رات رو رو کے سو گئیں آنکھیں - مقسط ندیم

فرخ منظور

لائبریرین
رات رو رو کے سو گئیں آنکھیں
چہرہء غم کو دھو گئیں آنکھیں

نیند کے نیم سبز کھیتوں میں
فصل خوابوں کی بو گئیں آنکھیں

دیکھ کر سنگدل زمانے کو
خود بھی پتھر کی ہو گئیں آنکھیں

رنج و غم کے سفید دھاگے میں
سرخ موتی پرو گئیں آنکھیں

دل کی بینائی سے جلا کے چراغ
سفرِ دید کو گئیں آنکھیں

پھر کسی نے تمہارا نام لیا
پھر کہیں دور کھو گئیں آنکھیں

اُس کی آنکھوں کی جھیل میں مقسط
دل کی ناؤ ڈبو گئیں آنکھیں
 

محمداحمد

لائبریرین
اس نئی روشنی میں پڑھیں تو غزل واقعی کچھ ایسی ہی معلوم ہوتی ہے۔۔

اس میں قصور غزل کا نہیں بلکہ ہمارا ہے کہ کیوں کہ ہم لوڈ شیڈنگ کے مارے ہیں اور جناب ساون کے اندھے کو ہرا ہرا ہی دکھائی دیتا ہے۔ :)
 

ابوشامل

محفلین
اس میں ہم نے ہر گز غزل کو قصور وار نہیں ٹھیرایا۔ اچھے کلام کی نشانی ہی یہی ہوتی ہے کہ اسے کئی مواقع پر "استعمال" کیا جا سکے یعنی وہ "کثیر الاستعمال" ہو :)
 
Top