زبان کی آفتیں۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

الشفاء نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 20, 2019

  1. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,680
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غیبت (گزشتہ سے پیوستہ)

    غیبت صرف زبان ہی سے نہیں ہوتی :-
    غیبت صرف زبانی ذکر ہی کو نہیں کہتے بلکہ ہر وہ عمل غیبت میں داخل ہے جس سے تمہارے بھائی کا عیب کسی دوسرے پر ظاہر ہو جائے، خواہ اشارے سے، کنائے سے، کسی واضح یا غیر واضح حرکت سے۔ غیبت کے سلسلے میں تصریح ، ابہام، قول، فعل، رمز و اشارہ سب حرام اور ناجائز ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک عورت آئی، جب وہ واپس چلی گئی تو میں نے یہ بتلانے کے لیے کہ وہ پستہ قد تھی، ہاتھ سے اشارہ کیا۔ آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، اے عائشہ! تم نے اس کی غیبت کی ہے۔ (ابن ابی الدنیا) یہی حکم نقل اتارنے کا ہے۔ مثلاً کسی لنگڑے کی چال کی نقل کی جائے بلکہ نقل اتارنا غیبت سے بھی بدتر ہے، اس لیے کہ نقل سے اس شخص کی مکمل تصویر ذہن میں آ جاتی ہے۔
    غیبت لکھ کر بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ کتابت بھی زبان کی طرح اظہار کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ کوئی مصنف اپنی کتاب میں کسی متعین شخص کا نام لے کر ذکر کرے اور اس کے عیوب بتلائے تو یہ بھی غیبت ہے الّا یہ کہ کوئی عذر ہو، جیسا کہ عنقریب اس کی تفصیل مذکور ہو گی۔ البتہ یہ کہنا کہ کچھ لوگ ایسا کہتے ہیں، بعض لوگ ایسا کرتے ہیں، غیبت نہیں ، کیونکہ غیبت نام ہے کسی متعین شخص سے تعرّض کرنے کا، خواہ وہ مردہ ہو یا زندہ۔ نبئ رحمت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کسی شخص کی کوئی بات ناگوار گزرتی تو یہ نہ فرماتے کہ فلاں شخص ایسا کرتا ہے، بلکہ یوں فرماتے کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔(ابو داؤد- عائشہ)
    بعض اوقات غیبت میں کسی شخص کی پہلے تعریف کی جاتی ہے مثلاً یہ کہ فلاں شخص کتنا اچھا ہے، کس قدر عبادت کرتا ہے لیکن ایک بد خصلت میں مبتلا ہے، اور وہی کیا ہم سب ہی اس خصلت میں مبتلا ہیں اور وہ یہ کہ اس میں صبر اور قناعت کا عنصر بہت کم ہے۔ دیکھیے، بظاہر اس میں اپنی مذمت موجود ہے لیکن مقصد ہر گز اپنے نفس کی مذمت نہیں ہے بلکہ دوسرے کا عیب ظاہر کرنا ہے۔ کبھی اس طرح کہتے ہیں کہ فلاں شخص بیچارہ بڑی مصیبت میں گرفتار ہے، اللہ ہمیں اور اسے توبہ کرنے کی توفیق بخشے۔ بظاہر یہ دعا ہے لیکن اللہ باطنی خبث پر مطلع ہے، وہ جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا بھرا ہوا ہے۔ لیکن وہ اپنی جہالت کے باعث یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اس دعا سے ثواب کی بجائے عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں۔
    غیبت سننا اور اس پر تعجب کا اظہار کرنا بھی غیبت ہے، کیونکہ سننے سے اور اس پر تعجب ظاہر کرنے سے غیبت کرنے والے کو غیبت پر شہ ملتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی کی برائی سن کر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ بھائی تم نے آج عجیب بات بتلائی ہے، ہم تو اسے ایسا نہیں سمجھتے تھے، ہم اسے آج تک اچھا ہی سمجھتے رہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس عیب سے محفوظ رکھے۔ یہ تبصرہ گویا غیبت کرنے والے کی تصدیق ہے اور غیبت کی تصدیق بھی غیبت ہی ہے، بلکہ غیبت سن کر چپ رہنے والا بھی غیبت کرنے والے کا شریک سمجھا جاتا ہے۔ حدیث ہے : نھی رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم عین الغیبۃ وعن الاستماع الی الغیبۃ۔ کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیبت کرنے اور غیبت سننے سے منع فرمایا ہے۔ (طبرانی، ابن عمر)
    ہاں، اگر سننے والا زبان سے منع کر دے ، یا زبان سے منع کرنے کا حوصلہ یا قوت نہ ہو تو دل سے برا سمجھے یا اس مجلس سے اٹھ جائے یا غیبت کرنے والے کو دوسری باتوں میں لگا لے، ان صورتوں میں سننے والے پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہو گا۔ لیکن اگر زبان سے منع کیا اور دل میں سننے کی خواہش رہی تو یہ نفاق ہے، اعتبار دل کا ہے۔ گناہ سے اسی وقت محفوظ رہے گا جب دل سے برا سمجھے گا، بلکہ صراحت کے ساتھ منع کرنا اور مذکور کا دفاع کرنا ضروری ہے، ارشاد نبوی ہے:من اذلّ عندہ مؤمن فلم ینصرہ وھو یقدر علی ان ینصرہ اذلّہ اﷲ یوم القیامۃ علی رؤس الخلائق۔ یعنی جس شخص کےسامنے کسی مؤمن کی تذلیل کی جائے اور وہ اس کی مدد کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود مدد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے ذلیل کیا جائے گا۔ (طبرانی-سہل بن حنیف)
    ایک حدیث میں ہے : من ذَبَّ عن عِرضِ أخيه بالغَيْبةِ ؛ كان حقًّا على اللهِ أن يُعتِقَه من النَّارِ۔ یعنی جو شخص پیٹھ پیچھے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرے اللہ عزوجل پر اسے دوزخ سے آزاد کرنا واجب ہے ۔ (احمد، طبرانی-اسماء بنت یزید)

    (آگے غیبت کے اسباب ، ان شاءاللہ عزوجل۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    459
    موڈ:
    Breezy
    اللہ اللہ بہت خوبصورت سلسلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,680
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غیبت کے اسباب : -

    غیبت کے اسباب بے شمار ہیں۔ لیکن بحیثیت مجموعی وہ گیارہ اسباب کے ضمن میں آ جاتے ہیں۔ ان میں سے آٹھ کا تعلق عوام سے ہے۔
    عوام سے متعلق غیبت کے آٹھ اسباب: -
    پہلا سبب- کینہ و غضب:
    یعنی کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جو دل میں غصہ کی آگ بھڑکا دے، جب دل میں غصہ کی آگ بھڑکتی ہے تو وہ غصہ دلانے والے کے عیوب کے ذکر ہی سے ٹھنڈی ہوتی ہے، خواہ خود کرے یا دوسرے کریں۔ اس کی تحریک طبیعت کے تقاضے سے ہوتی ہے بشرطیکہ کوئی دینی مانع موجود نہ ہو۔ بعض اوقات آدمی بظاہر غصے پر قابو پا لیتا ہے لیکن دل میں کینہ باقی رہتا ہے۔ کینہ غصے سے بدتر ہے کیونکہ دل میں کینہ رہنے سے ہمیشہ کے لیے برا کہنے کی بنیاد پڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کینہ اور غضب دونوں ہی غیبت کے سبب ہیں۔
    دوسرا سبب- موافقت: یعنی دوستوں اور ہم نشینوں کی تائید و تصدیق کرنا اور ان کی دیکھا دیکھی خود بھی غیبت میں لگ جانا اور غیبت میں ان کی معاونت و موافقت کرنا۔ چنانچہ جب اہل مجلس کسی شخص کی عزت سے کھیلتے ہیں اور اس کا مضحکہ اڑاتے ہیں تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے اس کا انکار کیا اور ان سے اتفاق نہ کیا یا گفتگو کا موضوع بدلا یا مجلس سے اٹھ کر چلا گیا تو یہ لوگ ناراض ہوں گے اور مجھ سے نفرت کرنے لگیں گے۔ اسی خیال سے وہ ان کی تائید کرتا ہے اور اسے حسن معاشرت اور ملنساری کی اہم بنیاد تصور کرتا ہے۔
    تیسرا سبب- احتیاط اور سبقت: کبھی کسی شخص کو یہ گمان ہوتا ہے کہ فلاں شخص میری تاک میں ہے۔ وہ فلاں بڑے آدمی کے یہاں میری برائی کرے گا یا میرے بارے میں ہرزہ سرائی کرے گا یا فلاں معاملے میں میرے خلاف شہادت دے گا۔ وہ ان اندیشوں کے پیش نظر خود ہی سبقت کرتا ہے اور اس کی برائی شروع کر دیتا ہے اور اس کو ہدف تنقید بناتا ہے تاکہ جو بات وہ کہنے والا ہے اس کا اثر زائل ہو جائے، اور وہ جو گواہی دینے والا ہے اس کا اعتبار ساقط ہو جائے۔ اس پیش بندی اور احتیاط سے وہ یقیناً محفوظ رہ جائے گا، کیونکہ دوسرا شخص اول تو اس کی برائی کرنے کی ہمت نہ کرے گا اور اگر اس نے ہمت کی بھی تو اس کی ہرزہ سرائی کو اہمیت نہ دی جائے گی اور لوگ یقین ہی نہ کریں گے۔
    چوتھا سبب- براءت: کبھی کسی کی برائی سے اپنی براءت مقصود ہوتی ہے۔ اس صورت میں دوسرے شخص کا حوالہ دے کر وہ یہ کہتا ہے کہ تنہا میں نے ہی یہ کام نہیں کیا بلکہ فلاں شخص بھی کر چکا ہے یا وہ بھی میرے ساتھ شریک تھا۔ حالانکہ براءت ہی مقصود تھی تو اپنا عذر بیان کرنا چاہیے تھا، دوسرے کا حوالہ دینے کی کیا ضرورت تھی۔ لیکن کیونکہ دوسرے کے ذکر سے اپنا موقف مضبوط ہوتا ہے اس لیے دوسرے کو بھی شامل کر لیا۔
    پانچواں سبب- مفاخرت اور بڑائی کا اظہار: وہ اس طرح کہ دوسرے شخص میں عیب نکال کر اپنی برتری ظاہر کرے ، مثلاً یہ کہے کہ فلاں شخص جاہل ہے، اس کی سمجھ ناقص ہے، اس کا کلام کمزور اور لچر ہے۔ اس تنقید سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ مخاطب پر اپنی فضیلت کا اظہار کرے اور یہ ثابت کرے کہ میں اس کے مقابلے میں زیادہ علم رکھتا ہوں اور میری گفتگو عمدہ ہے۔ اور یہ تنقید اس لیے ہوتی ہے کہ کہیں لوگ میری طرح اس کی بھی تعظیم نہ کرنے لگیں اور معاشرے میں اسے بھی نمایاں مقام نہ حاصل ہو جائے۔
    چھٹا سبب- حسد : کبھی جذبہ حسد غیبت پر ابھارتا ہے، یہ دیکھ کر کہ لوگ محسود کی بے حد تعریف کرتے ہیں اور اس سے محبت کرتے ہیں ۔ اس سے برداشت نہیں ہوتا اور وہ یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح اس سے یہ نعمت سلب کر لی جائے، لوگ اس سے نفرت کرنے لگیں اور اس کی عزت باقی نہ رہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے وہ محسود کے عیب ظاہر کرتا ہے۔ حسد کینہ اور غضب کے علاوہ ایک جذبہ ہے۔ غضب اور کینہ اس وقت ہوتا ہے جب دوسرا شخص کچھ زیادتی کرتا ہے۔ دراصل یہ دونوں جذبے انتقام کا مظہر ہیں۔ حسد میں یہ بات نہیں ہے۔ بعض دفعہ آدمی اپنے محسن دوست اور مونس رفیق سے بھی حسد کرنے لگتا ہے۔
    ساتواں سبب- دل لگی : یعنی دوسرے کے عیب اس لیے کیے جاتے ہیں کہ محفل میں دل چسپی کی فضا پیدا ہو اور اہل مجلس کے ہنسنے ہنسانے کا موقع ملے اور وقت اچھا گزرے۔
    آٹھواں سبب- تحقیر : کبھی اس لیے برائی کی جاتی ہے کہ دوسرے شخص کی تحقیر و تذلیل ہو، یہ متکبرین کا شیوہ ہے۔ اس میں موجودگی اور غیر موجودگی کی بھی قید نہیں ہے۔ بعض لوگ سامنے بیٹھے ہوئے آدمی ہی کو اپنی تنقید اور مذاق کا ہدف بنا لیتے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ اس طرح کس قدر رسوائی ہو گی۔ نیز اگر وہ اس کی جگہ ہوتے تو خود ان کا کیا حشر ہوتا۔

    (آگے غیبت کا علاج، ان شاء اللہ عزوجل۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,680
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غیبت کا علاج :-
    علم و عمل کا معجون: تمام اخلاق فاسدہ اور عادات رذیلہ کا علاج علم و عمل کے معجون سے ہوتا ہے۔ یعنی نہ تنہا علم سے ان امراض کا علاج ممکن ہے اور نہ محض عمل سے۔ پھر ہر مرض کی دوا اس کے سبب کے مخالف ہوتی ہے، چنانچہ اگر مرض کی بنیاد حرارت ہے تو علاج برودت سے ہو گا اور برودت ہے تو حرارت سے۔ اولاً ہمیں غیبت کے اسباب و عوامل کا پتا چلانا چاہیے اور پچھلے صفحات میں اس موضوع پر کافی کچھ لکھا جا چکا ہے۔
    زبان کو غیبت سے روکنے کے دو طریقے ہیں، ایک اجمالی اور دوسرا تفصیلی۔
    اجمالی طریقہ علاج: اجمالی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس حقیقت پر یقین رکھے کہ غیبت کی وجہ سے بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لیتا ہے، نیز یہ کہ غیبت کی وجہ سے قیامت کے دن نیکیاں ضائع ہو جائیں گی کیونکہ غیبت آدمی کی نیکیوں کو اس شخص کی طرف منتقل کر دیتی ہے جس کی اس نے غیبت کی ہے۔ اگر اس کے نامہ اعمال میں نیکیاں نہ ہوں تو دوسرے کی برائیاں اس کی برائیوں میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ علاوہ ازیں انسان اپنے بھائی کی غیبت کر کے مردار کھانے والے سے مشابہ ہو جاتا ہے، یہ کتنی بڑی رسوائی ہے۔ کسی شخص نے حضرت حسن سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ میری غیبت کرتے ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ میری نظر میں تمہاری یہ حیثیت نہیں ہے کہ اپنی نیکیاں تمہارے حوالے کر دوں۔ بہرحال جب آدمی ان روایات پر نظر ڈالے گا اور ان وعیدوں پر غور کرے گا جو غیبت کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں تو مارے خوف کے اس کی زبان غیبت پر آمادہ نہیں ہو گی۔ یہ تدبیر بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے کہ آدمی غیبت کرنے سے پہلے اپنے باطن پر بھی نگاہ دوڑا لے، شاید کوئی ایسا ہی عیب اپنے اندر بھی مل جائے۔ اگر ایسا ہو تو دوسرے کی غیبت کر کے گناہ کمانے کی بجائے اس کے ازالے کی فکر کرے، اور حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد مبارک کو یاد کرے کہطوبیٰ لمن شغلہ عیبہ عن عیوب الناس ۔ یعنی اس شخص کے لیے خوشخبری ہو جسے اس کا عیب لوگوں کے عیوب (پر تنقید کرنے) سے روک دے۔ (بزار-انس)۔

    تفصیلی طریقہ علاج: تفصیلی طریقہ علاج یہ ہے کہ ان اسباب پر نظر ڈالے جن سے غیبت پر تحریک ہوتی ہے۔ ہر مرض کا علاج اس کے سبب کا خاتمہ کر کے ہی ممکن ہے۔ غیبت کے اسباب و محرکات ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، چنانچہ اگر غیبت کا سبب غضب ہو تو اس کا علاج اس طرح کرنا چاہیے کہ اگر میں نے غصہ کیا اور اس پر قابو نہ پایا تو اللہ تعالیٰ غیبت کی وجہ سے مجھ پر ناراض ہوں گے کیونکہ اس نے مجھے غیبت سے منع کیا ہے اور میں نے غیبت کر کے اس کی نافرمانی کی ہے اور اس کے حکم کو غیر اہم تصور کیا ہے۔ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جہنم کا ایک دروازہ ایسا ہے جس میں صرف وہ شخص داخل ہو گا جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اپنا غصہ نکالا ہو۔ (بزار، نسائی، بیہقی-ابن عباس)۔
    ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص غصہ نکالنے پر قدرت رکھنے کے باوجود پی جائے ، قیامت کے دن اسے اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے سامنے بلائیں گے اور اسے اپنی پسندیدہ حور منتخب کرنے کا اختیار دیں گے۔ (ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ-معاذ بن انس)۔
    غیبت کا دوسرا سبب موافقت ہو تو سوچنا چاہیے کہ اگر میں نے مخلوق کی رضا مندی حاصل کر بھی لی تو مجھے کیا فائدہ ہو گا، اس صورت میں جب کہ باری تعالیٰ مجھ سے ناراض ہو جائیں گے۔ کون بے وقوف یہ چاہے گا کہ غیر کی خوشنودی کے لیے اپنے آقا کو ناراض کر دے۔
    غیبت کا تیسرا سبب تنزیہہ نفس ہے یعنی گناہ کی نسبت دوسرے کی طرف کر کے اپنی براءت کرنا اور اپنے نفس کی پاکی بیان کرنا۔ اس موقع پر سوچنا چاہیے کہ باری تعالیٰ کی ناراضگی کے سامنے لوگوں کی ناراضگی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ پھر غیبت سے باری تعالیٰ کی ناراضگی تو یقینی ہے لیکن ان لوگوں کی خوشنودی یقینی نہیں ہے جن کے سامنے اپنے نفس کی براءت مقصود ہے۔ نیز یہ بھی یقینی نہیں ہے کہ جن لوگوں کی طرف گناہ کی نسبت کی جا رہی ہے لوگ انہیں برا تصور بھی کریں گے یا نہیں۔ دنیا کی سرخروئی ظنی اور وہمی ہے، ملے یا نہ ملے لیکن آخرت کی رسوائی اور ذلت و خسارہ قطعی اور یقینی ہے جو غیبت کے نتیجے میں مل کر رہے گی۔ کتنی بڑی جہالت اور نادانی ہے کہ لوگوں کی رضا حاصل کرنے کے لیے جس کا حاصل ہونا ضروری بھی نہیں، باری تعالیٰ کی ناراضگی خرید لی جائے۔
    اگر غیبت کا سبب دوسروں پر اپنی برتری کا اظہار ہو تو اس کا علاج اس فکر سے کرے کہ باری تعالیٰ کے نزدیک میرا جو کچھ مرتبہ تھا وہ تو اس غیبت سے باقی نہ رہا۔ اب اگر دوسروں کی غیبت کرنے سے مجھے کچھ دنیاوی اعزاز و اکرام مل بھی گیا تو اس کی حیثیت ہی کیا ہے۔ پھر اس کا ملنا یقینی بھی تو نہیں ہے۔ کیا معلوم لوگ میرا اعتبار کریں یا نہ کریں، اگر اعتبار نہ کیا تو رہی سہی عزت بھی خاک میں مل جائے گی اور لوگ جھوٹا سمجھیں گے۔
    حسد کی وجہ سے غیبت کرنے میں دوہرا عذاب ہے، ایک عذاب تو حسد کی وجہ سے کہ وہ دنیا کی نعمتوں پر حسد کر رہا ہے حالانکہ یہ نعمتیں زوال پذیر ہیں ، دوسرا اس کے ساتھ آخرت کے عذاب کا بھی اضافہ کر لیا، یعنی اس کی غیبت بھی شروع کر دی۔ حسد سے اس شخص کا کچھ نہیں بگڑتا جسے نعمتیں میسر ہیں ، بلکہ یہ خود ہی جسمانی اور ذہنی عذاب میں گرفتار رہتا ہے۔ اس میں دنیا کا بھی نقصان ہے اور دین کا بھی۔ یاد رکھو غیبت اس شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی جس کی تم غیبت کرتے ہو بلکہ خود تمہیں نقصان پہنچاتی ہے، تمہاری نیکیاں اس کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں اور اس کی برائیاں تمہارے حصے میں آ جاتی ہیں۔ تم نے حسد کی خباثت کے ساتھ حماقت بھی ملا لی ہے۔
    اگر غیبت کا محرک استہزاء ہے تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دوسرے لوگوں کو رسوا کر کے اور طنز و تضحیک کا نشانہ بنا کر تم خود اللہ کے یہاں رسوائی مول لے رہے ہو۔ اگر تم اپنے انجام پر نظر ڈالو اور دیکھو کہ قیامت کے دن کتنی زبردست ذلت و رسوائی اٹھانی پڑے گی، ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے تم دوزخ کی طرف قدم بڑھا رہے ہو گے جن کی دنیا میں ہنسی اڑائی تھی۔ اگر تم اس انداز سے سوچو گے تو یقیناً دل میں اللہ کا خوف پیدا ہو گا اور کسی کا مضحکہ اڑانے کی ہمت نہ ہو گی۔

    (آگے دل کی غیبت یعنی بدگمانی کی حرمت، ان شاءاللہ تعالیٰ۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  5. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,680
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا بنیادی موضوع زبان کی آفات ہے لیکن غیبت کے باب میں انہوں نے بدگمانی کو بھی شامل کیا ہے اور اس کو دل کی غیبت کا نام دیا ہے۔ اگرچہ یہاں بھی انہوں نے نہایت شرح و بسط سے بیان فرمایا ہے لیکن حسب معمول ہماری کوشش ہو گی کہ اس کو بھی مختصراً پیش کر دیا جائے۔
    دل سے غیبت کرنے کی حرمت:-
    سُوء ظن (بدگمانی):
    بدزبانی کی طرح بدگمانی بھی حرام ہے، یعنی جس طرح یہ جائز نہیں کہ تم اپنی زبان سے کسی دوسرے کے عیوب بیان کرو اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ تمہارے دل میں کسی کے متعلق غلط خیال آئے یا اس کی طرف سے بدگمان ہو۔ بدگمانی سے ہماری مراد یہ ہے کہ کسی شخص کو قصداً برا نہ سمجھنا چاہیے، البتہ خواطر اور حدیث نفس کے طور پر اگر کسی کی برائی کا خیال دل میں آ جائے تو یہ معاف ہے، بلکہ شک بھی معاف ہے۔ ممنوع ظن ہے اور ظن نام ہے دل کے میلان اور قصد کا۔ اسی ظن کی مخالفت قرآن کریم میں وارد ہے۔
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۔ یعنی اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو بیشک بعض گمان (ایسے) گناہ ہوتے ہیں (جن پر اُخروی سزا واجب ہوتی ہے) اور (کسی کے غیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو۔ سورۃ الحجرات،
    آیت نمبر 12۔
    سُوء ظن کی حرمت کی وجہ : یہ ہے کہ دلوں کے اسرار سے علاّم الغیوب (اللہ تعالیٰ) کے علاوہ کوئی واقف نہیں، اس لیے کسی بندے کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی شخص کے متعلق اپنے دل میں غلط خیال جمائے ۔ ہاں اگر برائی اس طرح ظاہر ہو جائے کہ نہ انکار کی گنجائش باقی رہے اور نہ تاویل و توجیہہ کی، اس صورت میں بلاشبہ اپنے علم و مشاہدے کے مطابق کسی غلط خیال کا دل میں آنا اور راسخ ہونا ممکن ہے۔ جن دلائل سے کسی مسلمان کا خون اور مال جائز ہوتا ہے انہی دلائل سے اس کے بارے میں بدگمانی کرنا بھی جائز ہو گا ، اور وہ دلائل ہیں آنکھ سے مشاہدہ یا کسی ثقہ کی شہادت۔
    بدگمانی کا علاج : اگر یہ دلائل موجود نہ ہوں ، اور دل میں کسی کے بارے میں بدگمانی راہ پائے تو اس کے ازالے کی تدبیر کرنی چاہیے اور نفس کو سمجھانا چاہیے کہ اس شخص کا حال تجھ پر مخفی ہے۔ جس واقعے کو بنیاد بنا کر تو بدگمان ہو رہا ہے اس میں شر اور خیر دونوں ہی کا احتمال ہے، تو کیا یہ ضروری ہے کہ تو خیر کے احتمال کو چھوڑ کر شر کے احتمال کو ترجیح دے۔
    سُوء ظن کی پہچان : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدمی کے دل میں شکوک پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں اور طرح طرح کے خیالات بھی سر اٹھاتے رہتے ہیں، ان شکوک اور خیالات کے ہجوم میں یہ بات کس طرح معلوم ہو کہ فلاں خیال سُوء ظن ہے اور فلاں خیال سُوء ظن نہیں بلکہ شک یا حدیث نفس ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سُوء ظن علامت سے پہچانا جاتا ہے ، اور وہ علامت یہ ہے کہ تمہارا دل اس شخص سے بدل جائے جس کے بارے میں بدگمان ہو۔ مثلاً پہلے اس سے محبت کرتے تھے، اب نفرت کرنے لگو، یا اس کی خاطر داری اور تعظیم کرنے میں پہلا سا نشاط اور مسرت باقی نہ رہے۔ قلب کی اس تبدیلی سے سمجھنا چاہیے کہ فلاں شخص سے بدگمان ہوں۔
    بہرحال اگر کبھی کوئی غلط گمان دل میں آ بھی جائے تو نہ اسے ٹھہرنے یا جمنے کا موقع دے اور نہ اعضاء کے ذریعہ سے اس کا اظہار کرے۔ قلب میں جمنے کی صورت تو یہ ہے کہ اس کی وجہ سے کراہت یا نفرت کرنے لگے، اور ظاہری اعضاء کے ذریعہ بدگمانی ظاہر کرنے کی صورت یہ ہے کہ اس سے دل کے ظن کے مطابق اعمال صادر ہونے لگیں۔ شیطان معمولی سی بات کو بہانہ بنا کر دل میں لوگوں کی طرف سے برائی ڈالتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی باور کرا دیتا ہے کہ ہم کتنے عاقل و دانا ہیں کہ برائی کا کتنی جلد ادراک کر لیتے ہیں واقعتاً مؤمن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ شخص اللہ کے نور سے نہیں بلکہ شیطان کے فریب کی تاریکی میں دیکھتا ہے۔
    سُوء ظن کے پہلو سے تجسس جنم لیتا ہے اور مزید تحقیق کے لیے تجسس میں مشغول ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں تجسس سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔ قرآن کریم کی ایک ہی آیت (مذکورہ) میں غیبت، سُوء ظن اور تجسس سے منع کیا گیا ہے اور تجسس کے معنی یہ ہیں کہ جس شخص کے عیوب پر اللہ عزوجل نے پردہ ڈال رکھا ہے اس کے حالات دریافت کیے جائیں۔

    (آگے غیبت کے باب میں رخصت کے مواقع، ان شاءاللہ عزوجل۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  6. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,680
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غیبت کے باب میں رخصت کے مواقع:-
    اگر کسی شخص کی غیبت کرنے میں کوئی صحیح دینی مصلحت پوشیدہ ہو اور وہ مقصد اس کے بغیر حاصل نہ ہوتا ہو تو غیبت کرنا گناہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بعض مواقع پر شریعت نے غیبت کی اجازت بھی دی ہے۔ یہ کل چھ مواقع ہیں۔
    اول۔ ظلم کی داد رسی کے لیے : مثال کے طور پر کوئی مظلوم حاکم سے یہ شکایت کرے کہ فلاں شخص نے مجھ پر ظلم کیا ہے، میرے ساتھ خیانت کی ہے یا مجھ سے رشوت لی ہے، تو یہ غیبت نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ مظلوم نہیں تو یہ شکایت غیبت سمجھی جائے گی، اور اس کا گناہ ہو گا۔ مظلوم کے لیے اجازت کی وجہ یہ ہے کہ وہ حاکم کو صحیح واقعہ بتلائے بغیر اپنا حق حاصل نہیں کر سکتا۔ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :فإنَّ لِصَاحِبِ الحَقِّ مَقَالًا۔ یعنی حق والا بولا ہی کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم- ابوہریرہ)
    دوم- منکر کے ازالے، اور معصیت کے دور کرنے پر مدد حاصل کرنے کے لیے : جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حضرت عثمان اور بعض روایات کے مطابق حضرت ابو طلحہ کے پاس سے گزرے اور انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔ آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ان کی شکایت کی۔ حضرت ابو بکر بذات خود تشریف لائے اور ان دونوں میں صلح کرائی۔ صحابہ کے نزدیک اس طرح کی شکایتیں غیبت میں داخل نہیں تھیں کیونکہ ان سے مصالحت مقصود ہوتی تھی۔
    اسی طرح حضرت عمر کو یہ اطلاع پہنچی کہ ابو جندل ملک شام میں شراب نوشی کرتے ہیں۔ آپ نے انہیں ایک خط لکھا جس میں ایک آیت تھی جس کا ترجمہ ہے "حم۔ کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہوا ہے جو زبردست ہے، خبردار ہے، گناہ بخشنے والا ہے، توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا ہے۔" ابو جندل کے پاس جب یہ خط پہنچا تو انہوں نے فوراً ہی توبہ کی اور شراب نوشی ترک کر دی۔ ظا ہر ہے ابو جندل کی شراب نوشی کی خبر کسی دوسرے شخص نے حضرت عمر کو دی تھی جس کا مقصد غیبت کرنا نہ تھا اور نہ ہی حضرت عمر نے اس کی حالت بیان کرنے کو غیبت تصور کیا۔ بلکہ خبر دینے والے نے یہ سوچا تھا کہ اگر اس کی شکایت حضرت عمر سے کر دی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ وہ نصیحت کریں گے اور ان کی نصیحت میری نصیحت سے زیادہ مؤثر ہو گی۔ اور یہی ہوا بھی کہ حضرت عمر کے ایک مختصر سے مکتوب نے انہیں توبہ کرنے پر مجبور کر دیا۔
    سوم- فتویٰ حاصل کرنے کے لیے : مثلاً کسی مفتی یا عالم سے جا کر یہ دریافت کرنا کہ مجھ پر میرے باپ ، بھائی یا بیوی نے یہ ظلم کیا ہے، میرے لیے شریعت کا کیا حکم ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ استفتاء میں کنائے سے کام لے ، یعنی اس طرح دریافت کرے کہ اگر کسی شخص پر اس کا باپ، بھائی یا بیوی ظلم کرے تو اسے کیا کرنا چاہیے۔ تاہم ان مواقع پر صراحت اور تعیین بھی گناہ نہیں ہے۔
    چہارم - مسلمان کو شر سے بچانے کے لیے : مثلاً تم کسی فقیہ کو بدعت کی طرف مائل دیکھو، یا کسی شخص کو فسق میں مبتلا دیکھو اور یہ اندیشہ ہو کہ اس کی بدعت اور اس کا فسق کسی دوسرے مسلمان کی طرف تعدی کر جائے گا، اس صورت میں تمہارے لیے جائز ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کو فقیہ کی بدعت اور فاسق کے فسق سے آگاہ کر دو۔ اس غرض کے علاوہ کسی دوسری غرض کے لیے آگاہ کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ بڑے دھوکے کا مقام ہے، کبھی جذبہ حسد بھی آدمی کو دوسرے کی برائی کرنے پر اکساتا ہے اور شیطان اس کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ وہ محض مخلوق پر شفقت اور معاصی سے ان کی حفاظت کے لیے بدعتی کی بدعت اور فاسق کے فسق سے مطلع کر رہا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کو نوکر رکھنا چاہے اور تم اس نوکر کے کسی عیب، مثلاً چوری کی عادت سے واقف ہو تو مالک کو ضرور مطلع کرنا چاہیے۔ اگرچہ اس میں نوکر کا ضرر ہے لیکن مالک کا مفاد مقدم ہے۔ اکابرین سلف کہتے ہیں کہ تین آدمیوں کی برائی غیبت نہیں ہے، ایک ظالم حاکم ، دوسرا بدعتی، تیسرا کھلا فاسق۔
    پنجم- عرفیت کی وجہ سے : اگر کسی شخص کا کوئی عیب معروف ہو گیا ہو اور لوگ اسے اسی عیب کے حوالے سے بلاتے ہوں ، مثلاً اندھا، کانا، لنگڑا وغیرہ، اس صورت میں تم بھی اگر اسی نام سے بلاؤ یا غائبانہ میں اس کا نام لو تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ چنانچہ حدیث کی کتابوں میں اس طرح کی اسناد منقول ہیں۔ مثلاً جیسے ابو زناد نے اعرج (لنگڑے) سے روایت کی ہے اور سلیمان نے اعمش (چندھے) سے۔ علماء نے اس کی اجازت پہچان کی وجہ سے دی ہے۔ خود وہ لوگ بھی ان ناموں سے شہرت پانے کے بعد برا نہیں مناتے، البتہ اگر ان کے ناموں کا کوئی بہتر بدل مل جائے یا کسی دوسرے لفظ کے ذریعہ ان کا تعارف کرانا ممکن ہو تو یہ زیادہ اچھی بات ہے۔
    ششم- کھلے فسق کی وجہ سے : اسی طرح اگر کوئی شخص کھلم کھلا فسق کا ارتکاب کرتا ہے مثلاً مخنث ، شراب خور، یا لوگوں سے بھتہ اور رشوتیں وصول کرنے والے لوگوں کی برائیاں عموماً لوگوں پر عیاں رہتی ہیں ، بلکہ بعض لوگ ان برائیوں کے مظاہر میں بھی کوئی عیب نہیں سمجھتے اور نہ ان عیوب کی اپنی طرف نسبت پر برا مناتے ہیں، ایسے لوگوں کی غیبت کرنا جائز ہے۔ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : مَن ألْقى جِلْبَابَ الحَيَاءِ عَنْ وَجْهِهِ فَلَا غِيبَةَ لَهُ ۔ یعنی جو شخص اپنے چہرے سے حیا کا نقاب اتار پھینکے اس (کی برائی ) کا ذکر کرنا غیبت نہیں ہے۔ (ابن عدی، انس)
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فاجر کے لیے کوئی عزت و احترام نہیں۔ فاجر سے مراد انہوں نے وہ شخص لیا ہے جو علی الاعلان فسق و فجور میں مبتلا رہتا ہو، چھپ کر کرنے والے کا یہ حکم نہیں ہے۔ اس کی عزت و احترام کی پاسداری اور رعایت ہونی چاہیے۔

    (آگے غیبت کا کفّارہ، ان شاء اللہ عزوجل۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 1
  7. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,680
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غیبت کا کفّارہ :-
    معاف کرانا ، دعائے خیر کرنا: غیبت کرنے والے پر واجب ہے کہ وہ اپنے فعل پر نادم ہو، تاسف کا اظہار کرے اور توبہ کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کے حق سے بری الذمہ ہو جائے۔ پھر اس شخص سے معاف کرائے جس کی غیبت کی ہے۔ صرف زبان سے معافی کی درخواست کرنا کافی نہیں ہے بلکہ دل کا متاسف اور غمگین و نادم ہونا بھی ضروری ہے۔ اس لیے کہ ریاکار بظاہر اپنا قصور معاف کراتا ہے لیکن دل میں ذرہ برابر بھی ندامت نہیں ہوتی، اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے متقی و پرہیزگار سمجھیں، یہ ایک دوسری مصیبت ہے۔ غیبت کا گناہ تو ذمے تھا ہی کہ اب ریا کاری کو گناہ بھی سر پر پڑ گیا۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ غیبت کا گناہ معاف کرانا ضروری نہیں ہے بلکہ اس شخص کے لیے دعائے مغفرت کرنا کافی ہے جس کی غیبت کی ہو۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک کی اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ کفارہ من اغتبتہ ان تستغفر لہ۔ یعنی جس کی تم نے غیبت کی ہے اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کے لیے دعائے مغفرت کرو۔ (ابن ابی الدنیا)۔ مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی کا گوشت کھانے کا کفارہ یہ ہے کہ اس کی ثنا کی جائے اور اس کے لیے دعائے خیر کی جائے۔ عطاء بن ابی رباح سےپوچھا گیا کہ غیبت سے توبہ کرنے کا کیا طریقہ ہے، انہوں نے جواب دیا ، اس طرح کہ تم اس شخص کے پاس جاؤ جس کی غیبت کی ہو اور اس سے کہو کہ میں نے تمہارے متعلق جھوٹ کہا، تم پر ظلم کیا اور تمہیں تکلیف پہنچائی، اگر تم چاہو تو اپنا حق وصول کر لو اور چاہو تو معاف کر دو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک عورت سے جس نے کسی عورت کو طویل دامن والی کہہ دیا تھا فرمایا کہ اس سے اپنا قصور معاف کراؤ، تم نے اس کی غیبت کی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ معاف کرانا ضروری ہے بشرطیکہ یہ ممکن ہو، لیکن اگر وہ شخص مر گیا ہو یا مفقود الخبر ہو گیا ہو تب بلاشبہ اس کے لیے بکثرت دعائے خیر کرنی چاہیے اور نیک کاموں کا ثواب اسے پہنچانا چاہیے۔
    کیا معاف کرنا ضروری ہے؟: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوسرے شخص کو معاف کرنا واجب ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ معاف کرنا واجب نہیں ہے بلکہ یہ تبرّع ہے اور تبرع مستحسن ہوتا ہے واجب نہیں ہوتا۔ معاف کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی خوب تعریف کرے، اس سے قریب ہو اور زیادہ وقت اس کے ساتھ گزارے تاکہ اس کا دل صاف ہو جائے اور قصور معاف کر دے۔ اگر اس کا دل صاف نہ ہو اور وہ قصور معاف کرنے پر رضا مند نہ ہو تب بھی معافی کے لیے یہ تگ و دو ، اور دوستی و قربت حاصل کرنے کے لیے یہ کوشش رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ اس کا ثواب ملے گا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غیبت کے مقابلے میں یہ عمل نیکی بن جائے۔
    معاف کرنا افضل ہے : اس میں شک نہیں کہ معاف کر دینا افضل ہے ۔ چنانچہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب قیامت کے دن اقوام عالم باری تعالیٰ کے حضور گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے ہوں گے تو ندا آئے گی کہ وہ لوگ اٹھیں جن کا اجر اللہ جل شانہ پر باقی ہو، اس وقت صرف وہ لوگ اٹھیں گے جو دنیا میں لوگوں کے قصور معاف کر دیا کرتے تھے۔

    (غیبت کا بیان ختم ہوا۔ وباللہ التوفیق)
    (آگے زبان کی سولہویں آفت، ان شاء اللہ تعالیٰ)
     
    • زبردست زبردست × 1
  8. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,680
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    سولہویں آفت- چغل خوری :-

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍO هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍO اور آپ کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قَسمیں کھانے والا اِنتہائی ذلیل ہے۔ (جو) طعنہ زَن، عیب جُو (ہے اور) لوگوں میں فساد انگیزی کے لئے چغل خوری کرتا پھرتا ہے۔ سورۃ القلم، آیت نمبر 11-10۔
    رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : لا يَدْخُلُ الجَنَّةَ نَمَّام ۔ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔ (بخاری و مسلم- ابو حذیفہ)
    ایک مرتبہ آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا میں تمہیں شر پسند لوگوں سے آگاہ نہ کردوں؟ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ، آگاہ فرمائیں۔ آپ نے فرمایا : چغلی کرنے والے، دوستوں کے درمیان فساد پیدا کرنے والے اور بے عیبوں کے عیب تلاش کرنے والے۔ (احمد-ابو مالک اشعری)
    کعب الاحبار سے روایت ہے کہ جب بنی اسرائیل پر قحط سالی کا عذاب نازل ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے متعدد مرتبہ بارش کی دعا مانگی لیکن بارش نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی کہ اے موسیٰ، تمہاری اور تمہارے رفقاء کی دعا اس لیے قبول نہیں ہوتی کہ تم لوگوں میں ایک شخص موجود ہے جو چغلی پر اصرار کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: الہٰی مجھے بتائیے وہ شخص کون ہے تاکہ میں اسے اپنے درمیان سے نکال باہر کروں۔ وحی آئی کہ اے موسیٰ کیا یہ مناسب ہو گا کہ میں تمہیں غیبت کرنے سے منع کروں اور خود غیبت کروں۔ ان سب نے توبہ کی ، تب بارش ہوئی اور اس عذاب سے چھٹکارا ملا۔
    چغل خوری کی تعریف اور علاج : عام طور پر چغلی کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ کسی کا قول اس شخص سے نقل کر دے جس کے بارے میں کہا گیا ہو، مثلاً یہ کہہ دے کہ فلاں شخص تمہارے بارے میں یہ کہہ رہا تھا، لیکن چغلی کی حقیقت اسی میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس کی تعریف یہ ہے کہ جس چیز کا ظاہر کرنا برا ہو اسے ظاہر کر دے، خواہ اسے برا لگے جس نے کہا، یا اسے جس کے بارے میں کہا گیا یا کسی تیسرے شخص کو۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ اس کا اظہار زبان ہی سے ہو، بلکہ کتابت اور رمز و کنایہ بھی زبان ہی کے قائم مقام ہیں۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ اس چغلی کا تعلق کلام سے ہو یا عمل سے ہو یا منقول عنہ کے کسی عیب اور نقص سے، غرض کہ چغلی ناپسندیدہ بات کے اظہار کا نام ہے۔ بہرحال جب کسی کی نظر لوگوں کی ناپسندیدہ بات یا مکروہ احوال پر پڑے تو اسے سکوت کرنا چاہیے، البتہ اگر کسی مسلمان کا فائدہ یا کسی گناہ کا ازالہ مقصود ہوتو بولنا چاہیے۔
    چغلی کے محرکات: چغلی کا محرک یا تو جس کی بات نقل کی جائے اس کو نقصان پہنچانے کا ارادہ ہوتا ہے یا جس سے بات کی جائے اس سے محبت کا اظہار مقصود ہوتا ہے، یا محض دل لگی اور لغویات میں پڑنے کی عادت چغلی کھانے پر اکساتی ہے۔ اگر کسی شخص کے سامنے چغلی ہو اور یہ کہا جائے کہ فلاں شخص تمہارے بارے میں یہ کہتا ہے یا تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ ، اس صورت میں اس شخص کو چاہیے کہ وہ ان چھ باتوں پر عمل کرے ، اولاً یہ کہ اس کا اعتبار نہ کرے کیونکہ چغل خور فاسق ہوتا ہے ، اس کی شہادت بھی قابل قبول نہیں ہوتی۔ ارشاد ربانی ہے کہ اے ایمان والو! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو ، کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچا بیٹھو۔(سورۃ الحجرات، آیت نمبر 6)۔
    ثانیاً یہ کہ اسے چغلی کھانے سے منع کرے، نصیحت کرے اور اس کے عمل کی برائی واضح کرے۔ ثالثاً یہ کہ اس سے اللہ کے واسطے بغض رکھے ، کیونکہ وہ اللہ کے نزدیک مبغوض ہے۔ رابعاً یہ کہ اس کے کہنے سے اپنے غیر موجود بھائی کے متعلق بد گمان نہ ہو۔ خامساً یہ کہ جو کچھ اس کے سامنے نقل کیا جائے اسے سن کر مزید معلومات کی جستجو نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا ہے۔ سادساً یہ کہ جس بات سے چغل خور کو منع کرے اس میں خود مبتلا نہ ہو یعنی اس کی چغلی کسی دوسرے سے نقل نہ کرے۔
    روایت ہے کہ کسی دانشور کے پاس اس کا کوئی دوست بغرض ملاقات آیا اور کسی دوسرے دوست کے متعلق کچھ کہنے لگا۔ دانشور نے اس سے کہا کہ تم اتنے دنوں بعد آئے اور آتے ہی تین جرم کر بیٹھے۔ پہلا یہ کہ تم نے میرے دوست سے بغض پیدا کر دیا، دوسرا یہ کہ میرے مطمئن اور خالی دل و دماغ کو اضطراب اور بے چینی سے بھر دیا، تیسرا یہ کہ اپنی دیانتداری کو مجروح کر دیا۔ ایک شخص نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے سامنے کسی کی چغلی کی، آپ نے اس سے فرمایا کہ ہم تیری بات کی تحقیق کریں گے ، اگر سچ ہوئی تو تجھ سے ناراض ہوں گے، جھوٹ نکلی تو تجھے سزا دیں گے اور اگر تو معاف کرانا چاہے تو معاف کر دیں گے۔ اس نے عرض کیا: امیرالمؤمنین ، مجھے معاف فرما دیجیے۔حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ میں تجھے چند عادتیں اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں ، اگر تو نے ان عادتوں کو اپنایا تو تجھے بلندی اور سرداری ملے گی اور اس وقت تک حاصل رہے گی جب تک تو ان عادتوں پر کاربند رہے گا۔ ہر قریب و بعید کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آ، ہر شریف سے اپنی جہالت پوشیدہ رکھ، لوگوں کی حرمت کی حفاظت کر، اقارب سے صلہ رحمی کر اور ان کے خلاف کسی چغل خور کی چغلی مت سن، انہیں بھڑکانے والوں کے شر اور فساد برپا کرنے والوں کی سازش سے مامون رکھ، اس شخص کو اپنا بھائی اور دوست سمجھ جو جب جدا ہو جائے تو نہ تیری برائی کرے اور نہ تو اس کی برائی کرے۔

    (جاری ہے۔۔۔۔۔)
     
    • زبردست زبردست × 2

اس صفحے کی تشہیر