روحانی اقوال

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
دانہ خاک میں مل کر گل گزار ہوتا ہے

محبت کا بیج نرم دل زمین میں بویا جاتا ہے پھر موسم کی سختیاں جھیلتا ہوا پودا بنتا ہے دھوپ لگتی ہے تو دانہ پکتا ہے ورنہ خراب ہوجاتا ہے پھر اس کو کوٹا جاتا ہے تاکہ بھوسی الگ ہوجائے پھر پیسا جاتا ہے تاکہ ہستی ہی مٹ جائے پھر زور سے گوندھا جاتا ہے پھر بیلا جاتا ہے اور آخر میں آگ پر پکایا جاتا ہے۔
کونسا مرحلہ آسان ہے یہ کم ظرفوں کا نصیب نہیں کہ وہ خوشبودار روٹی بن سکیں بہت اعلیٰ ظرف چاہیے۔
 

عندلیب

محفلین
سانپ اور بچھو ایک سوراخ میں جمع ہو جائیں گے لیکن علمائے دنیا پرست کبھی ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوسکتے۔
منقول از مولانا ابوالکلام آزاد
 
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ علیہ کی نصیحتیں
 جو آدمی زیادہ ہنستا ہے اس کا رعب کم ہوجاتا ہے
 جو مذاق زیادہ کرتا لوگ اسے کم رتبہ اور بے حیثیت سمجھتے ہیں
 جو باتیں زیادہ کرتا ہے اس کی لغزشیں زیادہ ہوجاتی ہیں
 جس کی لغزشیں زیادہ ہوجاتی ہیں اُس کی حیا کم ہوجاتی ہیں
 جس کی حیا کم ہوجاتی ہے اُس کی پرہیزگاری کم ہوجاتی ہے
 جس کی پرہیزگاری کم ہوجاتی ہے اُس کا دل مردہ ہوجاتا ہے
 خوشحالی اور غریبی سات چیزوں کی وجہ سے آتی ہے
غریبیجلدی جلدی نماز پڑھنے سے
کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے
پیشاب کی جگہ پر وضو کرنے سے
کھڑے ہو کر پانی پینے سے
منہ سے چراغ بجھانے سے
دانت سے ناخن کاٹنے سے
دامن یا آستین سے منہ صاف کرنے
خوشحالیقرآن کریم کی تلاوت کرنے سے
پانچوں وقت کی نماز پڑھنے سے
اللہ کا شکر ادا کرنے سے
غریبوں اور مجبوروں کی مدد کرنے سے
گناہوں کی معافی مانگنے سے
ماں باپ اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے
صبح کے وقت سورۃ یاسین اور شام کے وقت سورۃ واقعہ کی تلاوت کرنے سے
 

mfdarvesh

محفلین
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ علیہ کی نصیحتیں
 جو آدمی زیادہ ہنستا ہے اس کا رعب کم ہوجاتا ہے
 جو مذاق زیادہ کرتا لوگ اسے کم رتبہ اور بے حیثیت سمجھتے ہیں
 جو باتیں زیادہ کرتا ہے اس کی لغزشیں زیادہ ہوجاتی ہیں
 جس کی لغزشیں زیادہ ہوجاتی ہیں اُس کی حیا کم ہوجاتی ہیں
 جس کی حیا کم ہوجاتی ہے اُس کی پرہیزگاری کم ہوجاتی ہے
 جس کی پرہیزگاری کم ہوجاتی ہے اُس کا دل مردہ ہوجاتا ہے
 خوشحالی اور غریبی سات چیزوں کی وجہ سے آتی ہے
غریبیجلدی جلدی نماز پڑھنے سے
کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے
پیشاب کی جگہ پر وضو کرنے سے
کھڑے ہو کر پانی پینے سے
منہ سے چراغ بجھانے سے
دانت سے ناخن کاٹنے سے
دامن یا آستین سے منہ صاف کرنے
خوشحالیقرآن کریم کی تلاوت کرنے سے
پانچوں وقت کی نماز پڑھنے سے
اللہ کا شکر ادا کرنے سے
غریبوں اور مجبوروں کی مدد کرنے سے
گناہوں کی معافی مانگنے سے
ماں باپ اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے
صبح کے وقت سورۃ یاسین اور شام کے وقت سورۃ واقعہ کی تلاوت کرنے سے

شکریہ روحانی بابا، مگر پھر چراغ کو کیسے بجھایا جائے؟
 
میرے بھائی فی زمانہ تو چراغوں کا رواج نہیں ہے البتہ لوگ موم بتی یا شمع جلاتے ہیں تو میرا طریقہ یہ ہے کہ میں اس کو پلیٹ کے تلوے سے بجھا دیتا ہوں۔
 
کیا مطلب، میں پلیٹ کو الٹا کرکے شعلے پر رکھ لوں ایسے تو دھاگہ ٹوٹ جائے گا
درویش صاحب آپ کا نام تو درویش ہے لیکن باتیں بالکل نادانوں کی سی ہیں اور کچھ عقل سے پیدل لگتے ہیں۔۔۔۔بہرحال یہ تو میرے اللہ کی تقسیم ہے۔
نادان صاحب لگتا ہے کہ آپ کے گھر میں جدید سہولیات یعنی بجلی کا کنکشن نہیں ہے چلو کیا ہوا کوئی بات نہیں ہے آپ ایسا کرو کہ جب بھی چراغ یا موم بتی کو بجھانا ہو تو دو چپٹے پتھر ہمیشہ چراغ کے طاق دان یا شمع دان کے قریب رکھیں اور جب روشنی کی مزید ضرورت نہ ہو تو پھر ان کے ذریعے بہت آرام سے آکسیجن بند کردیں یعنی آگ کے شعلے کو ان دو پتھروں کے بیچ میں لا کر تھوڑا سا زور دیں تو آکسیجن کی بندش کی وجہ سے آگ کا شعلہ بجھ جائے گا۔
 

mfdarvesh

محفلین
درویش صاحب آپ کا نام تو درویش ہے لیکن باتیں بالکل نادانوں کی سی ہیں اور کچھ عقل سے پیدل لگتے ہیں۔۔۔۔بہرحال یہ تو میرے اللہ کی تقسیم ہے۔
نادان صاحب لگتا ہے کہ آپ کے گھر میں جدید سہولیات یعنی بجلی کا کنکشن نہیں ہے چلو کیا ہوا کوئی بات نہیں ہے آپ ایسا کرو کہ جب بھی چراغ یا موم بتی کو بجھانا ہو تو دو چپٹے پتھر ہمیشہ چراغ کے طاق دان یا شمع دان کے قریب رکھیں اور جب روشنی کی مزید ضرورت نہ ہو تو پھر ان کے ذریعے بہت آرام سے آکسیجن بند کردیں یعنی آگ کے شعلے کو ان دو پتھروں کے بیچ میں لا کر تھوڑا سا زور دیں تو آکسیجن کی بندش کی وجہ سے آگ کا شعلہ بجھ جائے گا۔

بزرگوار، میں بلکل عقل سے پیدل ہوں کوئی شک نہیں، مگر آپ تو استاد بن جائیں نا اور رہنمائی فرمائیں، میرے لیے تو یہ بلکل نئی بات تھی، لیکن آپ نے تو بے عزت ہی کر دیا ہے، جیسا کہ نادان کو آپ نے سمجھایا ہے، اس طرح سے آپ میری بھی رہنمائی فرما سکتے تھے، اب مجھے آپ سے پوچھنے میں محتاط ہونا پڑے گا،
 

ظفری

لائبریرین
بزرگوار، میں بلکل عقل سے پیدل ہوں کوئی شک نہیں، مگر آپ تو استاد بن جائیں نا اور رہنمائی فرمائیں، میرے لیے تو یہ بلکل نئی بات تھی، لیکن آپ نے تو بے عزت ہی کر دیا ہے، جیسا کہ نادان کو آپ نے سمجھایا ہے، اس طرح سے آپ میری بھی رہنمائی فرما سکتے تھے، اب مجھے آپ سے پوچھنے میں محتاط ہونا پڑے گا،

دوسرے کو حقیر سمجھے بغیر اپنے آپ کو اچھا سمجھنا بھی گناہ ہے کیونکہ بیہقی کی ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ خود پسندی 70سال کے اعمال کو ضائع کردیتی ہے۔
یہ قول پہلے صفحے پر لکھا گیا ہے ۔ :rolleyes:
اب ایسا بھی کوئی قول نقل ہونا چاہیے کہ کسی کو تلقین کرنے سے پہلے اپنی درستگی بھی بہت ضروری ہے ۔ کیا خیال ہے ۔ ؟ ;)
 

عثمان

محفلین
حضرت روح المعروف روحانی باوا ایسے شگوفے اکثر جھاڑتے رہتے ہیں۔ قارئین سے گذارش ہے کہ ان کے فرمودات پر غصہ نہ کریں۔ بلکہ صرف انجوائے کریں۔ :grin1:
 
یہ قول پہلے صفحے پر لکھا گیا ہے ۔ :rolleyes:
اب ایسا بھی کوئی قول نقل ہونا چاہیے کہ کسی کو تلقین کرنے سے پہلے اپنی درستگی بھی بہت ضروری ہے ۔ کیا خیال ہے ۔ ؟ ;)
ظفری صاحب یہ حدیث شریف کا مفہوم تھا نہ کہ میرا اپنا ذاتی فرمان۔۔۔۔۔اور ویسے بھی ظفری صاحب آپ کو پتہ تو چل ہی گیا ہوگا کہ ہم زیادہ لگی لپٹی رکھے بغیر ہی بات کرتے ہیں چاہے کسے اچھی لگے چاہے کسے بری۔۔۔۔ہمارا تو مزاج ایسا ہی ہے۔۔۔ امید ہے بات بات سمجھ شریف میں آگئی ہوگی۔
جہاں تک کسی قول کو نقل کرنے کا تعلق ہے کہ جیسا کہ آپ نے اوپر فرمایا کہ اپنے آپ کی درستگی چاہیئے وغیرہ تو جناب میرے آقا و مولا حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ صدقہ دیا کرو کیونکہ صدقہ آفات و مصائب کو ٹالتا ہے کسی صحابی نے عرض کی کہ یا رسول اللہ اگر کسی کے پاس دینے کے لیئے کچھ ہو ہی نہ تو وہ کیا کرے گا۔۔۔۔آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابا ارشاد فرمایا کہ اچھی بات کرا کرو یہ بھی صدقہ ہے۔۔۔۔۔تو جناب ظفری صاحب مجھ میں کوئی خوبی ہو یا نہ ہو لیکن ہم کوشش کرتے ہیں کہ اچھی باتیں لوگوں تک پہنچائیں اور اگر آپ کو یہ پسند نہیں ہے تو پھر اگر بحیثیت موڈیٹر آپ اجازت دیں تو ادھر آپ کی خوشنودی کے لیئے شیطانی اقوال کے نام سے ایک تھریڈ شروع کردیتا ہوں۔ صرف آپ کی اجازت کا درکار ہے۔
 

ظفری

لائبریرین
ظفری صاحب یہ حدیث شریف کا مفہوم تھا نہ کہ میرا اپنا ذاتی فرمان۔۔۔۔۔اور ویسے بھی ظفری صاحب آپ کو پتہ تو چل ہی گیا ہوگا کہ ہم زیادہ لگی لپٹی رکھے بغیر ہی بات کرتے ہیں چاہے کسے اچھی لگے چاہے کسے بری۔۔۔۔ہمارا تو مزاج ایسا ہی ہے۔۔۔ امید ہے بات بات سمجھ شریف میں آگئی جہاں تک کسی قول کو نقل کرنے کا تعلق ہے کہ جیسا کہ آپ نے اوپر فرمایا کہ اپنے آپ کی درستگی چاہیئے وغیرہ تو جناب میرے آقا و مولا حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ صدقہ دیا کرو کیونکہ صدقہ آفات و مصائب کو ٹالتا ہے کسی صحابی نے عرض کی کہ یا رسول اللہ اگر کسی کے پاس دینے کے لیئے کچھ ہو ہی نہ تو وہ کیا کرے گا۔۔۔۔آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابا ارشاد فرمایا کہ اچھی بات کرا کرو یہ بھی صدقہ ہے۔۔۔۔۔تو جناب ظفری صاحب مجھ میں کوئی خوبی ہو یا نہ ہو لیکن ہم کوشش کرتے ہیں کہ اچھی باتیں لوگوں تک پہنچائیں اور اگر آپ کو یہ پسند نہیں ہے
اس بات پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا جس کو اکثر لوگ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے ہیں ۔
ایک عورت نے امیر المومین رضی اللہ تعالی سے درخواست کی کہ “ میرا بیٹا شکر کھاتا ہے ۔ آپ اس کو تلقین کریں ۔ جواباً آپ نے فرمایا کہ تین بعد تشریف لائیں ۔ عورت تین بعد آئی تو آپ نے اس کے بیٹے کو شکر سے رغبت کی وجہ سے ہونے والی خرابی کے بارے میں تلقین کی ۔ عورت خوش خوش چلی گئی ۔ بعد میں لوگوں نے پوچھا کہ “ اس میں کیا قباحت تھی کہ آپ پہلے دن ہی اس کو بیٹے کو تلقین کردیتے ۔ آپ نے فرمایا کہ “ تین دن پہلے میں خود شکر رغبت سے کھاتا تھا ۔“
تو پھر اگر بحیثیت موڈیٹر آپ اجازت دیں تو ادھر آپ کی خوشنودی کے لیئے شیطانی اقوال کے نام سے ایک تھریڈ شروع کردیتا ہوں۔ صرف آپ کی اجازت کا درکار ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں آپ کے بارے میں صرف یہ رائے قائم کی جاسکتی ہے آپ رعونیت کے اعلیٰ عہدے پر قائم ہیں ۔ اور یقین مانیئے آپ کے اس عہدے سے کسی کو بھی کسی قسم کی غرض نہیں ہے ۔ اس بات کو اپنے پلے باندھ لیں ۔ اگر باندھ سکیں ۔
 
جناب ظفری صاحب جہاں تک شکر کی بات کا تعلق ہے تو وہ بات میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہے۔
رہی بات فرعونیت کی تو جناب ایسا دعویٰ فرعون کے بعد جمال عبدالناصر ساکن مصر نے اور صدام حسین ساکن عراق نے کیا تھا بقول جمال عبدالناصر کے میں فرعون کی اولاد میں سے ہوں اور بقول صدام حسین کے میں نمرود کی اولاد میں سے ہوں۔
جناب عالی میں تو ایک سیدھا سادا سا بندہ ہوں جلیبی کی طرح تو حضور والا کا نام لکھا جاتا ہے۔

آخری بات اردو محفل کی جنتا سے یہ کرنا چاہوں گا کہ محفلین حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کا قول ہے کہ حکمت کی بات مؤمن کی گمشدہ میراث ہے جدھر سے ملے لے لو تو جناب ہم نے ایسی باتوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور اگر کہیں سے مل جائیں تو ان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔کی طرح قبر میں نہیں لے جاتے پھیلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں لیکن کچھ لوگ شرپسند اور کچھ خود پسند اپنی مزموم کوشش میں لگے رہتے ہیں لیکن بقول شاعر
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
معزز قارئین درحقیقت کسی سرزنش یا اس کی کسی خطا یا خامی یا بری حرکت پر ٹوکنے یا منع کرنے کے لیئے داناؤں نے ایک طریقہ وضع کیا ہے اور وہ ہے ایسے بندے کو حمکت سے منع کیا جائے جیسا کہ ہم کو قدماء میں حضرت امام حسن کا ایک واقعہ ملتا ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بندے کو وضو میں ایک فرض کو چھوڑتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس بندے سے کہا کہ جناب میں وضو کرتا ہوں آپ نوٹ کریں کہ میں وضو ٹھیک طریقے سے کرتا ہوں یا کہ کوئی خامی رہتی ہے آپ نے اس کے سامنے وضو کیا اور جو خامی اس بندے میں تھی اس کو 3 مرتبہ دھرایا اس طریقہ سے اس کی تصحیح کی۔
ویسے بھی ہم ادھر اخبار الاخیار ہی پیش کرتے ہیں پتہ نہیں کیوں بعض لوگوں کو اس معاملے میں تکلیف ہوتی ہے مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آسکی ہے۔
 

ظفری

لائبریرین
میں “ فرعونیت “ نہیں ۔۔۔ “ رعونیت “ لکھا ہے ۔ تصحیح کرلیں ۔ کیونکہ آپ کا زیادہ تر خطبہ اسی غلط فہمی پر مبنی ہے ۔ اس لیئے اس پر بات کرنے سے قاصر ہوں ۔
آخری سطر کا جواب آپ ہی کے انداز میں دینے کی کوشش کرتا ہوں ۔
خلیفہ مامون الرشید نے خواب دیکھا کہ اس کے تمام دانت جھڑ گئے ہیں ۔ اس نے اپنے وزیر سے اس خواب کی بابت پوچھا تو اس نے کہا “ حضور ۔۔۔۔ اس خواب کی تعبیر کسی نجومی سے پوچھ لیتے ہیں ۔ “ نجومیوں کو طلب کیا گیا ۔ ایک نے کہا کہ “ جناب ۔۔۔ آپ کے تمام رشتہ دار آپ کے سامنے مر جائیں گے ۔ خلیفہ چراغ پا ہوا اور نجومی کو سو چھتر لگا کر دربار سے نکال دیا ۔ دوسرا نجومی پیش ہوا ۔ اس نے کہا کہ “ حضور ! آپ کی عمر آپ کے تمام رشتہ داروں سے طویل ہوگی ۔ “ خلیفہ بہت خوش ہوا اور اُسے انعام دیکر رخصت کیا ۔
نجومیوں کے جانے کے بعد خلیفہ نے وزیر سے کہا ‘ تم نے غور کیا کہ دونوں نجومیوں کے بات ایک ہی تھی ۔ مگر انداز تکلم اور اندازِ تخاطب نے دونوں باتوں میں کتنا تضاد پیدا کردیا “
تو جناب مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی آپ کی بات سنتا نہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ کا اندازِ تخاطب ناصحانہ سے زیادہ جارحانہ ہے ۔ اس لیئے لوگ آپ سے کنی کھا کر دور نکل جاتے ہیں ۔ ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں لوگ ضرور سنتے ۔۔۔۔ اگر آپ کے دستِ مبارک پر بیعت لی ہوتی ۔ :grin:
 
Top