شکیل بدایونی دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوں

سید زبیر

محفلین

دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوں​
چھیڑو نہ مجھے میں کوئی دیوانہ نہیں ہوں​
اس کثرت غم پر بھی مجھے حسرت غم ہے​
جو بھر کے چھلک جائے ، وہ پیمانہ نہیں ہوں​
روداد غم عشق ہے تازہ مرے دم سے​
عنوان ہر فسانہ ہوں ' افسانہ نہیں ہوں​
الزم جنوں دیں نہ مجھے اہل محبت​
میں خود یہ سمجھتا ہوں کہ دیوانہ نہیں ہوں​
وہ قائل خو دداری الفت سہی لیکن​
آداب محبت سے بیگانہ نہیں ہوں​
ہے برق سر طور سے دل شعلہ بداماں​
شمع سر محفل ہوں پروانہ نہیں ہوں​
ہے گردش ساغر مری تقدیر کا چکر​
محتاج طواف در مے خانہ نہیں ہوں​
کانٹوں سے گذر جاتا ہوں دامن بچا کر​
پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں​
لذت کش ِ نطارہ شکیل اپنی نظر سے​
محروم جمال رخ جانا نہ نہیں ہوں​
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
اس کثرت غم پر بھی مجھے حسرت غم ہے
جو بھر کے چھلک جائے ، وہ پیمانہ نہیں ہوں

واہ کیا خوب انتخاب ہے۔ اس حسن انتخاب پر سر بہت سی داد قبول فرمائیں۔ :)
 

فرخ منظور

لائبریرین
لذت کش ِ نطارہ شکیل اپنی نظر سے​
محرومِ جمالِ رخِ جانانہ نہیں ہوں​
واہ کیا اچھا انتخاب ہے۔ شکریہ سید زبیر صاحب!​
 
Top