روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

سیما علی

لائبریرین

ڈالر مہنگا ہونے سے سعودی ریال کی قیمت میں اضافے کے بھی تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے​

ملکی کرنسی مارکیٹ میں سعودی کرنسی کی قیمت 63 روپے 64 پیسے کی سطح سے بھی اوپر چلی گئی​

اتوار 31 جولائی 2022
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 جولائی2022ء) ڈالر مہنگا ہونے سے سعودی ریال کی قیمت میں اضافے کے بھی تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ساڑھے 3 ماہ کے دوران ملکی کرنسی مارکیٹ میں جہاں ڈالر کی قیمت میں اضافے کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، وہیں دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بتایا گیا ہے کہ چند ہی ماہ میں پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں سعودی ریال کی قیمت میں 20 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔
چند ماہ قبل تک 50 روپے تک کی قیمت میں بکنے والا سعودی ریال اب مارکیٹ میں 63 روپے سے زائد کی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملکی کرنسی مارکیٹ میں سعودی کرنسی کی قیمت 63 روپے 64 پیسے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ یہاں واضح رہے کہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 239 روپے 37 پیسے کی سطح تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 245 سے 250 روپے کی قیمت تک میں ٹریڈ ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
ایک رپورٹ کے مطابق جولائی کا مہینہ ملکی معیشت کیلئے تشویش ناک رہا۔ رواں ماہ کے دوران ناصرف پاکستانی روپیہ قدر تاریخی مندی کا شکار ہوا، بلکہ زری ذخائر میں کمی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ رواں ماہ کے آغاز میں انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 204 روپے سے زائد تھی، جو رواں کاروباری ماہ کے آخری کاروباری روز 239 روپے 37 پیسے کی سطح تک پہنچ گئی۔
جبکہ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق 7 جولائی کو ملک کے زرمبادلہ ذخائر 15 ارب 61 کروڑ ڈالرز تھے، جبکہ جمعہ 29 جولائی کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق زرمبادلہ ذخائر 14 ارب 41 کروڑ ڈالرز کی سطح تک گر چکے۔ اس عرصے کے دوران سرکار زر مبادلہ ذخائر 9 ارب 71 کروڑ ڈالرز کی سطح سے کم ہو کر 8 ارب 57 کروڑ ڈالرز کی سطح تک گر گئے۔ جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق ساڑھے 3 ماہ میں ڈالر مہنگا ہونے سے قرضوں کے حجم میں ساڑھے 6 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو گیا مسلم لیگ نون اور اتحادیوں کی حکومت کے قیام کے بعد اب تک ڈالر کی قیمت میں 57 روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا۔۔۔۔
 

علی وقار

محفلین

ڈالر مہنگا ہونے سے سعودی ریال کی قیمت میں اضافے کے بھی تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے​

ملکی کرنسی مارکیٹ میں سعودی کرنسی کی قیمت 63 روپے 64 پیسے کی سطح سے بھی اوپر چلی گئی​

اتوار 31 جولائی 2022
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 جولائی2022ء) ڈالر مہنگا ہونے سے سعودی ریال کی قیمت میں اضافے کے بھی تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ساڑھے 3 ماہ کے دوران ملکی کرنسی مارکیٹ میں جہاں ڈالر کی قیمت میں اضافے کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، وہیں دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بتایا گیا ہے کہ چند ہی ماہ میں پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں سعودی ریال کی قیمت میں 20 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔
چند ماہ قبل تک 50 روپے تک کی قیمت میں بکنے والا سعودی ریال اب مارکیٹ میں 63 روپے سے زائد کی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملکی کرنسی مارکیٹ میں سعودی کرنسی کی قیمت 63 روپے 64 پیسے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ یہاں واضح رہے کہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 239 روپے 37 پیسے کی سطح تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 245 سے 250 روپے کی قیمت تک میں ٹریڈ ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
ایک رپورٹ کے مطابق جولائی کا مہینہ ملکی معیشت کیلئے تشویش ناک رہا۔ رواں ماہ کے دوران ناصرف پاکستانی روپیہ قدر تاریخی مندی کا شکار ہوا، بلکہ زری ذخائر میں کمی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ رواں ماہ کے آغاز میں انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 204 روپے سے زائد تھی، جو رواں کاروباری ماہ کے آخری کاروباری روز 239 روپے 37 پیسے کی سطح تک پہنچ گئی۔
جبکہ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق 7 جولائی کو ملک کے زرمبادلہ ذخائر 15 ارب 61 کروڑ ڈالرز تھے، جبکہ جمعہ 29 جولائی کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق زرمبادلہ ذخائر 14 ارب 41 کروڑ ڈالرز کی سطح تک گر چکے۔ اس عرصے کے دوران سرکار زر مبادلہ ذخائر 9 ارب 71 کروڑ ڈالرز کی سطح سے کم ہو کر 8 ارب 57 کروڑ ڈالرز کی سطح تک گر گئے۔ جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق ساڑھے 3 ماہ میں ڈالر مہنگا ہونے سے قرضوں کے حجم میں ساڑھے 6 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو گیا مسلم لیگ نون اور اتحادیوں کی حکومت کے قیام کے بعد اب تک ڈالر کی قیمت میں 57 روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا۔۔۔۔
ان تمام معاملات کے باوجود سیاست دان، جج، جرنیل اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں۔ اشرافیہ کے ٹولے کا کیا ہے، چاہے ایک ڈالر ایک ہزار پاکستانی روپوں کا بکتا رہے۔ ملبہ تو عوام پر ہی گرنا ہوتا ہے۔ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ لوئر مڈل کلاس تک کے لیے جینا دشوار ہو چکا ہے۔ خط غربت سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
30 جولائی کو سعودی ریال 62٫89 روپے کا تھا، آج 62٫5 کا ہے۔ یہ ریٹ سعودی برٹش بنک کا ہے۔
 
پہلے کی حکومت اگر 103 ڈالر باہر سے منگواو تو ڈالر کے ایکسچینج کے حساب سے پیسے کاٹتی تھی اِس حکومت نے ڈالر کے ایکسچینج کے حساب سے بھی پیسے کاٹے ہیں اور ڈالر میں بھی کٹوتی کی ہے ۔ پتا نہیں کِس کِس طرح سے پاکستانی عوام سے ٹیکس کی کٹوتی کی جارہی ہے اللہ ہی جانے ۔
اب 103 ڈالر منگوانے پر 88 ڈالر کے پیسے بھیجے گئے ہیں اور ڈالر کے ریٹ بھی کم لگائے گئے ہیں
پہلے صرف ڈالر کے ریٹ کم کرکے دئیے گئے تھے ۔
 
ابھی اور اوپر جاسکتا ہے ۔۔۔

ڈالر کی بڑھتی قدر: گورنر سٹیٹ بینک کے متنازعہ بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید​

21 اکتوبر 2021
رضا باقر

،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN
پاکستان میں سیاست دانوں کے بیانات پر آئے روز تنقید اور بحث ہوتی رہتی ہے، کبھی ’ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘ کا شور ہوتا ہے تو کبھی لیاقت علی خان کی پیدائش و وفات کراچی بتائی جاتی ہے لیکن یہ سب باتیں کچھ دیر کے ہنسی مذاق کے بعد نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔
تاہم اگر ملک کے ایک اہم معاشی عہدے پر فائز شخص معیشت کے انتہائی سنجیدہ پہلو پر ایک غیر سنجیدہ بات کرے تو یقیناً بات صرف ہنسی مذاق تک نہیں رہتی بلکہ اس پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔
ایسے ہی ایک بیان کی وجہ سے پاکستان کے سٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر پر اس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
انھوں نے گذشتہ روز مانچسٹر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایکسیچینج ریٹ کے اوپر جانے سے کچھ لوگوں کا نقصان ہوتا ہے لیکن کچھ لوگوں کا فائدہ بھی ہوتا ہے۔۔۔ تو جن لوگوں کو فائدہ ہوا ہے، انھیں ہمیں نہیں بھولنا چاہیے۔‘۔۔۔۔
اس حوالے سے اکثر صارفین یہ سوال بھی پوچھتے دکھائی دیے کہ 'کیا یہ مذاق ہے؟' اس بیان کے حوالے سے جہاں اکثر صارفین معاشی اصولوں کے حساب سے اس کی منطق کے بارے میں سوال کر رہے ہیں وہیں کچھ صارفین یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ کیا پاکستان کے مرکزی بینک کے گورنر کو صرف بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کا خیال ہے، اور ملک کے باقی عوام کی فکر نہیں ہے۔
جب سیاستدانوں کا پورا کا پورا خاندان بیرونِ ملک میں قیام پذیر ہوگا تو کہاں سے ملک کی سوچیں گے۔ جب پیٹ بھرا ہوتو کھانا سامنے پڑا ہوتب بھی دل نہیں کرتا ۔ بھوکوں کی بھوک کا اندازہ تو بھوک کی حالت میں ہی لگایا جاسکتا ہے۔
 

سید ذیشان

محفلین
300 اب کچھ زیادہ دور نہیں: زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جانِ اسد وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں غالب

پاکستان کے ماضی کے فیصلوں اور آج کل کے حالات پر غالب کا ایک اور شعر یاد آ گیا:

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
 
آخری تدوین:
Top