فارسی شاعری رباعیاتِ سرمد شہید مع اردو ترجمہ

محمد وارث

لائبریرین
دنیا نَشَود آخرِ دم بہ تو رفیق
در راہِ خدا کوش، رفیق است شفیق
خواہی کہ بسر منزلِ دلدار رسی
گفتم بہ تو اے دوست، ہمیں است طریق

دنیا تیرے آخری دموں تک تیری رفیق نہیں بنے گی لیکن خدا کی راہ میں لگا رہ کہ جو نہ صرف رفیق ہے بلکہ شفیق بھی ہے۔ اگر تو چاہتا کہ اپنے دلدار تک پہنچے تو پھر اے دوست تجھ سے یہی کہتا ہوں کہ طریقہ یہی ہے (جو میں نے تجھے بتایا)۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ہر نیک و بدے کہ ہست در دستِ خداست
ایں معنیٴ پیدا و نہاں در ہمہ جاست
باور نہ کنی اگر دریں جا بنگر
ایں ضعفِ من و قوّتِ شیطاں ز کجاست

ہر نیکی اور بدی جو کچھ بھی ہے سب خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ بات چاہے ظاہر ہو یا چھپی ہوئی ہر جگہ ہے، اگر تو اس بات کا یقین نہیں کرتا تو میری طرف دیکھ کہ یہ میرا ضعف اور شیطان کی قوت کہاں سے آئی ہے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
ہر نیک و بدے کہ ہست در دستِ خداست
ایں معنیٴ پیدا و نہاں در ہمہ جاست
باور نہ کنی اگر دریں جا بنگر
ایں ضعفِ من و قوّتِ شیطاں ز کجاست

ہر نیکی اور بدی جو کچھ بھی ہے سب خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ بات چاہے ظاہر ہو یا چھپی ہوئی ہر جگہ ہے، اگر تو اس بات کا یقین نہیں کرتا تو میری طرف دیکھ کہ یہ میرا ضعف اور شیطان کی قوت کہاں سے آئی ہے۔
بہت خوب رباعی ہے اور کچھ مترتب سا ترجمہ یوں بھی ہو گیا :
سب دست خدا میں ہے بدی یا نیکی
ہر ظا ہر و باطن کی صدا ۔آ نے کی
آ ۔۔۔حال شکستہ کا تجھے بھید سناؤں
"ابلیس میں طاقت ہے گراجانے کی"
 

محمد وارث

لائبریرین
چیزے کہ من از جہاں بجاں می طلبم
جاں را بسلامت ز جہاں می طلبم
از مردمِ دنیا و ز دنیا شب و روز
دیگر ہوَسم نیست، اماں می طلبم

وہ چیز کہ جو دنیا سے میں اپنی جان کیلیے چاہتا ہوں وہ یہی ہے کہ میری جان اس دنیا سے محفوظ رہے۔ دنیا والوں سے اور اس دنیا سے شب و روز مجھے کسی اور چیز کی ہوس اور طلب نہیں ہے مگریہ کہ میں (دنیا اور دنیا والوں کے شر سے) امان میں رہوں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
دنیا بمرادِ خویشتن خواہی و بس
عقبیٰ تو نہ کردی ز خداوند ہوس
چوں است نہ دنیا و نہ عقبیٰ بدھند
افسوس، ندامت ز جہاں یابد و بس

تُو بس یہی چاہتا ہے کہ دنیا تجھے تیری خواہشات کے مطابق مل جائے، اور خدا سے آخرت نہیں مانگتا۔ اسطرح تو تجھے نہ دنیا ملے گی اور نہ ہی آخرت اور بس جو کچھ دنیا سے ملے گا وہ صرف ندامت ہے، افسوس۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اے جانِ گرامی بخدا نادانی
در خانہٴ تن یک دو سہ دم مہمانی
بر چرخ اگر روی و خورشید شوی
آں ذرّہ کہ در شمار ناید، آنی

اے میری پیاری جان، بخدا تو نادان ہے اور نہیں جانتی کہ اس جسم میں تو فقط دو چار دم کی مہمان ہے۔ تُو اگر آسمان پر بھی چلی جائے اور خورشید بن جائے پھر بھی تو وہی ذرہ رہے گی کہ جو شمار میں نہیں آتا۔
 

نایاب

لائبریرین
محترم وارث بھائی
جزاک اللہ خیراء
اک عرصے بعد خواہش پوری ہوئی ہے ۔
جناب سرمد شہید کا کلام اردو ترجمے میں ملے ۔
بہت دعاؤں بھرا شکریہ
 

محمد وارث

لائبریرین
از فضلِ خدا ہمیشہ راحت دارم
با نانِ جویں قانع و ہمّت دارم
نے بیم ز دنیا و نہ اندیشہٴ دیں
در گوشہٴ مے خانہ فراغت دارم

خدا کے فضل و کرم سے مجھے ہمیشہ راحت ہی ملی ہے۔ میں اپنے نانِ جویں پہ قانع ہوں اور اسی سے مجھے ہمت ملتی ہے۔ نہ دنیا کا کوئی خوف ہے اور نہ دین کا کوئی اندیشہ، میخانے کے گوشے میں میں بہت فراغت سے ہوں۔
 
عمرے باید کہ یار آید بہ کنار
عمریں گزر جاتی ہیں اور پھر کہیں جا کر یار کا وصال نصیب ہوتا ہے،
جناب وارث "کنار آمدن" فارسی میں ایک محاورہ ہے جسکے معنی ہیں "راضی ہونا، یا مصالحت کرنا، یا ایک دوسرے کی بات سمجھ پانا"۔ سو یہاں اس مصرع میں بھی اسی طرح استعمال ہوا ہے۔۔۔
 

محمد وارث

لائبریرین
سرمد تو ز خلق ہیچ یاری مَطَلب
از شاخِ برہنہ سایہ داری مَطَلب
عزّت ز قناعت است و خواری ز طمع
با عزّتِ خویش باش، خواری مَطَلب

اے سرمد خلقِ دنیا سے کسی قسم کے پیار محبت کی طلب نہ رکھ، یعنی برہنہ شاخ سے کسی سایہ کی توقع نہ رکھ۔ عزت قناعت میں ہے اور لالچ میں خواری ہے، پس عزت سے رہ اور خواری طلب نہ کر۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ایں ہستیِ موہوم حباب است ببیں
ایں بحرِ پُر آشوب، سراب است ببیں
از دیدہٴ باطن بہ نظر جلوہ گر است
عالم ہمہ آئینہ و آب است ببیں

یہ ہستیِ موہوم پانی کا ایک بلبلہ ہے ذرا دیکھ، یہ طوفانوں سے بھرا ہوا سمندر فقط ایک سراب ہے دیکھ تو، اگر دیدہٴ باطن سے دیکھو تو نظر آئے کہ یہ ساری دنیا ایک آئینہ اور چمک ہے یعنی خدا کا عکس اس میں ہے، ذرا غور سے دیکھ۔
 

سید زبیر

محفلین
وحدت بگزیدم و ز کثرت رستم
آخر من ازو شدم و اُو از من شد
بہت خوب وارث بھائی ! بہت خوبصورت انتخاب ، مجھے تو زبردست کا ٹیگ بھی چھوٹا محسوس ہورہا تھا اللہ شہید کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو شراکت کرنے پر اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔۔
 

محمد وارث

لائبریرین
انساں کہ شکم سیریِ اُو یک نان است
از حرص و ہوا شام و سحر نالان است
در بحرِ وجودش بنگر طوفان است
آخر چو حباب یک نفَس مہمان است

انسان کہ جس کی شکم سیری ایک نان سے ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے لالچ کی وجہ سے صبح و شام نالاں ہی رہتا ہے۔ اس کے وجود میں موجزن طوفانوں کو دیکھ اور یہ بھی دیکھ کہ وہ بلبلے کی طرح فقط ایک لمحے کا مہمان ہے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
ایں ہستیِ موہوم حباب است بہ بیں
ایں بحرِ پُر آشوب، سراب است بہ بیں
از دیدہٴ باطن بہ نظر جلوہ گر است
عالم ہمہ آئینہ و آب است بہ بیں

یہ ہستیِ موہوم پانی کا ایک بلبلہ ہے ذرا دیکھ، یہ طوفانوں سے بھرا ہوا سمندر فقط ایک سراب ہے دیکھ تو، اگر دیدہٴ باطن سے دیکھو تو نظر آئے کہ یہ ساری دنیا ایک آئینہ اور چمک ہے یعنی خدا کا عکس اس میں ہے، ذرا غور سے دیکھ۔
عظیم رباعی ہے۔۔۔بہ بیں کی کتابت اگر ببیں ہو تو بہتر ہو شاید۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
بہت ہی عظیم اور نایاب رباعیات ہیں یہ. اور آپکے ترجمے کی بدولت میرے جیسا کج فہم بھی اس کو سمجھنے میں کامیاب ہو گیا. جزاک الله
دوسری بات یہ وارث بھائی کہ سرمد کے متعلق سنا تو ہے لیکن انکی سوانح عمری کے بارے میں کبھی کوئی مستند کتاب یا باب نظروں سے نہیں گزرا. اگر اس ضمن میں بھی تھوڑی سی رہنمائی مل جاتی!
 
Top