دلیر مجرم ( ابن صفی )

ساتواں انسان نے 'ناول' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 20, 2020

  1. ساتواں انسان

    ساتواں انسان محفلین

    مراسلے:
    188
    سبیتا دیوی کے قتل کے متعلق اس کی اب تک یہی رائے تھی کہ یہ کام ان کے کسی ہم مذہب کا ہے ۔ جس نے مذہبی جذبات سے اندھا ہوکر آخر کار انہیں قتل ہی کردیا ۔ انسپکٹر فریدی کا یہ خیال کے وہ حملہ دراصل اسی پر تھا رفتہ رفتہ اس کے ذہن سے ہٹتا جارہا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب سے راج روپ نگر سے ڈاکٹر توصیف کا خط ملا تو اس نے اس قصبے کے نام پر دھیان تک نہ دیا ۔
    دوسرے دن ڈاکٹر توصیف خود اس سے ملنے کے لئے آیا ۔ اس نے نواب صاحب کے مرض کی ساری تفصیلات بتا کر اسے آپریشن کرنے پر آمادہ کرلیا ۔
    ڈاکٹر شوکت کی کار راج روپ نگر کی طرف جارہی تھی ۔ وہ اپنے اسسٹنٹ اور دو نرسوں کو ہدایت کرآیا تھا کہ وہ چار بجے تک آپریشن کا ضروری سامان لے کر راج روپ نگر پہنچ جائیں ۔
    نواب صاحب کے خاندان والے ابھی تک کرنل تیواری کے تبادلے اور توصیف کے نئے فیصلے سے ناواقف تھے ۔ ڈاکٹر شوکت کی آمد سے وہ سب حیرت میں پڑگئے ۔ خصوصا نواب صاحب کی بہن تو آپے سے باہر ہوگئیں ۔
    " ڈاکٹر صاحب ۔ ۔ ۔ ! " وہ توصیف سے بولیں ۔ " میں آپ کی اس حرکت کا مطلب نہیں سمجھ سکی ۔ "
    " محترمہ مجھے افسوس ہے کہ مجھے آپ سے مشورے کی ضرورت نہیں ۔ " توصیف نے بےپروائی سے کہا ۔
    " کیا مطلب ؟ " نواب صاحب کی بہن نے حیرت اور غصہ کے ملے جلے انداز میں کہا ۔
    " مطلب یہ کہ اچانک کرنل تیواری کا تبادلہ ہوگیا ہے اور اب اس کے علاوہ کوئی اور صورت باقی نہیں رہ گئی ۔ "
    " کرنل تیواری کا تبادلہ ہوگیا ہے ۔ "
    " ان کا خط ملاحظہ فرمائیے ۔ " ڈاکٹر توصیف نے جیب سے ایک لفافہ نکال کر ان کے سامنے ڈال دیا ۔ وہ خط پڑھنے لگیں ۔ کنور سلیم اور نواب صاحب کی بھانجی جنمہ بھی جھک کر دیکھنے لگیں ۔
    " لیکن میں آپریشن تو ہرگز نہ ہونے دوں گی ۔ " بیگم صاحبہ نے خط واپس کرتے ہوئے کہا ۔
     
  2. ساتواں انسان

    ساتواں انسان محفلین

    مراسلے:
    188
    " دیکھئے محترمہ ۔ ۔ ۔ یہاں آپ کی رائے کا کوئی سوال ہی نہیں رہ جاتا ۔ نواب صاحب کے طبی مشیر ہونے کی حیثیت سے اس کی سو فیصدی ذمہ داری مجھ پر عاید ہوتی ہے ۔ کرنل تیواری کی عدم موجودگی میں میں قانونا اپنے حق کو استعمال کرسکتا ہوں ۔ "
    " قطعی ۔ ۔ ۔ قطعی ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر صاحب ۔ " کنور سلیم نے سنجیدگی سے کہا ۔ " اگر ڈاکٹر شوکت میرے چچا کو اس مہلک مرض سے نجات دلا دیں تو اس سے بڑھ کر اچھی بات کیا ہوسکتی ہے ۔ میرا بھی یہی خیال ہے کہ اب آپریشن کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا ۔ "
    " سلیم ۔ ۔ ۔ ! " نواب صاحب کی بہن نے گرج کر کہا ۔
    " پھوپھی صاجبہ ۔ ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ ایک محبت کرنے والی بہن کا دل رکھتی ہیں لیکن ان کی صحت کی خاطر دل پر پتھر رکھنا ہی پڑے گا ۔ "
    " کنور بھیا ۔ ۔ ۔ آپ اتنی جلد بدل گئے ۔ " نجمہ نے کہا ۔
    " کیا کروں نجمہ ۔ ۔ ۔ اگر کرنل تیواری موجود ہوتے تو میں کبھی آپریشن کے لئے تیار نہ ہوتا ۔ لیکن ایسی صورت میں ۔ تم ہی بتاؤ چچا جان کب تک یونہی پڑے رہیں گے ۔ "
    " کیوں صاحب کیا آپریشن کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں ہوسکتی ؟ " نواب صاحب کی بہن نے ڈاکٹر شوکت سے پوچھا ۔
    " یہ تو میں مریض کو دیکھںے کے بعد ہی بتاسکتا ہوں ۔ " ڈاکٹر شوکت نے مسکرا کر کہا ۔
    " ہاں ہاں ممکن ہے کہ اس کی نوبت ہی نہ آئے ۔ " ڈاکٹر توصیف نے کہا ۔
    نواب صاحب جس کمرے میں تھے وہ اوپری منزل میں واقع تھا ۔ سب لوگ نواب صاحب کے کمرے میں آئے ۔ وہ کمبل اوڑھے چت لیٹے ہوئے تھے ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے وہ گہری نیند میں ہوں ۔
    ڈاکٹر شوکت نے اپنے آلات کی مدد سے ان کا معائنہ کرتا رہا ۔
    " مجھے افسوس ہے بیگم صاحبہ کہ آپریشن کے بغیر کام نہ چلے گا ۔ " ڈاکٹر شوکت نے اپنے آلات کو ہینڈ بیگ میں رکھتے ہوئے کہا ۔
    پھر سب لوگ نیچے واپس آگئے ۔
     
  3. ساتواں انسان

    ساتواں انسان محفلین

    مراسلے:
    188
    ڈاکٹر شوکت نے نواب صاحب کے خاندان والوں کو کافی اطمینان دلایا ۔ ان کی تشفی کے لئے اس نے ان لوگوں کو اپنے بےشمار خطرناک کیسوں کے حالات سنا ڈالے ۔ نواب صاحب کا آپریشن تو ان کے مقابلہ میں کوئی چیز نہ تھا ۔
    " پھوپھی صاحبہ آپ نہیں جانتیں ۔ " بیگم صاحبہ سے سلیم نے کہا ۔ " ڈاکٹر شوکت صاحب کا ثانی پورے ہندوستان میں نہیں مل سکتا ۔ "
    " میں کس قابل ہوں ۔ " ڈاکٹر شوکت نے خاکسارانہ انداز میں کہا ، " سب خدا کی مہربانی اور اس کا احسان ہے ۔ "
    " ہاں یہ تو بتائیے کہ آپریشن سے قبل کوئی دوا وغیرہ دی جائے گی ۔ " کنور سلیم نے پوچھا ۔
    " فی الحال ایک انجکشن دوں گا ۔ "
    " اور آپریشن کب ہوگا ۔ " نواب صاحب کی بہن نے پوچھا ۔
    " آج ہی ۔ ۔ ۔ آٹھ بجے رات سے آپریشن شروع ہوجائے گا ۔ چار بجے تک میرا اسسٹنٹ اور دو نرسیں یہاں آجائیں گی ۔ "
    " میرا تو دل گھبرا رہا ہے ۔ " نواب صاحب کی بھانجی نے کہا ۔
    " گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔ " میں اپنی ساری کوششیں صرف کردوں گا ۔ کیس کچھ ایسا خطرناک نہیں ۔ خدا تعالی کی ذات سے قوی امید ہے کہ آپریشن کامیاب ہوگا ۔ آپ لوگ قطعی پریشان نہ ہوں ۔ "
    " ڈاکٹر صاحب آپ اطمینان سے اپنی تیاری مکمل کیجئے ۔ " کنور سلیم ہنس کر بولا ۔ " بےچاری عورتوں کے بس میں گھبرانے کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ "
    نواب صاحب کی بہن نے اسے تیز نظروں سے دیکھا اور نجمہ کی پیشانی پر شکنیں پڑگئیں ۔
    " میرا مطلب ہے پھوپھی صاحبہ کہ کہیں ڈاکٹر صاحب آپ لوگوں کی حالت دیکھ کر بد دل نہ ہوجائیں ۔ اب چچا جان کو اچھا ہی ہوجانا چاہئے ۔ کوئی حد ہے اٹھارہ دن ہوگئے ابھی تک بےہوشی زائل نہیں ہوئی ۔ "
     
  4. ساتواں انسان

    ساتواں انسان محفلین

    مراسلے:
    188
    " تم اس طرح کہہ رہے ہو گویا ہم لوگ انہیں صحت مند دیکھنے کے خواہش مند نہیں ہیں ! " بیگم صاحبہ نے منہ بنا کر کہا ۔
    " خیر ۔ ۔ ۔ خیر ۔ ۔ ۔ ! " فیملی ڈاکٹر توصیف نے کہا ۔ " ہاں تو ڈاکٹر شوکت میرے خیال سے اب آپ انجکشن دے دیجئے ۔ "
    ڈاکٹر شوکت ، ڈاکٹر توصیف اور کنور سلیم بالائی منزل پر مریض کے کمرے میں چلے گئے اور دونوں ماں بیٹیاں ہال ہی میں رک کر آپس میں سرگوشیاں کرنے لگیں ۔ نجمہ کچھ کہہ رہی تھی اور نواب صاحب کی بہن کے ماتھے پر شکنیں ابھر رہی تھیں ۔ انہوں نے دو تین بار زینے کی طرف دیکھا اور باہر نکل گئیں ۔
    انجکشن سے فارغ ہوکر ڈاکٹر شوکت ، کنور سمیل اور ڈاکٹر توصیف کے ہمراہ باہر آیا ۔
    " اچھا کنور صاحب اب ہم چلیں گے ۔ چار بجے تک نرسیں اور میرا اسسٹنٹ آپ کے یہاں آجائیں گے اور میں بھی ٹھیک چھ بجے یہاں پہنچ جاؤں گا ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔
    " تو یہیں قیام کیجئے نا ۔ ۔ ۔ ! " سلیم نے کہا ۔
    " نہیں ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر توصیف کے یہاں ٹھیک رہے گا اور پھر قصبے میں مجھے کچھ کام بھی ہے ۔ ہم لوگ چھ بجے تک یقینا آجائیں گے ۔ "
    ڈاکٹر کار میں بیٹھ گئے لیکن ڈاکٹر شوکت کی پےدرپے کوششوں کے باوجود بھی کار اسٹارٹ نہ ہوئی ۔
    " یہ تو بڑا مصیبت ہوئی ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کار سے اتر کر مشین کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ۔
    " فکر مت کیجئے ۔ ۔ ۔ میں اہنی کار نکال کر لاتا ہوں ۔ " کنور سلیم نے کہا اور لمبے ڈگ بھرتا ہوا گیراج کی طرف چلا گیا ۔ جو پرانی کوٹھی کے قریب واقع تھا ۔
    تھوڑی دیر بعد نواب صاحب کی بہن آگئیں ۔
    " ڈاکٹر شوکت کی کار خراب ہوگئی ۔ کنور صاحب کار کے لئے گئے ہیں ۔ " ڈاکٹر توصیف نے ان سے کہا ۔
     
  5. ساتواں انسان

    ساتواں انسان محفلین

    مراسلے:
    188
    " اوہ ۔ ۔ ۔ کار تو میں نے شہر بھیج دی ہے اور بھائی جان والی کار عرصہ سے خراب ہے ۔ "
    " اچھا تو پھر آئیے ڈاکٹر صاحب ہم لوگ پیدل ہی چلیں ۔ ۔ ۔ صرف ڈیڑھ میل تو چلنا ہے ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا
    " ڈاکٹر توصیف ! مجھے آپ سے کچھ مشورہ کرنا ہے ۔ " نواب صاحب کی بہن نے کہا ۔ " اگر آپ لوگ شام تک یہیں ٹھہریں تو کیا مضائقہ ہے ۔ "
    " بات دراصل یہ ہے کہ مجھے چند ضروری تیاریاں کرنی ہیں ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔ " ڈاکٹر صاحب کو آپ روک لیں ۔ مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا ۔ "
    " آپ کچھ خیال نہ کیجئے ۔ ۔ ۔ ! " بیگم صاحبہ بولیں ۔ " اگر کار شام تک واپس آگئی تو میں چھ بجے تک بھجوادوں گی ۔ ورنہ پھر کسی دوسری سواری کا انتظام کیا جائے گا ۔ "
    " شام کو تو میں ہر صورت میں پیدل ہی آؤں گا ۔ کیونکہ آپریشن کے وقت میں کافی چاق و چوبند رہنا چاہتا ہوں ۔ " شوکت نے کہا اور قصبے کی طرف روانہ ہوگیا ۔ راہ میں کنور سلیم ملا ۔
    " مجھے افسوس ہے ڈاکٹر کہ اس وقت کار موجود نہیں ۔ آپ یہیں رہئے آخر اس میں حرج ہی کیا ہے ۔ "
    " حرج تو کوئی نہیں لیکن مجھے تیاری کرنی ہے ۔ " ڈاکٹر شوکت نے جواب دیا ۔
    " اچھا تو چلئے میں آپ کو چھوڑ آؤں ۔ "
    " نہیں ۔ ۔ ۔ شکریہ ۔ ۔ ۔ راستہ میرا دیکھا ہوا ہے ۔ "
    ڈاکٹر شوکت جیسے ہی پرانی کوٹھی کے قریب پہنچا اسے ایک عجیب قسم کا وحشیانہ قہقہہ سنائی دیا ۔ عجیب الخلقت بوڑھا پروفیسر عمران قہقہے لگاتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
    " ہیلو ہیلو ۔ ۔ ۔ ! " بوڑھا چیخا ۔ " اپنے مکان کے قریب اجنبیوں کو دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے ۔ "
    ڈاکٹر شوکت رک گیا ۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کے جسم کے سارے روئیں کھڑے ہوگئے ہوں ۔ اتنی خوفناک شکل کا آدمی آج تک اس کی نظروں سے نہ گزرا تھا ۔
     
  6. ساتواں انسان

    ساتواں انسان محفلین

    مراسلے:
    188
    " مجھ سے ملئے ۔ ۔ ۔ میں پروفیسر عمران ہوں ۔ " اس نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔ " اور آپ ۔ ۔ ۔ ! "
    " مجھے شوکت کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ! " شوکت نے بادل نخواستہ ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ۔ لیکن اس نے محسوس کیا کہ ہاتھ ملاتے وقت بوڑھا کچھ سست پڑگیا تھا ۔ بوڑھے نے فورا ہی اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور قہقہہ لگاتا ، اچھلتا کودتا پھر پرانی کوٹھی میں واپس چلا گیا ۔
    ڈاکٹر شوکت متحیر کھڑا تھا ۔ دفعتا قریب کی جھاڑیوں سے ایک بڑا کتا اس پر جھپٹا ۔ ڈاکٹر شوکت گھبرا کر کئی قدم پیچھے ہٹ گیا ۔ کتے نے جست لگائی اور ایک بھیانک چیخ کے ساتھ زمین پر آرہا ۔ چند سیکنڈ تک وہ تڑپا اور پھر بےحس و حرکت ہوگیا ۔۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ ڈاکٹر شوکت کو کچھ سوچنے سمجھنے کا موقعہ نہ مل سکا ۔ اس کے بعد کچھ سمجھ ہی میں نہ آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔
    " ارے یہ میرے کتے کو کیا ہوا ۔ ۔ ۔ ٹائیگر ٹائیگر ۔ ۔ ۔ ! " ایک نسوانی آواز سنائی دی ۔ ڈاکٹر شوکت چونک پڑا ۔ سامنے نواب صاحب کی بھانجی نجمہ کھڑی تھی ۔
    " مجھے خود حیرت ہے ۔ " شوکت نے کہا ۔
    " میں نے اس کے غرانے کی آواز سنی تھی ۔ کیا یہ آپ پر جھپٹا تھا لیکن اس کی سزا موت تو نہ ہوسکتی تھی ۔ " وہ تیز لہجے میں بولی ۔
    " یقین فرمائیے محترمہ مجھے خود حیرت ہے کہ اسے یک بیک ہو کیا گیا ۔ ۔ ۔ اگر آپ کو مجھ پر شبہ ہے تو بھلا بتائیے میں نے اسے کیوں کر مارا ۔ ۔ ۔ ؟ "
    نجمہ کتے کی لاش پر جھکی اسے پکار رہی تھی ۔ " ٹائیگر ٹائیگر ۔ ۔ ۔ ! "
    " بے سود ہے محترمہ یہ ٹھنڈا ہوچکا ہے ۔ " شوکت کتے کی لاش کو ہلاتے ہوئے بولا ۔
    " آخر اسے ہو کیا گیا ۔ " نجمہ نے خوفزدہ انداز میں پوچھا ۔
    " میں خود یہی سوچ رہا ہوں ۔ بظاہر کوئی زخم بھی نہیں نظر آیا ۔ "
     
  7. ساتواں انسان

    ساتواں انسان محفلین

    مراسلے:
    188
    " سخت حیرت ہے ۔ ۔ ۔ ! "
    دفعتا ڈاکٹر شوکت کے ذہن میں ایک خیال پیدا ہوا ۔ وہ اس کے پنجوں کا معائنہ کرنے لگا ۔
    " اوہ ۔ ۔ ۔ ! " اس کے منہ سے حیرت کی چیخ نکلی اور اس نے کتے کے پنجے میں چبھی ہوئی گراموفون کی ایک سوئی کھینچ لی اور حیرت سے اسے دیر تک دیکھتا رہا ۔
    " دیکھئے محترمہ غالبا یہ زہریلی سوئی ہی آپ کے کتے کی موت کا سبب بنی ہے ۔ "
    " سوئی ۔ ۔ ۔ ! " نجمہ نے چونک کر کہا ۔ " گراموفون کی سوئی ۔ ۔ ۔ کیا مطلب ۔ ۔ ۔ ! "
    " مطلب تو میں بھی نہیں سمجھا لیکن یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ سوئی خطرناک حد تک زہریلی ہے ۔ مجھے انتہائی افسوس ہے کتا بہت عمدہ تھا ۔ "
    " لیکن یہ سوئی کہاں سے آئی ؟ " وہ پلکیں چھپکاتی ہوئی بولی ۔
    " کسی سے گرگئی ہوگی ۔ "
    " عجیب بات ہے ۔ "
    شوکت نے وہ سوئی احتیاط سے تھرمامیٹر رکھنے والی نالی میں رکھ لی اور بولا " یہ ایک دلچسپ چیز ہے ۔ میں اس کا کیمیاوی تجزیہ کروں گا ۔ آپ کے کتے کی موت پر ایک بار پھر اظہار افسوس کرتا ہوں ۔ "
    " اوہ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر میں آپ سے سچ کہتی ہوں کہ میں اس کتے کو بہت عزیز رکھتی تھی ۔ " اس نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ۔
    " واقعی بہت اچھا کتا تھا ۔ اس نسل کے گرے ہاؤنڈ کمیاب ہیں ۔ " شوکت نے جواب دیا ۔
    " ہونے والی بات تھی ۔ ۔ ۔ افسوس تو ہوتا ہے مگر اب ہوہی کیا سکتا ہے ۔ مگر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ سوئی یہاں آئی کیسے ۔ "
    " میں خود یہی سوچ رہا ہوں ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔
    " ہوسکتا ہے کہ یہ سوئی اس خبطی بوڑھے کی ہو ۔ اس کے پاس عجیب و غریب چیزیں ہیں ۔ ۔ ۔ منحوس کہیں کا ۔ "
     
  8. ساتواں انسان

    ساتواں انسان محفلین

    مراسلے:
    188
    " کیا آپ ان ہی صاحب کے بارے میں تو نہیں کہہ رہی ہیں جو ابھی اس کوٹھی سے نکلے تھے ۔ "
    " جی ہاں ۔ ۔ ۔ وہی ہوگا ۔ ۔ ۔ ! " نجمہ نے جواب دیا ۔
    " یہ کون صاحب ہیں ۔ بہت ہی عجیب و غریب آدمی معلوم ہوتے ہیں ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔
    " یہ ہمارا کرایہ دار ہے ۔ پروفیسر عمران ۔ ۔ ۔ لوگ کہتے ہیں کہ ماہر فلکیات ہے ۔ مجھے یقین نہیں آتا ۔ وہ دیکھئے اس نے مینار پر ایک دوربین بھی لگا رکھی ہے ۔ "
    " پروفیسر عمران ۔ ۔ ۔ ماہر فلکیات ۔ ۔ ۔ یہ بہت مشہور آدمی ہیں ۔ میں نے ان کی کئی کتابیں پڑھی ہیں ۔ اگر وقت ملا تو میں ان سے ضرور ملوں گا ۔ "
    " کیا کیجئے گا مل کر ۔ ۔ ۔ دیوانہ ہے ۔ وہ ہوش ہی میں کب رہتا ہے ۔ وہ جانور سے بھی بدتر ہے ۔ " نجمہ نے کہا ۔ " خیر ہٹائیے ان باتوں کو ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر صاحب آپریشن میں کوئی خطرہ تو نہیں ؟ "
    " جی نہیں آپ مطمئن رہئے ۔ انشاءاللہ کوئی گڑبڑ نہ ہونے پائے گی ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔ " اچھا اب میں چلوں ۔ مجھے آپریشن کی تیاری کرنا ہے ۔ "
    ڈاکٹر شوکت قصبے کی طرف چل پڑا ۔ ایک شخص کھائیوں اور جھاڑیوں کی آڑ لیتا ہوا اس کا تعاقب کررہا تھا ۔
    بال بال بچے
    راستے بھر شوکت کا ذہن سوئی اور کتے کی موت میں الجھا رہا ۔ ساتھ ہی ساتھ وہ خلش بھی اس کے دل میں کچوکے لگارہی تھی جو نجمہ سے گفتگو کرنے کے بعد پیدا ہوگئی تھی اس کا دل تو یہی چاہ رہا تھا کہ وہ زندگی بھر کھڑا اس سے اسی طرح باتیں کئے جائے ۔ عورتوں سے بات کرنا اس کے لئے نئی بات نہ تھی ۔ وہ قریب قریب دن بھر نرسوں میں گھرا رہتا تھا اور پھر اس کے علاوہ اس کا پیشہ ایسا تھا کہ اور دوسری عورتوں سے بھی اس کا سابقہ پڑتا رہتا تھا ۔ لیکن نجمہ میں نہ جانے کونسی ایسی بات تھی جو رہ رہ کر اس کا چہرہ اس کی نظروں کے سامنے پیش کردیتی تھی ۔
     
  9. ساتواں انسان

    ساتواں انسان محفلین

    مراسلے:
    188
    ڈاکٹر توصیف کے گھر پہنچتے ہی وہ سب کچھ بھول گیا کیونکہ اب وہ آپریشن کی سکیم مرتب کررہا تھا ۔ وہ ایک زندگی بچانے جارہا تھا ۔ ۔ ۔ ایک ماہر فن کی طرح اس کا دل مطمئن تھا ۔ ۔ ۔ اسے اپنی کامیابی کا اسی طرح یقین تھا جس طرح اس کا کہ وہ گیارہ بجے کھانا کھائے گا ۔
    تقریبا ایک گھنٹے کے بعد ڈاکٹر توصیف بھی نواب صاحب کی کار پر آگیا ۔
    " کہئے ڈاکٹر صاحب کوئی خاص بات ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔
    " ایسی تو کوئی بات نہیں ۔ البتہ کتے کی موت سے ہر شخص حیرت زدہ ہے ۔ لائیے دیکھوں تو وہ سوئی ۔ " ڈاکٹر توصیف نے سوئی لینے کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔
    " یہ دیکھئے ۔ ۔ ۔ بڑی عجیب بات ہے ۔ معلوم نہیں سوئی کس زہر میں بجھائی گئی ہے ۔ " ڈاکٹر شوکت نے تھرمامیٹر کی نلکی سے سوئی نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا ۔ " دیکھتے ہی دیکھتے کتا ختم ہوگیا ۔ "
    " گراموفون کی سوئی ہے ۔ " ڈاکٹر توصیف نے سوئی کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
    " میرے خیال میں پوٹاشیم سایانائیڈ یا اس قبیل کا کوئی اور زہر ہے ۔ " ڈاکٹر شوکت نے سوئی کو لے کر پھر تھرمامیٹر کی نلکی میں رکھتے ہوئے کہا ۔
    " مجھے تو یہ سوئی خبیث پروفیسر کی معلوم ہوتی ہے ۔ " ڈاکٹر توصیف نے کہا ۔ " اس کی عجیب و غریب چیزیں اور حرکتیں دور تک مشہور ہیں ۔ "
    " مجھے ابھی تک پروفیسر کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں ۔ لیکن میں اس پرسرار شخصیت کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں ۔ ویسے تو میں یہ جانتا ہوں کہ وہ ایک مشہور ماہر فلکیات ہے ۔ " ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔
     

اس صفحے کی تشہیر