آپ گھر یا دفتر میں صفائی کرتے ہوئے زیادہ تر بے مصرف چیزیں

  • رکھ لیتے ہیں

    Votes: 10 43.5%
  • پھینک دیتے ہیں

    Votes: 13 56.5%

  • Total voters
    23
تقریباً سبھی پاکستانی لوگ رکھ رکھاؤ والے ہوتے ہیں۔ :)
انسان تو کیا کسی بے جان شے سے بھی یکلخت منہ موڑنا ان کے لئے دشوار ہوتا ہے۔ :)
ہماری ایک رشتہ دار بزرگ خاتون کا ایک سٹور صرف دادی، پردادی کی نشانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ اور ایک دفعہ مکان ڈھونڈنا پڑا تو سب سے بڑا مسئلہ اس سامان کو ساتھ ڈھو کر رکھنے کا تھا کہ ایسا ہی مکان ملے، جس میں ایک فالتو کمرا ان یادوں کو رکھنے کے لیے ہو۔
 

جاسم محمد

محفلین
ہماری ایک رشتہ دار بزرگ خاتون کا ایک سٹور صرف دادی، پردادی کی نشانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ اور ایک دفعہ مکان ڈھونڈنا پڑا تو سب سے بڑا مسئلہ اس سامان کو ساتھ ڈھو کر رکھنے کا تھا کہ ایسا ہی مکان ملے، جس میں ایک فالتو کمرا ان یادوں کو رکھنے کے لیے ہو۔
متفق۔ میرے نانا جان مرحوم کے گھر میں بھی ایک اسی طرح کا اسٹور تھا جہاں کئی ہزار سال قبل مسیح تک کا سامان موجود تھا۔ ان کی وفات کے بعد یہ سب مختلف کتب خانوں میں بھجوا کر جان چھڑائی ۔
 

بابا-جی

محفلین
ہماری ایک رشتہ دار بزرگ خاتون کا ایک سٹور صرف دادی، پردادی کی نشانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ اور ایک دفعہ مکان ڈھونڈنا پڑا تو سب سے بڑا مسئلہ اس سامان کو ساتھ ڈھو کر رکھنے کا تھا کہ ایسا ہی مکان ملے، جس میں ایک فالتو کمرا ان یادوں کو رکھنے کے لیے ہو۔
اسائِنمنٹ بشرط فُرصت و فراغت:
رِشتہ دار بُزرگ خاتُون کے گھر جانا۔
اُن کے اسٹور تک رسائی طلب کرنا۔
دادی پر دادی کی نِشانیوں کی عکس بندی کرنا۔
محفل میں اُن کی شراکت کرنا۔
مُمکنہ داد سمیٹنا۔
 
آخری تدوین:

ثمین زارا

محفلین
ہم جب اپنے گھر یا دفتر میں صفائی کرتے ہیں تو اکثر اہم اور ضروری اشیاء کے ساتھ ساتھ ہمیں بہت سی ایسی چیزوں سے بھی سابقہ پڑتا ہے کہ جن کے بارے میں ہم یہ سوچتے ہیں کہ انہیں پھینک دیا جائے یا رکھ لیا جائے؟

ہم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جو اکثر چیزیں یہ سوچ کر رکھ لیتے ہیں کہ کسی وقت کام آ جائے گی۔ اور کچھ لوگ یہ سوچ کر پھینک دیتے ہیں کہ اب تک یہ چیز کسی کام نہیں آئی تو آگے کیا آئے گی؟ :)

نفسیات کے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ہم جتنا زیادہ فالتو اشیاء ( کپڑے، کھلونے، روز مرہ کی استعمال کی چیزیں، دفتر وغیرہ میں غیر ضروری فائلز ، کاغذات کے پلندے) میں گھرے رہیں گے ہم اُتنا ہی منتشر خیالی اور منتشر مزاجی کا شکار رہیں گے۔ اور جتنا ہم اپنے ارد گرد کو صاف رکھیں گے اُتنا ہی ہم اچھا محسوس کریں گے۔ اور ہمارا کام زیادہ بار آور ہوگا۔

طبعاً ہم میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے ارد گرد کو صاف ستھرا رکھ کر زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو اشیاء کے انبار میں گھرے ہونے کے باوجود خوش رہتے ہیں اور اُن کے کام اور کام کے معیار پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کہتے ہیں کہ آئین اسٹائن کی ڈیسک کاغذوں اور کباڑوں سے بھری رہتی تھی لیکن پھر بھی اُن کا کام بہت سے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بار آور ہوا کرتا تھا۔

سو آپ بتائیے کہ آپ کن لوگوں میں سے ہیں۔ اور صفائی کرتے وقت آپ زیادہ تر چیزیں رکھ لیا کرتے ہیں یا پھینک دیا کرتے ہیں۔
اچھا تو پاکستانی آئن اسٹائن جیسا دماغ رکھتے ہیں ۔!! بلکہ ان سے بھی اعلیٰ کہ گلیاں اور محلے تک کچرا کباڑ سے اٹے ہیں ۔ دنیا ہمیں کب عظیم مانے گی ؟
 

ثمین زارا

محفلین
اکثر فالتو کپڑے اور دیگر اشیا ٹھکانے لگا دی جاتی ہیں مگر کتابیں چاہے کتنی پرانی ہو جائیں ان کو کسی کو دینے کا دل نہیں کرتا ۔
 
آخری تدوین:

بابا-جی

محفلین
میرے نانا جان مرحوم کے گھر میں بھی ایک اسی طرح کا اسٹور تھا جہاں کئی ہزار سال قبل مسیح تک کا سامان موجود تھا۔
اے نارویجین پنچھی! یِہ مراسلہ تو تقریباً معلُوم تاریخ کی حدیں پار کر گیا۔ میں نہیں لپیٹ سکا، جو چاہو تو چھوڑتے جاؤ۔ جمہُوریت ہے، کاہے کی پابندی!
 

جاسم محمد

محفلین
اے نارویجین پنچھی! یِہ مراسلہ تو تقریباً معلُوم تاریخ کی حدیں پار کر گیا۔ میں نہیں لپیٹ سکا، جو چاہو تو چھوڑتے جاؤ۔ جمہُوریت ہے، کاہے کی پابندی!
یعنی اسٹور میں دنیا جہاں کا کباڑ تھا۔ جو چند تاریخی کتب تھیں وہ کتب خانہ میں جمع کروا دی تھیں۔ باقی سامان شاید کسی چنگڑ کو بیچ ڈالا۔
 

بابا-جی

محفلین
یعنی اسٹور میں دنیا جہاں کا کباڑ تھا۔ جو چند تاریخی کتب تھیں وہ کتب خانہ میں جمع کروا دی تھیں۔ باقی سامان شاید کسی چنگڑ کو بیچ ڈالا۔
ان کی وفات کے بعد یہ سب مختلف کتب خانوں میں بھجوا کر جان چھڑائی ۔
نانا سے خُدانخواستہ کوئی خاندانی دُشمنی تو نہیں تھی؟
 

جاسم محمد

محفلین
نانا سے خُدانخواستہ کوئی خاندانی دُشمنی تو نہیں تھی؟
بالکل بھی نہیں۔ البتہ ان کے کباڑ سے دشمنی تو ان کی زندگی میں ہی پال لی تھی ۔ وہ ہمیں اسٹور کو ہاتھ بھی لگانے نہیں دیتے تھے۔ کئی بار صفائی کی کوشش پر ہماری چھترول بھی کی :)
 

شمشاد

لائبریرین
ففٹی ففٹی، کچھ چیزیں نکال دی جاتی ہیں اور کچھ رکھ لی جاتی ہیں۔ کہ کھوٹا پیسہ بھی کبھی کام آ جاتا ہے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
احمد بھائی ، رکھیں یا پھینکیں کا جواب تو اس بات پر منحصر ہے کہ بات کس شے کے متعلق ہو رہی ہے ۔ غزل رکھنے یا پھینکنے کے بارے میں تو میں نے ایک اصول بنایا ہوا ہے ( جو ٹکٹ لگا جوابی لفافہ بھیج کر معلوم کیا جاسکتا ہے)۔:) باقی اشیا کے بارے میں ہماری بیگم بہتر جانتی ہیں ۔ ان کا بس چلے تو گھر میں فرنیچر اور انسانوں کے علاوہ اور کوئی چیز نظر نہ آئے ۔ ان کے بقول جب تک ارد گرد کا ماحول صاف ستھرا اور ہر چیز قرینے سے نہ رکھی ہو تب تک ذہنی سکون نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہمارے گھر میں ہر اضافی چیز عموماً الماریوں اور درازوں میں آرام کررہی ہوتی ہےاور بوقتِ ضرورت انہی سے پوچھ کر متعلقہ دراز یا کیبینٹ سے برآمد کرلی جاتی ہے ۔ البتہ میرا سارا "کاٹھ کباڑ" تہ خانے میں بکسوں میں بند ہے ۔ عموماً ایک دو سال بعد کوئی ایک آدھ چیز شدت سے یاد آتی ہے تو اسے دھوپ لگانے اور ڈانٹ کھانےکے لئے باہر نکال لاتا ہوں ۔ :) لیکن گزرتے وقت کے ساتھ اب یہ احساس قوی تر ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو چیزیں اس لئے دی ہیں کہ وہ کسی کے کام آئیں ۔ چنانچہ اب چند سالوں سے میں نے اپنی چیزیں لوگوں کو دینا شروع کردی ہیں ۔ آرٹ کا سامان دوست احباب کے بچوں کو موقع بے موقع دے دیتا ہوں ۔ کتابیں بھی بہت ساری بانٹ چکا۔ کچھ کتابیں دینے کو جی نہیں چاہتا لیکن آہستہ آہستہ دل کڑا کرکے وہ بھی نکال رہا ہوں ۔ پچھلے آٹھ نو سال سے اپنے لئے نئے کپڑے نہیں خریدے کہ جو کپڑے موجود ہیں وہ میری بقیہ عمر کے لئے کافی سے زیادہ ہیں ۔ یہ بات کہتے ہوئےانتہائی شرم محسوس ہوتی ہے کہ اس سے پہلے بلا ضرورت کپڑے خریدے گئے اور وہ سب لٹکے ہی رہتے تھے ۔ سو بہت سارے کپڑے ایک رفاہی ادارے کو دے دیئے اور اب صرف ضرورت کے باقی رکھے ہیں ۔ ان میں سے بھی آئے دن چھانٹی کرتا رہتا ہوں۔ پاکستان میں بہن بھائیوں سے لڑ جھگڑ کر سب کو سختی سے منع کردیا ہے کہ وہ عید بقرعید پر مجھے کوئی لباس نہ بھیجیں ۔ دھمکی دیدی ہے کہ اگر بھیجا تو آخرت میں حساب انہیں ہی دینا پڑے گا۔ :)
ہماری مسجد کے کاریڈور میں ایک دیوار پر کھونٹیاں لگی ہیں اور ضرورت سے زیادہ ملبوسات وغیرہ وہاں لا کر لٹکادیئے جاتے ہیں ۔ ضرورت کی گھریلو اشیا بھی کاؤنٹر پر لا کر رکھ دی جاتی ہیں ۔ جسے ضرورت ہوتی ہے وہ لے جاتا ہے ۔ مجھ سے بیس پچیس میل دور ایک شہر میں عراقی اور شامی پناہ گزین اور مہاجرین اچھی خاصی تعداد میں ہیں اور اکثر ضرورت مند ہیں ۔ کمیونٹی کے لوگ آئے دن ان کی ہر طرح سے مدد کرتے رہتے ہیں۔ روزمرہ ضرورت کی اشیا کی شکل میں بھی اور مالی طور پر بھی ۔ گزشتہ جمعے ہی مسجد میں اعلان کیا گیا کہ کچھ لوگ گوشت نہیں خرید سکتے سو ان کے لئے گوشت کا عطیہ دیا جائے ۔ ( گوشت ایک تو مہنگا بھی ہے اور دوسرے یہ کہ حلال گوشت لانے کے لئے شکاگو وغیرہ جانا پڑتا ہے جو بہت سارے لوگ افورڈ نہیں کرسکتے) ۔ اگلے ہی روز مسجد کے ڈیپ فریزر گوشت سے بھر گئے اور ضرورت مند لوگوں تک پہنچادیئے گئے ۔ سردیوں کے موسم میں اکثر گرم کپڑے (استعمال شدہ کوٹ جیکٹ وغیرہ) مسجد میں خصوصی طور پر جمع کئے جاتے ہیں اور انہیں مستحقین تک پہنچایا جاتا ہے ۔ بچوں کے کپڑے پھٹنے سے پہلے ہی بہت جلد چھوٹے ہوجاتے ہیں اور اکثر ضرورت مندوں کو دے دیئے جاتے ہیں ۔ یہاں لینے والے بھی اکثر اس بات کو برا نہیں سمجھتے ۔ چیزوں کو "ری سائیکل" کرنے کا تصور عام ہے۔
احمد بھائی ، مندرجہ بالا سطور لکھنے کا مقصد واللہ خود نمائی نہیں بلکہ صرف اور صرف یہ ہے کہ شاید اوروں کو بھی اس سے کوئی ترغیب ملے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسال کا وہ واقعہ یاد آتا ہے جب وہ اور ان کے دو اصحاب ( شاید ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما) انتہائی بھوک کے عالم میں سرگرداں گھر سے نکلے تھے اور اس موقع پر ایک صحابی نے انہیں اپنا مہمان بنایا اور کھانا پیش کیا ۔ رسول اکرم نے اس وقت کچھ اس طرح فرمایا تھا کہ یاد رکھو ، ہم سے ان "نعمتوں" کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا اور حساب مانگا جائے گا ۔ :cry::cry::cry:
 

بابا-جی

محفلین
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسال کا وہ واقعہ یاد آتا ہے جب وہ اور ان کے دو اصحاب ( شاید ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما) انتہائی بھوک کے عالم میں سرگرداں گھر سے نکلے تھے اور اس موقع پر ایک صحابی نے انہیں اپنا مہمان بنایا اور کھانا پیش کیا ۔ رسول اکرم نے اس وقت کچھ اس طرح فرمایا تھا کہ یاد رکھو ، ہم سے ان "نعمتوں" کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا اور حساب مانگا جائے گا ۔ :cry::cry::cry:
سنہرے حرُوف۔
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت شکریہ ظہیر بھائی!

بہت مفصل اور دلچسپ جواب دیا آپ نے۔
البتہ میرا سارا "کاٹھ کباڑ" تہ خانے میں بکسوں میں بند ہے ۔ عموماً ایک دو سال بعد کوئی ایک آدھ چیز شدت سے یاد آتی ہے تو اسے دھوپ لگانے اور ڈانٹ کھانےکے لئے باہر نکال لاتا ہوں ۔ :) لیکن گزرتے وقت کے ساتھ اب یہ احساس قوی تر ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو چیزیں اس لئے دی ہیں کہ وہ کسی کے کام آئیں ۔ چنانچہ اب چند سالوں سے میں نے اپنی چیزیں لوگوں کو دینا شروع کردی ہیں ۔ آرٹ کا سامان دوست احباب کے بچوں کو موقع بے موقع دے دیتا ہوں ۔ کتابیں بھی بہت ساری بانٹ چکا۔ کچھ کتابیں دینے کو جی نہیں چاہتا لیکن آہستہ آہستہ دل کڑا کرکے وہ بھی نکال رہا ہوں ۔ پچھلے آٹھ نو سال سے اپنے لئے نئے کپڑے نہیں خریدے کہ جو کپڑے موجود ہیں وہ میری بقیہ عمر کے لئے کافی سے زیادہ ہیں ۔

میں یہ سوچتا ہوں کہ جن لوگوں کے پاس ذاتی کتب خانے میں اچھی خاصی کتابوں کا ذخیرہ ہوتا ہے اور وہ ان کتابوں کو اپنے جی جان سے لگا کر رکھتے ہیں (کتابوں کو خود سے جدا کرنے کا دل بھی نہیں چاہتا)۔ لیکن پھر یہ بھی دیکھتا ہوں کہ اکثر ذاتی کتب خانے رکھنے والوں کے بچے کتب بینی میں کچھ خاص دلچسپی نہیں لیتے (شاید مفت دستیابی سے وہ کتابوں کی اہمیت کو نہیں سمجھ پاتے اور یہ کہ کتابوں کی بہتات سے وہ بیزار ہو جاتے ہیں)۔ ایسے لوگوں کی زندگی کے بعد اُن کی کتابیں ناقدری کا باعث بنتی ہیں اور انہیں نامعقول طریقے سے ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟

ہمارے اریب قریب تو زیادہ تر لوگ کتب بیزار ہی ہیں۔ اُنہیں مفت بھی ہاتھ آئے تو وہ کتاب پڑھنے پر راضی نہیں ہوتے۔

ہماری مسجد کے کاریڈور میں ایک دیوار پر کھونٹیاں لگی ہیں اور ضرورت سے زیادہ ملبوسات وغیرہ وہاں لا کر لٹکادیئے جاتے ہیں ۔ ضرورت کی گھریلو اشیا بھی کاؤنٹر پر لا کر رکھ دی جاتی ہیں ۔ جسے ضرورت ہوتی ہے وہ لے جاتا ہے ۔ مجھ سے بیس پچیس میل دور ایک شہر میں عراقی اور شامی پناہ گزین اور مہاجرین اچھی خاصی تعداد میں ہیں اور اکثر ضرورت مند ہیں ۔ کمیونٹی کے لوگ آئے دن ان کی ہر طرح سے مدد کرتے رہتے ہیں۔ روزمرہ ضرورت کی اشیا کی شکل میں بھی اور مالی طور پر بھی ۔

یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ کے ہاں مسجد ، مسجد سے بڑھ کر ایک کمیونٹی سینٹر کا کام کرتی ہے۔

ہمارے ہاں تو مساجد صرف نماز پڑھنے کے لئے ہوتی ہیں۔ بیشتر مساجد کے ساتھ لائبریریز بھی نہیں ہوتیں۔ اور لوگ مسجد میں اجنبیوں کی طرح آتے ہیں ۔ جماعت میں تنہا نماز پڑھتے ہیں اور سلام پھیرنے کے بعد کسی سے سلام دعا نہیں کرتے اور اپنی اپنی راہ لیتے ہیں (خود میں بھی ایسا ہی کیا کرتا ہوں۔)

ہمارے ہاں کچھ کمیونٹیز کام کرتی ہیں لیکن ان کا جوڑ ذات برادری اور زبان وغیرہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہاں مسلمان تو خیر سے اکثریت میں ہیں لیکن ثقافتی و تہذیبی فرق کے باعث یہ ایک دوسرے سے دور دور ہی رہتے ہیں اور محض دین و مذہب کی بنیاد پر اُن کا ایک دوسرے سے جُڑ جانا ممکن نہیں ہوتا۔

گزشتہ جمعے ہی مسجد میں اعلان کیا گیا کہ کچھ لوگ گوشت نہیں خرید سکتے سو ان کے لئے گوشت کا عطیہ دیا جائے ۔ ( گوشت ایک تو مہنگا بھی ہے اور دوسرے یہ کہ حلال گوشت لانے کے لئے شکاگو وغیرہ جانا پڑتا ہے جو بہت سارے لوگ افورڈ نہیں کرسکتے) ۔ اگلے ہی روز مسجد کے ڈیپ فریزر گوشت سے بھر گئے اور ضرورت مند لوگوں تک پہنچادیئے گئے ۔

ماشاء اللہ!
اللہ تعالیٰ اجرِ عظیم عطاء فرمائے اس کار خیر میں حصہ لینے والوں کو۔

سردیوں کے موسم میں اکثر گرم کپڑے (استعمال شدہ کوٹ جیکٹ وغیرہ) مسجد میں خصوصی طور پر جمع کئے جاتے ہیں اور انہیں مستحقین تک پہنچایا جاتا ہے ۔ بچوں کے کپڑے پھٹنے سے پہلے ہی بہت جلد چھوٹے ہوجاتے ہیں اور اکثر ضرورت مندوں کو دے دیئے جاتے ہیں ۔ یہاں لینے والے بھی اکثر اس بات کو برا نہیں سمجھتے ۔ چیزوں کو "ری سائیکل" کرنے کا تصور عام ہے۔

ری سائیکلنگ بہت اچھا تصور ہے۔ اور اپنی ذات سے بڑھ کر سوچنا اُس سے بھی اچھی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نیک کاموں کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔

احمد بھائی ، مندرجہ بالا سطور لکھنے کا مقصد واللہ خود نمائی نہیں بلکہ صرف اور صرف یہ ہے کہ شاید اوروں کو بھی اس سے کوئی ترغیب ملے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسال کا وہ واقعہ یاد آتا ہے جب وہ اور ان کے دو اصحاب ( شاید ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما) انتہائی بھوک کے عالم میں سرگرداں گھر سے نکلے تھے اور اس موقع پر ایک صحابی نے انہیں اپنا مہمان بنایا اور کھانا پیش کیا ۔ رسول اکرم نے اس وقت کچھ اس طرح فرمایا تھا کہ یاد رکھو ، ہم سے ان "نعمتوں" کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا اور حساب مانگا جائے گا

جزاک اللہ!

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نعمتوں پر شکر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور دوسروں کے کام آنے والا بنائے۔ آمین۔
 

شمشاد

لائبریرین
میں یہ سوچتا ہوں کہ جن لوگوں کے پاس ذاتی کتب خانے میں اچھی خاصی کتابوں کا ذخیرہ ہوتا ہے اور وہ ان کتابوں کو اپنے جی جان سے لگا کر رکھتے ہیں (کتابوں کو خود سے جدا کرنے کا دل بھی نہیں چاہتا)۔ لیکن پھر یہ بھی دیکھتا ہوں کہ اکثر ذاتی کتب خانے رکھنے والوں کے بچے کتب بینی میں کچھ خاص دلچسپی نہیں لیتے (شاید مفت دستیابی سے وہ کتابوں کی اہمیت کو نہیں سمجھ پاتے اور یہ کہ کتابوں کی بہتات سے وہ بیزار ہو جاتے ہیں)۔ ایسے لوگوں کی زندگی کے بعد اُن کی کتابیں ناقدری کا باعث بنتی ہیں اور انہیں نامعقول طریقے سے ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟

ہمارے اریب قریب تو زیادہ تر لوگ کتب بیزار ہی ہیں۔ اُنہیں مفت بھی ہاتھ آئے تو وہ کتاب پڑھنے پر راضی نہیں ہوتے۔
میں اس بات پر سو فیصد متفق ہوں۔
میرے گھر میں سوائے میرے اور کسی کو کتاب پڑھنے کا بالکل شوق نہیں۔ بلکہ میرے ارد گرد میرے جتنے رشتہ دار ہیں، ان میں سے بھی کسی کو یہ شوق نہیں ہے۔ مزید یہ کہ جب سے یہ نئے سیل فون آئے ہیں، انہوں نے لوگوں کو کتاب سے بالکل ہی دور کر دیا ہے۔
 

تبسم

محفلین
ہم جب اپنے گھر یا دفتر میں صفائی کرتے ہیں تو اکثر اہم اور ضروری اشیاء کے ساتھ ساتھ ہمیں بہت سی ایسی چیزوں سے بھی سابقہ پڑتا ہے کہ جن کے بارے میں ہم یہ سوچتے ہیں کہ انہیں پھینک دیا جائے یا رکھ لیا جائے؟

ہم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جو اکثر چیزیں یہ سوچ کر رکھ لیتے ہیں کہ کسی وقت کام آ جائے گی۔ اور کچھ لوگ یہ سوچ کر پھینک دیتے ہیں کہ اب تک یہ چیز کسی کام نہیں آئی تو آگے کیا آئے گی؟ :)

نفسیات کے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ہم جتنا زیادہ فالتو اشیاء ( کپڑے، کھلونے، روز مرہ کی استعمال کی چیزیں، دفتر وغیرہ میں غیر ضروری فائلز ، کاغذات کے پلندے) میں گھرے رہیں گے ہم اُتنا ہی منتشر خیالی اور منتشر مزاجی کا شکار رہیں گے۔ اور جتنا ہم اپنے ارد گرد کو صاف رکھیں گے اُتنا ہی ہم اچھا محسوس کریں گے۔ اور ہمارا کام زیادہ بار آور ہوگا۔

طبعاً ہم میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے ارد گرد کو صاف ستھرا رکھ کر زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو اشیاء کے انبار میں گھرے ہونے کے باوجود خوش رہتے ہیں اور اُن کے کام اور کام کے معیار پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کہتے ہیں کہ آئین اسٹائن کی ڈیسک کاغذوں اور کباڑوں سے بھری رہتی تھی لیکن پھر بھی اُن کا کام بہت سے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بار آور ہوا کرتا تھا۔

سو آپ بتائیے کہ آپ کن لوگوں میں سے ہیں۔ اور صفائی کرتے وقت آپ زیادہ تر چیزیں رکھ لیا کرتے ہیں یا پھینک دیا کرتے ہیں۔
اپ نے بہت مشکل سوال پوچھ لیا کیوں کے جب گھر کی صفائی کرتے تو کیسی ایک کا سامن نہیں ہوتا اس لیے جس کا ہوتا اس سے پوچھ کر پھنکتی اور رکھتی ہوں
 
آخری تدوین:
Top