دیوان غالب

نبیل نے 'غالبیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 13, 2006

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,645
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی
    تم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہی
    غیر کی مرگ کا غم کس لئے، اے غیرتِ ماہ!
    ہیں ہوس پیشہ بہت، وہ نہ ہُوا، اور سہی
    تم ہو بت، پھر تمھیں پندارِ خُدائی کیوں ہے؟
    تم خداوند ہی کہلاؤ، خدا اور سہی
    حُسن میں حُور سے بڑھ کر نہیں ہونے کی کبھی
    آپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی
    تیرے کوچے کا ہے مائل دلِ مضطر میرا
    کعبہ اک اور سہی، قبلہ نما اور سہی
    کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے، واعظ!
    خلد بھی باغ ہے، خیر آب و ہوا اور سہی
    کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں، یا رب
    سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی
    مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
    زہر کچھ اور سہی، آبِ بقا اور سہی
    مجھ سے غالب یہ علائی نے غزل لکھوائی
    ایک بیداد گرِ رنج فزا اور سہی
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,645
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر
    دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچیئے

    مستعدِ قتلِ یک عالم ہے جلاّدِ فلک
    کہکشاں موجِ شفق میں تیغِ خوں آشام ہے

    نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی
    مری محفل میں غالب گردشِ افلاک باقی ہے

    زندانِ تحّمل ہیں مہمانِ تغافل ہیں
    بے فائدہ یاروں کو فرقِ غم و شادی ہے
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,645
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    صبا لگا وہ طمانچہ طرف سے بلبل کے
    کہ روئے غنچہ سوئے آشیاں پھرِ جائے

    ختم شُد؟؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر