روشن صبح

جاسمن نے 'صحافت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 18, 2014

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    12,792
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    :thumbsup4::thumbsup4::thumbsup4:
     
  2. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    7,569
    جھنڈا:
    Pakistan
    ہمارے آنے کا مقصد پورا ہوا۔۔۔
    اب ہم جارہے ہیں!!!
    [​IMG]
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    12,792
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    فی امان اللہ ۔:)
     
  4. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    3,543
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Amused
    محفل پر مفتیوں کا قبضہ!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    7,569
    جھنڈا:
    Pakistan
    شکر الحمد للہ!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    12,792
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    پاکستان کاغوری میزائل سسٹم کے ٹریننگ لانچ کا کامیاب تجربہ

    [​IMG]
    پاکستان نے غوری میزائل سسٹم کے ٹریننگ لانچ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق غوری میزائل سسٹم کے ٹریننگ لانچ کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ تجربے کا مقصد آرمی اسٹرٹیجک فورسز کمانڈ کی آپریشنل اور ٹیکنکل تیاری تھا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق غوری بیلسٹک میزائل 1300 کلومیٹر فاصلے تک روایتی اور جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    لنک
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,869
     
  8. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    12,792
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    پاکستان کی پہلی خاتون مکینک ، ملتان کی عظمیٰ نواز

    [​IMG]
    پاکستان کی پہلی خاتون مکینک بننے کا اعزاز ملتان کی عظمیٰ نواز نے حاصل کر لیا ہے ۔ ملتان سے تعلق رکھنے والی 24 برس کی عظمیٰ نے صنفی رجحانات کو مسترد کرتے ہوئے نہ صرف مکینکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ، بلکہ اس کے بعد گاڑیوں کے مرمتی گیراج میں ملازمت بھی حاصل کر لی ہے ۔

    [​IMG]
    وہ ایک برس سے گیراج میں کام کر رہی ہیں ۔عظمیٰ نواز کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کی مالی حالت بہتر بنانے کے لیے فرسودہ خیالات کے برعکس جا کر اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا ۔ ان کے مطابق جب لوگ انہیں کام کرتا دیکھتے ہیں تو بہت حیران ہوتے ہیں ۔

    [​IMG]
    ان کا کہنا ہے وہ تمام کام خود کرتی ہیں اور انہیں جو بھی کام دیا جاتا ہے وہ اسے پوری لگن اور ہمت کے ساتھ انجام دیتی ہیں۔
    لنک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    12,792
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    فرض شناس خاتون ای ایس پی نے بہادری کی مثال قائم کردی​

    [​IMG]
    چینی قونصل خانے پر دہشت گردوں کے حملے کی اطلاع ملنے پر سب سے پہلے پہنچنے والی خاتون پولیس آفیسرسوہائے عزیرکو وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ کی جانب سے شاباشی دی جارہی ہےجبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی سوہائے عزیز کی بہادری کو سراہا ہے۔
    لنک
    لنک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    20,668
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    یعنی ہم بے مقصد ہی محفل کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  11. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    9,974
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    17 مئی 2018
    پاکستان کے پہلے نابینا جج
    پاکستان کی عدالتی تاریخ کے پہلے قوت بینائی سے محروم سول جج سلیم یوسف نے تربیتی ڈیوٹی کا آغاز کر دیا ہے۔

    ان کی پہلی تعینات جوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی میں ہوئی ہے جہاں انہوں نے سینئر جج کی عدالت میں ان کی سرپرستی میں مختلف مقدمات سنے۔ سول جج سلیم یوسف آئندہ ماہ آزاد حیثیت سے سول عدالت میں مقدمات کی سماعت شروع کریں گے موجودہ کیسوں کی سماعت عملی تربیت کا حصہ ہے۔سلیم یوسف نے لاہور کے رہائشی ہیں اور پیدائشی طور پر بصارت سے محروم ہیں۔

    سلیم یوسف نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کے امتحانات میں گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔ 3 سال بعد یوسف سلیم نے سول جج کا امتحان دیا اور پہلے نمبر پر رہے لیکن نابینا ہونے کی وجہ سے انٹرویو میں رہ گئے۔ سال بعد یوسف سلیم نے سول جج کا امتحان دیا اور ساڑھے چھ ہزار امیدواروں میں پہلے نمبر پر رہے لیکن نابینا ہونے کی وجہ سے انٹرویو میں رہ گئے۔
    تاہم چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے لاہور ہائیکورٹ کو یوسف سلیم کا انٹرویو دوبارہ لینے کا حکم دے دیا۔یاد رہے کہ نابینا وکیل سلیم کو سیلیکشن کمیٹی نے سول جج کے عہدے کے لیے مسترد کردیا تھا۔راولپنڈی کے سینئر وکلا نے سلیم یوسف کو مقدمات کی سماعت کے دوران مختلف آبزرویشنز پر ستائش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عدلیہ میں بہترین اضافہ قرار دیا ہے۔
    ان کی چار میں سے دو بہنیں بھی نابینا ہیں۔
    پاکستان کے پہلے نابینا جج نے تربیتی ڈیوٹی کے دوران ایسا کام کر دیا کہ سینئر وکلا بھی عش عش کر اٹھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    9,974
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    صائمہ سلیم پاکستان کی پہلی نابینا سفارتکار
    صائمہ سلیم 1987 میں پیدا ہوئیں۔ اور انگریزی ادب میں ایم اے، ایم فل کی ڈگری پانے کے بعد وہ پاکستان کی پہلی سی ایس ایس نابینا لڑکی قرار پائیں انہوں نے سی ایس ایس کے امتحان میں چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی۔2008 میں انہیں وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں اپنا معاون خصوصی مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا۔لیکن اصائمہ سلیم نے یہ پیشکش شکریے کے ساتھ رد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ وزارت خارجہ میں جا کر پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کرنا چاہتی ہے۔ اور پھر جلد ہی 2009 میں وہ 32 سال کی عمر میں وزرات خارجہ میں خدمات سر انجام دینے لگیں ۔صائمہ ملک کی پہلی نابینا سفارتکار ہیں جو2013ء سے جنیوا میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن میں کام کر رہی ہیں۔ وہ انسانی حقوق سے متعلق سیکنڈ سیکرٹری کے عہدہ پر فائز ہیں۔ اور معذوری ان کے سرکاری فرائض کی ادائیگی میں کبھی حائل نہیں ہوئی۔
    صائمہ سلیم - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    12,792
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جسمانی معذوری عزائم میں رکاوٹ نہیں، ہونہار اور باصلاحیت خواتین

    [​IMG]
    ’’خواتین کے لیے زندگی کےکسی شعبے میں نمایاں مقام کاحصول عموماً مشکل گردانا جاتاہے اور اگر کوئی جسمانی طورپر کسی معذوری کاشکار شخص کامیابی حاصل کرلےتو یہ کسی بڑے کارنامےسے کم نہیں ہوتا۔
    ہماری جسمانی معذوری اپنی جگہ مگر انگریزی اصطلاع میں ڈس ایبل کا لفظ تو ان کے لئے استعمال ہوناچاہئے جو اصل میں جسمانی طور پر نارمل ہوتے ہیں مگر کچھ نہیں کرتے یا بےکار رہتے ہیں،ہم تو differently abled ہیں،جسمانی معذوری تو قدرت کی طرف سے ہے۔
    ہمیں روزمرہ زندگی میں کام کاج کےدوران مشکل ضرورہوتی ہےمگر اللہ نے ہمیں دماغ دیا ہے سوچنے کےلئے اور کچھ نہ کچھ کام کرنےکےلئے اور ہم حتی الوسع وہ کررہےہیں"۔
    یہ الفاظ کوئٹہ کی ایک ہونہاراور باصلاحیت خاتون شازیہ بتول کے ہیں، جس نے جسمانی معذوری کاشکار ہوتے ہوئے بھی اس معذوری کو اپنے لئے ہرگز کمزوری یارکاوٹ نہیں بننے دیا بلکہ اسے زندگی میں کامیابی کے لیے چیلنج سمجھ کر قبول کیا ۔


    [​IMG]
    ہزارہ برادری سے تعلق رکھنےوالی شازیہ بتول کم عمری میں ہی جسمانی معذوری کاشکار ہوگئی تھیں، وہ بچپن میں بیماری کےدوران غلط علاج کہیں یا قدرتی امر،بہرحال وہ چلنےپھرنےسے معذور ہوگئیں،وہ اب یہ بھول چکی ہیں اور جو بات انہیں یاد ہے وہ ہے زندگی میں مسلسل آگے بڑھنا اور کامیابیاں سمیٹنا۔
    ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے زندگی میں کبھی ہمت نہیں ہاری،پہلےان کےوالدین اور خاص طور پر ان کی والدہ نے ان کی ہمت بندھائی اور بعد میں اپنی کمیونٹی کےافراد نے،انہوں نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ اور بعد میں پنجاب یونیورسٹی سے فائن آرٹس میں ماسٹرز کیا اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا،کبھی اللہ کی مدد سے بےساکھی کےسہارے تو کبھی ویل چیئر پر وہ مسلسل آگے ہی بڑھتی رہیں،اب کوئٹہ میں فائن آرٹسٹ کےطور پر ان کا نام نمایاں ہے۔
    شازیہ بتول کو زند گی کےکینوس سے معاشرتی مسائل اور انسانی جذبات و احساسات کےحوالے سے اپنے تجربات اور مشاہدات کو مصوری کےکینوس پر منتقل کرنےمیں ملکہ حاصل ہے، ان کے تخلیق کردہ فن پاروں کی کوئٹہ اور ملک کے دیگر حصوں کےعلاوہ بیرون ملک بھی نمائش ہوچکی ہے،بطور آرٹس ایک مقام حاصل کرنےکےبعد انہوں نے اپنی توجہ جسمانی طور پر دیگر معذور افراد کی فلاح و بہود کا بھی بیڑہ اٹھایا اوروہ اب سماجی حوالےسے بھی بہت سرگرم ہیں، فائن آرٹس اور سماجی شعبے میں خدمات پرانہیں تمغہ امتیازاورنیشنل یوتھ سمیت کئی ایوارڈ سے نوازا جاچکاہے۔

    [​IMG]

    شازیہ بتول کاکہناتھا کہ معذوری کےحوالےسے انہیں مسائل اور مشکلات کاسامناکرناپڑتا ہے، زیادہ تر اس وجہ سے ان اور ان جیسی دیگر خواتین اور مردوں کےلئے معاشرے میں سہولیات نہیں ہیں،تعلیمی اداروں سے لے کر دفاتر ، پارکس اور شاپنگ مالز ہر جگہ رسائی میں بہت سے مسائل ہوتے ہیںلیکن ان سب کےباوجود اگر آپ میں کوئی ٹیلنٹ ہے اور آپ کاارادہ مضبوط ہے آپ میں کچھ کرنے کاجوش ہے تو وہ ٹیلنٹ چھپ نہیں سکتا، وہ آگے آتا ہے۔
    وہ اگرچہ اپنے طور پر کام کررہی ہیں اور ایک نجی ادارےکےساتھ ساتھ ایک علمی اکیڈمی سے بھی وابستہ رہی ہیں مگر تمام تر صلاحیت اور قابلیت کےباوجود تاحال وہ کسی سرکاری ملازمت سے محروم ہیں۔
    جسمانی معذوری کاشکار خواتین میں دیگر کےعلاوہ نمایاں نام زرغونہ ایڈووکیٹ کابھی ہے،جسمانی طور پر معذوری کےباوجود زرغونہ نے اپنی جیسی دیگر خواتین کےمسائل کےحل کا بیڑہ اٹھایاہوا ہے،اور اس حوالےسےقائم ایک تنظیم کابھی حصہ ہیں اور معذوروں کےحقوق کےلئے سرگرم ہیں۔
    [​IMG]
    ان کا کہناتھا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ جسمانی طور پر معذور افراد پر کوئی الگ سے مہربانی کی جائے اور حمایت کی جائے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ انہیں ان کی قابلیت اور صلاحیت کےلحاظ سے انہیں مواقع فراہم کئے جائیں،ان کی معذوری کو دیکھ کر انہیں نہ پرکھاجائے تاکہ وہ معاشرے میں اپنا مقام حاصل کرسکیں اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔
    ان ہی کی طرح ایک خاتون عابدہ دستکاری کےشعبے سے وابستہ ہیں ، جسمانی معذوری کےباوجود ان کی کوشش ہے کہ وہ کسی طوراپنے خاندان پر بوجھ نہ بنیں بلکہ معاشی حوالےسےان کا ہاتھ بٹائیں اور وہ یہ سب کچھ کرنےمیں کامیاب بھی ہیں، عابدہ ویل چیئر پر ہونے کےباوجود دستکاری کےحوالےسے ہونےوالی نمائش کاحصہ بنتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی سرگرمی ہوتی ہے تو وہ نارمل انسانی کی طرح اس میں شرکت کرتی ہیں۔
    عابدہ کا کہنا ہے کہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو نارمل انسان کرسکتا ہو اور وہ نہ کرسکیں، عابدہ اس حوالےسے شاکی ہیں کہ جب کوئی ان سے ہمدردی جتلاتا ہے ۔
    ان کا کہنا ہے کہ کئی جگہ لوگ معذور افراد کو ہمدردی اور ترس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ آخر معاشرے میں معذور افراد سے اس طرح کے منفی رویے کیوں اختیار کئے جاتے ہیں،ان کو عجیب نظروں سے کیوں دیکھا جاتاہے؟
    دوسری جانب یہ تلخ حقیقت ہے کہ جسمانی طور پر معذور افراد کےمسائل کےحوالےسے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے۔اس کانتیجہ یہ ہے کہ معذور افراد ملازمتوں سمیت دیگر مسائل کے حل کےلئے سڑکوں پر احتجاج کرتے نظرآتے ہیں، رضاکار اور معذور افراد کی بہبود کےلئے کام کرنےوالی ایک تنظیم کوئٹہ آن لائن سے وابستہ ایک سماجی رہنما جہانگیر خان جو خود بھی جسمانی معذور کاشکار ہیں ، کےمطابق کوئٹہ میں ان کے پاس رجسٹرڈ معذور افراد کی تعداد آٹھ سوسے زائد ہے،مگر ان میں سے بیشتر سرکاری ملازمتوں سے محروم ہیں، اس کاواضح مطلب یہ ہے کہ ان افراد کےلئے مخصوص کوٹہ پر عملدرآمد نہیں کیاجارہا۔
    جہانگیر خان اور دیگر معذور افراد کا مطالبہ ہے کہ حکومت ملازمتوں میں ان کےلئے مقررہ 5فیصد کوٹہ پر عملدرآمد کو یقینی بنائے،یہی نہیں بلکہ ان کےلئے تمام سہولیات اورسازگار ماحول کی فراہمی بھی ممکن بنائی جائے۔
    اس حوالےسے جب حکومتی مؤقف جاننے کےلئےرابطہ کیاگیا تو ترجمان وزیراعلیٰ اور رکن صوبائی اسمبلی بشری رند نے بتایا کہ حکومت کو معذور افراد کے مسائل کا ادراک ہے،مگر موجودہ حکومت کو کئی مسائل ورثے میں ملے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ معذور افراد کےحوالےسے صوبے میں کوئی پالیسی نہیں وضع کی گئی تاہم اب اس پر کام کیاجارہاہے۔
    انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نہ صرف معذور افراد کےلئے ملازمتوں میں کوٹہ پر عملدرآمد کیاجاے گابلکہ اس میں اضافہ بھی کیاجائےگا۔حکومتی مؤقف اپنی جگہ ،معذور افراد کے مسائل کب اور کیسے حل ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
    بہرحال شازیہ بتول، زرغونہ، عابدہ اور ان جیسی دیگر خواتین معاشرے میں عام افراد کےلئے مشعل راہ ہیں اور اپنے شعبوں میں ان کی کامیابیاں یقیناً قابل فخر ہیں۔
    لنک
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر