ذہین افراد کم دوست کیوں بناتے ہیں؟

شاہد شاہنواز

لائبریرین
میرا کہنا تھا کہ انسان کو دو آنکھیں ملیں ، دو کان ، ایک ناک ، ایک دماغ ۔۔۔ دماغ کا سائز کسی کا ایکسٹرا آرڈنری نہیں ہوتا۔۔ ایک دو انچ کا فرق آجاتا ہے اس لیے یہاں پر سب ایک جیسی قوت لیے پیدا ہوئے ہیں ۔۔۔ میرا خیال میں کچھ نہ کچھ غیر معمولی ایسا ضرور ہوتا ہے جو ذہانت کو متاثر کرتا ہے ، میرا خیال ہے یہ قوت متخیلہ ہے ، اور قوت مشاہدہ ہے ۔۔۔یہ ہر دو انسان میں نہیں ہوتی ہیں ۔۔۔ قوت متخیلہ انسانی ذہن میں لیے پیدا ہوا یعنی وہ تمام تصورات ، علوم جو باقی لوگ باہر کی دنیا سے لیتے ہیں فطین اپنے اندر کی دنیا سے لیتا ہے ، اس کی قوت متخیلہ باہر کی دنیا سے اکتساب کرتی مشاہدہ کرتی ہے اور اس اس مشاہدے کی نتیجہ میں تجزیہ پیش کیے دیتے ہیں ۔ اب اس وقت متخیلہ کو سائنس میں کیا کہیں گے
بے شک ظاہری طور پر تو سب کو تقریبا ایک ہی سائز کے دماغ، آنکھیں اور دیگر حسی اعضاء ملے لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سب ایک جیسی قوت لیے پیدا ہوئے ہیں کیونکہ سب الگ طریقے سے سوچتے اور عمل کرتے ہیں اور اس اختلافِ عمل پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ طاقت کا بھی فرق ہوتا ہے۔ یعنی کوئی دور بین ہوتا ہے ، اس کی نگاہ وہ دیکھ سکتی ہے جو ہم اور آپ نہیں دیکھ سکتے، اور میں یہ نہیں مان سکتا کہ یہ دور بین ہونا کوئی اکتسابی عمل ہے یا اسے سیکھ کر آپ حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ عطا یا دین ہوتی ہے، اسی کو آپ قوتِ متخیلہ کی غیر معمولی طاقت کہہ لیجئے۔ قوت مشاہدہ ، جیسا کہ آپ کی نظر میں ہے، اس پر بھی بات ہوسکتی ہے۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
میرا کہنا تھا کہ انسان کو دو آنکھیں ملیں ، دو کان ، ایک ناک ، ایک دماغ ۔۔۔ دماغ کا سائز کسی کا ایکسٹرا آرڈنری نہیں ہوتا۔۔ ایک دو انچ کا فرق آجاتا ہے اس لیے یہاں پر سب ایک جیسی قوت لیے پیدا ہوئے ہیں ۔۔۔ میرا خیال میں کچھ نہ کچھ غیر معمولی ایسا ضرور ہوتا ہے جو ذہانت کو متاثر کرتا ہے ، میرا خیال ہے یہ قوت متخیلہ ہے ، اور قوت مشاہدہ ہے ۔۔۔یہ ہر دو انسان میں نہیں ہوتی ہیں ۔۔۔ قوت متخیلہ انسانی ذہن میں لیے پیدا ہوا یعنی وہ تمام تصورات ، علوم جو باقی لوگ باہر کی دنیا سے لیتے ہیں فطین اپنے اندر کی دنیا سے لیتا ہے ، اس کی قوت متخیلہ باہر کی دنیا سے اکتساب کرتی مشاہدہ کرتی ہے اور اس اس مشاہدے کی نتیجہ میں تجزیہ پیش کیے دیتے ہیں ۔ اب اس وقت متخیلہ کو سائنس میں کیا کہیں گے
(گزشتہ سے پیوستہ)
فکرکی قوت ہر دو انسانوں میں ایک جیسی نہیں ہوتی۔ قوت متخیلہ اور قوت مشاہدہ بھی اسی کے نام ہیں۔ تمام ہی لوگ علم باہر کی دنیا سے حاصل کرتے ہیں۔ اپنے اندر کی دنیا سے فطین علم نہیں بلکہ خیال حاصل کرتا ہے کہ کیا ہونا چاہئے۔ علم تو یہ بیان کرتا ہے کہ کیا ہے اور کیسا ہے۔ خیال کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے اور ایسا ہونا چاہئے لیکن وہ ہر بات سے اختلاف بھی نہیں کرتا۔ بہت سی باتیں من و عن بھی قبول کر لیتا ہے بلکہ جن باتوں کو من و عن قبول کیا جاتا ہے انہی کی بنیاد پر تو تخلیق معرضِ وجود میں آتی ہے۔ قوت متخیلہ کو سائنس میں کیا کہیں گے، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کی نظر میں اس کی تعریف کیا ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
بے شک۔ لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فیس بک صرف بے وقوف ہی استعمال کرتے ہیں۔ عقلمند کم استعمال کرتے ہیں، شاید یہ ثابت ہوتا ہو۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ فیس بک پر فرینڈ لسٹ میں آپ کے نام کا اندراج آپ کو میرا یا کسی اور کا دوست نہیں بنائے گا۔ دوستی ایک الگ ہی رشتہ ہے جسے سمجھنے کے لیے آپ کا فیس بک یوزر ہونا ضروری بھی نہیں۔
یہ ایک عمومی بات تھی کہ اوسطاً ہر فیس بک یوزر کے شاید 160 دوست ہوتے ہیں۔ شاید بی بی سی کی اردو سائٹ پر پڑھا تھا
 

نور وجدان

لائبریرین
(گزشتہ سے پیوستہ)
فکرکی قوت ہر دو انسانوں میں ایک جیسی نہیں ہوتی۔ قوت متخیلہ اور قوت مشاہدہ بھی اسی کے نام ہیں۔ تمام ہی لوگ علم باہر کی دنیا سے حاصل کرتے ہیں۔ اپنے اندر کی دنیا سے فطین علم نہیں بلکہ خیال حاصل کرتا ہے کہ کیا ہونا چاہئے۔ علم تو یہ بیان کرتا ہے کہ کیا ہے اور کیسا ہے۔ خیال کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے اور ایسا ہونا چاہئے لیکن وہ ہر بات سے اختلاف بھی نہیں کرتا۔ بہت سی باتیں من و عن بھی قبول کر لیتا ہے بلکہ جن باتوں کو من و عن قبول کیا جاتا ہے انہی کی بنیاد پر تو تخلیق معرضِ وجود میں آتی ہے۔ قوت متخیلہ کو سائنس میں کیا کہیں گے، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کی نظر میں اس کی تعریف کیا ہے۔

مسترد !
جناب من اگر علم اندر نہ ہوتا تو باہر کچھ نہیں ہوتا ۔ میرے کہنے کا مقصد یہی تھا کہ انسان کی پانچ حسیات و دماغ اس کو ایک عام درجے کا ذہن عطا کرتے ہیں جبکہ غیر معمولی وجدان سے لیتے ہیں ۔ نیوٹن کا درخت سے پھل کا نیچے گرنا کا مشاہدے کا محرک اندر اور قانون بنانے کا علم بھی اندر سے آیا ۔۔۔ جان ناش کے حساب کے قواعد بھی اس کی غیرمعمولی وجدان کے صلاحیت سے استوار ہوئے اور اگر ادب کی بات کریں تو یورپ میں نشاط ثانیہ اور رومانیٹک دورانیے کا ادب سارا وجدانی تھا ، مصور جو اچھوتا خیال لایا وہ اس دنیا میں موجود نہیں تھا بلکہ وہ خیال اندر سے آیا ، اس کی تصویر اندر تھی مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باہر کی دنیا کو نظر انداز کیا جائے کیونکہ علم کا منبع باہر بھی موجود ہے ۔۔ان دونوں کے درمیاں توازن رکھ کے جو چلتے ہیں وہ فطین اچھے ہوتے ہیں مگر بیشتر فطین اپنے اندر کی دنیا میں محو باہر سے رسائی قطع کرلیتے ہیں جس سے ان کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔
 
آخری تدوین:

صائمہ شاہ

محفلین
ذہانت کے درجات ہوتے ہیں فقط ذہین ہونے پر یہ تحقیق لاگو نہیں ہوتی ۔
ایک خاص مقام پر آ کر ذہانت دنیا کو کسی اور نظر سے دیکھتی ہے اور یہی حال مذاہب اور معاشرتی معاملات میں بھی ہے اور ذہین لوگ تنہا اس لئے نہیں رہتے کہ وہ تنہائی پسند ہوتے ہیں بلکہ ان کے ذہنی درجے کے مطابق گفتگو بہت کم لوگ کر سکتے ہیں اور انہیں سمجھنے والے بھی کم مقدار میں ملتے ہیں سو یہ تنہائی اسی کمی کی دین ہے ۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
مسترد !
جناب من اگر علم اندر نہ ہوتا تو باہر کچھ نہیں ہوتا ۔ میرے کہنے کا مقصد یہی تھا کہ انسان کی پانچ حسیات و دماغ اس کو ایک عام درجے کا ذہن عطا کرتے ہیں جبکہ غیر معمولی وجدان سے لیتے ہیں ۔ نیوٹن کا درخت سے پھل کا نیچے گرنا کا مشاہدے کا محرک اندر اور قانون بنانے کا علم بھی اندر سے آیا ۔۔۔ جان ناش کے حساب کے قواعد بھی اس کی غیرمعمولی وجدان کے صلاحیت سے استوار ہوئے اور اگر ادب کی بات کریں تو یورپ میں نشاط ثانیہ اور رومانیٹک دورانیے کا ادب سارا وجدانی تھا ، مصور جو اچھوتا خیال لایا وہ اس دنیا میں موجود نہیں تھا بلکہ وہ خیال اندر سے آیا ، اس کی تصویر اندر تھی مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باہر کی دنیا کو نظر انداز کیا جائے کیونکہ علم کا منبع باہر بھی موجود ہے ۔۔ان دونوں کے درمیاں توازن رکھ کے جو چلتے ہیں وہ فطین اچھے ہوتے ہیں مگر بیشتر فطین اپنے اندر کی دنیا میں محو باہر سے رسائی قطع کرلیتے ہیں جس سے ان کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔
تائید و استرداد کا حق آپ کو بہرحال حاصل ہے لیکن یہ مختلف مکتبہ ہائے فکر کی بات ہے۔ مختلف النوع نظریات کی بات ہے کہ کس کے نزدیک وہ بات اندر تھی اور کس کے نزدیک وہ باہر تھی۔
مثال کے طور پر جو آپ نے فرمایا کہ مشاہدے کا محرک اور قانون بنانے کا علم اندر سے آیا ، میں اس سے اختلاف رکھتا ہوں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مشاہدے کا محرک اندر سے کیسے آیا اور یہ کون طے کرے گا کہ مشاہدے کے لیے محرک ضروری بھی ہے یا نہیں؟ سائنسی انداز فکر یہ کہتا ہے کہ اگر علم اندر نہ ہونے سے باہر کچھ نہ ہونا لازم آئے تو علم کہاں سے آئے گا؟ باہر تو پھر کچھ بھی نہ ہوا؟
قانون بنانے کا علم اندر سے نہیں آسکتا کیونکہ قانون انسان ایسے ہی نہیں بنا سکتا جیسے ہم بیٹھے بیٹھے شعر کہہ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے اندر سے آیا ہے۔ شعر بھی اس میں داخل ہے اور قانون بھی کہ یہ چیزیں اندر سے نہیں آتیں بلکہ باہر سے جو مشاہدہ اندر تک آگیا تھا، اس نے جو علم دیا، اس کا ذہن نے تجزیہ کیا اور جس نتیجے تک پہنچا، آپ اس کو کبھی قانون کہتے ہیں، کبھی شعر مانتے ہیں۔ یہ بھی آپ کا حسنِ نظر ہے۔ اب ہم اس سے ایک قد م آگے چلتے ہیں اور اند ر اور باہر کے بارے میں ایک اور نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جو خواجہ شمس الدین عظیمی کا ہے۔ جو کچھ میں نے ان سے سیکھا، وہ غلط فہمی پر مبنی بھی ہوسکتا ہے لیکن میرے ۔مطابق پتھر آپ نے دیکھا اور آپ کو علم ہوگیا کہ وہ سخت ہے۔ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ وہ سخت تھا؟ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ آپ کے اندر ہے۔ پوری کائنات آپ کے اندر ہے ، اسی لیےآپ کو اس کا علم ہے اور آپ آنکھیں بند کرکے بھی اس کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ فرق صرف حواس کا ہے۔ حواس ظاہری بھی ہیں اور باطنی بھی۔ وجدان کوئی الگ حس نہیں ہے جسے چھٹی حس کہا جائے۔ بلکہ دیکھنا، سونگھنا، چکھنا، سننا اور محسوس کرنا ، سب کا سب ظاہری بھی ہے اور باطنی بھی۔ یعنی پانچ حواس ظاہری ہیں۔ پانچ باطنی۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ ان حواس کو کیسے کام میں لاتے ہیں۔ مزیدتفصیلات اس کی بعد میں عرض کروں گا، اگر ضرورت ہوئی۔۔۔۔
 

نور وجدان

لائبریرین
تائید و استرداد کا حق آپ کو بہرحال حاصل ہے لیکن یہ مختلف مکتبہ ہائے فکر کی بات ہے۔ مختلف النوع نظریات کی بات ہے کہ کس کے نزدیک وہ بات اندر تھی اور کس کے نزدیک وہ باہر تھی۔
مثال کے طور پر جو آپ نے فرمایا کہ مشاہدے کا محرک اور قانون بنانے کا علم اندر سے آیا ، میں اس سے اختلاف رکھتا ہوں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مشاہدے کا محرک اندر سے کیسے آیا اور یہ کون طے کرے گا کہ مشاہدے کے لیے محرک ضروری بھی ہے یا نہیں؟ سائنسی انداز فکر یہ کہتا ہے کہ اگر علم اندر نہ ہونے سے باہر کچھ نہ ہونا لازم آئے تو علم کہاں سے آئے گا؟ باہر تو پھر کچھ بھی نہ ہوا؟
قانون بنانے کا علم اندر سے نہیں آسکتا کیونکہ قانون انسان ایسے ہی نہیں بنا سکتا جیسے ہم بیٹھے بیٹھے شعر کہہ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے اندر سے آیا ہے۔ شعر بھی اس میں داخل ہے اور قانون بھی کہ یہ چیزیں اندر سے نہیں آتیں بلکہ باہر سے جو مشاہدہ اندر تک آگیا تھا، اس نے جو علم دیا، اس کا ذہن نے تجزیہ کیا اور جس نتیجے تک پہنچا، آپ اس کو کبھی قانون کہتے ہیں، کبھی شعر مانتے ہیں۔ یہ بھی آپ کا حسنِ نظر ہے۔ اب ہم اس سے ایک قد م آگے چلتے ہیں اور اند ر اور باہر کے بارے میں ایک اور نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جو خواجہ شمس الدین عظیمی کا ہے۔ جو کچھ میں نے ان سے سیکھا، وہ غلط فہمی پر مبنی بھی ہوسکتا ہے لیکن میرے ۔مطابق پتھر آپ نے دیکھا اور آپ کو علم ہوگیا کہ وہ سخت ہے۔ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ وہ سخت تھا؟ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ آپ کے اندر ہے۔ پوری کائنات آپ کے اندر ہے ، اسی لیےآپ کو اس کا علم ہے اور آپ آنکھیں بند کرکے بھی اس کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ فرق صرف حواس کا ہے۔ حواس ظاہری بھی ہیں اور باطنی بھی۔ وجدان کوئی الگ حس نہیں ہے جسے چھٹی حس کہا جائے۔ بلکہ دیکھنا، سونگھنا، چکھنا، سننا اور محسوس کرنا ، سب کا سب ظاہری بھی ہے اور باطنی بھی۔ یعنی پانچ حواس ظاہری ہیں۔ پانچ باطنی۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ ان حواس کو کیسے کام میں لاتے ہیں۔ مزیدتفصیلات اس کی بعد میں عرض کروں گا، اگر ضرورت ہوئی۔۔۔۔

آپ کا شکریہ کہ حسن اختلاف آپ کی خوبی ہے اور جوہر گفتگو بھی !

اندر، باہر کے حوالے سے بات گوکہ آف ٹاپک ہے مگر خیر اس سے ملحق بھی ہے ۔۔سائنسی فکر میں اجتماعی فکر کے بجائے انفرادی فکر لے آئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ مجھے بتائیں کہ آپ نے کسی بھی شے کو اپنی باطنی قوت سے دیکھا مگر وہ اس دنیا میں وجود نہیں رکھتی اسی حوالے سے جان ناش کی بات کی تھی ، حساب کے جتنے جدید قوانین بنائے گئے وہ جان ناش نے اپنے اندر کی دنیا سے تخلیق کیے ۔۔۔۔ چلیں یہ کہا جاسکتا ہے علم موجود ہے اندر بھی باہر بھی مگر اس کا ادراک کون کرے ۔۔وہ جو ادراک کرپاتے ہیں ان کی قوت متخیلہ تیز ہوتی ہے یعنی بصیرت ۔۔۔
ضروری نہیں اندر کچھ نہیں تو باہر کچھ نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ اس کو لازم مت کریں ۔اس سے اتنا ظاہر ہوتا ہے کہ مفکر ، موجد ، اور انقلابی علم کا باطنی سمندر رکھتے دنیا کو دے جاتے ہیں جبکہ جو اندر کی وسعت نہیں رکھتے وہ اس مستعار سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔۔سائنس تو دو جمع دو ۔۔۔چار کا فارمولا ہے زندگی دو نفی دو چار بھی ہوسکتی ہے ۔۔۔

خواجہ عظیم الدین شمسی کی بات مجھے مکمل لگی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔آپ اس بارے آگہی دیجیے کہ وجدان کیا ہے اور کیون چھٹی حس نہیں ہے
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
آپ کا شکریہ کہ حسن اختلاف آپ کی خوبی ہے اور جوہر گفتگو بھی !

اندر، باہر کے حوالے سے بات گوکہ آف ٹاپک ہے مگر خیر اس سے ملحق بھی ہے ۔۔سائنسی فکر میں اجتماعی فکر کے بجائے انفرادی فکر لے آئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ مجھے بتائیں کہ آپ نے کسی بھی شے کو اپنی باطنی قوت سے دیکھا مگر وہ اس دنیا میں وجود نہیں رکھتی اسی حوالے سے جان ناش کی بات کی تھی ، حساب کے جتنے جدید قوانین بنائے گئے وہ جان ناش نے اپنے اندر کی دنیا سے تخلیق کیے ۔۔۔۔ چلیں یہ کہا جاسکتا ہے علم موجود ہے اندر بھی باہر بھی مگر اس کا ادراک کون کرے ۔۔وہ جو ادراک کرپاتے ہیں ان کی قوت متخیلہ تیز ہوتی ہے یعنی بصیرت ۔۔۔
ضروری نہیں اندر کچھ نہیں تو باہر کچھ نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ اس کو لازم مت کریں ۔اس سے اتنا ظاہر ہوتا ہے کہ مفکر ، موجد ، اور انقلابی علم کا باطنی سمندر رکھتے دنیا کو دے جاتے ہیں جبکہ جو اندر کی وسعت نہیں رکھتے وہ اس مستعار سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔۔سائنس تو دو جمع دو ۔۔۔چار کا فارمولا ہے زندگی دو نفی دو چار بھی ہوسکتی ہے ۔۔۔

خواجہ عظیم الدین شمسی کی بات مجھے مکمل لگی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔آپ اس بارے آگہی دیجیے کہ وجدان کیا ہے اور کیون چھٹی حس نہیں ہے
خواجہ صاحب نے کچھ مشقیں ماورائی دنیا کی تجویز فرمائی تھیں جن میں مگن ہو کر میں نے یہ دیکھا کہ میں دو اپنے دو بازوؤں کی مدد سے ہوا میں پرواز کر رہا ہوں۔ زمین سے فاصلہ بڑ ھ جاتا ہے تو خوف محسوس ہونے لگتا ہے (خود خواجہ صاحب کی کتاب میں اس کیفیت کا حال بیان ہوا ہے جس میں خواجہ صاحب نے اپنا پرواز کرنا بیان کیا ہے) یہ باطنی قوت سے دیکھنا ہوا کہ انسانوں کا پرواز کرنا اس دنیا میں جسمانی طور پر تو ممکن نظر نہیں آتا۔ علم کا ادراک آپ کریں یا نہ کریں، وہ آپ کو حاصل ہوتا رہتا ہے۔ مثلا بچے کو علم نہیں کہ وہ دنیا کو دیکھ رہا ہے اور اس کے بارے میں آگاہی حاصل کر رہا ہے مگر وہ ایسا ہی کرتا ہے۔ یعنی یہ اس کا علم معلوم نامعلوم سے تعلق رکھتا ہے۔
اندر کچھ نہ ہویہ ممکن نہیں ہے ، ہاں آپ کو علم نہ ہو ، یہ الگ بات ہے۔ جو انقلابی علم کا سمندر دنیا کو دیتے ہیں، انہیں بھی ضرور کچھ نہ کچھ مستعار لینا ہی پڑتا ہے کہ یہ دنیا کا اصول ہے۔ نہ کوئی صرف فائدہ اٹھا سکتا ہے، نہ ہی کوئی صرف اور صرف دنیا کو علم کا سمندر مہیا کرسکتا ہے۔ جمع تفریق ایک الگ بات ہے۔ کسی کا ایک طرف پلڑا بھاری ہوتا ہے تو کسی کا دوسری طرف۔ لیکن علم کا تبادلہ ایک ضروری چیز ہے جو مسلسل جاری رہتا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی کے نزدیک دنیائیں دو ہیں۔ ایک وہ جس سے ہم آئے ہیں یعنی ماورائی دنیا۔ ہم اس سے پوری طرح الگ نہیں ہوئے بلکہ نیند میں ہمارا مسلسل اس سے رابطہ برقرار رہتا ہے۔ اس میں ہم اپنے تمام ظاہری حواس خواب کی صورت میں استعمال کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ اور میرے خیال میں اگر کوئی نتیجہ ایک دم سے ہمارے ذہن میں اسی ماورائی دنیا سے آجائے تو اسے وجدان کا نام دے دیتے ہیں۔ آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ ایک جگہ خطرہ ہے لیکن آپ کو لگتا ہے کہ خطرہ ہے۔ آپ اس غیر مرئی خطرے سے بچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ واقعی وہاں جان کا خطرہ درپیش تھا۔ اب آپ فرمائیں کہ یہ وجدان تھا تو خواب میں بھی تو آپ کو مستقبل کے بارے میں خبر دی جاتی ہے۔ آپ نت نئی دنیاؤں کا مشاہدہ کرتے اور ان میں سانس بھی لیتے ہیں۔ آپ اپنے تمام حواس کو ماورائی دنیا کو محسوس کرنے کی قدرت عطا کرسکتے ہیں۔ صرف آزمائش شرط ہے!
 

محمدظہیر

محفلین

یہ جینیس لوگ ہیں جو مووی موویز میں ہیں ۔۔ یہاں موویز سے اندازہ ہوتا ہے ان بیچاروں کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور دوست بنا نہیں سکتے ۔۔اس لحاظ سے تحقیق کسی حد تک درست بھی ہے
A beautiful mind میں نے دیکھا ہے. ذہن کو جھنجھوڑ دیتی ہے. وہ فلم دیکھ کر میری عجیب کیفیت ہو گئی تھی.
the shawshank redemption کا andrew dufresne باتیں کم کرتا تھا اور دوست بھی زیادہ نہیں تھے. آپ نے یہ فلم دیکھی ہے؟
 

نور وجدان

لائبریرین
خواجہ صاحب نے کچھ مشقیں ماورائی دنیا کی تجویز فرمائی تھیں جن میں مگن ہو کر میں نے یہ دیکھا کہ میں دو اپنے دو بازوؤں کی مدد سے ہوا میں پرواز کر رہا ہوں۔ زمین سے فاصلہ بڑ ھ جاتا ہے تو خوف محسوس ہونے لگتا ہے (خود خواجہ صاحب کی کتاب میں اس کیفیت کا حال بیان ہوا ہے جس میں خواجہ صاحب نے اپنا پرواز کرنا بیان کیا ہے) یہ باطنی قوت سے دیکھنا ہوا کہ انسانوں کا پرواز کرنا اس دنیا میں جسمانی طور پر تو ممکن نظر نہیں آتا۔ علم کا ادراک آپ کریں یا نہ کریں، وہ آپ کو حاصل ہوتا رہتا ہے۔ مثلا بچے کو علم نہیں کہ وہ دنیا کو دیکھ رہا ہے اور اس کے بارے میں آگاہی حاصل کر رہا ہے مگر وہ ایسا ہی کرتا ہے۔ یعنی یہ اس کا علم معلوم نامعلوم سے تعلق رکھتا ہے۔
اندر کچھ نہ ہویہ ممکن نہیں ہے ، ہاں آپ کو علم نہ ہو ، یہ الگ بات ہے۔ جو انقلابی علم کا سمندر دنیا کو دیتے ہیں، انہیں بھی ضرور کچھ نہ کچھ مستعار لینا ہی پڑتا ہے کہ یہ دنیا کا اصول ہے۔ نہ کوئی صرف فائدہ اٹھا سکتا ہے، نہ ہی کوئی صرف اور صرف دنیا کو علم کا سمندر مہیا کرسکتا ہے۔ جمع تفریق ایک الگ بات ہے۔ کسی کا ایک طرف پلڑا بھاری ہوتا ہے تو کسی کا دوسری طرف۔ لیکن علم کا تبادلہ ایک ضروری چیز ہے جو مسلسل جاری رہتا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی کے نزدیک دنیائیں دو ہیں۔ ایک وہ جس سے ہم آئے ہیں یعنی ماورائی دنیا۔ ہم اس سے پوری طرح الگ نہیں ہوئے بلکہ نیند میں ہمارا مسلسل اس سے رابطہ برقرار رہتا ہے۔ اس میں ہم اپنے تمام ظاہری حواس خواب کی صورت میں استعمال کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ اور میرے خیال میں اگر کوئی نتیجہ ایک دم سے ہمارے ذہن میں اسی ماورائی دنیا سے آجائے تو اسے وجدان کا نام دے دیتے ہیں۔ آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ ایک جگہ خطرہ ہے لیکن آپ کو لگتا ہے کہ خطرہ ہے۔ آپ اس غیر مرئی خطرے سے بچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ واقعی وہاں جان کا خطرہ درپیش تھا۔ اب آپ فرمائیں کہ یہ وجدان تھا تو خواب میں بھی تو آپ کو مستقبل کے بارے میں خبر دی جاتی ہے۔ آپ نت نئی دنیاؤں کا مشاہدہ کرتے اور ان میں سانس بھی لیتے ہیں۔ آپ اپنے تمام حواس کو ماورائی دنیا کو محسوس کرنے کی قدرت عطا کرسکتے ہیں۔ صرف آزمائش شرط ہے!

جسے ہم وجدان کہ رہے ہیں اس کا بس پل بھر کے لیے رابطہ ہوتا ہے ؟
 

نور وجدان

لائبریرین
A beautiful mind میں نے دیکھا ہے. ذہن کو جھنجھوڑ دیتی ہے. وہ فلم دیکھ کر میری عجیب کیفیت ہو گئی تھی.
the shawshank redemption کا andrew dufresne باتیں کم کرتا تھا اور دوست بھی زیادہ نہیں تھے. آپ نے یہ فلم دیکھی ہے؟

آج کل ایک مووی دیکھی اور دوسری دیکھنے کا من سوچ رہا ہے ۔۔۔
ایک تو dead poet society he
The Man who knew infinity ابھی دیکھنے کو دل ہے ، دیکھیں کب دیکھوں ۔۔۔۔۔

میرے خیال فطین کو اپنے بولنے کے لیے ہم خیال چاہیے اگر نہیں ملے گا تو وہ خاموشی سے ہم کلام ہوگا ۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
جسے ہم وجدان کہ رہے ہیں اس کا بس پل بھر کے لیے رابطہ ہوتا ہے ؟
یہ ضروری نہیں ہے۔ ہر شخص کی وجدانی قوت دوسرے سے الگ ہوتی ہے۔ وجدان کے بارے میں مندرجہ ذیل لنک پر موجود مضمون مجھے حقیقت سے کافی قریب محسوس ہوا جو وجدان کی تعریف پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور اس کی مثالیں بھی بیان کرتا ہے۔
وجدان کی قوت - ایکسپریس اردو
وجدان کا بس پل بھر کے لیے جو رابطہ ہوتا ہے وہ عام لوگوں کے لیے ہے اور ذہین و فطین لوگ بہتر وجدانی قوت کے مالک ہوتے ہیں، یہ ایک الگ حقیقت سہی لیکن خواجہ شمس الدین عظیمی نے جو کتاب لکھی ہے یعنی "ٹیلی پیتھی سیکھئے"، یہ بھی میرے خیال میں وجدانی قوت کو ہی جگانے کا دوسرا نام ہے ۔ اور اس سے میرے خیال میں یہ نیا راستہ کھلتا ہے کہ جس شخص کی وجدانی قوت کم ہے وہ مسلسل مشق سے یا ارتکازِ توجہ سے اسے بڑھا سکتا ہے اور مزید وسعت دے سکتا ہے۔
 
Top