کے مقابلے میں عزت نفس کی حفاظت کرنا زیادہ ضروری سمجھتا ہوں۔ اس نے کہا ، اگر یہی بات ہے تو میں بھی اپنی ضد چھوڑتا ہوں اور یہ چیز تجھے دیتا ہوں اور یہ تیرا حق ہے اور میں اب اس کا مدعی نہیں ہوں۔
    یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی انسان کا دوسرے پر حق ہو اور وہ اسے دینے پر رضا مند نہ ہو تو اسے حاصل کرنے کے لیے خصومت ضرور کرنی چاہیے، خواہ ظالم کتنا ہی ظلم کیوں نہ کرے۔ اس کاجواب یہ ہے کہ ہر خصومت کی مذمت نہیں کرتے بلکہ مذموم صرف وہ خصومت ہے جو باطل پر مبنی ہو یا بغیر علم کے کی جائے، جیسے وکیل یہ جانے بغیر کہ حق کس طرف ہے کسی ایک فریق کی طرف سے لڑا کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ خصومت بھی مذموم ہے جس میں اپنا حق طلب کیا جائے لیکن جس قدر حق واجب ہے اس پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ زیادہ سے زیادہ دشمنی اور عداوت کا مظاہرہ کیا جائے، مقصد اپنا حق حا صل کرنا نہ ہو بلکہ مخالف کو ایذا پہنچانا ہو۔ ہاں اگر مظلوم اپنے دعویٰ کو شریعت کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق مدلل کرے، نہ اس میں دشمنی ہو، نہ مبالغہ ہو ، نہ عناد کا جذبہ ہو اور نہ تکلیف پہنچانے کا مقصد ہو تو اس کا یہ عمل حرام نہیں ہے لیکن یہ بھی اس صورت میں ہے جب کہ خصومت کے بغیر اپنا حق حاصل کرنا ممکن نہ رہے۔ کیونکہ خصومت میں زبان کو حد اعتدال پر قائم رکھنا مشکل ہے۔ خصومت میں ایک مرحلہ وہ بھی آتا ہے جب وجہ خصومت ذہنوں سے نکل جاتی ہے اور دونوں فریقوں کے سامنے صرف ایک مقصد رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ اپنے مخالف کو شکست دیں، اس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کرتے ہیں، ایک دوسرے کو تکلیف دے کر خوش ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی عزت کے تار و پود بکھیر دیتے ہیں۔
    یہی حال مراء اور جدال کا ہے، ان دونوں سے بھی شر جنم لیتا ہے۔ خصومت ، مراء اور جدال کا ادنیٰ شر یہ ہے کہ آپس میں اچھی طرح بات کرنے کی روایت ختم ہو جاتی ہے حالانکہ حسن کلام حسن معاشرت کا جزء ہے اور قابل ثواب عمل ہے۔ خوش کلامی کے متعلق سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں، " تمہیں جنت میں خوش کلامی سے اور کھانا کھلانے سے جگہ ملے گی"۔ (طبرانی)۔
    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا ۔ اور لوگوں سے اچھے طریقے سے بات کرنا۔ (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 83)۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نیکی ایک آسان عمل ہے اور وہ یہ کہ خندہ پیشانی سے پیش آؤ اور نرم گفتگو کرو۔ خوش کلامی خصومت ، مراء اور جدال کی ضد ہے۔ ان تینوں میں جو کلام کیا جاتا ہے وہ ناپسندیدہ ، تکلیف دہ اور اشتعال انگیز ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خوش کلامی سے پیش آنے اور بدکلامی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
  10. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,650
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    چھٹی آفت- فصاحت کلام کے لیے تصنّع:-
    اکثر مدعیان خطابت کی عادت ہے کہ وہ کلام کو خوب بنا سنوار کر پیش کرتے ہیں۔ تمہیدات اور مقدمات گھڑتے ہیں اور اسے سجع و قافیہ سے آراستہ کرتے ہیں۔ یہ تکلف اور تصنّع مذموم ہے اور حدیث میں ہے کہ " تم میں سے میرے نزدیک زیادہ برے اور نشست میں مجھ سے بعید تر لوگ وہ ہیں جو گھٹیا گفتگو کرنے والے، زیادہ بولنے والے اور کلام میں تصنّع اختیار کرنے والے ہیں"۔(احمد، ترمذی)۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ کلام میں بلبلانا اور طوالت اختیار کرنا شیطانی عمل ہے۔ عمرو بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد کے پاس کسی ضرورت سے آئے اور ضرورت کے اظہار سے پہلے ایک طویل تمہید باندھی۔ حضرت سعد نے فرمایا ، اس سے پہلے تو کبھی تم نے اتنی لمبی تمہید نہیں باندھی، آج کیا ہوا؟ میں نے سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ کلام کو اپنی زبانوں سے اس طرح الٹ پلٹ کریں گے جس طرح گائے گھاس کو اپنی زبان سے الٹ پلٹ کرتی ہے"۔ (احمد)۔
    گویا حضرت سعد نے اپنے بیٹے کی اس حرکت کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا کہ انہوں نے بلا ضرورت کلام کو طول دیا اور مقصد کے اظہار کے لیے ایک ایسی تمہید باندھی جو اس موقع پر غیر ضروری تھی اور جس کے بغیر مقصد پورا ہو سکتا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تصنع مذموم ہے۔ وہ قافیہ بندی بھی اسی حکم میں ہے جو عادت سے خارج ہے۔ اسی طرح عام بول چال میں سجع بندی بھی پسندیدہ نہیں ہے۔
    کلام ایسا کرنا چاہیے جو مخاطب کی سمجھ میں آ جائے۔ کلام کا مقصد ہی دوسرے کو سمجھانا ہے اس کے علاوہ جو کچھ ہے لغو ہے اور تکلف میں داخل ہے۔ شریعت نے اس طرح کے تکلفات کی مذمت کی ہے۔ البتہ اس حکم سے وہ قافیہ بندی مستثنیٰ ہے جو خطبوں میں مروّج ہے بشرطیکہ اس میں افراط و مبالغہ نہ ہو۔ خطیب اور واعظ کا مقصد وعظ و تذکیر سے یہ ہوتا ہے کہ سننے والوں کے دلوں میں آتش شوق بھڑکے اور اچھے اعمال کے جذبے کو تحریک ملے۔ اس سلسلے میں الفاظ کی اثر انگیزی سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن عام بول چال میں نہ وزن کی ضرورت ہے نہ قافیے کی اور نہ تشبیہ و استعارے کی۔ اس لیے روز مرہ کی گفتگو میں خطبہ کا انداز اختیار کرنا سراسر جہالت ہے۔ اس تصنع کا محرک ریا ہے اور اس آفت میں مبتلا شخص یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی فصاحت و بلاغت سے مرعوب ہوں اور اس کی تعریف و تحسین کریں۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
  11. مزمل اختر

    مزمل اختر محفلین

    مراسلے:
    103
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Pensive
    بہت خوب بڑی اہم بات بیان فرمائی آپ نے۔
    اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر