دکھائی دیتی ہے ہر سو خوشی کی لہر ہمیں --------- سید انور جاوید ہاشمی

مغزل

محفلین
غزل

دکھائی دیتی ہے ہر سو خوشی کی لہر ہمیں
کہا ہے جب سے کسی نے غریب ِ شہر ہمیں

ذرا سی بات پہ ناراض ہم رہیں کتنا!
گوارا یوں بھی کہاں سارے اہلِ دہر ہمیں

ترے وجود کی خوشبو اُڑاکے لائی ہیں
وہ ساعتیں جو کبھی لگ رہی تھیں زہر ہمیں

وہ کون دوسرا اس خواب گاہ میں آیا
یہ کون چھیڑنے آتا ہے پچھلے پہر ہمیں

شبانہ روز حصارِ نظر میں رکھتے ہیں
بلاسبب نہیں تکتے یہ ماہ و مہر ہمیں

رواں دواں ہے اسی میں سفینہ ءغمِ دل
سو دیکھیں لے کے کہاں جائے اب یہ بحر ہمیں٭

سیدانورجاویدہاشمی



٭صوتی قافیہ قصداً باندھا گیا ہے​
 

محمد وارث

لائبریرین
ترے وجود کی خوشبو اُڑا کے لائی ہیں
وہ ساعتیں جو کبھی لگ رہی تھیں زہر ہمیں

واہ واہ واہ۔
 
Top