ریختہ ویب سائٹ نے اردو کا نام 'ہندوستانی' کر دیا۔

آورکزئی

محفلین
کہیں یہ اس زمرے میں تو نہیں اتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
 

جاسم محمد

محفلین
خوشی ہوئی یہ جان کر کہ ریختہ نے اپنی غلطی تسلیم کی اور اردو کو 'اردو' ہی کر دیا اور اسے ہندوستانی کہنے کی غیر ضروری بحث میں نہیں پڑے۔
زبان کو تو اردو کر دیا البتہ کلچرل ایونٹ ابھی بھی "ہندوستانی" ہی لکھا ہے :)
 

محمد وارث

لائبریرین
زبان کو تو اردو کر دیا البتہ کلچرل ایونٹ ابھی بھی "ہندوستانی" ہی لکھا ہے :)
اس پر ہمیں اعتراض بھی نہیں ہے، یہ ہندوستانی کلچر ہی ہے، اردو کلچر نہیں ہے۔ زبان اردو ہے سو انہوں نے درست کر دیا، شکریہ ان کا۔
 
زبان کو تو اردو کر دیا البتہ کلچرل ایونٹ ابھی بھی "ہندوستانی" ہی لکھا ہے :)
غلطی ہوگئی سر! چونکہ اردو پاکستانی زبان ہے لہٰذا پاکستانی کلچر لکھنا چاہیے۔ امید ہے ہندوستانی لوگ ایسی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
غلطی ہوگئی سر! چونکہ اردو پاکستانی زبان ہے لہٰذا پاکستانی کلچر لکھنا چاہیے۔ امید ہے ہندوستانی لوگ ایسی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔
جب لال قلعے پر سبز ہلالی لہرائے گا تب ایسی غلطیوں پر سزا بھی دیں گے، تب تک 'جہاں ہے جیسے ہے' پر ہی گزارہ کر لیتے ہیں۔ :)
 

عدنان عمر

محفلین
نحوی بنیاد کافی مشترک ہے صرف میں تو زمین آسمان کا فرق ہے ۔ حقیقت میں علم الصرف ہی اردو کو اردو بناتا ہے ۔
اگر یہاں صرف سے مراد ذخیرۂ الفاظ ہے تو پھر تو واقعی اردو اور ہندی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ باقی میری سمجھ کے مطابق اردو اور ہندی کے بنیادی اسماء، افعال، صفات، تذکیر و تانیث اور واحد جمع بنانے کے طریقے اور امالہ وغیرہ ایک ہی ہیں، اسی لیے میں نے کہا تھا کہ دونوں زبانوں کی صرف و نحو ایک ہے۔
واضح رہے کہ یہ بات میں نے خالصتاً تکنیکی یا لسانیاتی اعتبار سے کی ہے۔ ورنہ تہذیب، ادبی روایات، جمالیاتی ذوق، تلمیحات و استعارات کے حوالے سے اردو اور ہندی دو مختلف مزاج رکھنے والی زبانیں ہیں۔ البتہ عوامی بولیوں کے روپ میں ان دونوں کے مابین نمایاں فرق تلاش کرنا کم از کم میرے لیے تو بہت مشکل ہے۔ باقی محفل کے اہلِ علم حضرات اس حوالے سے بہتر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔
 
اسی لیے میں نے کہا تھا کہ دونوں زبانوں کی صرف و نحو ایک ہے۔
برادر عدنان عمر ۔ در اصل صرف اور نحو دو الگ علوم ہیں ۔ علم الصرف الفاظ ، ان کی ساخت اور ان میں واقع ہونے والی تبدیلیوں اور حالتوں سے متعلق ہوتا ہے ۔ اس لیے یہی اردو کو ہندی سے بہت زیادہ ممتاز کرتا ہے۔ البتہ اردو اور ہندی میں زبانوں کے فقروں میں بنیادی نحوی ڈھانچہ کافی مشترک ہوتا ہے ۔
 

عدنان عمر

محفلین
علم الصرف الفاظ ، ان کی ساخت اور ان میں واقع ہونے والی تبدیلیوں اور حالتوں سے متعلق ہوتا ہے ۔
جی اسی لیے تو اسما، افعال، صفات وغیرہ کا حوالہ دیا تھا۔ کیا یہ علم الصرف کا حصہ نہیں؟ ہاں امالہ ضرور علم النحو کی ذیل میں آئے گا۔ اصل میں عاطف بھائی، اس نکتے کو میں صحیح طور پر سمجھ نہیں پا رہا۔ اگر آپ چند مثالوں سے اردو اور ہندی کے مابین صرفی فرق کو سمجھا دیں تو میرے لیے آسانی ہوگی۔
 

جاسم محمد

محفلین
اگر آپ چند مثالوں سے اردو اور ہندی کے مابین صرفی فرق کو سمجھا دیں تو میرے لیے آسانی ہوگی۔
اردو اور ہندی کا بنیادی ڈھانچہ ایک جیسا ہے۔ صرف رسم الخط اور الفاظ کا چناؤ مختلف ہے۔ جیسے سلیس اردو بولنے والے بہت کم ہیں۔ ویسے ہی سلیس ہندی بہت کم لوگ بولتے ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک میں عوام کی اکثریت وہی مکس اچار بولتی ہے جو ٹی وی، فلموں وغیرہ میں دکھایا جاتا ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
تصور کیجئے۔ ایک شخص کے ذاتی کتب خانے میں پچیس ہزار نادر کتابیں موجودہیں لیکن ایک کتاب کے آخری دو یا تین صفحات نہیں ہیں۔ یہ دو یاتین صفحات پانے کے لئے وہ دنیا بھر کے کتب خانوں کو کھنگال رہا ہے مگر ابھی تک ناکامی ہوئی ہے۔ کسی جستجو سے والہانہ لگاؤ ہو تو ایسا ہو۔ ان صاحب کا نام محمد موسیٰ ہے اور کسی بڑے شہر کے عظیم الشان بنگلے میں نہیں بلکہ صوابی کے قصبہ ٹوپی کے قریب دریائے سندھ کے کنارے ایک چھوٹے سے گاؤں زروبی میں رہتے ہیں۔ تیس سال سے اردو کی قدیم اور جدید کتابیں جمع کررہے ہیں جن کی تعدادپورے یقین سے نہیں، اندازاً بتاتے ہیں: بیس، پچیس ہزار۔ ہماری سائنس اس ای میل کو سلامت رکھے۔ پچھلے دنوں مجھے محمد موسیٰ صاحب کی ای میل ملی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ الطاف حسین حالیؔ کی کتاب تریاق مسموم میرے پاس ہے لیکن اس کے آخر ی دو یا تین صفحات غائب ہیں۔ اگر آپ لندن کے کتب خانوں میں موجود اس کتاب کے آخری صفحے حاصل کرنے میں میری مدد کردیں تو ممنون ہوں گا۔

آج کل ’’ریختہ‘ ‘والے اپنے آلات اور سا ز وسامان لے کر عبدالصمد صاحب کے پاس پہنچے ہوئے ہیں اور ان کی نایاب کتابوں اورخاص طور پر قدیم اردو رسالوں کو اسکین کرکے ان کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر رہے ہیں۔
 
Top