دل کے موضوع پر اشعار!

عیشل

محفلین
تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقّدر کے ہو گئے
پھر جو بھی در ملا اسی در کے ہو گئے
کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کے عزیز تھے
اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے
 

عیشل

محفلین
ہم نہیں پھر بھی تو آباد ہے محفل ان کی
ہم سمجھتے تھے کہ رونق ہے تو دم سے اپنے
دل نہ مانا کہ کسی اور کے رستے پہ چلیں
لاکھ گمراہ ہوئے نقش ِ قدم سے اپنے
 

عیشل

محفلین
موسم کو بدلنا ہے تو بدل جائے گا آخر
سورج ہے کوئی شخص تو ڈھل جائے گا آخر
آنکھیں ہیں تو بے آب ہوجائیں گی کسی روز
دل ہے تو کسی روز سنبھل جائے گا آخر​
 

عمر سیف

محفلین
فیض دلوں کے بھاگ میں ہے،گھر بھرنا بھی لُٹ جانا بھی
تم اس حسن کے لطف و کرم پر کتنے دن اتراؤ گے
 

شمشاد

لائبریرین
دردِ دل ایسا بڑھا خود اپنا درماں ہو گیا
زندگی کا پھر مری پیدا اک امکاں ہو گیا
(ناہید ورک)
 

عمر سیف

محفلین
چھوڑا اُسے تو ہم نے بہت دیکھ بھال کے
پہلی سی اب مزاج میں عجلت نہیں رہی
راہ ِ سخنوری بھی بجا ہے مگر اے دل
اب تجھ کو دھڑکنوں کی بھی مہلت نہیں رہی
 

شمشاد

لائبریرین
الہی کون سی منزل میں آتا ہے سکوں دل کو
یقیں سے کچھ نہیں ہوتاگماں سے کچھ نہیں ہوتا
(سرور)
 

شمشاد

لائبریرین
بھلا میں آنسوؤں کو کب تلک روکوں پسِ مژگاں
دلِ مجبور تیری بے کسی اچھی نہیں لگتی
(ناہید ورک)
 
Top