دیوانِ میر حسن

شمشاد نے 'برقیانے کیلئے کتب کی فرمائش' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 17, 2010

  1. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    محبت میں تری جب مجھکو عالم نے ملامت کی
    دل و جان نے تب آپس مین مبارک اور سلامت کی

    قیامت جسکو کہتے ہین یہ اک مدت کا تھا مصرع
    یہ میرے مصرعِ موزون نے اس قد کی قیامت کی

    کیا قمری نے نالہ اور کھینچی آہ بلبل نے
    چلی کچھ بات جب گلشن مین میرے سر و قامت کی

    جب اپنا کام تیرے عشق مین تدبیر سے گذرا
    چلی آنکھون سے میری سیل تب اشکِ ندامت کی

    سخن کا یہ بزرگون کی تتبع بسکہ کرتا ہے
    نکلتی ہے حسن کی بات مین اِک بو قدامت کی​
     
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    وہ نہین ہم جو ڈر ہی جاوینگے
    دل مین جو ہے سو کر ہی جاوینگے

    تجھسے جسدم جدا ہوئے امی جان
    پھر یہ سُنیو کہ مر ہی جاوینگے

    دید پھر پھر جہان کی کر لین
    آخرش تو گذر ہی جاوینگے

    جی تو لگتا نہین جہان دل ہے
    ہم بھی ابتو اُدھر ہی جاوینگے

    بیخر جس طرح سے آئے ہین
    اُس طرح بیخر ہی جاوینگے

    تجھکو غیرون سے کام ہے تو رہ
    ہم بھی اب اپنے گھر ہی جاوینگے

    دل کو لکھ پڑھ کے دیجیو تو حسن
    ورنہ دلبر مُکر ہی جاوینگے​
     
  3. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    نوجوانی کی دید کر لیجے
    اپنے موسم کی عید کر لیجے

    کون کہتا ہے کون سُنتا ہے
    اپنی گفت و شنید کر لیجے

    ابکے بچھڑے ملو گے پھر کہ نہین
    کچھ تو وعدہ وعید کر لیجے

    اپنے گیسو دراز کے مجھکو
    سِلسلہ مین مُرید کر لیجے

    ہے مثل ایک ناہ صد آسان
    یاس ہی کو امید کر لیجے

    ہان عدم مین کہان ہے عشق بتان
    اسکو یان سے خرید کر لیجے

    وصل تب ہو اُدھر جب اِیدھر سے
    پہلے قطع و بُرید کر لیجے

    قتل کیا بیگنہ کا مشکل ہے
    چاہیے جب شہید کر لیجے

    اُسکی اُلفت مین روتے روتے حسن
    یہ سیہ مو سپید کر لیجے​
     
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    دل جنھون نے کہین لگائے تھے
    کیا اُنھون نے مزے اُٹھائے تھے

    مثل آئینہ کیا عدم سے ہم
    تیرا مُنھ دیکھنے کو آئے تھے

    اب جہان خار و خس پڑے ہین کبھی
    ہمنے یان آشیان بنائے تھے

    ہو کے مشتاق تیری جھڑکی کے
    آپ اپنا پیام لائے تھے

    تیرے خط نے بھی ایک عالم کو
    ہند کے سے سمین دکھائے تھے

    جسکا جی تھا اُسے دیا پھر کیا
    کچھ ہم اپنی گرہ سے لائے تھے

    اپنا سمجھے تھے آپ کو سو غلط
    خوب دیکھا تو ہم پرائے تھے

    لیکے رخصت حسن کئی دم کی
    سیر کو یان کی ہم بھی آئے تھے​
     
  5. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    کیون رنگ سرخ تیرا اب زرد ہو گیا ہے
    تو ہی مگر ہمارا ہمدرد ہو گیا ہے

    وے دن گئے کہ دل مین رہتا تھا درد اپنے
    اب دل نہین سراپا اک درد ہو گیا ہے

    اتنا تو فرق مجھمین اور دل مین ہے کہ تجھ بن
    مین خاک ہو گیا ہون وہ گرد ہو گیا ہے

    ہے چاک چاک سینہ کیونکر چھپے تو دل مین
    یہ تو مکان سارا بے پرد ہو گیا ہے

    کس طرح شیخ چھیڑے اب دخت رز کو آ کر
    اس طرف سے بچارا نامرد ہو گیا ہے

    یان کیا نہ تھا جو وان کی رکھے حسن توقع
    دونون جہان سے اپنا دل سرد ہو گیا ہے​
     
  6. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    دیکھنے بیٹھا جو وہ مہ اپنے گھر کی چاندنی
    جبتلک بیٹھا رہا تب تک نہ سر کی چاندنی

    نور باقی ہے نہ آنکھون مین نہ دل مین روشنی
    تیرے بن کیا جا کے دیکھین بحر و بر کی چاندنی

    ایک شب تو پھر بھی آ جا آنکھین بس ہو گئین سفید
    کب تلک دیکھا کرین اُجڑے نگر کی چاندنی

    ملگجے کپڑون مین یون ہے جلوہ گر اُسکا بدن
    دھوپ جیسے شام کی ہوا اور سحر کی چاندنی

    شعلہ دل کا تصرف ہے کس عاشق کی یہ
    ورنہ کب بھاتی تھی تجھکو بام و در کی چاندنی

    تھی سمین شب کی وہ تیرے چاند سے مکھڑے تلک
    اب کہان کی روشنی پیارے کدھر کی چاندنی

    سیج پھولون کی بچھی ہو ماہرو بیٹھا ہو پاس
    دیکھنا تب لطف دیوے یکدگر کی چاندنی

    یاد آتا ہے کس موسم کا اس جا لوٹنا
    جب نظر پڑتی ہے مجھکو تیرے گھر کی چاندنی

    سیکڑون عالم دکھاتی ہے حسن دلبر کے ساتھ
    ٹھنڈی ٹھنڈی باد اور پچھلے پہر کی چاندنی​
     
  7. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    صید کو دل کے جال رکھوائے
    بارے تمنے بھی بال رکھوائے

    اُسکے پتون نے کج ادائی کی
    مہ کے سر پر ہلال رکھوائے

    ہر طرف ہو گئے تھے وصل مین گم
    ہجر نے پھر بحال رکھوائے

    لعل و گوہر کا گنج ہے یہ دل
    مین یہان اپنے مال رکھوائے

    نذر کو تیری ہمنے آنکھون مین
    گوہر بیمثال رکھوائے

    رشک سے شب کا دل ہوا پرزے
    اُسنے جب مُنھ پہ خال رکھوائے

    کھینچ مست تیر آہ دل سے حسن
    اُسنی ہے دیکھ بھال رکھوائے​
     
  8. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    نہ خیالِ دل نہ فکرِ جان ہے
    رات دن اُسی کا دھیان ہے

    تو ملے تنہا تو مین تجھسے کہون
    دل مین جو جو کچھ مرے ارمان ہے

    آج بارے وہ ملا ہمسے صنم
    اپنے اُس اللہ کا احسان ہے

    حسن کیا ہے اور کیا ہے عشق یہ
    عقل اپنی اس جگھ حیران ہے

    بے ادائی ہے ترے جانے مین اور
    تیرے آنے مین سراپا آن ہےہ

    یون تو رونے کو سبھی روتے ہین پر
    میرے ہی رونے پہ کُچھ طوفان ہے

    اُسکی اِس ظاہر پہ تو مت جائیو
    ہے تو وہ انسان پر شیطان ہے

    مین سمجھتا ہون حسن اُس شوخ کو
    ایک پکا ہے وہ کیا نادان ہے​
     
  9. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    بس ہے اتنا ہی تیرا پیار مجھے
    او حسن کہکے تو پکار مجھے

    عندلیب بہار کوبان ہون
    نہین در کار لالہ زار مجھے

    لئے جاتی ہے ہوش سے ہر دم
    تیری یہ چسم پر خمار مجھے

    گل ہزارون کو آہ جسنے دیے
    دل دیا اُسنے داغدار مجھے

    بیقراری پر اپنی مرتا ہو ن
    کیون ہے آتا نہین قرار مجھے

    سوچتا کچھ تو آج دل مین گیا
    دیکھ روتے وہ زار زار مجھے

    سخت دشمن ہے یہ کہ تجھسے جدا
    لیے پھرتا ہے روزگار مجھے

    عین گلشن مین ہون پہ چون تصویر
    نظر آتی نہین بہار مجھے

    رونے اور جلنے ہی کو ڈھالہ ہے
    یدِ قدرت نے شمع وار مجھے

    عشق بازی مین مین دل نہ ہار حسن
    کاش اُسکے عوض تو ہار مجھے​
     
  10. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    ہوتا گران بتون مین وفادار ایک بھی
    کرتا مین دلدہی مین نہ تکرار ایک بھی

    گو خوبیان ہین سب پہ تغافل تو ہے غضب
    کافی ہے جی کے لینے کو آزار ایک بھی

    ہوتا اگر تو عہد مین یوسف کے اے عزیز
    کرتا نہ مُنھ اُدھر کو خریدار ایک بھی

    ہے کلیہ کہ حسن کو ہرگر نہین وفا
    دیکھا مین باوفا نہ طرحدار ایک بھی

    سو سو خیال دل مین گذرتے ہین روز و شب
    وعدہ اگر کرے ہے وہ دلدار ایک بھی

    آئے تھے دام مین تو کئی پر سب اُڑ گئے
    میرے سوا رہا نہ گرفتار ایک بھی

    تقصیر وار مین ہی ترا ہون خدا کرے
    ایسا نہو لے کوئی گنہگار ایک بھی

    سو باتین آپ جھوٹی بنا وے تو کچھ نہین
    مانے نہ سچ ہمارے وہ عیار ایک بھی

    گر لاکھ بات مجھکو کہے وہ تو ہمنشین
    دیجو نہ تو جواب خبردار ایک بھی

    کیا جانیے کہ کسکی مرادین بر آئیان
    خواہش ہوئی نہ اپنی تو زنہار ایک بھی

    جیتے ہی جی تلک تنہین دلسوزیان حسن
    لایا چراغ گور پر اب یار ایک بھی​
     
  11. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    جو چاہے آپ کو تو اُسے کیا نہ چاہیے
    انصاف کر تو چاہیے یہ یا نچاہیے

    ہنستے ہنستے کوئی طرح ہو جائے
    جس مین کچھ تاؤ پیچ تو کھائے

    تیرے قدمون سے وہ لگے ظالم
    جو ککئی اپنے سر سے ہاتھ اُٹھائے

    میرا جلنا ہے گر مراد تری
    تو صنم اپنے تو خدا سے پائے

    روگ جی کا ہوا یہ دل نہ ہوا
    کب تلک کوئی رنج اسکا اُٹھائے

    دل کو پامال کر رکھا ہے مرے
    کیون نہ جوتی دکھا کے تو اترائے

    کیا کرون تیرا پانؤن ہے درمیان
    ورنہ پاپوش تیری مجھ تک آئے

    جی سے کہتا ہے تو یہ ہے جوتی
    کیا ہو گر تیرے دشمنون پر جائے

    باغ مین جا کے اے حسن تنہا
    کیا کوئی ہونہال کیا پھل پائے

    سیر لالے کی یار بن یون ہے
    جس طرح سے جلے کو کوئی جلائے​
     
  12. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    تو کسی سے اگر ملا نکرے
    اسقدر دل مرا کڑا نکرے

    گر الگ سب سے تو رہا نکرے
    ایک سے ایک پھر ملا نکرے

    کیون ندیکھے تجھے کوئی اے ماہ
    کیا کرے اپنا سوجھنا نکرے

    آئینہ مین تو دیکھ اپنا مُنھ
    تجھسے کیونکر کوئی صفا نکرے

    بس جو میرا ہو یہ منادی دون
    بیوفا سے کوئی وفا نکرے

    کیون مین اس طرح رات دن روؤن
    تو کسی سے اگر ہنسا نکرے

    نقش پا اپنے تو مٹاتا چل
    تا کوئی اسپہ ٹوٹکا نکرے

    اپنی اس ہستی و عدم مین رہ
    کیا کرے کوئی اور کیا نکرے

    دید تک دل بتون کی ہے مختار
    پر کہین اور چوچلا نکرے

    عشق مین کوبیان سہی ہین پر
    روز و شب دل اگر جلا نکرے

    حق ادا کا تری ادا ہو تب
    بے ادائی کی جب ادا نکرے

    مُنھ کو باندھے رہے کوئی کب تک
    کیا کرے کچھ اگر کہا نکرے

    کچھ تمہاری تو بات اسمین نہین
    کوئی قسمت کا بھی گلا نکرے

    مین کہا دل مین درد ہے میرے
    ہنس کے کہنے لگا خدا نکرے

    پھر جو کچھ جی مین آ گئی تو کہا
    مجھکو پیٹے اگر دوا نکرے

    کل کسی نے کہا حسن سے تو
    آشنائی کرے ویا نکرے

    ہنس کے کہنے لگا کہ ایسے سے
    آشنائی مری بلا نکرے​
     
  13. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    مین یہ کہتا نہین کوئی بتِ دلخواہ ملے
    دل مین جو بستا ہے میرے مرے اللہ ملے

    ماہِ عید و مہ ذی الحج سے نہین مجھکو حصول
    وہ مہینہ نظر آ جائے کہ وہ ماہ ملے

    مدعا ظاہری و باطنی اپنا ہے یہی
    چشمِ بیدار ملے اور دل آگاہ ملے

    ہمتو بدخواہ تھے اب ذکر ہمارا ہے عبث
    بارے یہ اور جو ہین یہ تو ہوا خواہ ملے

    اے خوشا روز کہ ہو گرد مرے خیلِ بتان
    وے کہین یانسے نکل مین کہون گر راہ ملے

    تو مری چاہ سے بیزار ہے جتنا اے شوخ
    اُتنی ہے چاہ ہے مجھکو کہ تری چاہ ملے

    اتفاق اپنی یہ قسمت کا ہے سبحان اللہ
    تھی خبر کسکو کہ یون مجھسے وہ ناگاہ ملے

    ہجر کی شب جو ہمیشہ ہو سو ایسی ہو دراز
    وصل کی رات کبھی ہوئے تو کوتاہ ملے

    چاہیے ہمسے ملے آپ ہے تو اے مہ حسن
    کاہ سے برق ملے برق سے یاکاہ ملے

    مین یہ کہتا نہین مجھکو نہ ملے آہ و فغان
    ٹک اثر دار ملے مجھکو اگر آہ ملے

    اپنی قسمت کی بھی بس مین نے قسم کھائی ہے
    یار کیا کیا مجھے دنیا مین حسن واہ ملے​
     
  14. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    کیا چھیڑ کے پوچھے ہے کہ گھر تیرا یہین ہے
    کہنے کو تو گھر یان ہے پہ جی اپنا وہین ہے

    شب چوری سے مین نے یہ کہا جاؤن ٹک اُس پاس
    دیکھون تو کہ ملنے کا بھی کچھ داؤن کہین ہے

    آہٹ سے مری چونک کے پوچھا کہ یہ ہے کون
    چپکے سے کہا مین کہ جسے نیند نہین ہے

    ابرو مین دیا زلف مین بھولا ہون حسن مین
    پڑتا ہے مجھے دھیان کہ دل میرا کہین ہے​
     
  15. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    وہ دلبری کا اُسکی جو کچھ حال ہے سو ہے
    اور اپنی دلدہی کا جو احوال ہے سو ہے

    مت پوچھ اُسکی زلف کی اُلجھیڑیکا بیان
    یہ میری جان کے لیے جنجال ہے سو ہے

    نیکی بدی کا کوئی کسی کے نہین شریک
    جو اپنا اپنا نامہ اعمال ہے سو ہے

    پس جائے کوئی ہو یا کہ ہو پامال اُسکو کیا
    اس گردش فلک کی جو کچھ چال ہے سو ہے

    وے ہی علم مین آہون کے ویسی ہی فوج اشک
    ابتک غم و الم کا جو اقبال ہے سو ہے

    ایسا تو وہ نہین جو مرا چارہ ساز ہو
    پھر فائدہ کہے سے جو کچھ حال ہے سو ہے

    شکوہ مجھے تو سوزنِ مژگان سے کچھ نہین
    دل خار خارِ آہ سے غربال ہے سو ہے

    نقشِ قدم کی طرح حسن اُسکی راہ مین
    اپنا یہ دل سدا سے جو پامال ہے سو ہے​
     
  16. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    صورت نہ ہمنے دیکھی حرم کی نہ دیر کی
    بیٹھے ہی بیٹھے دل مین دو عالم کی سیر کی

    مرنا مجھے قبول ہے اُسکے فراق مین
    ملنا نہین قبول وساطت سےغیر کی

    ثابت جو عشق مین ہین نہین اُنکو خوف مرگ
    حالت سُنی تو ہوویگی تمنے نصیر کی

    خانہ خراب ہو تری اس دوستی کا یار
    دی جسنے دل مین سب کے جگھ میرے بیر کی

    بیطرح ابکی بگڑی ہے اُس بت سے اے حسن
    باقی نکچھ رہی تھی خدا ہی نے خیر کی​
     
  17. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    مین کس طرح کہون انسان سے خطا کہ نہووے
    کریم تو ہے یہ بندا ہےہ از کجا کہ نہووے

    گر اُسکے بزم مین جاتا ہے دل تو آتا ہون مین بھی
    ولے رقیت کو تو پہلے دیکھ آ کہ نہووے

    رکھے ہے لطف عجب نو خطون کے عشق مین رونا
    اُٹھے نہ خط کبھی یاران سے سبزہ تا کہ نہووے

    نہین یہ ہونے کی ہرگز کہ مین نہون ترے ہمرہ
    اگرچہ ہے یہی تیرا تو مدعا کہ نہووے

    یہ کیا خیال مین گذرے ہے جسپہ روز ہے غصہ
    سنین تو ہم بھی وہ کیا بات ہے بتا کہ نہووے

    زبان کاٹیے اُسکی یہ کون کہتا ہے تمسے
    مثال شمع مرے سر پر اب جفا کہ نہووے

    چراغ سانپ کے آگے کہین سنا بھی ہے جلتے
    تو روز ہجر کو زلفِ سیہ دکھا کہ نہووے

    جگر کے زخم سے ہرگز اُٹھائی جاے نہ لذت
    نمک جراحت دلپر ہمارے تا کہ نہووے

    حسن سر شک ندامت سے روز حشر خجالت
    تو اپنے نامہ اعمال کو دکھا کہ نہووے​
     
  18. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    کہنے کی ہین یہ باتین کس بن نہین گذرتی
    پر ایک جان تو ہے جس بن نہین گذرتی

    کُچھ ہو نہو ولے ہو تیرا خیال ہر دم
    اس بن نہین گذرتی اس بن نہین گذرتی​
     
  19. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    کس دل سے کوئی خفا ہو تجھسے
    کس طرح بھلا برا ہو تجھسے

    بیگانہ ہو سب سے پھر وہ آخر
    جو کوئی کہ آشنا ہو تجھسے

    مہرؔ و کرمؔ و وفاؔ تو معلوم
    ہان کہیے جو کچھ جفا ہو تجھسے

    ہو کیون نہ جہان سے اُسکا دل سرد
    جسکا کہ جگر جلا ہو تجھسے

    اس بیمزہ گی مین تو جو آ جائے
    کیا کیا نہ ابھی مزا ہو تجھسے

    ملجائے حسن کہین ترا یار
    تا گم یہ ترا جدا ہو تجھسے​
     
  20. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed

    دیکھ دروازے سے مجھکو وہ پریروہٹ گئی
    دیکھتے ہی اُسکے میری جان بس چٹ پٹ گئی

    تم اِدھر دھوتے رہے مُنھ ہم اُدھر روتے رہے
    روتے دھوتے دو گھڑی بارے مزے سے کٹ گئی

    گرد کلفت بسکہ چھائی دل سے تا آنکھوں تلک
    نہر تھی جاری جو آنکھون کی مرے سو پٹ گئی

    جیؔ ادا نے زلفؔ نے دل ہوشؔ غمزون نے لیا
    جنس ہستی اپنی سب غارت مین آ کر بٹ گئی

    پردے ہی پردے مین دل کو خاک کر ڈالا مرے
    اِس ادا سے وہ پری مُنھ پر لیئے گھونگھٹ گئی

    زلف گر چھدری ہوئی تیرے تو مت کھا پیچ و تاب
    کیا ہوا از بس اُٹھانے بوجھ دلکے لٹ گئی

    کل جو میرا خوش نگھ گذرا چمن سے اے حسن
    موندلی بادام نے آنکھ اور نرگس کٹ گئی​
     

اس صفحے کی تشہیر