دل میں کچھ ذوق بندگی ہی نہیں - برائے اصلاح

صابرہ امین

لائبریرین
معزز استادِ محترم الف عین ،
محمد خلیل الرحمٰن ، سید عاطف علی
@محمّد احسن سمیع :راحل:بھائ


دل میں کچھ ذوق بندگی ہی نہیں
اس لیئے تو کوئ سکھی ہی نہیں

کیا قیامت کی تھی نظر اس کی
میری حالت جو ہے وہ تھی ہی نہیں

بات سارے جہان کی کر لی
پیار کی بات تو نے کی ہی نہیں

کیسے کر پائے گا تو چارہ گری
کہ مئےِ عشق تونے پی ہی نہیں

میری بربادیاں ازل سے ہیں
میری بستی کبھی بسی ہی نہیں

میں بھی اب نہ رہا جو کل تک تھا
اور مشکل کہ تو وہ تو ہی نہیں

بارہا دیکھا تجھکو مڑ مڑ کر
ہائے آواز تونے دی ہی نہیں

تو رہا کس ادھیڑبن میں گم
چاک پوشاک تونے سی ہی نہیں

کیوں یہ دل زار زار روتا ہے
زندگی میں کوئ کمی ہی نہیں
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
دل میں کچھ ذوق بندگی ہی نہیں
اس لیئے تو کوئ سکھی ہی نہیں
.... صابرہ، جو، تو، کو، جیسے الفاظ کو دو حرفی باندھنا غلط تو نہیں لیکن روانی کو متاثر کرتے ہیں، واو کا اسقاط پسندیدہ مانا جاتا ہے.۔یہاں بھی 'تو' لمبا کھنچ رہا ہے۔ مناسب تبدیلی کر دو
یہ سبب ہے، کوئی...
دوسری خامی جو لگتی ہے وہ ذوق بندگی جیست مدرس لفظ کے ساتھ ہندی کا سکھی لفظ اجنبی لگتا ہے

کیا قیامت کی تھی نظر اس کی
میری حالت جو ہے وہ تھی ہی نہیں
... درست

بات سارے جہان کی کر لی
پیار کی بات تو نے کی ہی نہیں

کیسے کر پائے گا تو چارہ گری
کہ مئےِ عشق تونے پی ہی نہیں

میری بربادیاں ازل سے ہیں
میری بستی کبھی بسی ہی نہیں
... اوپر کے سارے اشعار ٹھیک ہیں

میں بھی اب نہ رہا جو کل تک تھا
اور مشکل کہ تو وہ تو ہی نہیں
...' نہ' اور' کہ' کو بھی ہمیشہ یک حرفی باندھا کرو، یوں بھی ایک 'وہ' کی کمی لگتی ہے
وہ رہا ہی نہیں جو کل تھا میں
یا اس قسم کا بہتر مصرع

بارہا دیکھا تجھکو مڑ مڑ کر
ہائے آواز تونے دی ہی نہیں

تو رہا کس ادھیڑبن میں گم
چاک پوشاک تونے سی ہی نہیں

کیوں یہ دل زار زار روتا ہے
زندگی میں کوئ کمی ہی نہیں
... باقی اشعار بھی درست لگ رہے ہیں
 

صابرہ امین

لائبریرین
دل میں کچھ ذوق بندگی ہی نہیں
اس لیئے تو کوئ سکھی ہی نہیں
.... صابرہ، جو، تو، کو، جیسے الفاظ کو دو حرفی باندھنا غلط تو نہیں لیکن روانی کو متاثر کرتے ہیں، واو کا اسقاط پسندیدہ مانا جاتا ہے.۔یہاں بھی 'تو' لمبا کھنچ رہا ہے۔ مناسب تبدیلی کر دو
یہ سبب ہے، کوئی...
دوسری خامی جو لگتی ہے وہ ذوق بندگی جیست مدرس لفظ کے ساتھ ہندی کا سکھی لفظ اجنبی لگتا ہے

کیا قیامت کی تھی نظر اس کی
میری حالت جو ہے وہ تھی ہی نہیں
... درست

بات سارے جہان کی کر لی
پیار کی بات تو نے کی ہی نہیں

کیسے کر پائے گا تو چارہ گری
کہ مئےِ عشق تونے پی ہی نہیں

میری بربادیاں ازل سے ہیں
میری بستی کبھی بسی ہی نہیں
... اوپر کے سارے اشعار ٹھیک ہیں

میں بھی اب نہ رہا جو کل تک تھا
اور مشکل کہ تو وہ تو ہی نہیں
...' نہ' اور' کہ' کو بھی ہمیشہ یک حرفی باندھا کرو، یوں بھی ایک 'وہ' کی کمی لگتی ہے
وہ رہا ہی نہیں جو کل تھا میں
یا اس قسم کا بہتر مصرع

بارہا دیکھا تجھکو مڑ مڑ کر
ہائے آواز تونے دی ہی نہیں

تو رہا کس ادھیڑبن میں گم
چاک پوشاک تونے سی ہی نہیں

کیوں یہ دل زار زار روتا ہے
زندگی میں کوئ کمی ہی نہیں
... باقی اشعار بھی درست لگ رہے ہیں

آداب
جی میں جلد خامیاں دور کر کے حاضر ہوتی ہوں ۔ ۔ ۔ شکریہ
 

صابرہ امین

لائبریرین
مزید،
میں رہا ہی نہیں...
یا
میں رہی ہی نہیں......
آداب
بڑی باریک بیں نظر ہے آپ کی ۔ ۔ ما شا اللہ ۔ ۔ دراصل میں کچھ گو مگو میں ہوں ۔ ۔ آیا بحیثیت ایک خاتون نسائیت سے بھرپور شاعری کروں یا ایک نیوٹر جنڈر یعنی بحیثیت ایک انسان کیونکہ جو میں لکھتی ہوں زیادہ تر میری اپنی کہانی تو ہے نہیں ۔ ۔ بس سوچتی ہوں یا دیکھتی ہوں تو لکھ دیتی ہوں ۔ ۔ ۔ صلاح دیجیئے کیا کروں کیا بہتراورمناسب ہو گا تاکہ آئندہ ویسا ہی لکھوں ۔ ۔ شکریہ
 
دوسری خامی جو لگتی ہے وہ ذوق بندگی جیست مدرس لفظ کے ساتھ ہندی کا سکھی لفظ اجنبی لگتا ہے
اس کے علاوہ مصرعوں کا ربط ذرا مضبوط ہونا چاہیئے اور جیسا کہ اعجاز بھائی نے کہا کہ تراکیب بھی زبان و بیان کے مطابق لائی جائیں جیسے ذوق بندگی کے ساتھ شوق آگہی وغیرہ ۔
خصوصا غزل کے مطلع میں یہ نکتہ زیادہ اہم ہوتا ہے کیوں کہ مطلع ہی سے زمین ،ردیف ،قافیہ اور مجموعی فضا کا اعلان ہوتا ہے ۔
بڑی باریک بیں نظر ہے آپ کی ۔ ۔ ما شا اللہ ۔ ۔ دراصل میں کچھ گو مگو میں ہوں ۔ ۔ آیا بحیثیت ایک خاتون نسائیت سے بھرپور شاعری کروں یا ایک نیوٹر جنڈر یعنی بحیثیت ایک انسان کیونکہ جو میں لکھتی ہوں زیادہ تر میری اپنی کہانی تو ہے نہیں ۔ ۔ بس سوچتی ہوں یا دیکھتی ہوں تو لکھ دیتی ہوں ۔ ۔ ۔ صلاح دیجیئے کیا کروں کیا بہتراورمناسب ہو گا تاکہ آئندہ ویسا ہی لکھوں ۔ ۔ شکریہ
اس میں جو آپ کا مزاج چاہے وہی اختیار کرلیں ۔ ضروری ہی نہیں کہ نسوانیت کے خاص پیرائے کو ملحوظ رکھیں جیسے مضامین کا بیان مؤثر ہو وہی ٹھیک ہے ۔اور اگر کچھ مضمون کے موافق بیان ہو تو نسوانی انداز میں بھی کوئی عیب نہیں ۔ یہ میری رائے ہے ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
اس کے علاوہ مصرعوں کا ربط ذرا مضبوط ہونا چاہیئے اور جیسا کہ اعجاز بھائی نے کہا کہ تراکیب بھی زبان و بیان کے مطابق لائی جائیں جیسے ذوق بندگی کے ساتھ شوق آگہی وغیرہ ۔
خصوصا غزل کے مطلع میں یہ نکتہ زیادہ اہم ہوتا ہے کیوں کہ مطلع ہی سے زمین ،ردیف ،قافیہ اور مجموعی فضا کا اعلان ہوتا ہے ۔
۔

آداب
شکریہ ۔ ۔ ۔ آپ دونوں کی راہنمائ سے الفاظ کا گٹھ جوڑ بہت خوبی سے سمجھ میں آ گیا ہے ۔ ۔ جزاک اللہ

اس میں جو آپ کا مزاج چاہے وہی اختیار کرلیں ۔ ضروری ہی نہیں کہ نسوانیت کے خاص پیرائے کو ملحوظ رکھیں جیسے مضامین کا بیان مؤثر ہو وہی ٹھیک ہے ۔اور اگر کچھ مضمون کے موافق بیان ہو تو نسوانی انداز میں بھی کوئی عیب نہیں ۔ یہ میری رائے ہے ۔

راہنمائ کا شکریہ ۔ ۔ :):) یہی میری بھی سوچ ہے ۔ ۔ انتظار ہے کہ استادِمحترم کی اس بارے میں کیا صلا ح ہے ۔ ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
دل میں کچھ ذوق بندگی ہی نہیں
اس لیئے تو کوئ سکھی ہی نہیں
.... صابرہ، جو، تو، کو، جیسے الفاظ کو دو حرفی باندھنا غلط تو نہیں لیکن روانی کو متاثر کرتے ہیں، واو کا اسقاط پسندیدہ مانا جاتا ہے.۔یہاں بھی 'تو' لمبا کھنچ رہا ہے۔ مناسب تبدیلی کر دو
یہ سبب ہے، کوئی...
دوسری خامی جو لگتی ہے وہ ذوق بندگی جیست مدرس لفظ کے ساتھ ہندی کا سکھی لفظ اجنبی لگتا ہے
آداب
اب ملاحظہ کیجیئے ۔ ۔



دل میں کچھ ذوقِ بندگی ہی نہیں
یا کہیں شوقِ آگہی ہی نہیں

یا

دل میں کچھ ذوق بندگی ہی نہیں
یا کہیں فرض ِ منصبی ہی نہیں

یا

دل میں کچھ ذوقِ بندگی ہی نہیں
کیا کہیں فرض ِ منصبی ہی نہیں

یا

دل میں کچھ ذوقِ بندگی ہی نہیں
سوزِ دل، شوقِ آگہی ہی نہیں

یا

دل میں کچھ ذوقِ بندگی ہی نہیں
سوزِ دل، فرضِ منصبی ہی نہیں


میں بھی اب نہ رہا جو کل تک تھا
اور مشکل کہ تو وہ تو ہی نہیں
...' نہ' اور' کہ' کو بھی ہمیشہ یک حرفی باندھا کرو، یوں بھی ایک 'وہ' کی کمی لگتی ہے
وہ رہا ہی نہیں جو کل تھا میں
یا اس قسم کا بہتر مصرع

اب دیکھیئے ۔ ۔ ۔

وہ رہا ہی نہیں جو کل تھا میں
اور مشکل کہ تو وہ تو ہی نہیں

وہ رہا ہی نہیں جو کل تھا میں
اب یہ مشکل ہے تو وہ تو ہی نہیں

تونے مجھ کو بدل کے رکھ ڈالا
اب یہ مشکل ہے تو وہ تو ہی نہیں

کر کے تبدیل مجھ کو سر تا پا
اب یہ مشکل ہے تو وہ تو ہی نہیں
 

الف عین

لائبریرین
تم ماشاء اللہ پانچ پانچ متبادل پیش کر کے پریشان کر دیتی ہو! مجھے تو پہلے شعر میں پہلا متبادل اور دوسرے شعر میں دوسرا متبادل ہی کچھ زیادہ پسند آئے شاید محض اس لئے کہ پرانے مصرع بھی ویسے ہی تھے!
مؤنث کا صیغہ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر شعوری کوشش یہ ہو کہ تمہاری اپنی ذات سے متعلق نہ سمجھا جائے، تو بے شک نیوٹرل جنڈر استعمال کر سکتی ہو۔ ہاں ، جیسے یہاں 'تھا میں' کی جگہ 'تھے ہم' کہو تب نیوٹرل جنڈر ہو گا، 'تھا' سے تو 'صاف مونچھیں نظر آتی ہیں'!
 

نور وجدان

لائبریرین
تم ماشاء اللہ پانچ پانچ متبادل پیش کر کے پریشان کر دیتی ہو! مجھے تو پہلے شعر میں پہلا متبادل اور دوسرے شعر میں دوسرا متبادل ہی کچھ زیادہ پسند آئے شاید محض اس لئے کہ پرانے مصرع بھی ویسے ہی تھے!
مؤنث کا صیغہ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر شعوری کوشش یہ ہو کہ تمہاری اپنی ذات سے متعلق نہ سمجھا جائے، تو بے شک نیوٹرل جنڈر استعمال کر سکتی ہو۔ ہاں ، جیسے یہاں 'تھا میں' کی جگہ 'تھے ہم' کہو تب نیوٹرل جنڈر ہو گا، 'تھا' سے تو 'صاف مونچھیں نظر آتی ہیں'!
بہت پیارے استاد محترم کی پیاری پیاری باتیں:)
 

صابرہ امین

لائبریرین
مؤنث کا صیغہ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر شعوری کوشش یہ ہو کہ تمہاری اپنی ذات سے متعلق نہ سمجھا جائے، تو بے شک نیوٹرل جنڈر استعمال کر سکتی ہو۔ ہاں ، جیسے یہاں 'تھا میں' کی جگہ 'تھے ہم' کہو تب نیوٹرل جنڈر ہو گا، 'تھا' سے تو 'صاف مونچھیں نظر آتی ہیں'!

جی بہتر ۔ ۔ اچھے سے سمجھ آ گیا ۔ ۔ :D:D:)
 

صابرہ امین

لائبریرین
آداب
اصلاح و رہنمائ کے بعد آپ سب سے ایک نظرِ ثانی کی درخواست ہے ۔ ۔


دل میں کچھ ذوقِ بندگی ہی نہیں
یا کہیں شوقِ آگہی ہی نہیں

کیا قیامت کی تھی نظر اس کی
میری حالت جو ہے وہ تھی ہی نہیں

بات سارے جہان کی کر لی
پیار کی بات تو نے کی ہی نہیں

کیسے کر پائے گا تو چارہ گری
کہ مئےِ عشق تونے پی ہی نہیں

میری بربادیاں ازل سے ہیں
میری بستی کبھی بسی ہی نہیں

وہ رہا ہی نہیں جو کل تھا میں
اب یہ مشکل ہے تو وہ تو ہی نہیں

بارہا دیکھا تجھکو مڑ مڑ کر
ہائے آواز تونے دی ہی نہیں

تو رہا کس ادھیڑبن میں گم
چاک پوشاک تونے سی ہی نہیں

کیوں یہ دل زار زار روتا ہے
زندگی میں کوئ کمی ہی نہیں
 
Top