دھوپ ہے کیا اور سایہ کیا ہے ۔۔۔۔

ظفری

لائبریرین
دھوپ ہے کیا اور سایہ کیا ہے ، اب معلوم ہوا
یہ سب کھیل تماشہ کیا ہے ، اب معلوم ہوا

ہنستے پھول کا چہر دیکھوں اور بھر آئے آنکھ
اپنے ساتھ یہ قصہ کیا ہے ، اب معلوم ہوا

ہم برسوں کے بعد بھی اس کو ، اب تک بھول نہ پائے
دل سے اس کا رشتہ کیا ہے ، اب معلوم ہوا

صحرا صحرا پیاسے بھٹکے ، ساری عمر جلے
بادل کا ایک ٹکڑا کیا ہے ، اب معلوم ہوا
 

عمر سیف

محفلین
ہم برسوں کے بعد بھی اس کو ، اب تک بھول نہ پائے
دل سے اس کا رشتہ کیا ہے ، اب معلوم ہوا


خوب ۔۔۔۔
 

الف عین

لائبریرین
خوب۔ لیک ظفر میاں۔ آخری شعر میں ’اک ٹکڑاُ وزن میں آتا ہے۔ ’ایک‘ نہیں۔
کس کی غزل ہے، کچھ علم ہے کسی کو۔ ظفری نے تو یوں ہی اپنی ڈائری سے لکھ دی ہو گی۔
 
Top